عمرا ن خان کی تقریر
20 نومبر 2019 2019-11-20

ہزارہ موٹروے کے افتتاح کے موقعے پر جناب عمران خان کی تقریر تضادات سے بھرپور تھی، میں توقع نہیں کرتا کہ وہ سابق حکومت کے منصوبے پر اپنی تختی لگاتے ہوئے کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے یا نواز شریف کو اس کا کریڈٹ دیتے مگر یہ امید ضرور رکھی جانی چاہئے تھی کہ وہ ملکی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کا روڈ میپ دیتے۔ سوا برس میں ان کے کریڈٹ پرایک کے سوا کسی ترقیاتی منصوبے کا آغاز نہیں، یہ واحد منصوبہ ہندوستانی سکھوں کے لئے کرتار پور راہداری کی تکمیل ہے جس کا بائیس کروڑ پاکستانیوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ وہ اس سے پہلے کہہ چکے کہ پاکستان پیرس نہیں بلکہ مدینہ کی ریاست بننے کے لئے معرض وجود میں آیا تھا ۔ میں نہیں جانتا کہ ہم مدینہ کی ریاست کو جدید شہری سہولتوںسے متضاد اور ان سے انکارکے طور پرکیسے پیش کر سکتے ہیں۔ ”مدینہ“ اپنے دور کی انتہائی جدید ریاست تھی جس میں شہریوں کو اس دور کی تمام تر سہولتیں دستیاب تھیں۔ یہ تشریح ریاست مدینہ کے تصورکی توہین ہے جو شہریوں کو ترقی یافتہ ممالک جیسی سہولتیں فراہم کرنے سے انکار میں دی جاتی ہے۔

جناب عمران خان نے اپنی تقریر میں تمام مافیاز کومخاطب کیا اور اگر وہ اپنے مخالف سیاستدانوں نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان کو مافیا ز سمجھتے ہیں تو وہ بھی سیاست کے اسی قبیلے کے ایک فرد ہیں۔ عمومی خیال ہے کہ عمران خان نے ان لوگوں کو مافیا کہا جن کی وجہ سے ان کی حکومت خطرے میں محسوس کی جا رہی ہے اور وہ وہاں لڑنے کا پیغام دینے میں کامیاب رہے جہاں وہ دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے تقریر میں اپنے سیاسی مخالفین کی ہر ممکن توہین کرنے کی کوشش کی ۔ عمران خان کا ووٹ بینک صرف نفرت اور گالی کے نظرئیے پر قائم ہے۔ وہ جتنے زیادہ سخت لہجے میں اپنے مخالف کو جتنی زیادہ بڑی گالی دیتے ہیں ان کا ووٹر ان کے ساتھ اتنی ہی زیادہ وابستگی محسوس کرتا ہے ۔ عمران خان اپنے بدترین مخالف نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے سے روکنے میں ناکام رہے حالانکہ وہ چاہتے تھے کہ نواز شریف کی جیل کی کوٹھڑی سے ائیرکنڈیشنر بھی اتار لیا جائے اور ٹی وی بھی اٹھا لیاجائے۔ اپنی اس ناکامی کو چھپانے اور اپنے ہم خیالوں کی تسلی و تشفی کے لئے ضروری تھا کہ مخالفین کی بھرپور ہتک کی جائے، وہ اپنے سیاسی مخالفین کی نقل اتارتے ہوئے یہ بھی بھول گئے کہ ملک کے سب سے بڑے اور بااختیار عہدے پر بیٹھے ہوئے اڑسٹھ برس کے شخص کو اٹھائیس سال کے جوان کی نقلیں اتارنا زیب نہیں دیتا۔

جناب عمران خان نے انکشاف کیا کہ کابینہ کے ارکان کی اکثریت نواز شریف کا راستہ روکنا چاہتی تھی مگر انہوں نے رحم کیا مگر سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف نے ان سے رحم کی بھیک مانگی۔ میں نواز شریف کی نااہلی سے اب تک ان کے سیاسی روئیے کا مطالعہ کر رہا ہوں اور وہ مجھے ایک مرتبہ بھی حکمرانوں سے رحم کی اپیل کرتے ہوئے نظر نہیں آئے۔ معاملہ یہ ہے کہ وہ عدالت گئے اور وہاں سے ریلیف حاصل کیا۔ میں اس امر پر بحث نہیں کرنا چاہتا کہ ان کو ملنے والا ریلیف کتنا آئینی اور قانونی ہے اور کتنا نہیں کیونکہ اگر ہم ایک مقدمے میں ایسا کریں گے تو پھر ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ملک کو لوڈ شیدنگ اور دہشت گردی سے نجات دلاتے ہوئے وزیراعظم کوبیٹے سے قابل وصول تنخواہ کو گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے پر نااہل کرنا کتنا آئینی اور قانونی تھا۔ سابق وزیراعظم کو ریلیف ملنے کے فیصلے پر سب سے زیادہ حیران اور پریشان وہ ہیں جو ثاقب نثار کے فیصلوں کو آئین، قانون اور انصاف کے مطابق سمجھتے رہے ہیں۔رحم کرنے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان کی حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے سابق وزیراعظم کا بیرو ن ملک جانے کا راستہ روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اورجب وہ اس میں ناکام ہو گئے تو دو دن کی چھٹی چلے گئے۔وزیر اعظم کی ہدایت پر حکومتی ٹیم نے فیصلہ کیا تھا کہ نواز شریف کو بیرو ن ملک جانے کی اجازت سات ارب روپوں کے انڈیمنٹی بانڈ کے جمع ہونے پر ہی دی جائے گی۔ اس بانڈ کے طلب کرنے کی ناگفتہ بہ قانونی، اخلاقی اور سیاسی حیثیت میں اپنے پچھلے کالم میں ڈسکس کر چکا ہو ں ۔ عمران خان کو اگر کوئی کامیابی ملی تو یہی تھی کہ انہوں نے نواز شریف کو جیل سے نیب کے ہیڈکوارٹرز منتقل کروادیا مگر وہ انہیں ہسپتال اور پھر گھر منتقل ہونے کے بعد بیرون ملک روانہ ہونے سے نہیں روک سکے۔ جب وہ ہزارہ موٹر وے کے افتتاح کے موقعے پر کہہ رہے تھے کہ وہ ایک بھی چور کو نہیں چھوڑیں گے تو ان کی تقریر کا ایک اور تضاد واضح ہو رہا تھا کہ وہ نوازشریف اور آصف زرداری کو ہی چور سمجھتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ انہوں نے ایک برس سے زائد وقت گزرنے کے باوجود کیا کسی ایک بھی قومی رہنما کی کسی قومی منصوبے میں کرپشن اور کمیشن کو ثابت کیا۔ حکومتی مخالفین اب تک صرف ایک الزام میں پکڑے جا رہے ہیں کہ ان کے اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں مگر نواز شریف کو بھی سزا دیتے ہوئے یہ واضح نہیں کیا جاتا کہ ان کی آمدن کیا تھی اور ان کے اثاثے کتنے تھے۔ نواز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے بانوے، ترانوے میں لندن میں فلیٹس خریدے جن کی مالیت نو سے بارہ کروڑ کے درمیان بیان کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کے پاس یہ رقم کہاں سے آئی مگر کیا عمران خان اینڈ کمپنی یہ سوال نہیں پوچھتی کہ جب نواز شریف کے والد میاں محمد شریف اس سے تین، چار برس پہلے شوکت خانم ہسپتال بنانے کے لئے پچا س کروڑ روپے دے رہے تھے تو ان کے پاس ایک کھلاڑی کو دینے کے لئے لندن فلیٹوںکی قیمت سے چار سے پانچ گنا زیادہ رقم کہاں سے آئی تھی، یاد رہے کہ اس وقت اس کھلاڑی نے ابھی ورلڈ کپ بھی نہیں جیتا تھا۔

نواز شریف کے رخصت ہوجانے کے یقینی ہونے کے بعد اس تقریر کو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق قرار دیا جاسکتا ہے مگر اس حصے کو نہیں جہاں اہل علم اوراہل نظر کو وہ عدلیہ میں تقسیم پید اکرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے نواز شریف کی ضمانت پر رہائی اور بیرون ملک جانے کا فیصلہ کیا اور ملک کے سب سے بااختیار آئینی عہدے پر بیٹھا ہوا شخص عدلیہ کے موجودہ سربراہ اور آنے والے سربراہ کا نام لے کر اس فیصلے کے خلاف باتیں کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس سلسلے کو روکا جائے اور حکومت اس سلسلے میں عدلیہ کی بھرپور مدد کرے گی۔ کیا عدلیہ کا عوام میں اعتماد اس طرح بحال ہو گا کہ اس کے تمام فیصلے ایک ہی سمت میں ہوں اور کیا حکومت عدلیہ کی یہ مد د کرنا چاہتی ہے کہ اس کے خلاف کوئی فیصلہ نہ آئے کیونکہ جب تک حکومت کے حق میں فیصلے آ رہے تھے حکومت کی طر ف سے ایسی کسی مدد کا اشارہ نہیں دیا گیا۔ عدلیہ کی طرف سے صرف نواز شریف کو ہی بیرون ملک علاج کی اجاز ت نہیں ملی بلکہ مریم نواز شریف بھی ضمانت پر رہا ہو چکی ہیں، اسی عدلیہ نے سرکاری پارٹی کے ایک گلوکار کو ہلال احمر پاکستان کا سربراہ لگانے کا نوٹیفکیشن بھی معطل کر دیا ہے اور سٹیل ملز کی زمین بیچنے سے بھی روک دیا ہے۔


ای پیپر