Palestine-Israel conflict, some clear facts
کیپشن:   فائل فوٹو
20 May 2021 (11:38) 2021-05-20

اسرائیل، فلسطین تنازع اگرچہ پون صدی سے چلا آ رہا ہے، چار جنگیں ہو چکی ہیں، بنیادی انسانی حقوق کی بدترین درجے کی پامالی ہوتی ہے۔ کشمیر کی مانند تنازع فلسطین بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے کا شروع سے حصہ چلا آ رہا ہے۔ اس وقت بھی اس نے بڑے عالمی بحران کو جنم دے رکھا ہے اور اس نے پوری دنیا کی توجہات اپنی جانب مبذول کی ہوئی ہیں لیکن حل ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ سبب اس کا کیا ہے؟ اس پر آگے چل کر گفتگو کریں گے۔ پہلے آج کی مہیب صورت حال کے چند اہم پہلوئوں پر نظر ڈال لیں۔

پہلی حقیقت جو ایک مرتبہ پھر ابھر کر سامنے آئی یہ ہے کہ عالمی رائے عامہ جو بھی ہو امریکہ اور اس کی قیادت میں مغربی طاقتیں جنہیں آج کی عالمی سیاست میں فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے، ہر حالت میں اسرائیل کی پشت پناہی میں پیش پیش ہیں۔

گزشتہ پون صدی سے ان کی ایک ہی پالیسی چلی آ رہی ہے، اس میں سرمو فرق نہیں آیا۔ اسرائیل پرلے درجے کی غاصب قوت ہے۔ اس نے فلسطینی علاقوں پر بزور طاقت ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ اس کی صہیونی حکومت اور فوج کی جانب سے ہر مرتبہ اور ہر بحران کے موقع پر محکوم فلسطینیوں کی آبادیوں پر ریاستی طاقت کے ذریعے ظلم و ستم کی بارش کی جاتی ہے۔

بنیادی انسانی حقوق کو بے دردی کے ساتھ پامال کیا جاتا ہے۔ اس سے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ جاتے ہیں۔ آج کی مہذب اور روشن خیال کہلانے والی دنیا ذرائع ابلاغ کی اس قدر ترقی کے عالم میں یہ سب کچھ کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھتی ہے۔ خبریں شائع ہوتی ہیں۔ اخبارات کی سرخیاں کئی روز تک صہیونی ریاست کے سیاہ کارناموں کی خبروں اور معصوم فلسطینی بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور لاچار مریضوں کی چیخ و پکار کو دنیا کی تقریباً ہر زبان میں پڑھنے والوں تک پہنچاتی ہیں۔

لاتعداد ٹیلی ویژن چینل اپنے اپنے ناظرین کو ان مظالم کی متحرک تصویری جھلکیاں دکھاتے ہیں اور لمحہ بہ لمحہ جنم لینے والی دردناک صورت حال سے انہیں آگاہ رکھتے ہیں۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ اس کے ذریعے انسانی سطح پر جنم لینے والی اس المیاتی کہانی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس سے عہد حاضر کا پڑھا لکھا یا ناخواندہ آدمی بے خبر رہ جاتا ہے۔

یورپ اور امریکہ میں انسانی حقوق کی انجمنوں کی جانب سے بڑے بڑے عوامی مظاہرے بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں، مگر اسرائیل ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ اس کی سرپرستی کرنے والی واحد سپر طاقت امریکہ اور اس کی حواری یورپی طاقتیں اس تمام اور خوفناک ترین انسانی صورت حال کا پوری طرح ادراک رکھنے کے باوجود ٹھونک بجا کر اسرائیل کی حمایت کرتی ہیں۔

امریکہ نے خدا جھوٹ نہ بلوائے گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ میں سلامتی کونسل کی ایسی چالیس سے زائد قراردادوں کو ویٹو کیا ہو گا جن میں اسرائیل کی چیرہ دستیوں پر اس کی مذمت کی گئی ہے یا اسے مظالم بند کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

جون 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد جن دو منظور شدہ قراردادوں میں قابض ریاست کو عرب یا فلسطینی علاقے خالی کرنے کے لیے کہا گیا ان پر الٹا عمل ہوا ہے اور اسرائیل نے یروشلم شہر اور دریائے اردن کے غربی کنارے پر دھڑا دھڑ بستیاں آباد کی ہیں۔

آج کی صورت حال بھی یہ ہے کہ دو روز پہلے امریکہ نے اپنی ویٹو طاقت کے ذریعے سلامتی کونسل کے اعلامیے کو روک دیا ہے۔ امریکہ اور اس کی حواری یورپی طاقتوں کے عالمی اور اقتصادی مفادات اس طرز عمل کے متقاضی ہیں اس طرح کسی نام نہاد اصول کی خاطر ان پر سمجھوتہ نہیں کرنے والا خواہ اس کو یونیورسٹیوں کے پروفیسر، بڑے بڑے دانشور، مصنفین ان اصولوں کا کتنا چرچا کریں اور ان کے ابلاغ میں ساری صلاحیتیں صرف کر دیں۔

سلامتی کونسل کا دوبارہ اجلاس بلا لیا گیا ہے اس کا انجام بھی معلوم ہے۔ اب جنرل اسمبلی کا اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے جو اکثریتی رائے کے ساتھ ایک زوردار قرارداد یقیناً منظور کر لے گا لیکن جنرل اسمبلی عالمی درجے کے مباحثاتی (DEBATING)  ایوان سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔

فلسطینیوں کے حامی ممالک جتنا چاہے ابال نکال لیں کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔ ان حالات میں یہ توقع کرنا کہ اسرائیل کسی قسم کے سفارتی دبائو کا شکار ہو کر انتہا درجے کے ظالمانہ اور غاصب اقدامات سے باز آ جائے گا یا اپنی استبدادی پالیسیوں میں فرق پیدا کر دے گا بے سود ہے۔ وہ آج کی روشن خیال انسانیت کا مسلسل اور پرلے درجے کی سفاکیت کے ساتھ منہ چڑاتا رہے گا۔

دوسری اہم حقیقت یہ ہے اہل فلسطین کے نسلی اور ہم مذہب ہمسایہ بھائی جو چالیس سے زائد نام نہاد خود مختار Soveriegn ریاستوں کے مالک اور دنیا کی سب سے زیادہ تیل کی دولت ان میں سے چند کے تسلط میں ہے، جنہیں عرب دنیا کہا جاتا ہے تقریباً ٹھس ہو کر رہ گئے ہیں۔

ان میں سے کچھ کے اندر ملوکیتوں کا راج ہے، کچھ پر فوجی آمریتیں ہیں۔ ایک میں بھی اس کے عوام کی صحیح معنوں میں نمائندہ حکومت نہیں، یہ سب کی سب اسلحے کی ایک ایک گولی کے لیے امریکہ کی دست نگر ہیں۔ ان میں سے جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں، ان کے حکمران اور اشرافیہ عیش و طرب کی زندگی میں غرق ہیں۔

ان کی حکومتیں اپنا دفاع نہیں کر سکتیں، اسرائیل کے خلاف کیا جنگ لڑیں گی۔ جو عرب آمریتیں ہیں وہ امریکی سہارے کے بغیر ایک دن کے لیے قائم نہیں رہ سکتیں۔ ایک شام ہوا کرتا تھا اس کا خانہ جنگی کی وجہ سے کچومر نکال کر رکھ دیا گیا ہے۔

کبھی عراق کا طنطنہ تھا۔ 2003ء کی امریکی فوجی یلغار کے بعد اس ملک اور فوج کی ہڈی پسلی ایک کر کے رکھ دی گئی ہے۔ جمال عبدالناصر کے دور کے مصر کو بظاہر عربوں کی قیادت کی مسند حاصل تھی۔ یہ سرد جنگ کا عہد تھا۔ سابق سوویت یونین زبانی کلامی فلسطینی کاز کی حمایت کر دیتا تھا لیکن جب جب جنگ لڑنے کا موقع آیا اس نے چپ سادھ لی۔

1967ء کی جنگ میں شکست فاش جمال ناصر کے دل پر مہلک حملے کا باعث بنی۔ 1973ء کی جنگ میں عربوں نے ایک مرتبہ پھر انگڑائی لی۔ نہر سویز اور غزہ پر اسرائیلی قبضہ ختم کرایا گیا۔ عربوں نے تیل کی طاقت کو استعمال میں لا کر امریکہ سمیت دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے بڑا بحران پیدا کر دیا۔

لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی لیکن تابکے اہل مغرب کے کان کھڑے ہو گئے۔ سعودی عرب کے شاہ فیصل کو ان کے محل میں قتل کر دیا گیا۔ مصر کے صدر انور السادات نے دوسرے تمام عرب ممالک کو نظر انداز کر کے امریکہ کی نگرانی میں اسرائیل کے ساتھ مشہور کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرکے صہیونی ریاست کو جسے مصر ناجائز کہتا تھکتا نہیں تھا، تسلیم کر لیا۔

اس طرح دوسرے عرب ملکوں کے لیے بھی اس راستے پر چلنے کی راہیں کشادہ ہوتی چلی گئیں۔ آج کئی عرب ریاستوں نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے۔ کچھ نے یہ اعلان کیے بغیر یہودی ریاست کے ساتھ تجارتی اور دوسرے تعلقات استوار کر لیے ہیں۔

سعودی عرب جیسے ملک کے حکمران پس و پیش میں مبتلا ہیں۔ اسرائیل کے مقابلے میں عرب اتحاد کا تصور جو قوم پرستی کے جذبے پر مبنی تھا عرصہ ہوا چکنا چور ہو گیا ہے۔ 1969ء میں مسجد اقصیٰ کو آگ لگانے کے واقعے کے ردعمل میں اسلامی ممالک کی سربراہی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس نے کچھ اہم قراردادیں فلسطین اور کشمیر کے حق میں یقیناً منظور کیں۔

شروع کے سالوں میں بڑے سربراہی اور وزارت خارجہ کی سطح کے اجلاس بھی کیے لیکن سعودی عرب جس کے فراہم کردہ خرچے پر اس کا نظام چلتا ہے اس نے اس تنظیم کو اپنی مٹھی میں لے رکھا ہے۔ اس کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر رہ گئی ہے۔

عالم اسلام میں تین ملک ایران، ترکی اور پاکستان جو غیر عرب ہیں لیکن اسلامی برادر ہڈ کے جذبے کے تحت فلسطینیوں کی حمایت کا علم بلند کیے ہوئے ہیں۔ ایران کی آواز سب سے موثر ثابت ہو رہی ہے۔ ترکی کے طیب اردوان بھی بھرپور اسلامی جذبے کے ساتھ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

ان کے وزیر خارجہ نے صہیونی ریاست کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی فوجی قوت کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔ پاکستان میں سکندر مرزا کی حکومت نے 1956ء کی جنگ سویز میں شرمناک رویہ اختیار کیا کیونکہ ہم نئے نئے امریکی فوجی معاہدوں کے رکن بنے تھے، بعد میں کئی سالوں تک عالم عرب میں بدنامی مول لینا پڑی۔

1967ء کی جنگ کے دوران البتہ ایوب خان کی حکومت کا اصولی مؤقف درست تھا۔ 1973ء کے محاصرے میں بھٹو نے عربوں کو ائیر فورس کی کمک پہنچائی۔ اس نے عرب اور مسلمان دنیا میں ہمارا وقار بلند کیا۔ 1974ء میں اسلامی کانفرنس کا انعقاد ممکن ہو گیا۔

ہماری پیشتر حکومتیں بھی اپنے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اہل فسطین کے جائز ترین اصولی مؤقف کی حمایت میں بھی پیچھے نہیں رہیں، آج بھی یہی کیفیت ہے مگر المیہ یہ ہے جو عرب یا مسلمان حکومتیں آج بھی اسرائیل کے مذمت کا آوازہ بلند کرنے میں آگے آگے ہیں ان میں سے کچھ کی اندر کی کہانی یہ ہے کہ عالمی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کو پس پردہ یقین دلاتی ہیں۔ ہم اپنے عوام کے جذبات کی تسکین کی خاطر یہ پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ عملی طور پر وہی کریں گے جو امریکہ پسند کرے گا۔ یہ تضاد عملی یہ منافقت آج کی مسلم دنیا کے حقیقی زوال کا باعث بنی ہوئی ہے۔

موجودہ بحران کا تیسرا قابل توجہ پہلو وہ خوف ہے جو اسرائیلی ریاست کے وجود کے اندر سمویا ہوا ہے۔ یہ 1918ء کے اس وقت کی صہیونی تحریک کی قیادت اور برطانوی وزیر خارجہ بالفور کے درمیان خفیہ معاہدے کی پیداوار ہے، کسی عوامی یا جمہوری جدوجہد نے اسے جنم نہیں دیا۔

سلطنت عثمانیہ ٹوٹ رہی تھی اور تیل کی دولت دریافت ہو چکی تھی۔ عرب ریاستیں اس کی مالک تھیں۔ عربوں کے اندر مسلسل انتشار کی کیفیت پیدا کرنے اور ان کا اتحاد توڑ کر رکھنے کی خاطر خالصتاً صہیونی نسل پرستی کی بنیاد پر 1948ء میں اقوام متحدہ کے انتداب کے تحت بزور طاقت اس کا قیام عمل میں لایا گیا اور فلسطینیوں کی بڑی آبادی کو ان کے آبائی گھروں سے دھکیل کر اردن وغیرہ کے مہاجر کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔

یہ معلوم تاریخی حقائق ہیں جن سے اسرائیل کا پرلے درجے کا حامی بھی خواہ کسی امریکی یونیورسٹی کا سکالر ہو، پالیسی ساز یا یہودی دانشور انکار نہیں کر سکتا لیکن آج کے اسرائیل کے جغرافیہ اور آبادی کی تقسیم پر نگاہ ڈالیے۔ 1967ء سے پہلے کے یعنی اقوام متحدہ کے انتداب والے اسرائیل میں یہودی آبادی 9348000 کل کا 74.2 فیصد 6936216 ہیں جبکہ مقامی عربوں کی تعداد 1693944 یعنی کل کا 17.8 فیصد ہے۔

1967ء کی جنگ کے بعد مشرقی یروشلم قبلہ اوّل اور مسجد اقصیٰ سمیت شرق اردن اور غزہ کی پٹی کو بھی غاصبانہ طور پر شامل کر لیا گیا۔ مشرقی یروشلم کو وہ تل ابیب کی جگہ اپنا دارالحکومت بنانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ غرب اردن کے خطے کو BIBLICAL LANDS  ہونے کی بنا پر وہ مقدس جانتے ہیں۔ اس کی آبادی 33 لاکھ 40 ہزار ہے۔ وہاں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی نو آبادیاں قائم کر چکے ہیں۔

بظاہر دو ریاستی تصور کی حمایت کرنے کے باوجود اسے خالی کرنے سے صاف انکاری ہیں۔ یوں GREATER ISRAEL کے قیام کا پختہ ارادہ کیے ہوئے ہیں۔ غزہ کی آبادی 20 لاکھ 47 ہزار ہے، اسے اس لیے مکمل طور پر آزاد نہیں کرنا چاہتے کہ چھوٹی سی آزاد فلسطینی ریاست بھی برداشت نہیں لہٰذا کبھی میونسپلٹی اختیارات کی حامل مقامی انتظامیہ قائم ہو جاتی ہے کبھی منہدم جبکہ ہر طرح انتخابات میں حماس کامیاب رہتی ہے۔

اس کا کوئی علاج یہودی دانشوروں کی سمجھ میں نہیں آ رہا۔ یوں وہ غزہ کو بھی گریٹر اسرائیل کا ڈھیلا ڈھالا حصہ بنا کر رکھنا چاہتے ہیں لیکن مسئلہ بیچ میں یہ آن پڑا ہے گریٹر اسرائیل کی کل آبادی میں فلسطینی مسلمانوں کو اکثریت مل جاتی ہے، اب اگر گریٹر اسرائیل میں ایک جمہوری نقطہ نظر سے ون ووٹ ون مین کا نظام رائج ہوتا ہے تو یہودی عددی اقلیت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

اسی لیے کئی ایک فلسطینی دانشور اپنی خوشی چھپائے نہیں رہتے کھلے عام پیشکش کرتے ہیں ہمیں گریٹر اسرائیل منظور ہے۔ اس پر اسرائیلی حکومت مجبور ہو جاتی ہے کہ دو ریاستی نظریے کو قبول کر لے لیکن وہ بھی ہضم نہیں ہو پاتا۔ اس مخمصے سے نکلنے کی خاطر نیتن یاہو حکومت مطالبہ کرتی ہے کہ پہلے اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے پھر آگے چلیں گے۔

اس صورت میں ون مین ون وٹ کا عالمی سطح پر تسلیم شدہ جمہوری اور انسانی تصور دفن ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ وہ سب سے بڑا خوف ہے جو آج کے اسرائیل کو لاحق ہے۔ نہ جائے ماندن نہ جائے رفتن اور اسی میں فلسطینیوں کی اپنی آبائی اور مسلمانوں کے قبلہ اوّل کی حامل سرزمین پر طاقت اور مستقبل کی امیدوں کا راز مضمر ہے۔ فلسطینیوں نے اپنے غیر معمولی جذبہ مزاحمت کو بروئے کار لا کر اور مسلسل قربانیاں پیش کر کے ثابت کر دیا ہے وہ مر کر زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل کب تک کتنے مظالم کی بارش کرتا رہے گا۔

آج کے فلسطینی منظر کی آخری اور چوتھی حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جذبے سے سرشار حماس کے بہادر مزاحمت کاروں یا مجاہدین آزادی نے اسرائیل جیسی فوجی قلعہ نما ریاست پر راکٹوں کی بارش کر کے باثت کر دیا ہے جس طرح کی قوت مزاحمت کے ساتھ افغانوں نے اسّی اور نوّے کی دہائی میں سوویت یونین جیسی وقت کی سب سے بڑی فوجی مشینری اور عسکری طاقت کو مار بھگایا، اس کے بعد 2001ء سے تا ایں روز امریکہ کی واحد سپر طاقت کو عملاً شکست تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا۔

آج بھاگنے کے لیے پروقار راستہ نہیں مل رہا۔ اسی طرح امریکہ کی تمام تر مالی اور بے پناہ فوجی امداد بلکہ حفاظتی چھتری کے باوجود اسرائیل فلسطینی مجاہدین آزادی کی برپا کردہ گوریلا جنگ سے جان نہیں چھڑا سکتا۔ اسے آج نہیں کل کم از کم 1967ء کی جنگ کے نتیجے میں مقبوضہ علاقے خالی کرنا پڑیں گے۔ یوں آزاد فلسطینی ریاست لازماً وجود میں آئے گی۔

آج کئی دانشوروں اور دنیا کے بڑے بڑے پالیسی سازوں کو یہ بات انہونی نظر آتی ہو گی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے 25 اور 26 دسمبر 1979ء کی درمیانی شب جب سابق سوویت یونین نے ملک افغاناں پر اپنے آگ برساتے ہوئے ٹینکوں کے ساتھ فوجی یلغار کی تھی اور افغان مقابلے میں اُٹھ کھڑے ہوئے تھے تو وقت کے بڑے بڑے سورما ان کا مذاق اڑاتے تھے۔

ہمارے ایک برگزیدہ کمیونسٹ دانشور نے تو چہ پدی چہ پدی کا شوربہ کی بھبھتی کسی۔ میں نے نوائے وقت میں سخت تجزیاتی مضمون لکھا، پھر نائن الیون کے بعد 10 اکتوبر 2001ء کو جب امریکہ پاکستان کے غاصب فوجی جرنیل کھلے تعاون کے ساتھ اپنی پوری اور انتہائی جدید آلات سے مزین ہوائی قوت کے ساتھ کابل میں طالبان حکومت پر حملہ آور ہونے والا تھا تو اس روز دوپہر کے بارہ بجے مشرف اور امریکی وزیر خارجہ جان پاول پاکستان ٹیلی ویژن پر پریس کانفرنس کرنے والے تھے جیسا کہ پی ٹی وی کا ریکارڈ گواہ ہے عین آدھ گھنٹہ پہلے کے SLOT میں LIVE پروگرام پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا تھا کہ امریکہ شکست کھائے گا اور ہمارے حکمران جرنیل نے محض کرسی بچانے کی خاطر ملک کے سارے وسائل واحد سپر طاقت کے قدموں پر ڈھیر کر دیے ہیں، اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

آج فلسطینی اسرائیلی غاصبوں کے تمام تر انسانیت کش مظالم کا مقابلہ کرتے ہوئے سینہ تان کر کھڑے ہیں اس امر نے یہودی ریاست کے کارفرمائوں کے اندر پائے جانے والے خوف کو دوچند کر دیا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ یورپ یہاں تک کہ امریکہ کی رائے عامہ میں بھی ان کے حق میں قدرے تبدیلی آ رہی ہے۔ امریکی کانگریس اور یورپی پارلیمنٹوں میں اس وقت بھی اسرائیل کے حامی بہت زیادہ ہیں لیکن برف نے بہرصورت پگھلنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ عوامی مظاہروں میں بھی شدت پیدا ہو رہی ہے۔

اسرائیل کو کھلے عام جنگی جرائم کا مرتکب ٹھہرایا جا رہا ہے۔ فلسطینی مظلوم سمجھے جا رہے ہیں۔ بیداری کی یہ لہر مسلم دنیا کے اندر نہیں یورپ اور امریکہ کے عوام کے اندر جنم لیتی نظر آ رہی ہے۔ وہ دن طلوع ہو کر رہے گا جب فلسطینی اپنا حق لے کر رہیں گے اور مسلمانان عالم بھی قبلہ اوّل کے بازیافت ہو جانے کی نوید سنیں گے۔


ای پیپر