Many historical chapters of Israeli atrocities on the Palestinians are buried in history
20 May 2021 (11:45) 2021-05-20

فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے یوں تو کئی تاریخی باب تاریخ میں دفن ہیں لیکن اس دفعہ تو تمام بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جب اسرائیلی فوج جوتوں سمیت مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئی اور باجماعت نماز کے عین درمیان وہاں نمازیوں کو دھکے دے کر مسجد سے باہر نکالنا شروع کر دیا۔ یہ رمضان کے آخری عشرے کی رات تھی جس رات کے بارے میں قرآن میں ہے کہ جبرائیل اور فرشتے زمین پر اترتے ہیں اور جب پورے سال کے تقدیر کے فیصلے لکھے جاتے ہیں۔ یہودیوں نے مظالم کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں گزشتہ ایک ہفتے میں شہداء کی تعداد 250 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہیں اور ہوائی حملے اور میزائیلوں کا سلسلہ ابھی جاری ہے جس سے غزہ اور مشرقی یروشلم کے مقبوضہ علاقوں میں زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ مسلم دنیا کی طرف سے حسب معمول زبانی کلامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے مگر اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ حملے جاری رہیں گے۔

اس کا خطرناک ترین پہلو یہ ہے کہ اسرائیل کہتا ہے کہ وہ یہ حملے اپنے دفاع میں کر رہا ہے اگر اپنے دفاع میں دوسرے ملک پر حملے کو جائز سمجھ لیا جائے تو دنیا بھر میں جنگوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا ۔ ہر حملہ آور ملک یہ جواز پیش کرے گا کہ وہ اپنے دفاع میں دشمن ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا حق رکھتا ہے۔ ویسے اس خطرناک پالیسی جسے فوجی زبان میں Pre Emptive Strike یا پیشگی حملہ کہا جاتا ہے اس کا آغاز کرنے کا اعزاز امریکہ کو حاصل ہے جس نے عراق اور افغانستان پر حملے کے وقت یہی مؤقف اپنایا کہ وہ یہ کام اپنے دفاع میں کر رہا ہے۔

فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل پر جوابی راکٹ حملے شروع کر رکھے ہیں جس سے اسرائیل کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے مگر حماس اسرائیل کو اس طرح سے ناکوں چنے چبوانے میں کامیاب نہیں ہو سکی جس طرح 2006ء میں لبنانی حزب اللہ گروپ نے اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ دوسری طرف اسرائیل نے 2006ء میں اپنی دفاعی ناکامیوں سے سبق سیکھا ہے اور ان کی دنیا بھر میں اسلحہ بیچنے والی کمپنی رافیل نے اسرائیل کو میزائل حملوں سے بچانے کے لیے Iran Dome Defence System کو بہت زیادہ اپ گریڈ کر دیا ہے۔ اس لیے اس دفعہ حماس کے راکٹ حملے انہیں متوقع نقصان نہیں پہنچا سکے۔ آئرن ڈوم یا فولادی گنبد کا طریقۂ کار یہ ہے کہ یہ حماس کے راکٹ یا میزائل کو فضا میں ہی نشانہ بنا کر اسے Explode کر دیتا ہے جس سے وہ ناکارہ ہو جاتا ہے۔ یہ جس میزائل بیٹری یا لانچر سے فائر کیا جاتا ہے اس کی قیمت 500 ملین ڈالر ہے جبکہ ایک آئرن فورم میزائل ڈیڑھ لاکھ ڈالر قیمت کا ہے۔ حماس کے ایک میزائل کو ناکارہ کرنے کے لیے انہیں کئی میزائل فائر کرنا پڑتے ہیں اس سے آپ اسرائیل کے جنگی اخراجات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ اب تک حماس نے اسرائیل پر 3000 راکٹ پھینکے ہیں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 90 فیصد میزائل حملے ناکام کر دیئے ہیں۔

امریکی خارجہ پالیسی یہ ہے کہ وہ حماس کو دہشت گرد قرار دیتا ہے اور براہ راست حماس کے ساتھ مذاکرات سے انکار کرتا ہے۔ اس وقت بھی امریکی اعلیٰ سفارتی عہدیدار اسرائیل میں موجود ہیں۔ حماس کو کسی طرح کی پیش کش مصر یا قطر کے توسط سے دی جاتی ہے یاد رہے کہ ایک وقت وہ بھی تھا جب امریکا طالبان کو دہشت گرد مانتا تھا اور ان سے بھی براہ راست مذاکرات سے انکاری ہوتا تھا۔ اس طرح ایک وقت تھا جب گجرات میں قتل عام کی وجہ سے نریندر مودی کے امریکہ میں داخلے پر پابندی ہوا کرتی تھی امریکی معیار بدلتے رہتے ہیں۔

فلسطین کے حالیہ بحران سے ایک طرف امریکہ ایران تعلقات کی بحالی سست روی کا شکار ہو گی تو دوسری طرف عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے عمل کو نقصان پہنچے گا اور تیسرا سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر جائے گی۔ اس تناظر میں بائیڈن حکومت پر حکمران ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر سے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اسرائیل کو انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیرنے سے روکا جائے جس کے بارے میں بائیڈن حکومت خاصی دباؤ کا شکار ہے کہ کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو کام آج تک اسلامی ممالک کی حکومتیں ، عربوں کا اسرائیل بائیکاٹ ، او آئی سی یا ایران اور ترکی جیسے اسرائیل مخالف نہیں کر سکے وہ اس جنگ میں سوشل میڈیا نے کر دکھایا ہے۔ پہلے فلسطین کے لیے پوری مسلم ورلڈ میں احتجاج ہوتا تھا مگر اس کی باز گشت مغرب میں سنائی نہیں دیتی تھی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ مغربی میڈیا بہت زیادہ اسرائیلی مظالم کو بے نقاب کر رہا ہے جس کی وجہ وہ ویڈیوز ہیں جو جنگ زدہ علاقوں میں بھیجی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا نے جنگ کے Dynamics تبدیل کر دیئے ہیں۔ اب مغربی ممالک کے اندر عوامی سطح پر فلسطین کے حق میں ایک سوچ اور رائے ابھر رہی ہے جو اسرائیل کی سفارتی ناکامی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بائیڈن حکومت اسرائیل کے ساتھ پہلے سے طے شدہ اسلحہ خریداری معاہدوں پر غور کر رہی ہے کہ مذکورہ اسلحہ اسرائیل کو دیا جائے یا نہیں۔ ان سودوں کے منسوخ ہونے کا امکان تو کم ہے مگر عارضی معطلی یا ان کے ساتھ شرائط کا اطلاق جیسے آپشن پر غور ہو رہا ہے۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ پہلے جب بھی فلسطین پر یہودی مظالم یا مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی ہوتی تھی تو سب سے زیادہ ردعمل پاکستان سے اٹھتا تھا مگر اس دفعہ ایسا نہیں ہوا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ عوام میں سکت ہی نہیں رہی کہ وہ 2 وقت کی روٹی پوری کرنے سے آگے کچھ سوچ سکیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مذہبی جماعتوں سے لوگ مایوس ہو گئے ہیں۔ تیسری ایک اور حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے کہ ایک مذہبی جماعت جس نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے مطالبے پر پورے ملک میں لاک ڈاؤن لگا دیا تھا وہ مسجد اقصیٰ جہاں سے ہمارے نبی پاک محمد صلعم معراج پر تشریف لے جانے کے لیے روانہ ہوئے تھے اس کی بے حرمتی پر ایسے خاموش ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اس سے کئی ضمنی سوال و جواب اٹھتے ہیں کہ کب خاموش رہنا ہے اور کب توہین رسالت کا جھندا اٹھانا ہے۔

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں میں خوف خدا گیا 

وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزاء گیا

(فیض احمد فیض)


ای پیپر