کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جستجورسول
20 نومبر 2018 2018-11-20

قارئین کرام ماہ ربیع الاول کی خوشی ہمیں کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جستجو رسول کی ابتدا میں ، میں نے شہد کی مکھی کی جستجو رسول ﷺ کے بارے میں لکھنے کی جو سعادت حاصل کی تھی ، وہ پڑھ کر وہاڑی سے ہمارے ایک قاری نے یہ کہہ کر کہ میرانی صاحب ، جس قلم سے آپ نے ہمارے پیارے نبی ﷺ کی مدحت وثنا لکھی ہے وہ قلم مجھے عطا کردیں، یہ سن کر میرے ضبط کے بندھن تو ٹوٹ ہی گئے مجھے اپنے والد محترم کے دوست ”گدائی صاحب“ یاد آگئے جو علامہ اقبالؒ کی رباعی تو غزنی ازہردوعلم پڑھ کر پیدل زاروقطار روتے ہوئے علامہ اقبال ؒ کے گھر پہنچ گئے اور ان سے التجا کی کہ یہ رباعی میرے نام کردیں، علامہ نے رباعی انہیں دے دی، جوان کی قبر پہ لکھی ہوئی ہے اور ڈیرہ غازیخان میں خود دیکھی ہے ۔ اور ہاتھ ان غلامان وعاشقان نبیﷺ کی درازی عمر اور درجات کی بلندی کے لیے اٹھ گئے کہ عقیدہ ختم نبوتﷺ کی خاطر وہ ہمیشہ جان ہتھیلی پہ لیے پھرتے ہیں۔

قارئین محترم ، میں نے اپنی زادراہ کے لیے اور والدین جن کا نسب حضرت امیر حمزہؓ سے جاملتا ہے کی بلندی درجات کے لیے عقیدہ ختم نبوتﷺ پہ چارسو صفحات کی جو کتاب لکھی ہے وہ بارہ ربیع الاول کو انشاءاللہ مومنین کے ہاتھوں میں ہوگی، مندرجہ ذیل انتخاب کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ طورخم سے نواب خان ، کراچی سے نرگس فخر، چارسدہ سے سید ولایت شاہ، جوریڑھی بان ہیں، جہلم سے فخری صاحب، گجرات سے محمد بوٹا، جوصحافی بھی ہیں اور سیاسی بھی، لاہور سے بے شمار اصحاب کے علاوہ خصوصاً میجر عاطف ، سید اعجاز حسین شاہ، ملائیشیا سے سید مظفر حسین شاہ، فاٹا سے عمررسول ، کرنل فیض صاحب، سید احمد شاہ، پرویز شاہد صاحب ، فہیم ظفر صاحب، بریگیڈیئر قمر زمان ،امجد شفیق، زمان خان، خالد وحید صاحب، ڈاکٹر فوزیہ خان، ڈاکٹر سدرہ ، میجر وارث، جنرل شفیق احمد، جنرل رضا، جنرل خالد لطیف مغل، بریگیڈیئر ظفر حیات، جنرل نصیر احمد، سکوارڈن لیڈر حافظ عزیز احمد، لوئر دیر سے عنایت اللہ خان، لندن سے ثمینہ عمران ملک، ڈاکٹر محمد افتخار قاضی، خالد جاوید، اشرف علی مہر، غلام ربانی، احتشام الحق ، طلحہ زیدی وغیرہ ہیں ان کے نام اس لیے لکھ رہا ہوں کہ سورة محمد میں ارشاد ہے کہ مومنو،اللہ کی اطاعت کرو اور رسولﷺ کی اطاعت کرو ، اور یہ اکثر مجھے دعاﺅں سے نوازتے رہتے ہیں۔ چند اولیائے کرام ، جو بادشاہی سے گدائی تک پہنچ گئے۔ اور جستجو رسولﷺ میں دربدر کی خاک چھاننے سے بھی گریز نہ کیا، اپنا تن من دھن اور اپنے وطن سے کوسوں دور قدمین شریف ونعلین مبارک، کو سرپہ سجائے اصحاب صفہ، اور دنیا میں ریاض الجنہ میں جاہ نشین ، اور آخرت میں فردوس بریں کے ہمیشہ کے لیے مکیں ہو گئے، مجھے قسم ہے ، اس ذوالجلال والاکرام کی جس کے قبضہ قدرت میں وجہ تخلیق کائنات کی، اور تمام مخلوقات کی جان ہے ، یہ غلامان نبی، نہ تو فردوس بریں کی خاطر ، اور نہ ہی دوزخ کے ڈر سے پابند شریعت ہوتے ہیں، وہ تو صرف اس محبوب کے حب میں، جس کا عاشق صادق ، خود خدا ہے ، جس کی عبادت ، مخلوق کائنات ، نباتات، وجمادات ، شب وروز اور انسان جلوت و خلوت میں کرتے رہے ہیں، نہ جنات اس فریضے سے غافل ہیں، اور نہ ہی ملائکہ اس سے مستثنیٰ ہیں؟ مگر مومن تو آہوں و ہچکیوں میں اپنے محبوب محترم کو یاد کرکے قیامت تک یہی کہتے رہیں گے ، کہ

کاش میں دروپیغمبر میں اٹھایا جاتا

باخدا قدموں میں سرکار کے پایا جاتا

ساتھ سرکار کے غزوات میں شامل ہوتا

ان کی نصرت میں لہو میرا بہایا جاتا

ریت کے ذروں میں اللہ بدل دیتا مجھے

پھر مجھے راہ محمد میں بچھایا جاتا

خاک ہو جاتا میں سرکار کے قدموں کے تلے

خاک کو خاک مدینہ میں ملایا جاتا

ایک حدیث کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ایک دفعہ حضور کے ساتھ صحابہ کرامؓ کھانا کھارہے تھے، اور انہوں نے خوش ہوکر کہا کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ آپﷺ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھارہے ہیں، تو آپﷺ نے فرمایا کہ بیشک تم میرے ساتھی ہو، مگر بعد میں جو مجھے دیکھے بغیر امتی ہوں گے وہ میرے بھائی ہوں گے ، قارئین کرام ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ہمیں بھائی کا درجہ عطا فرما دیا، حضورﷺ نے فرمایا کاش میں اپنے خلفا کو دیکھ لیتا، صحابہ نے پوچھا وہ کون ہیں، فرمایا جو میرے بعد آئیں گے ، نیک عمل کریں گے تو انہیں پچاس لوگوں کے نیک عمل کا ثواب ملے گا۔ ایک بات جو میرے ذہن ودل میں کھٹکتی رہتی ہے ، کہ ادب وآداب نبویﷺ کا ہم خیال کیوں نہیں رکھتے، دور پیغمبر میں تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ دربار رسالتﷺ میں کسی کو حاضری کی سعادت، سے قبل انہیں آداب گفتگو اور آداب ملاقات کے بارے میں تفصیل سے بتاتے، بلکہ سمجھاتے ، اور ایسا کیونکر نہ کرتے، کہ آداب ملاقات نبی آخرالزمانﷺ کے بارے میں تو خود خدا قرآن پاک میں مسلمانوں کو سمجھاتا ہے ، کہ اپنی گفتگو اپنا لہجہ، اور اپنا انداز بیان نرم اور دھیما رکھیں، خبردار اگر تمہاری آواز حضورﷺ کی آواز سے قدرے بلند ہوگئی، تو تمہارے تمام اعمال اکارت میں چلے جائیں گے۔ مجھے نہیں معلوم، کہ توکجا من کجا جیسی نعت لکھنے والے کے دل میں کیا جذبہ اور کیسی وارفتگی تھی دلوں کا حال تو صرف اوپر والا ہی جانتا ہے ۔ مگر میرا دل اس شعر کو قبول کرنے سے عاری ہے کہ آپﷺ کا ذکر مبارک کرکے اپنے آپ کو ”بعدازخدا بزرگ توای قصہ مختصر“ کے ساتھ اپنا ذکر کرنا ہی نامناسب لگتا ہے ، اللہ، مجھے اور انہیں ہدایت دے۔

شیخ فریدالدین عطارؒ ، ایک دن اپنے کاروبار میں مصروف تھے کہ ایک فقیر آیا، اور صدالگائی، مگر جب فقیر نے دیکھا، کہ میرے مانگنے کے باوجود بھی ان پر کچھ اثر نہیں ہوا، تو وہ بولا کہ اپنے دھندے یعنی کاروبار میں لگے ہوئے ہو کہ آپ پہ کچھ اثر ہی نہیں ہوتا، یہ نہیں پتہ کہ ایک دن جان بھی دینی پڑے گی، تو جان کیسے دو گے؟شیخ فریدالدینؒ جھنجلا کر بولے، کہ جیسے تم دوگے۔ فقیر بولا ، بھلا میری طرح تم کیسے دوگے، یہ کہہ کر اس نے کشکول اپنے سر کے نیچے رکھا، اور لیٹ گیا، زبان سے لاالہ الا اللہ کہا اور اس کی روح پرواز کر گئی یہ دیکھ کر شیخ فریدؒکے دل پر اس واقعے کا اس قدراثر ہوا، کہ وہیں کھڑے کھڑے تمام کاروبار لٹا دیا، اور فوراً درویشی اختیار کرلی، اور اس واقعے کی جھلک آپ کو اناالحق کہنے والے مکے میں مستغرق عبادت حضرت حسین منصور حلاج ؒ کے تختہ دار پر اپنا سروار دینے والے واقعے میں ملتی ہے ، ایک ہزار نوافل روزانہ پڑھنے والے کو جب سولی پر چڑھانے کا حکم دیا گیا، ایک مجذوب نے پوچھا کہ عشق کسے کہتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ ابھی دیکھ لینا، اور پھر پھانسی کے پھندے کو چوم کر واصل حق ہوگئے، جب خلیفہ وقت کے متفقہ طورپر علما نے حسین منصور کو قابل گردن زدنی ہونے کا فتویٰ دیا تھا، تو خلیفہ نے کہا تھا کہ جب تک حضرت جنید فتویٰ پر دستخط نہیں کریں گے میں منصور کو پھانسی نہیں دوں گا، حضرت جنید ؓ سے ایک مرتبہ سوال پوچھنے پر انہوں نے حسین منصور کو کہا تھا کہ تو بہت جلد لکڑی کا سر سرخ کردے گا، یعنی سولی چڑھا دیا جائے گا، تو منصور حلاج نے فرمایا تھا کہ جب تک آپ اہل ظاہر کا لباس نہیں پہنیں گے، تب تک مجھے پھانسی نہیں چڑھایا جاسکتا، جب حضرت جنیدؓ کو ان کی سزا کی اطلاع ملی تو آپ نے مدرسے میں جاکر علما ظاہر کا لباس زیب تن کیا، اور فتویٰ دیا کہ ہم ظاہر کے اعتبار سے منصور کو سولی پر چڑھانے کا فتویٰ دیتے ہیں۔ جس وقت آپ کو سولی دی جانے لگی تو وہاں اتنے پرانے دور میں بھی جب اتنی آبادی نہیں تھی ، ایک لاکھ افراد کا اجتماع ہوگیا تھا، اور آپ ہرسمت دیکھ کر حق حق ، اور اناالحق کہہ رہے تھے، اس وقت بھی کسی اہل دل نے پوچھا تھا کہ عشق کسے کہتے ہیں، تو فرمایا، آج، کل، اور پرسوں تجھے معلوم ہوجائے گا، چنانچہ اسی دن آپ کو پھانسی دی گئی، دوسرے دن ، آپ کی لاش کو جلایا گیا، اور تیسرے دن خاک کو ہوا میں اڑا دیا گیا، جب آپ کے صاحبزادے نے وصیت کی خواہش کی تو فرمایا ، کہ علم حقیقی کا ایک نکتہ بھی تمام اعمال صالحہ پہ بھاری ہوتا ہے ، اور پھر آپ نہایت خوشی سے شاداں اور فرحاں سولی کی جانب بڑھے تو لوگوں نے پوچھا کہ آپ اس قدر خوش کیوں ہیں، فرمایا کہ اس سے زیادہ مسرت کا وقت اور کونسا ہوسکتا ہے ، جبکہ میں اپنے ٹھکانے پہ پہنچ رہا ہوں، قارئین منصور حلاج ؒجیسے مومن کی لاش کیوں جلائی گئی؟ اور وہ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں ۔انشاءاللہ اگلی دفعہ (جاری ہے )

رابطہ بعد ظہر:0300-4383224


ای پیپر