دنیا کے مشہور ترین ہیرے کہاں سے چلے کہاں پہنچے؟
20 نومبر 2018 (18:37) 2018-11-20

اعجاز احمد اعجاز:

آج ہیروں کا سب سے زیادہ استعمال بطور جواہرات کیا جاتا ہے۔ ان کی چمک دمک کی وجہ سے ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین کے نزدیک ہیرے کی چار بنیادی خصوصیات اس کی اہمیت یا اس کی قیمت کا تعین کرتی ہیں۔ یہ چار خصوصیات قیراط، کٹائی، رنگ اور شفافیت ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہیروں کو سب سے پہلے ہندوستان میں نکالا اور پہچانا گیا۔ ہندوستان میں ہیروں کی تاریخ کم و بیش 3000 سال سے لے کر 6000 سال پرانی ہے۔ ہم یہاں اپنے قارئین کی معلومات میں اضافے کے لئے دنیا بھر میں پائے جانے والے مشہور ہیروں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

دنیا کے مشہور ہیرے

سائنس تو ہیرے کو ایک پتھر سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی لیکن ہیرا ہر دور میں شاہوں، نوابوں، راجوں، مہاراجوں اور طبقہ امر کے لئے فخرو انسباط کی علامت رہا ہے۔ بعض ہیروں کی وجہ سے بہت سی شخصیات کو شہرت دوام ملی، کچھ ہیرے بعض شخصیات کے لئے خوش قسمتی کی علامت ہوتے ہیں تو بعض مشہور ہیرے نحوست کی علامت بھی ٹھہرے جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

ٹیلر، برٹن ڈائمنڈ

ہیرا ہر دور میں خواتین کی کمزوری رہا ہے، بہت سے مرد اپنی محبت کی نشانی کے طور پر اپنی محبوباو¿ں کو ہیرے کا تحفہ پیش کرتے ہیں۔ رچرڈ برٹن نے اپنی محبوبہ الزبتھ ٹیلر کو جو ہیرا پیش کیا تھا اسے ٹیلربرٹن ڈائمنڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ 60.42 قیراط ہیرا خریدنے کے لئے رچرڈ جس نیلامی میں گئے وہاں بولی کا سخت مقابلہ تھا، اپنے وقت کے امیر ترین لوگ بولی میں حصہ لے رہے تھے لیکن ہیروں کی کمپنی کا رئٹر سب سے زیادہ بولی دے کر ہیرا لے گئی۔ رچرڈ برٹن کو ہیرا ہاتھ سے جانیے کا بہت دکھ ہوا۔ منت سماجت اور طویل سودے بازی کے بعد 1959ءمیں کمپنی نے 11 لاکھ ڈالر میں یہ ہیرا رچرڈ کو دینے کی حامی بھری۔ قیمت کے اعتبار سے یہ اس وقت دنیا کا قیمتی ترین ہیرا قرار پایا۔ اس ہیرے کو سب سے پہلے مناکو کی ملکہ اور سابق اداکارہ گریس کیلی نے مختلف اوقات میں اپنی سالگرہ کے موقع پر نیکلس میں جڑوا کر پہنا تھا۔ ہیرے کی فروخت میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ رچرڈ کمپنی کو نیو یارک اور شکاگو میں قائم اپنے بوتیک میں ہونیوالی نمائش میں اس ہیرے کو رکھنے کی اجازت دیں گے۔ جہاں دس ہزار افراد نے قطا ر میں اس ہیرے کا دیدار کیا۔ بعد ازاں یہ ہیرا رچرڈ کے ہاتھوں الزبتھ کے گلے کی زینت بنا دیا۔

سٹار آف دی سائوتھ ڈائمنڈ

یہ ہیرا کبھی مہاراجہ برودا پرتاب سنگھ کی اہلیہ کی پازیب میں جڑا تھا۔ سیتادیوی کے پاس تین لڑیوں کا ایک ہار اور ایک پازیب کی جوڑی تھی۔ جن میں کئی بیش قیمت ہیرے زمرد جڑے ہوئے تھے سیتادیوی کے پاس اور بھی کئی خاص ہیرے تھے۔ سیتادیوی کی شادی ایک ہندو راجہ سے ہوئی۔ مہاراجہ سے ملاقات کے بعد دونوں نے شادی کا پروگرام بنایا۔ اس مقصد کے لئے سیتادیوی مسلمان ہو گئی۔ جس سے ہندو راجہ کے ساتھ اس کا نکاح ٹوٹ گیا۔ بعدازاں سیتادیوی نے دوبارہ ہندو ہو کر مہاراجہ پرتاب سنگھ سے شادی کر لی۔ دونوں نے بعد میں مناکو میں رہائش اختیار کر لی۔ مہاراجہ برودا جاتے ہوئے تمام ہیرے ، جواہرات بھی ساتھ لے گئے ۔ سیتادیوی پورے یورپ میں یہ ہیرا پہن کر تقریبات میں شرکت کرتی۔ بعدازاں پرتاب سنگھ اور سیتادیوی کی شادی برقرار نہ رہی اور 1953ءمیں سیتادیوی کی پازیب میں جڑا ہیرا فروخت ہو گیا اور بکتے بکتے ڈچز آف ونڈسر کے پاس پہنچ گیا۔ ڈچز نے ہیرا اپنے نیکلس میں جڑوا لیا۔ ایک تقریب میں دونوں کا آمناسامنا ہو گیا۔ سیتادیوی نے ڈچز کے گلے میں ہیرے کو طنزیہ انداز سے دیکھا اور کہا کہ یہ ہیرا جو آپ نے گلے میں سجایا ہے کبھی میرے پیروں میں ہوا کرتا تھا۔

دی سٹار آف بمبئی

سری لنکا سے سفر کرنے والا 182 قیراط وزنی یہ نیلم خاموش فلموں کی سٹار میری یک فورڈ کو اس کے شوہر اداکار ڈگلس فئر بنک نے تحفہ کے طور پر دیا تھا۔ اس وقت دونوں اپنے کیرئیر کے عروج پر تھے۔ کئی سال بعد میری نے یہ ہیرا ایک فلاحی ادارے کو عطیہ کر دیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ فلموں میں خود کو سادہ ظاہر کرنے کے لئے میری موتیوں سے بنی ایک ہلکی سی مالا پہنا کرتی تھی لیکن شوٹنگ ختم ہوتے ہی وہ اپنے ہینڈ بیگ سے قیمتی ہیرے جواہرات والے زیورات نکال کر خود کو نمایاں کر لیتی۔ یہ ہیرا عرصہ دراز تک میری کے گلے کی زینت بنا رہا۔

منحوس ہیرے

بلیک پرنسز روبی

یہ یاقوت سرخ نہیں بلکہ سیاہی مائل ارغوانی رنگ کا ہے۔ پہلی نظر میں یہ جمے خون کا لوتھڑا دکھائی دیتا ہے۔روایات کے مطابق یہ 1369ءمیں غرناطہ کے بادشاہ کی ملکیت تھا جسے ڈون پیڈرو نے قتل کر دیا۔ 1485ءمیں رچرڈ سوم نے جنگ کے دوران یہ ہیرا اپنے ہیلمٹ میں جڑا یا تھا۔ لیکن وہ جنگ کے ساتھ ساتھ زندگی کی بازی بھی ہار گیا۔ کچھ عرصہ بعد یہ ہیرا ایک برطانوی جوہری نے خرید لیا اور 1660ء میں چارلس دوم کے ہاتھ بیچ دیا گیا۔ یہ ہیرا ان دنوں برطانوی شاہی تاج کی زینت ہے۔ جب سے یہ ہیرا برطانیہ کے پاس آیا دنیا بھر میں اس کی سلطنت سکڑتی چلی گئی۔

کوہ نور ہیرا

ایک سو پانچ قیراط وزنی یہ ہیرا کبھی دنیا کا سب سے وزنی ہیرا شمار ہوتا تھا۔ قدیم ہندوستانی تاریخ اور سنسکرت کی کتابوں میں بھی اس کا ذکر ہے۔ اس ہیرے سے متعلق بہت سی روایات ہیں۔ ایک روایت کے مطابق حیدر آباد رکن کے پانچویں نظام کے دور میں یہ ہیرا کان سے دریافت ہوا۔ بعدازاں کئی سکھ، مغل، مسلمان اور ایرانی بادشاہوں کی ملکیت بنا، مغل فرماں روا شاہ جہاں نے اسے معروف تخت طاﺅس میں نصب کرا لیا جسے بعدازاں ایران کے شاہ نے چوری کرا لیا جسے پھر ہندوستان واپس لایا گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اسے قبضہ میں لے کر ملکہ وکٹوریہ کو پیش کر دیا۔ روایت ہے کہ یہ ہیرا مردوں کے لئے ہمیشہ منحوس ثابت ہوا۔ جن بادشاہوں کی ملکیت میں یہ رہا وہ یا توتاج و تخت سے محروم ہوئے یا انہیں کسی دوسری بڑی نحوست کا سامنا کرنا پڑا۔ ملکہ وکٹوریا اور ملکہ الزبتھ کے لئے یہ منحوس ثابت نہ ہوا اور آج بھی برطانوی تاج میں جڑا ہے۔

ہوپ ڈائمنڈ

روایت ہے کہ یہ ہیرا سیتا دیوی کے بت میں جڑا ہوا تھا۔ جہاں سے کسی نے اسے چرا لیا۔ مگر چوری کے کچھ عرصہ بعد کتوں نے چور کو چیر پھاڑ ڈالا۔ تاہم اس وقت تک وہ ہیرا بادشاہ لوئی شش دہم کے ہاتھ بیچ چکا تھا۔ بادشاہ نے 112 قیراط کے اس ہیرے کو کٹوا کر دو ہیرے بنوا لئے۔ 19 ویں صدی میں ہنری فلپ ہوپ اس کا مالک بنا، اور تب سے یہ ہوپ ڈائمنڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مختلف ہاتھوں سے یہ ہیروں کا کاروبار کرنے والی کمپنی ہیری ولنسٹن کے ہاتھ لگ گیا۔ اب یہ ہپیرا واشنگٹن میں ایک نمائش کی زینت ہے۔

بلیک آر لوف ڈائمنڈ

سیاہ رنگ کے اس ہیرے میں ایک خوش کن جھلملاہٹ ہے۔ 67.5 قیراط وزنی اس ہیرے کے تین مالک خودکشی کر چکے ہیں جن میں دو روسی شہزادیاں تھیں۔ جبکہ تیسرے مالک جے ڈبلیو پیرس نے ہیرا خریدنے کے چند روز بعد نیو یارک کی ایک بلند عمارت سے چھلانگ لگا دی۔ بعد میں اس کی نحوست ختم کرنے کے لئے اسے تین حصوں میں کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد حیرت انگیز طورپر اس کی نحوست ختم ہو گئی۔ یہ تینوں حصے کئی عجائب گھروں میں بھی رہے ہیں۔ اداکارہ فیلیسٹی ہف مین نے 2006ء میں آسکر ایوارڈ کی تقریب میں شرکت کے وقت ان میں سے ایک کو نیکلس میں جڑا پہنا تھا ۔

دہلی پرل سیفائر

جامنی رن کا ری نیلم ایک روز لندن کے ایک عجائب گھر کے منتظم کو موصول ہوا یہ 7 ڈبوں میں بند تھا اور اس کے ساتھ ایک خط آیا تھا ” اس نیلم کی تاریخ خون آلودہ ہے جس نے بھی اسے اپنے پاس رکھا ذلیل و خوار ہوا۔ چنانچہ میں اسے رکھنا نہیں چاہتا“۔ روایت ہے کہ اسے 1857ء میں بھارتی شہر کا نپور کے ایک مندر سے چرا کر برطانیہ لایا گیا تھا جس فوجی نے اسے چوری کیا وہ جلد اپنی دولت اور صحت سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس کے بیٹے کو ورثے میں یہ نیلم ملا مگر بد نصیبی بھی ساتھ ہی ملی۔ بعدازاں اس کے کئی مالکوں نے خودکشی کی۔ ایک گلوکارہ اس کی مالک بنی تو آواز سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ آخری مالک نے اسے عجائب گھر کو بلا معاوضہ عطیہ کر دیا جہاں پر یہ آج بھی محفوظ ہے۔

لاپیر گنینا پرل

ناشپاتی کی شکل کا یہ موتی دنیا کا سب سے بڑا سچا موتی ہے۔ لاپیر گنینا ہسپانوی زبان میں آوارہ گرد کو کہتے ہیں۔ فلپ دوم نے یہ موتی اپنی ہونے والی بیوی ملکہ میری اوّل کو تحفے میں دیا تھا جو چار سال بعد ہی مر گئی۔ یہ موتی سپین سے فرانس اور پھر امریکہ پہنچا۔ جہاں بھی یہ موتی گیا وہاں بدترین خون خرابہ اور جنگ ہوئی۔ 1969ء میں رچرڈ برٹن نے یہ موتی خرید کر الزبتھ ٹیلر کو تحفے میں دیا۔ 1974ءمیں دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی۔

٭٭٭

کوہ نور ہیرا.... ملکیت کی بازگشت

ملکہ برطانیہ کے تاج میں نصب دنیا کا خوبصورت اور مہنگا ترین کوہ نور ہیرا کس کی ملکیت ہے؟ یہ بھی ایک دیرینہ تنازع ہے۔ اس کی ملکیت کے دعوے دار ایران ، افغانستان، پاکستان اور بھارت ہیں۔ ایران افغانستان نے ملکیت کا دعویٰ ضرور کیا لیکن کبھی زیادہ سرگرمی نہیں دکھائی۔ پاکستان ملکیت دعوے کے حوالے سے عموماً خواب غفلت کا شکار رہتا ہے جبکہ بھارت کوہ نور ہیرے پر ملکیت کا دعویٰ شدومد سے کرتا آرہا ہے۔ اسے امید ہے کہ کسی نہ کسی روز برطانیہ سے کوہ نور ہیرا واپس ضرور لے لے گا۔

لفظ امید سے ہیرے سے وابستہ داستان بھی یاد آ گئی۔ یہ بھی کوہ نور ہیرے کی طرح ہندوستان کے شہر گولکنڈہ سے ملا۔ یہ آج کسی تاج یا تخت و طاو¿س میں نصب نہیں بلکہ واشنگٹن کے میوزیم میں چھوٹے چھوٹے ہیروں میں گھرا لشکارے مار رہا ہے۔ اس کے میوزیم میں پہنچنے کی بھی عجیب داستان ہے۔ ایک دن واشنگٹن ڈی سی ایک ادارے کے عملے کو ڈاک کا عام لفافہ موصول ہوا۔ لفافہ کھولا گیا تو اس میں چمکتا دمکتا خوبصورت ہیرا موجود تھا جسے میوزیم میں رکھوا دیا گیا۔ روایت ہے کہ گولکنڈہ کی کان سے نکالے جانے کے بعد اسے ایک مندر میں سیتا کی آنکھ میں نصب کیا گیا تھا جسے فرانسیسی تاجر ژاں تیورنیئر چرا کر فرانس لے گیا۔ یہ ہیرا ہمیشہ اپنی نحوست کے حوالے سے مشہور رہا جس بھی بادشاہ شہزادے یا شہزادی نے پہنا آفات دوچار ہوئے یا موت سے ہمکنار۔ تیورنیئر نے 1668ءکو یہ ہیرا فرانس کے بادشاہ لوئی چہاردہم کو فروخت کیا۔ اس کے بعد ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ فروخت ہوتا ہوا ہیرا جس کا شروع میں وزن 112 قیراط تھا تراشیدگی کے عمل سے گزرنے کے بعد آج صرف 45 قیراط رہ گیا ہے۔ 1951ءمیں نیویارک کے تاجر ہیری ونسٹن نے دس لاکھ ڈالر میں خریدا تھا۔ اس کے بعد وہ ڈاک کے لفافے سے برآمد ہوا۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھارت کے دورے کے دوران 2010ءمیں اس وقت بدمزگی کا سامنا کرنا پڑا جب ایک ٹی وی پروگرام کے دوران شرکاءنے مطالبہ کیا کہ برطانوی حکومت بھارت کو کوہ نور ہیرا واپس کرے۔ کیمرون کے لئے یہ ایک غیرمتوقع سوال تھا جس کا کچھ تردد کے بعد انہوں نے جواب دیا ”کوہ نور ہیرا واپس نہیں ہو سکتا۔“ گولکنڈہ سے 700سال قبل دریافت ہونے والا یہ ہیرا افغانستان اور ایران سے ہوتا ہوا لاہور میں رنجیت سنگھ کے پاس آیا تھا۔ افغانستان اور ایران اسی بنا پر حق ملکیت جتاتے ہیں۔ چونکہ یہ ہندوستان سے دریافت ہوا جو اس وقت وسیع و عریض مملکت تھی اس لئے آج ہندوستان یا بھارت کے نام سے موجود ملک اس پر سب سے زیادہ حق ملکیت جتا رہا ہے۔ لیکن اصولی طور پر یہ پاکستان کی ملکیت ہے۔ گولکنڈہ شہر ریاست حیدر آباد کا حصہ ہے۔ قانونی طور پر ریاست حیدر آباد کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہوا تھا۔ جس پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ اس حوالے سے کوہ نور ہیرا پاکستان کی ملکیت بنتا ہے۔ لیکن سب سے بڑا جواز یہ ہے کہ ہیرا 1849ءمیں لاہور سے رنجیت سنگھ کے ورثاءسے لے کر برطانیہ لے جایا گیا تھا۔ 1992ءمیں یونیسکو نے ایک قانون منظور کرایا جس پر برطانیہ سمیت دنیا کے تمام ممالک نے دستخط کئے۔ اس کے مطابق نوادرات جس علاقے سے لئے گئے ہوں اسی علاقے کو واپس کرنا ضروری ہیں۔ 1994ءمیں نواز شریف کے وزیر ثقافت شیخ رشید نے اسی قانون کی بنیاد پر کہا تھا کہ ہم نے برطانیہ سے کوہ نور ہیرا واپس لینے کا عزم کر رکھا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1976ءمیں اپنے برطانوی ہم منصب کو کوہ نور ہیرا کی واپسی کے لئے خط لکھا تھا۔ آج نئے پاکستان کے دعویداروں کی حکومت ہے۔ان کو چاہیے کہ ایک نیا کام یہ بھی کر دکھائیں اور کوہ نور ہیرے کی واپسی کا معاملہ بھرپور طریقے سے اٹھائیں۔ برطانیہ کے ساتھ بات کریں۔ اقوام متحدہ سے رجوع کرنا پڑے تو بھی گریز نہ کریں۔ شاید یہ کام ان کے کریڈٹ پر ہی جائے۔

٭٭٭


ای پیپر