وطن عزیز ایک فن لینڈہے
20 May 2020 (22:09) 2020-05-20

قیام پاکستان کے 8 سال بعد امریکی ریاست کیلی فورنیا میں دنیا کا پہلا تھیم پارک ڈزنی لینڈ پارک کے نام سے قائم ہوا، یہ ایک امریکی کروڑ پتی والٹر ڈزنی کا خواب تھا کہ بچوں کیلئے ایک ایسی تفریح گاہ بنائی جائے جس سے یہ بچے سیر و تفریح اور کھیل ہی کھیل کے انداز میں مختلف اور متنوع چیزیں سیکھیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ مکی مائوس اور ٹام اینڈ جیری جیسے کارٹون اسی دور کی پیداوار ہیں قصۂ مختصر یہ کہ یہ ایک دلچسپ فن لینڈ ہے۔

پاکستان میں حالیہ کروناوائرس کی وباء اور اس سے نبرد آزماہونے کیلئے ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے والی جو پالیسی اور حکومتی رویوں کے ساتھ ساتھ جو عوام کا عدم احساس ذمہ داری دیکھنے میں آیا ہے اس پر مجھے ڈزنی لینڈ بڑی کثرت سے یاد آرہا ہے جہاں ہر بات کو ہنسی مذاق اور فن میں اڑادینا ہی تفریح کا دوسرا نام ہے۔ وطن عزیز میں سیاست کسی فن لینڈ سے کم نہیں ہے اور ہمارے سیاستدان ہر شعبۂ زندگی اور سنجیدہ سے سنجیدہ موضوع کو بھی سیاست کی لہروں کی نذر کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اس وقت کرونا وائرس کے موضوع پر جس طرح حکومت اور اپوزیشن یا وفاق اور سندھ میں لین دین کی جو سطح چل رہی ہے، اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ کیلی فورنیا کے ڈزنی لینڈ کا تصور کسی پاکستانی سیاستدان کے ذہن کی اختراع ہے کہ صورت حال جتنی چاہیے گھمبیر ہوآپ نے گھبرانا نہیں ہے اور اس میں کسی طرح تفریح کا سامان مہیا کرلیناہے۔

کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ سندھ والے کہتے ہیں کہ پنجاب کرونا کے اعدادو شمار سندھ سے کم رکھنے کی خاطر مطلوبہ تعداد میں ٹیسٹ کرنے سے احترازکر رہا ہے کہ جبکہ وفاق اور حکومت کا مؤقف ہے کہ سندھ فنڈز میں زیادہ حصہ طلب کرنے کی خاطر اعدادو شمار سے کھیل رہا ہے۔ اسی طرح لاک ڈائون کے معاملے میں شروع سے آخر تک ایک دوسرے کے متضاد پالیسی جاری ہے۔ شروع میں وفاق لاک ڈائون کے خلاف تھا تو سندھ نے لاک ڈائون کا اعلان کردیا۔ ہر موقع پر دونوں ایک دوسرے کے مخالف کھڑے نظر آتے ہیں۔ سندھ کہتا ہے کہ ہمیں چائناسے ملنے والی امداد سے حصہ نہیں دیا گیا حکومت کہتی ہے کہ حصہ دیا گیا ہے۔ ایک ایسا طوفان بدتمیزی برپا ہے کہ الحفیظ اور الامان۔ کیا اس طرح بحرانوں

سے نپٹا جاتا ہے۔ دونوں طرف سے کوئی تو ہو جو کہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ جائز نہیں ہے۔

وائرس پر صرف سیاست نہیں کاروبار بھی چمکایا جا رہا ہے۔ ایک پرائیویٹ لیب جو کرونا پر ٹیسٹ کرتی ہے اس کی فیس 8000 روپے سے زیادہ ہے اور بہت سے کیسوں میں مذکورہ لیب کے نتائج غلط ثابت ہوئے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ٹیسٹ رزلٹ جاری کرنے میں دانستہ تاخیر کے پیچھے بھی کاروباری وجوہات نظر آتی ہیں۔ باہر سے آنے والے عام شہریوں کو تو عوامی قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے۔ ایسی متواتر اطلاعات ہیں کہ با اثر شخصیات قرنطینہ مرکز جانے کی بجائے اپنے گھر چلے جاتے ہیں مگر یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ایک تیسرا پہلو یہ ہے کہ وی آئی پی مسافروں کو فائیو سٹار ہوٹل میں قرنطینہ کرایا جاتا ہے جس کا ایک دن کا کمرے کا کرایہ 7000 روپے ہے۔ ہوٹل والوں کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ جو یہاں پہنچے اس کی مہمان نوازی کو زبردستی طوالت دی جائے جس کے لیے ہوٹل اور ٹیسٹنگ لیب کے درمیان خاموش مفاہمت موجود ہے۔ ہمارے ایک دوست نے فائیو سٹار قرنطینہ سے فون کر کے بتایا ہے کہ اس کا ٹیسٹ نیگیٹو ہے مگر اسے بتایا نہیں جا رہا تا کہ اسے مزید دن رکھا جا سکے۔ ہمارے دوست کے ہوٹل کا بل تو اس کی کمپنی نے ادا کرنا ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے اور انہیں اپنے گھر جانے نہیں دیا جا رہا ہے یہ نہایت افسوسناک ہے۔

حکومتی اور کاروباری رویوں کے بعد اب عوامی رویوں کی بات کرتے ہیں۔ اس فن لینڈ کے سب سے زیادہ دلدادہ عوام ہیں جن کو نہ اپنی پرواہ ہے نہ اپنے گھر والوں کی اور نہ ہی اردگرد کے لوگوں کی۔ کسی رپورٹر نے موٹر سائیکل والے سے پوچھا کہ آپ نے ماسک کیوں نہیں پہنا آپ کو ڈر نہیں لگتا تو شہسوار نے بے نیازی سے جواب دیا کہ ’’ساڈا جھاکا لتھ گیا اے‘‘ یعنی ہماری ہچکچاہت ختم ہو گئی ہے۔ اس وقت پوری قوم کا جھاکا لتھ گیا ہے جو کہ نہایت خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔

حکومت کہتی کہ کرونا ایک لمبے عرصے تک قیام کرلے گا لہٰذا ہم زیادہ دیر تک ملک کی ناکہ بندی جاری نہیں رکھ سکتے مگر باقی ملکوں کو دیکھیں تو وہا ں لاک ڈائون میں نرمی اس وقت لائی گئی جب مرض کا گراف اوپر جانے کی بجائے مدہم ہوتا دکھائی دیا۔ یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے یہاں جب شرح امراض بڑھنے لگی تو لاک ڈائون اٹھایا گیا۔ دعاہی کر سکتے ہیں کہ اس پالیسی کا کوئی بھیانک نتیجہ نہ نکل آئے۔ پاکستان کی یہ قدرتی خوش قسمتی ہے کہ produceہونے والا وائرس اتنا مہلک نہیں ہے ورنہ ریاستی سطح پر ہمارا کوئی دفاع یاحکمت عملی موجود ہی نہیں ہے۔ میرا تعلق اس جنریشن سے ہے جس نے کھلی ہوئی کھڑکیوں والی بسوں میں سفر کیا ہے جب بس کے اندر جگہ جگہ شعر لکھے ہوئے ہوتے تھے سب سے اچھا شعر ڈرائیور کے سامنے والے شیشے پر درج ہوتا تھا جو کچھ یوں تھا

نہ انجن کی خوبی نہ کمال ڈرائیور

خدا کے سہارے چلی جا رہی ہے

یہ شعر ہمارے حکومتی نظام کی بنیاد ہے جو خالصتاً اللہ کے آسرے پر چل رہا ہے۔ عام آدمی کیلئے یہ زندگی موت کا کھیل سہی مگر قومی قیادت کیلئے یہ ایک ڈزنی لینڈہے ۔


ای پیپر