کروناصرف مساجدمیں کیوں…؟
20 May 2020 (22:08) 2020-05-20

جس طرح کامذاق اس ملک میں اسلام اوراسلامی شعائرکااڑایاجارہاہے اسے دیکھ کرایسالگتاہے کہ امریکہ ،برطانیہ ،اسرائیل اورانڈیاکی طرح کلمہ طیبہ کے نام پربننے والے ہمارے اس ملک میںبھی دین اسلام کوئی ،،خاص تماشایانشانہ،، ہے۔ یہاں جن کواپنے گھرمیں کوئی گھاس نہیں ڈالتا ایسے ایسے مسخرے بھی اس ملک کے اندر منہ اٹھاکراسلام کااس طرح مذاق اڑاناشروع کردیتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔یوں کہنے کے لئے تواسلام کے ولی وارث اورٹھیکیدارکلمہ پڑھنے والے سارے مسلمان ہیں لیکن حقیقت میں کام اورمقصد ان میں سے اکثرکااس دین کودنیاکے سامنے تماشابناناہے یاپھرنشانہ۔لاکھوں اورکروڑوں وارثین اوربندہ گان توحیدکے ہوتے ہوئے بھی دین اسلام اس بدقسمت ملک میں پھربھی اس قدرلاوارث اورمظلوم ہے کہ جس کوچھ کلمے بھی صحیح معنوں میں نہیں آتے وہ بھی اس ملک میں اس دین کے علامہ ،مولانا،مفتی اورٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں۔یقین نہ آئے تواے سے لیکرزیڈتک تمام ٹی وی چینلزکی رمضان ٹرانسمیشن اورعام دینی پروگرام دیکھ لیں ۔ہرپروگرام اورشومیں آپ کو دینی تعلیم سے کورے ایسے بڑے بڑے علامہ،مولانااورمفتی دیکھنے کوملیں گے کہ آپ بے اختیاراوربے ساختہ،،اعوذبااللہ یااستغفراللہ،،کہہ اٹھیں گے۔اسلام ہی اس ملک میں وہ واحدمذہب ہے جس کو،،ذاتی مفاد،،کے لئے استعمال کرنے پردوست اوردشمن سب کااجماع اورمکمل اتفاق ہے۔اپنے مفادیاذات کی کوئی بات ہوتواس وقت پھرسارے اسلام کے وارث بن جاتے ہیں لیکن اللہ اوراس کے رسول ؐ کی اگر کوئی بات ہوتوپھراس اسلام کاایک وارث بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔زکوٰۃ ،صدقات،عطیات ہڑپ کرنے اورنام نہاددینی خدمات وفرضی عشق رسولؐ کے نام پر اقتدارحاصل کرنے کے لئے اس ملک میں اسلام کوہرکوئی گلے سے لگاتاہے لیکن جب مفاداورمرادپوری ہو توپھرہرشخص ہاتھ دھو کر اسی اسلام کے پیچھے پڑنا شروع کر دیتا ہے۔ ویسے کہنے کے لئے ہم پکے ٹکے مسلمان اورایک نمبرکے سچے وکھرے عاشقان رسول ہوتے ہیں ۔اس قدرپکے ٹکے مسلمان کہ کسی کی زبان سے اپنے لئے کچے مسلمان کالفظ برداشت کرنے کے لئے بھی ہم تیارنہیں ہوتے۔اورعشق رسول ؐ۔۔ اس نعرے پرتوہماراجینابھی ہے اورمرنابھی ۔مطلب اگرکسی نے غلطی سے بھی ہمیں کبھی رسول کاگستاخ کہاتوہم پھراسی وقت ان کے اوپرنیچے والے سارے دانت ایک کردیتے ہیںکیونکہ اس مٹی پرہم سے بڑے ۔۔سچے اورکھرے عاشق توآج تک کسی ماں نے جنے ہی نہیں ۔یہ ہے اللہ اوراس کے پیارے حبیب ؐسے ہماری محبت اوردین اسلام سے رشتہ۔لیکن اب ذرہ ایک منٹ کے لئے دل پرہاتھ رکھ کرسوچیئے۔ ایک طرف اللہ اوراس کے پیارے حبیب ؐسے ہماری یہی لازوال وبے مثال محبت ہوتی ہے اوردین اسلام سے ہماراایک مضبوط رشتہ ۔۔مگربات اگرذات ،مفادیااقتدارکی ہوتوپھراس وقت ہمیں اللہ اوراس کے پیارے حبیب ؐ سے کوئی محبت یادرہتی ہے اورنہ ہی دین اسلام سے کوئی رشتہ۔نائن الیون کا عذاب جب آیا تو داڑھی، پگڑی، مساجد ومدارس کوہم نے دہشتگردی کی فہرست میں شامل کرکے سب سے پہلے اسی اسلام کونشانے پرلیا۔یہ دنیا اور کائنات توقائم ہی اسلام کی وجہ سے ہیں مگرنہ جانے ہم کن کے کہنے پر اسی اسلام کوپھراس دنیاکے لئے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔اللہ اوراس کے آخری رسول محمدمصطفی احمدمجتبیٰ ؐسے محبت اورعشق کے سوکھے دعوے اور وعدے اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مساجد، مدارس،اسلام اورشعائراسلام نہ پہلے ہم سے محفوظ تھے اورنہ یہ آج ہم سے محفوظ ہیں۔نائن الیون کی آڑمیں اللہ کے گھروں کے ساتھ جوکچھ ہوتارہا۔اہل ایمان وہ زخم بھی ابھی تک نہیں بھولے تھے کہ اوپرسے ہم نے کروناکی وباء کے نام پر اللہ کے انہی گھروں کوایک بارپھرنشانہ بناناشروع کردیا۔ہمیں نہ کروناکے وجودسے انکارہے اورنہ ہی ہم کروناسے بچائوکے لئے احتیاطی تدابیرکے کوئی مخالف ہیں ۔ہم توچاہتے ہیں کہ اللہ کرے اس وباء اورعذاب کاآج ہی اس دنیاسے خاتمہ ہو۔ہماری تویہ بھی خواہش اورپروردگارعالم سے ہمہ وقت یہ دعا ہے کہ اللہ اس آفت،مصیبت،پریشانی اوروباء سے نہ صرف تمام مسلمانوں بلکہ دنیابھرکے انسانوں کی حفاظت فرمادے۔ لوگ کروناسے بچائوکے لئے احتیاط کو،،ضرورت،،کی نظرسے دیکھتے ہوں گے۔مگرہم تواس وباء سے بچائوکے لئے اقدامات کوبھی فرض اور لازم کے درجے پر رکھتے ہیں۔ ہمیں کرونا سے بچائو کے لئے حکومتی اقدامات یاطبی احکامات سے ذرہ بھی کوئی انکار نہیں۔ ہم تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اس وباء سے جان چھڑانے کے لئے اگرعوام کوزنجیروں میں جکڑنایارسیوں سے باندھنابھی پڑے توبھی یہ کام ہمیں کرنا چاہیئے لیکن انتہائی معذرت کے

ساتھ بازاروں،مارکیٹوں،شاپنگ مالز اور دیگر عوامی مقامات پرکورناکوبے لگام چھوڑکرصرف مساجد، مدارس اورخانقاہوں میں تین تین فٹ فاصلوں کی لکیریں کھینچ کرپھراس کی کڑی نگرانی کرنایہ کوئی انصاف اورطریقہ نہیں۔امن ،حفاظت اوراشتی کے وہ مراکزجہاں سے چودہ سوسال سے مسلمان فیض حاصل کرتے چلے آرہے ہیں ۔اللہ کے وہ گھرجوپوری کائنات میں انسانوں کے لئے سب سے زیادہ محفوظ تصورکیئے جاتے ہیں ۔اللہ کے ان گھروںسے انسانوں کوروکنے کے لئے تولکیریں کھینچی جارہی ہیں مگربے حیائی کے وہ گڑھ بازاراورلالہ زارآج بھی نہ صرف کھلے ہوئے ہیں بلکہ وہاں انسانوں کو روکنے اورٹوکنے والابھی کوئی نہیں۔ مساجد اور مساجد میں نمازیوں کوتوچیک کیاجارہاہے مگربازاروں میں نکلنے

والے ہجوم کودیکھنے کی ہمت کسی میں نہیں۔نام نہادلاک ڈائون میں بھی کسی نے بازاروں کے اندرکروناسے بچائوکے لئے حفاظتی اقدامات اورتدابیرکوضروری نہیں سمجھا۔اب جب لاک ڈائون ختم ہوچکاہے۔پورے ملک میںبازاروں کے اندرپھروہی رش،ہجوم اورچہل قدمیاں ہیں۔نہ کسی بازارمیں کوئی لکیرہے اورنہ ہی کروناسے بچائوکے لئے انسانوں کے درمیان کوئی فاصلہ۔مساجدکے اندرنمازیوں کے درمیان تین فٹ فاصلوں پرتوسب کی نظرہے مگربازاروں میں ٹخنوں سے ٹخنے اورکندھوں سے کندھے ملاکرچلنے اوردوڑنے والے کسی کو نظر نہیں آ رہے۔ کرونا جس طرح مساجد و مدارس کے اندرخطرناک ہے اس سے کہیں زیادہ یہ بازاروں اورلالہ زاروں کے اندربھی خطرناک ہے۔ ہمارے حکمران اورارباب اختیارواقتداراگرکروناکی روک تھام کے لئے واقعی سنجیدہ اورمخلص ہیں تو پھر انہیں مساجد ومدارس سے پہلے بازاروں، مارکیٹوں، شاپنگ مالزاور شاہراہوں پرتین تین فٹ فاصلے کی لکیریں کھینچنی ہونگی ۔محض مساجدکوتالے لگانے یا نمازیوں کے درمیان لکیریں کھینچنے سے کروناکبھی ختم نہیں ہوگا۔اللہ کے دراس کی مخلوق پربندکرنے والوں پرپھرآسانی نہیں سختی اورتباہی آتی ہے۔ مساجدمیں تین فٹ کے فاصلے ناپنے والے شائدیہ بھول رہے ہیں کہ یہ مساجدجس پاک ذات کے گھرہیں وہ اپنے ان گھروں کی حفاظت سے نہ پہلے کبھی غافل تھااورنہ اب ہے۔ آپ کونہیں یاد۔خانہ کعبہ پرلشکرکشی کے لئے آنے والے ابرہہ کاپھرکیاانجام ہواتھا۔۔؟یہ بات دل ودماغ سے نکال دیںکہ بے چارے مولوی صاحب پراپنے لائولشکرسمیت چڑھائی کرکے تم مساجدکوتالے لگادوگے یالکیریں کھینچ دوگے توتمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ماناکہ بے چارہ مولوی صاحب تمہاراکچھ نہیں بگاڑسکتا۔مگرایک بات یادرکھیں یہ مساجدومدارس جس کے گھرہیں وہ دونوں جہانوں کے رب اورہم سب کے ملک وخالق جب پوچھنے پرآتے ہیں توپھرابرہہ جیسے بدمعاش اورسرکش بھی اپنے لائولشکرسمیت منٹوں وسیکنڈوں میں منہ کے بل گرکرزمین بوس ہوجاتے ہیں۔ کرونامساجدنہیں بے حیائی کے اڈوں سے پھیلتاہے۔اس لیئے مساجدسے پہلے بے حیائی کے ان اڈوں کوبندکردیں۔وہاں لکیریں کھینچیں۔پھردیکھناکہ کروناکی اس وباء سے تمہاری جان چھوٹتی ہے کہ نہیں۔صرف مساجدمیں لکیریں کھینچنے سے یہ مسئلہ کبھی بھی حل نہیں ہوگا۔


ای پیپر