نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت عمران خان نے خود دی :چیف جسٹس 
20 نومبر 2019 (16:23) 2019-11-20

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہم نے کسی کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی بلکہ وزیراعظم نے خود اجازت دی ہے،وزیر اعظم طاقتور کا طعنہ ہمیں نہ دیں ،جس کیس طعنہ دیا جا رہا ہے اس میں اجازت وزیر اعظم نے خود دی ۔اسی عدلیہ نے ایک وزیر اعظم کو سزا دی اور ایک کو معطل کیا گیا ،ججز پر تنقید اور طاقتو ر کا طعنہ ہمیں نہ دیں ۔

چیف جسٹس نے ایپ لانچ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو ٹیکنالوجی کے ذریعے جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ آج پاکستان کی عدالتوں میں بھی تمام چیزیں استعمال ہو رہی جو دنیا کی عدالتوں میں ہوتی ہیں، جو سہولیات نہیں ان کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کال سنٹر کے ذریعے معلومات تک رسائی آسان بنائی گئی ہے۔ لوگ گھر بیٹھے اپنے مقدمات سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ سائلین کال سینٹر سے اپنے مقدمہ کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اطلاعات تک رسائی کیلئے پہلے سے موجود ویب سائٹ کو بھی بہتر کیا۔

سائلین اور وکلا کی سہولت کیلئے ویڈیو لنک کا نظام متعارف کرایا گیا۔ چاروں رجسٹریوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے پرنسپل سیٹ سے منسلک کیا گیا۔ اب سپریم کورٹ میں 5 کورٹس ویڈیو لنک کے ذریعے دوسری رجسٹریوں سے منسلک ہیں۔ پشاور، کوئٹہ، کراچی اور لاہور رجسٹری سے وکلا ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دے سکتے ہیں۔ ویڈیو لنک نظام سے وقت کے ساتھ ان کے اخراجات میں بھی کمی ہوگی۔ سائلین جو دوسرے صوبوں سے خرچہ کر کے اسلام آباد آتے تھے انکے پیسے بھی کم خرچ ہوں گے۔

جسٹس نے کہا کہ عمران خان نے دو دن پہلے خوش آئند اعلان کیا، وزیراعظم نے کہا تمام وسائل فراہم کرنے کو تیار ہیں، اس وقت وسائل کی ضرورت تھی۔ وزیراعظم کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے طاقتور اور کمزور کی بات کی۔ 3 ہزار ہزار ججز نے 36 لاکھ مقدمات کے فیصلے کیے جن میں کمزور لوگوں کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ وسائل کے بغیر ہم نے بہت کچھ کیا۔

انہیں وسائل میں 25 سال سے زیر التوا مقدمات ختم کر دیئے۔ لاہور میں 2 فوجداری مقدمات زیر التوا ہیں، اسلام آباد میں 25 کے قریب کرمنل مقدمات زیر التوا ہیں۔ ہم نے ماڈل کورٹس بنائے، کوئی ڈھنڈورا نہیں پیٹا۔ ہم نے ماڈل کورٹس کا اشتہار نہیں لگوایا، 116 اضلاع ہیں، 17 اضلاع میں کوئی مقدمہ زیر التوا نہیں ہے، 6 ضلعی ہیڈکوارٹرز میں قتل کا کوئی مقدمہ نہیں۔ 23 اضلاع میں کوئی نارکوٹکس کا مقدمہ نہیں ہے۔


ای پیپر