CNN, BBC, Deutsche Welle, RT and Al Jazeera have their eyes on Gaza.
20 May 2021 (11:48) 2021-05-20

کافی دنوں سے غزہ کی طرف ہی نظر ہے۔ سوشل میڈیا خاص طور پر ٹویٹر کے ٹرینڈرز فالو کر رہا ہوں جس میں فلسطین سب سے اہم ہے۔ فیس بک اس سے بہت پیچھے ہے اور اپنا روائتی میڈیا تو کوسوں دور ہے۔ اسے شاید خبر ہی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور معاملہ کتنا سنگین ہے۔ رائے عامہ ہموار کرنے والے غزہ سے بے خبر کیونکر ہو سکتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جان بوجھ کر غزہ کو صرف ہیڈ لائنز کا حصہ بنا کر دوسرے معاملات کو اچھالا جا رہا ہو۔ اس کے مقابلے میں سی این این، بی بی سی، ڈوئچے ویلے ، آر ٹی اور الجزیرہ کی نظریں غزہ پر جمی ہوئی ہیں۔ ایک بڑے ٹی وی چینل کے معروف ترین ٹی وی کے پروگرام میں  غزہ کا حصہ محض چند منٹ تھا۔ ایک طرف غزہ میں مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے اور دوسری طرف ہمارے میڈیا پر پھکڑ پن اور جگت بازی کی دوڑ شروع ہے۔ ہمارے ائیر ٹائم کا زیادہ حصہ اس بات پر صرف ہو رہا ہے کہ پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا ایک گروپ بن گیا ہے جس نے دھمکی دی ہے کہ اگر کسی کو نااہل قرار دیا گیا تو سب مستعفی ہو جائیں گے۔ وفاقی وزیر ہوا بازی کی پریس کانفرنس کو براہ راست دکھایا جاتا ہے جس میں وہ یہ وضاحت فرماتے ہیں کہ ان کا رنگ روڈ سیکنڈل میں کوئی حصہ نہیں۔

یہ تسلیم کہ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ براہ راست لائیو کوریج کا انتظام کر سکیں۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ کسی کی لائیو فیڈ پر اپنا لوگو لگا لیں۔ یہ مہارت تو ویسے بھی کمال کی ہے۔غزہ میں کارپٹ بمباری کا سلسلہ جاری ہے اور بلند و بالا عمارتیں زمین بوس کی جا رہی ہیں۔ نہتے فلسطینیوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور یہاں ہو کا عالم طاری ہے۔ وزیر اعظم فلسطین کے معاملے پر سنجیدہ ہیں مگر قوم غیر سنجیدہ۔ ناموس پر مر مٹنے والے بھی مصلحت کا شکار ہیں۔ کیا ہم وہی خطہ ہیں جس کے بارے میں حدیث کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس طرف سے ٹھنڈی ہوا آرہی ہے۔ کون ہے جو اس میڈیا کو قابو میں رکھے ہوئے ہے اور رائے عامہ پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

دوسری طرف سوشل میڈیا کے جہادی ہیں جو صبح شام یروشلم کو فتح کر رہے ہیں۔  انہیں غزہ میں ہونے والے قتل عام سے کوئی غرض نہیں بلکہ ان کے لیے یہ اہم ہے کہ حماس کے راکٹ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا رہے ہیں۔ اسرائیل کے ناقابل تسخیر دفاعی نظام میں سوراخ ہو گیا ہے۔ پاکستان بیس منٹ میں اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے میزائلوں نے اسرائیل کو نشانے پر رکھ لیا ہے۔ ان کے ذرائع انٹیلی جنس کے خفیہ اجلاسوں کی خبر تک لے آتے ہیں۔ ہماری باصلاحیت قوم کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ تحقیق کا عالم یہ ہے کہ اسرائیل کے شہروں کے نام تک کا علم نہیں۔ اپنی خواہش کو خبر بنانے کی کوشش میں سب کچھ بھول جاتے ہیں۔

سات دہائیوں میں ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ علم، تحقیق، تہذیب کچھ بھی ہمارے پاس نہیں۔ ایک چھوٹا سا ملک جو کسی ملک کے ڈویژن سے کم نہیں وہ آنکھیں دکھا رہا ہے اور ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی والی قوم منت ترلے کر رہی ہے۔ عالمی برادری کی طرف دیکھ رہی ہے کہ کوئی ان کی مدد کو آئے۔ کبوتر کی طرح ہم نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ القدس ایسے آزاد ہونے والا نہیں۔ کم از کم فلسطینی ہم سے امید نہ رکھیں۔ عربوں سے بھی امید نہ رکھیں انہوں نے بھی اپنے شہر بسانے ہیں کسی کو یہودی کی دمڑی سے غرض ہے اور کوئی ان کی چمڑی کا دیوانہ۔

ویسے فلسطینی عظیم قوم ہے۔ انبیا کی وارث ہے۔ وہ قیامت تک لڑ سکتی ہے۔ ان کا امتحان تو ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔ لیکن اصل امتحان تو ہمارا ہے کہ ہم کس کی طرف ہیں۔ خیر اور شر میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ چپ رہنا بھی شر کی حمایت کے مترادف ہے۔ یہ مجاہد کیل کانٹے سے لیس اسرائیل کا مقابلہ کر رہے ہیں لیکن ہماری حکومتیں ان نہتے لوگوں کو اسلحہ و بارود نہیں دے رہیں۔ اخلاقی حمایت سے بھی دست کش ہو رہی ہیں۔ دنیا میں جلا وطن حکومتوں کو تسلیم کر کے ان کی آزادی کی تحریک کو سپورٹ کیا جاتا ہے اور علانیہ کیا جاتا رہا تو فلسطینیوں کے ساتھ اسلحہ کی فروخت کے معاہدے کیونکر نہیں ہو سکتے۔ اگر بقول امریکہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے تو فلسطینیوں کو اپنے دفاع کا حق کیوں نہیں ہے۔

فلسطین پر او آئی سی کے اجلاس میں کیا ہوا ہے؟ ترکی کے وزیر خارجہ نے صحیح کہا کہ منافقت چھوڑ کر عملی اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ فوج تیار کرنے کا میکنزم بنایا جائے تو شاید امن آ جائے۔ اس تجویز کی حمایت میں کتنے ممالک سامنے آئیں گے؟ شاید کوئی بھی نہیں۔ ہر ایک اپنے اپنے مفادات کے تابع ہے۔ سعودی عرب جو دفاع پر پیسہ خرچ کرنے والے دس ممالک میں شامل ہے وہ طیارے اور توپیں کس کے لیے خرید رہا ہے۔ اگر فلسطین ان کے لیے اہم نہیں تو کیا اہم ہے۔ پھر مسلم امہ کی نمائندگی کا حق بھی ختم ہو جاتا ہے۔ شیخ رشید نے کھل کر کہا ہے کہ 35 ممالک پر جو فوج راحیل شریف کی قیادت میں جمع کی گئی ہے وہ کسی اور مقصد کے لیے ہے۔ اگر مقصد دہشت گردی کو روکنا نہیں ہے تو پھر کیا مقصد ہے؟ کیا یہ فورس اس مقصد کے لیے ہے کہ اگر اندر سے بڑی بغاوت ہو جائے تو اس کو روکا جائے۔

امریکہ نے اسرائیل کو مزید فوجی امداد دے دی ہے۔ غزہ میں جو انسانی المیہ جنم لے رہا ہے اس پر بھی کوئی توجہ دے گا یا نہیں۔ ایک دن یوم القدس منا کر ہم اپنی ذمہ داری سے بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔ ان کی مدد کو پہنچیں ان کے لیے مسلسل آوازیں اٹھائیں اور جو جس حد تک مدد کر سکتا ہے وہ کرے۔ میڈیا منافقت چھوڑے اور فلسطین کے لیے رائے عامہ ہموار کرے۔ چند ملٹی نیشنلز اگر اشتہار نہیں دیں گی تو ان کا کاروبار رک نہیں جائے گا۔ یہ اشتہارات دینا ان کی مجبوری بھی ہے۔ وہ بھی جانتے کہ ذرا سا بھی خلا پیدا ہوا تو اس خلا کو کوئی دوسرا پر کرنے کے لیے آ جائے گا۔ یہ کاروباری اصول قوموں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر آپ خلا چھوڑتے ہیں تو کوئی دوسرا اس خلا کو پورا کرتا ہے۔ قومیں اسی طرح برباد ہوئی ہیں اور یہی قانون قدرت ہے۔


ای پیپر