افغان امن معاہدے اور ان کی پائیداری
20 May 2020 (22:11) 2020-05-20

گزشتہ ماہ فروری کے دوران امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ امن طے ہو جانے کے بعد افغانستان کے اندر (ماسوائے طالبان) دو بڑی قوتوں گزشتہ صدارتی انتخابات میں کامیابی کے دونوں دعویداروں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے بھی آپس میں سمجھوتہ کر لیا ہے… تو کیا اس سے امریکی افواج کے 2012ء تک ملک افغاناں چھوڑ کر جانے اور قیام امن کی راہ ہموار ہو جائے گی… یہ کہنا خاصا مشکل ہے… کیونکہ افغانوں کے مابین امن کے کئی معاہدے ہوئے… ہر ایک کا بڑے زوروشور کے ساتھ اعلان کیا گیا… امن کی نوید سنائی گئی … لیکن سمجھوتہ باقی رہا نہ لڑائی بند ہوئی باہمی جنگ و جدل جاری رہی… اس تناظر میں قطعیت کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ تازہ سمجھوتے دیرپا ثابت ہوں گے یا نہیں… اگرچہ امید کی چھوٹی سی کرن نمودار ہوئی ہے… اس کی ایک وجہ یہ ہے امریکی اس اٹھارہ سالہ پرانی جنگ سے تنگ آ چکے ہیں… طالبان کی جنگ مزاحمت نے ان کے ناک میں دم کر دیا ہے… دعوئوں کے برعکس افغان جنگ وہ جیت نہیں پائے… مرضی کی حکومت جب لاتے ہیں اس کے پائوں اکھڑے اکھڑے رہتے ہیں… امریکی قتل ہوتے ہیں اور خانہ جنگی کے شعلے بھی بھڑکتے رہتے ہیں… ویت نام میں بھی امریکیوں کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا تھا… لیکن نائن الیون کے بعد ملک افغاناں پر زبردست حملہ کرتے وقت اس وقت کے صدر امریکہ جارج بش دوم اور ان کے قریبی سٹرٹیجک مشیروں کا خیال تھا کہ طالبان کی قوت کو ریزہ ریزہ کر کے رکھ دینا واحد سپرطاقت کی ہوائی اور بری جنگی مشینری کے لئے چنداں مشکل بات نہ ہو گی… خاص طور پر ایسی حالت میں جب افغانستان کے سرحدی اور جغرافیائی لحاظ سے قریب ترین ملک پاکستان کی فوجی حکومت اس کا دل و جان سے ساتھ دینے کے لئے تیار تھی اور جنرل مشرف اپنی آمریت کے تحفظ کے بدلے ملک کے تمام فوجی و دیگر وسائل اس سرپرست اعلیٰ کی نظر کرنے پر آمادہ تھے… مگر ایسا نہ ہوا… بش آٹھ سال گزار کر چلے گئے… ان کے بعد باراک اوبامہ آئے… انہوں نے بھی آٹھ برس اس جنگ کی نذر کر دیئے… طالبان ڈٹے رہے… جنرل مشرف کی آمریت تہہ خاک چلی گئی… پاکستان میں دوسری حکومتیں بھی آئیں… افغان طالبان نے تحریک مزاحمت جاری رکھی تاآنکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس امیدواری کا اعلان کرتے ہی قوم کو یقین دلایا وہ اسے افغانستان کے عذاب سے ضرور نجات دلائے گا جس نے سینکڑوں امریکی فوجی جوانوں اور افسروں کی جان لے لی ہے اورحاصل کچھ بھی نہیں ہوا… ان کے عرصہ صدارت کو پہلے چار سال گزر چکے ہیں… اب یکے بعد دیگرے دو معاہدے ہوئے… ایک کی کامیابی دوسرے کے ساتھ منسلک ہے…

طالبان ابھی تک امریکہ کے علاوہ کسی داخلی افغان قوت کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار نہیں… کیونکہ وہ اشرف غنی (اور ان سے ماقبل حامد کرزئی) اور عبداللہ عبداللہ دونوں کو امریکہ کے حاشیہ نشین قرار دیتے ہیں… ان کا خیال ہے امریکی فوجیں ملک چھوڑ کر چلی جائیں تو ان کے مصنوعی حکومتی ڈھانچے کو اکھاڑ پھینکنا ناممکنات میں سے نہ ہوگا… مگر یہ بات بھی اتنی آسان نہیں… طالبان اگرچہ ملک افغاناں کی سب سے بڑی اور مؤثر داخلی گوریلا قوت ہیں… انہوں نے امریکیوں کے چھکے چھڑا دیئے ہیں… دوسرے کیا بیچتے ہیں… لیکن اس کے باوجود اس سرزمین اور آج کے افغانستان کی دو بنیادی سیاسی اور عوامی حقیقتوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا ایک یہ کہ طالبان کا زمینی قبضہ اور اثرورسوخ زیادہ تر ملک کے دیہاتی علاقوں، چھوٹے شہروں اور وہاں آباد پشتون عوام کے اندر ہے… جو اگرچہ عددی اکثریت کے مالک ہیں لیکن تمام کی تمام افغان آبادی کی نمائندگی نہیں کرتے بڑے شہر اب بھی امریکی فوج کے تسلط اور پرانے زمانے کی اشرافیہ کے رسوخ میں ہیں جو کم درجہ بااثر نہیں… اب بھی امریکیوں کی حفاظتی چھتری تلے برسراقتدار ہیں لیکن انہیں مقامی طور پر بھی طالبان جتنا

یقین نہیں تاہم افغانستان کے شہری عوام اور پڑھے لکھے طبقوں خاص طور پر بیوروکریسی، کالجوں کے اساتذہ، ڈاکٹروں اور انجینئر حضرات کا طبقہ، بڑے بڑے کاروباری لوگ سیاسی رسوخ حاصل ہے… ان کی شراکت کے بغیر پائیدار حکومت کا قیام عمل میں لانا خاصا مشکل ہو گا… تیسری بڑی قوت شمال کے تاجک، ازبک اور دوسرے قبائل کے عوام ہیں جو ملا کر کل آبادی کے پینتالیس فیصد سے کم نہیں… ماضی قریب میں ان کے رہنما سابق صدر برہان الدین ربانی اور ان کے بھتیجے داماد مشہور کمانڈر احمد شاہ مسعود تھے… انہیں شمالی اتحاد کا نام بھی دیا جاتا تھا… 1996ء میں طالبان کا قبضہ بڑھتا چلا گیا… تاآنکہ ان کی حکومت قائم ہو گئی… پورے افغانستان میں قیام امن کی صورت بن گئی… لیکن شمالی اتحاد کو ایران اور بھارت کی پشت پناہی حاصل تھی اگرچہ سابق سوویت فوجوں کے خلاف جہاد میں وہ کسی سے پیچھے نہ رہے تھے… اندرون ملک انہیں نصف سے ذرا کم آبادی کی تائیدوحمایت میسر تھی… لہٰذا طالبان کی حکومت بظاہر طاقت ور نظر آنے کے باوجود صحیح معنوں میں اپنے قدم نہ جما سکی… امریکہ تو مخالف تھا ہی عالمی سطح پر ان کے خلاف زبردست پراپیگنڈا کر رہا تھا کیونکہ طالبان اسامہ بن لادن کو پناہ دیئے ہوئے تھے پھر بدھ مجسموں کو مسمار کرنے کا واقعہ رونما ہو گیا امریکیوں کا پراپیگنڈا اور بھی زہریلا ہو گیا…

1997ء کے آغاز پر سعودی عرب اور اس کے بعد متحدہ عرب امارات نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لیا… پاکستان میں 3 فروری 1997ء کے انتخابات کے بعد میاں نوازشریف کی دوسری منتخب حکومت قائم ہو چکی تھی مگر افغان پالیسی انہی کے ہاتھوں میں تھی جو ہمیشہ سے اس پر اپنی گرفت کو مضبوط رکھتے چلے آئے ہیں اور اپنے ادارے کی اجارہ داری سمجھتے ہیں… بہرصورت اپنی حکومت کے قیام کے کوئی دو ماہ بعد وزیراعظم نوازشریف نے ملک بھر سے چنیدہ کالم نگاروں کو ناشتے کی میز پر بلایا… ہر ایک سے مشورہ طلب کیا میری باری آئی تو عرض کیا آپ نے طالبان حکومت کوتسلیم کرنے میں بہت جلد بازی سے کام لیا ہے جبکہ شمالی اتحاد کے نمائندے اس میں شامل نہیں ہوں گے… اسے پائیداری نصیب نہ ہو گی اگرچہ بظاہر کتنی طاقتور نظر آئے… میں نے ایک ہی سانس میں باآواز بلند یہ بھی کہہ دیا افغان پالیسی کو اپنے ہاتھ میں لیجئے… اس باب میں کہیں اور سے فیصلے صادر ہو رہے ہیں… جناب وزیراعظم کو یہ بات اگرچہ پسند نہ آئی… مگر پھر پونے دو سال کے عرصے میں ان کی اپنی حکومت بھی نہ رہی اور نائن الیون کے واقعے نے امریکی فوجی یلغار کے نتیجے میں طالبان حکومت کو بھی اڑا کر رکھ دیا… پاکستان سے جنرل مشرف کی آمرانہ حکومت اور دوسری جانب سے شمالی اتحاد کے لوگ اس کام میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دے رہے تھے… اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کے خونی صفحات پر درج ہو چکا ہے… بہرصورت طالبان نے اس سب کے باوجود اپنی لڑاکا اور مزاحمتی قوت کو منوا لیا… امریکیوں کے دانت کھٹے کر دیئے لیکن یہ بھی حقیقت ہے شمالی اتحاد کی عددی اور سیاسی قوت اور ان کا اپنی آبادی کے اندر زبردست رسوخ اب بھی باقی ہے… یہ امریکیوں کے ایما پر طالبان کے مقابلے میں حامد کرزئی اور اشرف غنی کا اب تک ساتھ دے رہے ہیں… اگرچہ دل ان کے ساتھ جڑے ہوئے نہیں اس لیے تازہ معاہدہ ہوا ہے…

عبداللہ عبداللہ شمال کی سب سے نمایاں شخصیت ہیں… حامد کرزئی کے ساتھ جڑے رہے… اشرف غنی کے نائب صدر کے طور پر وقت گزارا اب مقابلے میں صدارتی انتخاب لڑا… اگرچہ کامیابی کا دعویٰ کیا لیکن ان کی ’’کامیابی‘‘ کو ووٹوں کا تناسب کم ہونے کی بنا پر کسی نے تسلیم نہیں کیا… تاہم موصوف کا سیاسی پلڑا اب بھی بھاری ہے … نئے معاہدے کے تحت اشرف غنی حکومت میں پچاس فیصد نامزدگیاں وہ کریں گے… لیکن سب سے اہم بات یہ ہے اور کئی پہلوئوں سے فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے مشن کی سربراہی وہ خود کریں گے… اس حوالے سے قائم ہونے والے قومی مفاہمتی مشن کی قیادت ان کے ہاتھوں میں ہو گی… دوسرے الفاظ میں شمالی اتحاد کا یہ موثر نمائندہ اپنے سب سے بڑے مقامی حریف طالبان کے ساتھ شرائط امن طے کرے گا… اگرچہ اس کی راہ میں کٹھن منزلیں طے کرنا ہوں گی… کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچنا بہت زیادہ آسان نہ ہو گا… لیکن اس زمینی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ افغانستان میں ٹھوس اور پائیدار امن اسی صورت میں قائم ہو گا جب ملک کی پشتون آبادی کی سب سے بڑی موثر اور نمائندہ جماعت طالبان اور پینتالیس فیصد تاجک اور ازبکوں کے نمائندہ عبداللہ عبداللہ اور عبدالرشید دوستم کے درمیان دیرپا بنیادوں والی مفاہمت وجود میں نہیں آ جاتی… یہی تازہ ترین معاہدے کا سب سے اہم پہلو ہے… بشرطیکہ یہ سب کچھ کامیابی کی راہ پر چل پڑے اور رکاوٹیں حائل نہ ہوں… کیونکہ ایک تو جنگجو افغانوں کی روایات ایسی ہے دوسرے باہر کے عناصر انہیں للچائی نظروں سے دیکھتے اور ایک دوسرے کے خلاف بھڑکاتے رہتے ہیں… امریکہ تمام تر انخلاء کے باوجود آٹھ ہزار کے قریب فوجی وہاں رکھنا چاہتا ہے… بھارت نے شمالی اتحاد اور اشرف غنی وغیرہ کی حکمرانی کے اندر اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہیں… ایران چھوٹی سی شیعہ اقلیت اور تاجکوں کے ساتھ ہم زبانی کی وجہ سے مداخلت کو اپنا حق سمجھتا ہے… جبکہ پاکستان نے اس قوم اور مہاجرین کی خاطر اتنی قربانیاں دی ہیں کہ عہدحاضر کی تاریخ مثال پیش کرنے سے قاصر ہے… اس کے باوجود ملک افغاناں میں پائیدار امن کا قیام ان تمام طاقتوں اور ہمسایہ ممالک کے بہترین مفاد میں ہے… آخر اٹھارہویں صدی کے وسط میں احمد شاہ ابدالی نے تمام ہم وطن قبائل کو اکٹھا کر کے ایک قوم کی شکل دے دی تھی یہ شخص نہایت مضبوطی کے ساتھ اب تک چلا آ رہا ہے… افغان متحارب گروہ آج بھی چاہیں تو اپنی تاریخ دہرا کر زبردست داخلی اور قومی اتحاد کا مظاہرہ کر سکتے ہیں…


ای پیپر