پاکستان کا آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے سے صاف انکار
20 نومبر 2018 (21:39) 2018-11-20

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈز( آئی ایم ایف ) کی کڑی شرائط کو ماننے سے انکار کر دیا ‘جس کے نتیجے میں بیل آوٹ پیکج سے متعلق گزشتہ روز پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈز( آئی ایم ایف ) کے درمیان مذاکرات کا آخری دور بغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہو گیا ۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور عالمی مالیاتی فنڈز( آئی ایم ایف )مشن کے سربراہ ہیرلڈ فنگر کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا‘جس میں گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ اور سیکرٹری خزانہ نے بھی شرکت کی ۔ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران پاکستان اور آئی ایم ایف اپنے اپنے نکات اور موقف پر ڈٹے رہے جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے گزشتہ روز رکھی جانے والی کڑی شرائط پر وزارت خزانہ نے تحفظات کااظہار کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی حکام نے وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر عالمی مالیاتی فنڈز ( آئی ایم ایف ) کی کڑی شرائط سے ماننے سے انکار کر دیا ‘جس سے آخری اجلاس بغیر کسی حتمی نتائج کے اختتام پذیر ہو گیا ۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اعلیٰ سطح اجلاس میں 6سے 8ارب ڈالر کے بیل آوٹ پیکج پر بھی کوئی پیشرفت نہ ہوسکی ۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے چین سے ہونے والی مالی معاونت کی تفصیلات دینے کا آئی ایم ایف کا مطالبہ ماننے سے بھی صاف انکار کیا اور واضح کیا کہ ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔عالمی مالیاتی فنڈز( آئی ایم ایف ) حکام (کل )بروز جمعرات 22نومبر کو اپنی حتمی سفارشات پاکستان کے حوالے کرے گا ۔واضح رہے کہ عالمی مالیاتی ادارے نے بجلی اور اشیائے ضروریہ کے نرخ بڑھانے سمیت مطالبات کی لمبی فہرست پیش کی تھی۔


ای پیپر