ورلڈ اکنامک فورم میں عمران خان کا بڑا مطالبہ
20 May 2020 (23:46) 2020-05-20

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور مغربی ممالک میں کرونا سے متعلق صورت حال مختلف ہے، عالمی قرضوں کے باعث ہمارے جیسے ممالک طبی سہولتوں پرزیادہ خرچ نہیں کرسکتے،، ہمیں طبی سہولتوں کی بہتری کے لیے مالی وسائل کی ضرورت ہے،کروڑوں لوگوں کوبھوک سے بچانے کیلئے معیشت کو کھولناضروری ہے۔

وزیر اعظم نے عالمی دنیا پر زور دیا کہ کروناوائرس سے نمٹنے کیلئے متاثرہ ملکوں کو مشترکہ حکمت عملی اور ردعمل دینا ہوگا، آنے والے دنوں میں نئے چیلنجز کا سامنا پوری دنیاکو کرنا ہے۔

بدھ کو ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے ورلڈ اکنامک فورم سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کی نسبت کرونا کے خلاف ہمارا تجربہ مختلف ہے، پاکستان اور مغربی ممالک میں صورت حال بہت مختلف ہے کیونکہ ہمیں غربت کا چیلنج بھی درپیش ہے کیونکہ پاکستان میں2کروڑ 50 لاکھ ورکرزیومیہ اجرت پرکام کرتے ہیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس اور لاک ڈائون کی وجہ سے ڈھائی کروڑ خاندان بے روزگار ہوگئے ہیں، ہماری حکومت نے متاثرہ خاندانوں کیلئے احساس ایمرجنسی پروگرام شروع کیا، ہمیں کوروناکیسزمیں اضافے کاسامناہے لیکن غربت کوبھی دیکھناہے،کروڑوں لوگوں کوبھوک سے بچانے کیلئے معیشت کو کھولناضروری ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی انتظامیہ کے ساتھ رضاکار فورس بھی میدان میں اتاری ہے،پاکستان میں کروناکیسز میں اضافہ تو ہورہا ہے مگر جیسا اندازہ لگایا تھا تعداد اس سے کم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کروناوائرس کی وجہ سے بیروزگار ہونے والوں کی مددکیلئے کیش پروگرام قلیل المیعادحل ہے،ہمیں لاک ڈان کے دوران غریبوں کودرپیش مشکلات کوبھی دیکھنا ہے، ہماری حکومت ایک کروڑ خاندانوں میں نقد رقم اورراشن تقسیم کرچکی ہے ۔

وزیر اعظم نے عالمی دنیا پر زور دیا کہ کروناوائرس سے نمٹنے کیلئے متاثرہ ملکوں کو مشترکہ حکمت عملی اور ردعمل دینا ہوگا، آنے والے دنوں میں نئے چیلنجز کا سامنا پوری دنیاکو کرنا ہے۔کرونا کے باعث دنیا بھر میں ایکسپورٹ کم ہوئیں،آئل قیمتیں گر گئیں، ہم نے مشکل صورت حال کے بعد جاری کھاتوں کا خسارہ کم کیا۔

مصر،نائیجیریا سمیت مختلف ترقی پذیرممالک کے سربراہوں سے بھی اس مسئلے پر گفتگو ہوئی، دوسریترقی پذیرممالک کوبھی پاکستان کی طرح کے مسائل کاسامناہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ رواں سال ہمارے ملک کیلئے بہت مشکل ثابت ہورہا ہے، عالمی قرضوں کے باعث ہمارے جیسے ممالک طبی سہولتوں پرزیادہ خرچ نہیں کرسکتے، ہمیں طبی سہولتوں کی بہتری کے لیے مالی وسائل کی ضرورت ہے۔


ای پیپر