The government has put all its energy into preventing Shahbaz Sharif from going abroad
کیپشن:   فائل فوٹو
20 May 2021 (11:42) 2021-05-20

ملکی سیاست کو عجیب طریقے سے الجھا دیا گیا ہے اور باوجود کوشش کے اس گنجلک کا سرا نہیں مل رہا۔ ایک طرف حکومت کا سارا زور شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روکنے پر ہے اور لگ رہا ہے کہ اگر وہ چلے گئے تو خدانخواستہ پاکستان رک جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان مسلم لیگ ن کی مخالفت کے باوجود پی ڈی ایم کی باسی کڑی میں اُبال لانا چاہ رہے ہیں۔ جبکہ جہانگیر ترین نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے عمران خان اور عثمان بزدار کے مقابلے میں قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں اپنے گروپ کے پارلیمانی لیڈرز کا اعلان کر دیا ہے۔

حکومت نے اپنی تمام تر توانائی شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روکنے پر لگا دی ہے بلکہ اس سلسلے میں توہین عدالت کی بھی پروا نہیں کی۔ حکومت کی اس شدید خواہش کو دیکھتے ہوئے میری حکومت اور متعلقہ اداروں سے پُر زور اپیل ہے کہ شہباز شریف کو ملک سے باہر نہ جانے دیں کیونکہ اگر وہ چلے گئے تو ملک میں ترقی کا پہیہ رک جائے گا۔ حکومت اپنے فلاحی ایجنڈے سے ہٹ جائے گی اور جو کچھ تھوڑا بہت رزق اور آسانیاں لوگوں کو مل رہی ہیں وہ اس سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ کرونا کنٹرول سے باہر ہو جائے گا اور خطرہ ہے ویکسین بھی کام نہ کرے۔ ان کے بیرون ملک جانے سے ملک میں معاشی افرتفری پھیل جائے گی۔ بہتری کی طرف جاتے پاک بھارت تعلقات کو بھی بریک لگ جائے گی۔ افغانستان سے امریکا کے انخلا اور امن کی بحالی پر بھی فرق پڑے گا۔ پاکستان عالمی برادری میں تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔ مہنگائی اور بڑھ جائے گی۔ ملک میں بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی رک جائے گی۔ معاشی اشاریے زمین بوس ہو جائیں گے۔ ملک میں صنعتی انقلاب رک جائے گا۔ گورننس میں تیزی سے بڑھتی بہتری رُک جائے گی۔ سب سے بڑھ کر حکومت کو سبکی ہو گی اور اس فرسٹیشن میں وہ عوام کی زندگی مزید تنگ کر سکتی ہے۔

یہاں تک کہ ان کے جانے کی عدالتی اجازت کے بعد ہی پی ٹی آئی ترین گروپ کی صورت میں تقسیم ہو گئی، بات یہاں تک پہنچ گئی کہ پی ٹی آئی کے دو دو پارلیمانی لیڈر بن گئے۔ سینیٹ، خیبر پختونخوا اور سندھ اسمبلی میں بھی ترین گروپ بننے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ اگر شہباز شریف کو جانے دیا تو خدانخواستہ یہ سیاسی جماعت تحلیل ہی نہ ہو جائے اور کسی بھی سیاسی پارٹی کا تحلیل ہونا بہر حال جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں ہوتا اور یہ بات شہباز شریف اچھی طرح جانتے ہیں۔

میری شہباز شریف صاحب کے لیے دعا ہے اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ دے اور ساتھ ہی ان سے اپیل بھی ہے کہ وہ ہی کچھ عرصہ کے لیے باہر جانے کا ارادہ ترک کر دیں کیونکہ لگتا ہے کہ حکومت کی تمام تر توجہ اور توانائیاں ملکی ترقی، عوام کی خوشحالی، خارجہ و داخلہ امور، معیشت کی بہتری سے ہٹ کر آپ کو روکنے پر لگی ہوئی ہیں۔ ملکی و عوامی بہتری کے لیے کچھ عرصہ کے لیے وہ یہ قربانی دے ہی دیں۔

اب آتے ہیں دوسرے موضوعات کی طرف۔۔۔ لگتا ہے ملکی سیاست کی باگ ڈور دو نااہل سیاستدانوں کے ہاتھوں میں آ گئی ہے۔ ایک طرف مسلم لیگ ن کے نواز شریف اور دوسری طرف پی ٹی آئی کے ترین گروپ کے جہانگیر ترین۔ نااہل ہونے کے باوجود یہ حضرات جس طرف ڈوریاں ہلائیں گے سیاست کا جھکاؤ اسی طرف ہو گا۔ گو کہ نواز شریف ایک بہت بڑی پارٹی کو لیڈ کر رہے ہیں لیکن ان کے مقابلے میں جہانگیر ترین کے 35 کے قریب اراکین بھی انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن سے ہٹ کر اکیلے ترین گروپ کی پارلیمانی طاقت سے ہی پی ٹی آئی کی حکومت گر سکتی ہے۔ اگرچہ جہانگیر ترین کہہ چکے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کا حصہ رہیں گے لیکن ان کی اس بات پر خود پی ٹی آئی (عمران خان گروپ) بھی یقین کرنے کو تیار نہیں۔ جہانگیر ترین نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے راجہ ریاض کو قومی اسمبلی میں اور سعید اکبر نوانی کو پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مقرر کر دیا ہے۔ دیکھا جائے تو اب عمران خان قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اکیلے پارلیمانی لیڈر نہیں ہوں گے بلکہ انکی اپنی پارٹی کے راجہ ریاض ان کے مدمقابل ہوں گے۔ جبکہ پنجاب اسمبلی میں عثمان بزدار کو سعید اکبر نوانی جیسے گھاگ سیاستدان سے پالا پڑے گا۔ سعید اکبر کو کم از کم عثمان بزدار کی طرح کسی قسم کی بیساکھیوں کی ضرورت نہ ہو گی۔ بلکہ ان کے پارلیمانی تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے اگر انہیں موقع دیا گیا تو وہ اپنے گروپ کی تعداد 35 سے 70 تک کر سکتے ہیں لیکن دیکھنا ہو گا کہ انہیں کس حد تک کھل کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وطن عزیز میں جب جب فارورڈ بلاک بنے تو انہیں اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد حاصل رہی۔ ہم نے منظور وٹو دور بھی دیکھا جب 17 ایم پی اے کے ساتھ منظور وٹو وزیر اعلیٰ بنے۔ ہم نے مشرف دور بھی دیکھا جب پیپلز پارٹی کے دس اراکین کو پیٹریاٹ بنا کر ظفراللہ جمالی کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ ہم نے پیپلز پارٹی کے منظور موہل کا فارورڈ بلاک بھی دیکھا۔ اب بھی کوئی ایسا ہی کھیل کھیلے جانے کی شنید ہے۔

البتہ پی ٹی آئی کے بڑے لیڈران سے بات ہوئی تو ان کا خیال تھا کہ اس ملک میں کچھ بھی ممکن ہے۔ لیکن عالمی حالات کے تناظر میں ابھی پاکستان میں کسی سیاسی افراتفری کی گنجائش نہیں۔ پھر انکا وہی جملہ کہ خان بلیک میل نہیں ہو گا اور اگر اس پر سیاسی زمین تنگ کی گئی تو وہ بھی جواباً کچھ بھی کر سکتا ہے۔ میں نے پوچھا پنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی کیا پردہ داری ہے۔ کہنے لگے، عمران خان اس سکینڈل پر بہت اپ سیٹ ہے اور کسی کو نہیں چھوڑے گا۔ پھر انکشاف کیا کہ دو اور بڑے سکینڈل پر تحقیقات جاری ہے خان ان پر بھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ لیکن ان سکینڈلز کا ذکر نہیں کیا۔ یہ بھی دعویٰ کیا کہ زلفی بخاری کو ملک چھوڑنے سے روک دیا گیا ہے۔ لیکن اپنے دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت نہ دے سکے۔

دوسری طرف لگتا ہے پی ڈی ایم کی باسی کڑی میں پھر سے اُبال آ رہا ہے مولانا فضل الرحمان ایک بار پھر نئے جذبے سے میدان عمل میں آ رہے ہیں۔ پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بھی بلایا جا رہا ہے جس میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کو بھی بلایا جا رہا ہے۔ گو کہ مسلم لیگ ن اب بھی ان دونوں جماعتوں یا کم از کم پیپلز پارٹی کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ لیکن مولانا فضل الرحمان نے یہ کہہ کر نواز شریف کو منا لیا کہ پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگانا کسی طور بھی سود مند نہ ہو گا۔ اگر اسے کھلا چھوڑ دیا تو کہیں وہ حکومت کا چارہ چگنا نہ شروع کر دے اور ایسی صورت میں قانون سازی اور دیگر معاملات پر حکومت کی مدد کرنے کو تیار ہو گئی تو اپوزیشن کی سیاست کو دھچکا لگے گا اور ہمارے پلے کچھ نہ رہے گا۔ جس کے بعد نواز شریف مان گئے اور مولانا کی درخواست پر انہوں نے پارٹی قیادت کو بھی متنازع بیانات دینے سے روک دیا۔ گو مسلم لیگ ن کے حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی یوسف رضا گیلانی کو بھی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سے واپس لے لے گی لیکن پیپلز پارٹی نے اس حوالے سے چپ سادھ لی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ پی ڈی ایم کی بیل منڈھے چڑھتی بھی ہے کہ نہیں۔

اپنی 36 سالہ صحافتی زندگی میں دیکھا ہے کہ عوام کی امیدوں کا محور حکومت وقت ہوتی ہے لیکن موجودہ دور میں لوگ حکومت سے مایوس ہو کر اپوزیشن سے آس لگائے بیٹھے ہیں، دوسرے معنوں میں عوام نے کم از کم اس حکومت کے باقی ماندہ عرصہ میں بھلائی اور بہتری کی امید چھوڑ دی ہے۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ حکومتوں کے آخری دو سال قدرے سکون کے ہوتے ہیں کیونکہ حکومت نے جو تین سال بویا ہوتا ہے چوتھا اور پانچواں سال اس فصل کی کٹائی کرنا ہوتی ہے لیکن تحریک انصاف نے تین سال کا وقت تعمیر کے بجائے احتساب پر فوکس رکھا لیکن احتساب کر سکے نہ ہی کوئی تعمیری کام۔ تحریک انصاف نے جیسے تیسے کر کے تقریباً تین سال مکمل کر لیے ہیں لیکن باقی ماندہ دو سال ان سے بھی کٹھن لگ رہے ہیں۔

قارئین اپنی رائے کا اظہار 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل، بی آئی پی یا ٹیلیگرام کر سکتے ہیں۔


ای پیپر