راستہ دیکھتی ہے مسجدِ اقصیٰ تیرا.... 
20 May 2021 2021-05-20

 اسرائیلی بربریت، سفاکی اور ستم کی تمام حدود ختم ہوچکی ہیں، اور ہم ایسے ”نام“ کے مسلمان محض قراردادوں اور اسرائیلیوں کو بددعائیں دینے کے علاوہ آج تک کچھ نہیں کرسکے۔ چودہ سو برسوں میں ہم اچھے مسلمان بھی نہیں بن سکے حالانکہ مساجد، مبلغین اور عبادات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ہم تو ایک اللہ ایک رسول کو ماننے والے کبھی ایک نہیں ہوسکے اور اب تک رنگ، نسل، زبان اور فرقہ واریت کے ساتھ دنیاوی ”حرص وہوس“ میں ”ناکوں ناک“ دھنسے ہوئے ہیں۔ ہم تو ذرا سی لالچ میں اپنا ایمان بھی داﺅپر لگانے میں کبھی عار محسوس نہیں کرتے۔ ہمیں الگ الگ فرقوں اور دھڑوں میں تقسیم کرکے آپس میں لڑواکر نیست ونابود کرنے کی کوشش ہمیشہ سے جاری رہی ہیں۔ اب تو غیر مسلم ہمیں طعنے دیتے ہیں کہ اگر آپ کا ایمان ہے کہ اللہ ہمارا ہے، رسول سب سے ارفع واعلیٰ ہیں(اور بے شک ہم سب اس پر دل وجان سے یقین بھی رکھتے ہیں) تو پھر مخالفین کہتے ہیں کہ مان لیا تمہارے نبی سب سے اچھے ہیں لیکن تم اپنے نبی کی پیروی کرتے ہوئے، ان کے اسوہ¿ حسنہ پر عمل کرکے، کیوں اچھے نہیں بن سکے۔“

تم مسلمان آپس میں کیوں لڑتے ہو۔ کرپشن تم کرتے ہو، ملاوٹ اور جعل سازی (کھانے پینے کی اشیاءتک میں)تم سب کرتے ہو، رشوتیں کمیشن لیتے ہو، لوٹ کھسوٹ چوربازاری کون سا عیب تم میں نہیں ہے۔ تم اپنے نبی کریم کو مانتے ہو تو اچھے اخلاق والے کیوں نہیں بن سکے؟ چودہ سو برس میں تمہیں تو سب سے اعلیٰ وارفع قوم بن جانا چاہیے تھا۔ ایثار، ہمدردی، قربانی اور محبت کے پیکر تم کیوں نہیں ہو۔ بددیانت، مکار، جھوٹے کیوں ہو؟۔کون سی برائی ہے جو تم لوگوں میں نہیں جبکہ تمہارا دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ آپ کہتے ہو رمضان میں ابلیس قید کردیا جاتا ہے توپھر رمضان میں سب سے زیادہ لوٹ مار مہنگائی اور ملاوٹ کیوں ہواکرتی ہے؟

عزیز قارئین !یقین کیجئے، میرے پاس ان سب سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے۔ میں بھی اپنے آپ کو ایک سچا عاشق رسول سمجھتا ہوں۔ میں خوداپنے آپ کو درست نہیں کرسکا تو کیسے دوسرے مسلمان پاکستانیوں (مسلمان بھائیوں ) کو کیوں کر مورد الزام ٹھہراسکتا ہوں؟؟۔ میں بھی سڑکوں پر لاٹھی لے کر، لبیک یارسول اللہ کے نعرے تو لگاسکتا ہوں۔ آنے جانے والوں کی گاڑیاں رکشے کاریں توڑپھوڑسکتا ہوں۔ اپنی قومی املاک کو نقصان پہنچا سکتا ہوں مگر اپنی طرف انگلی اٹھانے والے یا تنقید کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ بلکہ میں تو اس سے بھی آگے جاکر بے جاکسی پر بھی توہین رسالت کی تہمت لگاکر ”انتقام“ لینے سے بھی باز نہیں آسکتا، میں ہی نہیں میرے سامنے ایسی کئی مثالیں ہیں۔ ہم اپنے پیارے نبی کریم کے خلاف ایک لفظ نہیں سن سکتے اور مجھے میرے رسول کی قسم اگر کوئی میرے سامنے میرے رسول کے خلاف نعوذ باللہ ایک لفظ بھی منہ سے نکالے تو میں ”غازی علم الدین“ بننے میں ذرا دیر نہ لگاﺅں۔ یہ میرا ایمان ہے آزمائش شرط ہے۔ لیکن مجموعی طورپر جب اپنی قوم کے نوجوانوں کو دیکھتا ہوں یا اپنی قوم کے رہنماﺅں کو دیکھتا ہوں تو افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے کشمیر یا فلسطین کے لیے کیا کیا ہے؟۔ کشمیر کمیٹی نے گزشتہ کئی برسوں سے کون سی کارکردگی دکھائی ہے؟ پارلیمنٹ میں بیٹھنے والوں نے اسلام کو نافذ کرنے کے لیے کیا کیا ہے؟ موجودہ حکومت ”مدینے کی ریاست“ کے قیام کی بات کرتی ہے مجھے ذاتی طورپر عمران خان کی نیت پر کوئی شک نہیں لیکن کیا ان کے اردگرد افراد محض دنیاوی آسائش کے لیے پیسہ بنانے کے چکر میں الیکشن نہیں لڑے؟ کون سا اسمبلی کا ممبر ہے جو صرف اورصرف عوام کی خدمت کے لیے انتخابات میں حصہ لیتا ہے سب دولت آساس مراعات اور سرکاری خرچ پر عیش کرنے کے لیے حکومت میں آنا چاہتے ہیں۔ سب اپنے اثاثے بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ کا حصہ بنتے ہیں غریب کے لیے کوئی سوچنے والا نہیں ہے۔ ہمارا سارا نظام ہی انہی لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے اکٹھے ہوکر وطن عزیز کا خون چوس رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے پاکستان غریب ہے عوام غریب میں صرف اسمبلی ممبران اور سیاستدان دولتمند ہیں کل تک جو سائیکل ، سکوٹروں پر تھے وہ ہاﺅسنگ سوسائٹیوں اور فیکٹریوں کے مالک ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا میں جو مرضی کرلو عمرہ حج کرنے سے بالکل معصوم اور پاک صاف ہوجائیں گے۔‘حالانکہ یہ سراسر غلط ہے ایسا نہیں ہے، تمام سیاسی جماعتیں غریب بے روزگار نوجوانوں کو لالچ یا خواب دکھا کر استعمال کرتی ہیں۔ قانون صرف اور صرف کمزور لاچار اور غریب لوگوں کے لیے ہے۔ جج 

ہوں، سیاستدان، صحافی ہوں یا بڑے بڑے ٹائیکون یا تاجر، یہی حکومتوں کو بدلتے ہیں۔ جرنیل بھی اس میں شامل ہوں گے مگر جرنیلوں کو موقع کون دیتا ہے۔ عدلیہ سیاستدان بیوروکریسی اور میڈیا اگر درست سمت میں ہوتو شاید فوج کبھی سیاست میں مداخلت نہ کرے۔ اس ساری بحث میں پڑے بغیر سب سے پہلے اس قوم کی اخلاقیات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم کی ضرورت ہے، مگر تعلیم کے لیے ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں اخلاقی تربیت ہوسکے۔ دین کی روح کو سمجھانے والے اساتذہ کی ضرورت ہے۔ ورنہ نام نہاد عاشقان رسول کی تعداد میں تو اضافہ ہوتا رہے گا لیکن حق وصداقت کی آواز پر لبیک کہنے والا کوئی نہ ہوگا۔ سب بکاﺅ مال ہوں گے جیسے ہم آج ہیں۔ ہم کشمیر کے لیے کچھ نہ کرسکے جسے ہم اپنی شہ رگ قرار دیتے ہیں۔ شہ رگ پر خنجر چل رہے ہیں، مگر ہم فلسطین کے لیے دعائیں اور احتجاج کررہے ہیں پہلے اپنے گھر کو درست کریں، سب کا احتساب کریں۔ عدل تو قائم کرلیں جہاں بلاخوف اور لالچ قاضی انصاف کرسکے مگر یہاں واقعتاً قانون کھلونا ہے اور اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے ورنہ سوشل میڈیا پر زبان خلق پر توجہ دی جاتی ۔ نہتے کشمیریوں اور فلسطینیوں کے لیے ایک ایٹمی طاقت کیا کرسکتی ہے مگر پہلے کرلیں اخلاقی طورپر ہمارے سیاستدان تو صاف ستھر ے کرلیں۔؟؟نیٹ اینڈ کلین۔


ای پیپر