مہارت اور اعتماد : کامیابی کی بنیاد
20 نومبر 2018 (18:44) 2018-11-20

نعیم سلہری:

کوئی تین سال قبل کریئر کونسلنگ پر ایک سیمینار میں جانے کا اتفاق ہوا۔ جب ٹرینر نے لیکچر شروع کیا تو جس بات نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا، وہ تھی” آپ زندگی میں کچھ بھی کریں، کچھ بھی بن جائیں، شرط یہ ہے کہ آپ جیسا کوئی دوسرا نہ ہو۔ چاہے آپ موچی بن جائیں، اس میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن ایک شرط ہے کہ ایسے موچی بنیں کہ شہر کے تمام لوگ جوتا مرمت کروانے کے لئے آپ ہی کے پاس آئیں“۔ پروگرام کے بعد بار بار ذہن میں یہ خیال ابھرا کہ بھلا کریئر کونسلنگ کے پروگرام میں کوئی موچی بننے کا مشورہ کیسے دے سکتا ہے۔ کافی سوچ کے بعد راز کھلا کہ اس مثال کا مقصد تخصیص یعنی Specialization کی اہمیت اجاگر کرنا تھا۔ میں جب بھی اس مثال کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے گورنمنٹ کالج لاہور کے سابق پرنسپل اور مایہ ناز استاد پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید اعوان کا فقرہ یاد آجاتا ہے جو ان کے انگریز استاد نے اس وقت بولا تھا جب انہوں نے ان سے مستقبل میں شعبے کا انتخاب کرنے کے لئے مشورہ مانگا تھا۔ وہ فقرہ یوں ہےThere is scope in every field but at the top یعنی ” سکوپ تو ہر شعبہ میں ہوتا ہے مگر ان کے لئے جو سرفہرست ہوں“۔ سوچا جائے تو کسی بھی شعبہ میں سر فہرست وہی لوگ رہتے ہیں جو اپنے میدان کے ماہر ہوتے ہیںاور یہ مہارت یقیناً متعلقہ شعبہ میں تخصیص ہی سے حاصل ہوتی ہے۔

مہارت کیوں ضروری ہے؟

ایسا اسلئے ہے کہ آج ہم تخصیص (Specialization) کے دور میں زندہ ہیں۔ چیزیں روزانہ کی بنیاد پر بدلتی ہیں، زندگی زیادہ پیچیدہ اور متنوع ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث ہمیں آئے روز مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ماہرین کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب وہ دن نہیں رہے جب ایک ہی انسان مختلف چیزیں سنبھال لیتا تھا، اب چیزوں کا تنوع اُسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی لےے اب ماہر افرادی قوت کی ضرورت پیدا ہو چکی ہے۔ یہی وہ باتیں ہیں جن کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہر ایک انسان کو اپنے متعلقہ شعبے میں ماہرین کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنے پسندیدہ شعبے کے لےے باقی تمام امور کو نظرانداز کر دیں۔ آپ کو ایک ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی فطری ذہانت اور متنوع دلچسپیوں کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ دُنیا وسیع اور زندگی تغیرات سے بھر پور ہے، ایسے میں اگر آپ خود کو اپنی چھوٹی سی دُنیا تک ہی محدود کر لیں گے تو آپ باہر کی کائنات سے کٹ کر محض کنوئیں کا مینڈک بن کے رہ جائیں گے۔

اس حوالے سے شہرہ آفاق کتاب Every Street is Paved with Gold کے مصنف اور کوریائی کمپنی، ڈائیوو کے چیئرمین کِم وُو یُنگ کا کہنا ہے” میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم کنواں گہرا کھودنے کی جلدی میں اس کی چوڑائی کو نظرانداز کر جاتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ جتنا گہرا کھودنا چاہتے ہیں آپ کے پاس زمین کا ٹکڑا چوڑائی میں بھی اسی نسبت سے ہونا چاہےے۔ اگر آپ صرف گہرائی کو ہی ذہن میں رکھیں گے تو ابتداءمیںآپ کو ایسا لگے گا آپ کامیاب ہو جائیں گے لیکن کچھ گہرائی میں جا کر آپ کو احساس ہو گا کہ زیادہ گہرا کھودنے کے لئے چوڑائی کا خیال رکھا جانا انتہائی ناگزیر تھا۔ اس لےے کھودنے سے پہلے مناسب جگہ کا بندوبست کرنا ضروری ہوتا ہے“۔

اب بیک وقت طاقت اور عزت ومرتبہ کے حصول کا دور گزر چکا ہے۔ آپ کو طاقت ماہر ہونے سے ملتی ہے اور مقام ومرتبہ اپنے شعبے میں یکتا ہونے سے عطا ہوتا ہے۔ آپ کے سامنے ڈاکٹروں کی اتنی زیادہ عزت کیوں کی جاتی ہے، میرے خیال انہیں یہ احترام ان کی مہارت کے باعث ملتا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی کے ماہرین کی عزت کا سبب بھی ان کی خاص شعبوں میں مہارت ہی ہے۔

کِم وو ینگ کہتے ہیں”کافکا، دوستوفسکی اور کامیﺅ جیسے شہرہ آفاق مصنفین کو آج تک اسی لےے یاد کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے شعبے یعنی ادب کے ماہرین تھے۔ وہ ادب کی ان بلندیوں تک پہنچے جہاں تک دوسرے رسائی حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے وہ کیا جو دوسرے یا تو کر نہیں سکتے تھے یا پھر انہوں نے کیا نہیں۔

لہذا، آپ کا شعبہ کوئی بھی ہو، اس کے ماہر بنیئے، اس میںجادوئی مہارت کے حامل بن جایئے، اس میں یکتا یعنی ایسا بن جایئے کہ دوسرا کوئی ایسا نہ ہو۔ ایسا کرنے سے ہی آپ کو عزت اور مقام ومرتبہ مل سکتا ہے۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ ایسا کیسے کیا جائے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو بھی آپ کر رہے ہیں اس میں ڈوب جائیں، اس کام کو اپنی ذات کا حصہ بنا لیں۔ خیالات، عقل اور ادارک انہی لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں جو سر تا پا اپنے کام میں غرق ہو جاتے ہیں۔ کاوشوں کا تسلسل توڑ کر نئے خیالات کے حصول کے لےے سستانا سب سے بڑی حماقت ہے۔

کاغذ پر لفظ قلم کی نوک سے اُترتے ہیں، لہٰذا بہترین تحریر کے لےے لکھتے جائیں، لکھتے جائیں اور لکھتے جائیں، یہی فنِ تحریر میں مہارت کا واحد اور مو¿ثر طریقہ ہے۔ اسی طرح تمام شعبہ ہائے زندگی میں مہارت ، کاملیت اور ادارک مکمل محویت سے ملتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے زمین سے پانی حاصل کرنے کے لئے ایک ہی جگہ پر خاص گہرائی تک کھدائی کرنا پڑتی ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا سو فٹ کی مطلوب کھدائی آپ دس مختلف جگہوں پر دس دس فٹ کر کے پانی حاصل کر لیں۔ یاد رکھیں! ننانوے فیصد ذہین افراد اپنی محنت سے غیرمعمولی بنتے ہیں، اس لےے آپ بھی اپنے شعبے کے غیر معمولی ذہین بننے کے لےے کام میں ڈوب جائیں اور کاملیت حاصل کریں۔

خود اعتمادی کیوں؟

آپ جب کسی شعبہ میں مہارت حاصل کر کے اس میں دوسروں سے منفرد بننا چاہتے ہیں تو اس کے لئے محنت، علم اور مسلسل عمل کے ساتھ ساتھ جس کی چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہو تی ہے، وہ ہے اعتماد کی دولت۔ آج ہم میں سے اکثر لوگوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ یا تو اس دولت سے محروم ہیں یا پھر یہ ان کے اندر یہ دولت موجود تو ہے لیکن وہ اس سے واقف نہیں ہیں۔ اگر انہیں اس بات کا احساس ہو جائے کہ یہ کتنی بڑی دولت ہے تو وہ ضرور اسے اپنے اندر پیدا کر لیں۔ یا پہلے سے موجود ہے تو اسے دریافت کر لیں۔ خوداعتمادی وہ خوبی ہے جو کم وبیش ہر چیز کو ممکن بنا دیتی ہے۔

خوداعتمادی کیسے بڑھائی جائے؟

جدید نفسیات نے اس حوالے سے انسان کی بڑی خدمت کی ہے کہ آج آپ کچھ مخصوص مشقوں کے ذریعے اپنے اندر وہ خوبیاں پیدا کر سکتے ہیں جن کے بارے میں آپ کا خیال ہوتا ہے کہ وہ آپ میں موجود نہیں ہیں۔ کِم وُو ینگ اس حوالے سے کہتے ہیں” میں نے ایک بار خوداعتمادی بڑھانے کے لےے ایک مشق اختراع کی تھی۔ میں نے صبح دفتر جاتے ہوئے مختلف گاڑیوں کے نمبر جمع کرنے کی مشق شروع کر دی۔ آغاز میں تو میں نے یہ اپنا ریاضی بہتر کرنے کے لےے کیا۔ گاڑیوں کے نمبروں کے ہندسے جمع کرنے کے بعد زیادہ کا حاصل جمع 9 بن رہا تھا۔ تب میں نے سوچا کہ 9 کا ہندسہ تو مشرق میں ایک اچھا شگون اور خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایک دن جب میں نے نمبروں کے ہندسے جمع کئے تو کئی نمبر ایسے تھے جن کے حاصل جمع میں 9 موجود تھا جیسا کہ 9، 19، 29 اور 39 وغیرہ وغیرہ۔ اس دن میں اپنے کاروبار کے بارے میں زیادہ پُراعتماد رہا۔ لیکن اگر کسی دن حاصل جمع میں 3 کا ہندسہ زیادہ ہوتا تو اپنے اعتماد میں کمی محسوس کرتا۔ کسی دن تو میں اپنے ڈرائیور کو آس پاس چکر لگانے کا بھی کہہ دیتا تاکہ میں دفتر پہنچنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ ایسی گاڑیاں دیکھ لوں جن کے نمبروں کے ہندسوں کا مجموعہ 9 ہو۔ ایسا کرنے سے میرا اعتماد بڑھ جاتا تھا۔ اس طرح نمبر جمع کر کے 9 کا ہندسہ تلاش کرنا آپ کو توہم پرستی لگے گا مگر یہ حقیقت ہے کہ جب آپ کے ذہن میں 9 ہو گا تو آپ کو زیادہ 9 کا ہندسہ ہی نظر آئے گا“۔

اعتماد میں اضافہ کر کے آپ اپنی مہارتیں بڑھا سکتے ہیں۔ یہی وہ طریقہ ہے جو آپ کو اپنے شعبے میں سب سے الگ، منفرد اور نمایاں بنا سکتا ہے۔ اگر آپ دوسروں سے منفرد مقام حاصل کرلیتے ہیں تو پھر زندگی کے ہر شعبے میں آپ کامیابی کی راہیں بنانے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ اور ایسا نہیں کرتے تو پھر آپ بھی دوسروں کی طرح اوسط درجے کی زندگی ہی گزار سکتے ہیں۔ کسی شعبہ میں ماہر بن کر یا ایک اوسط درجے کا پروفیشنل بن کر زندگی گزارنے کا فرق آپ ان دو ڈاکٹروں کی زندگی سے جان سکتے ہیں جن میں سے ایک نے ایم بی بی ایس کر کے چند ہزار کی نوکری پر اکتفا کرتے ہوئے زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور دوسرے نے طب کے کسی خاص شعبہ میں تخصیص یعنی Specilization کر کے۔ ان دونوں کی پریکٹس میں فرق یہ ہوتا ہے کہ ایک سے ملاقات کرنے کے لئے پہلے وقت لینا اور انتظار کرنا پڑتا ہے جب کہ دوسرے کو خود مریضوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ آپ کیا بننا چاہتے؟ وہ جس کا لوگ انتظار کریں یا پھر وہ جو خود لوگوں کا انتظار کرے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

٭


ای پیپر