زینب! ہم بھولے نہیں ہیں
20 May 2020 (22:07) 2020-05-20

اپریل 2018 کے آخری ہفتے میں لاہور کی سائبر کرائمز سے متعلق عدالت نے بچوں کی جنسی ویڈیوز اور تصاویر پھیلانے کے مکروہ دھندے میں ملوث سعادت امین نامی مجرم کو سات سال قید اور 12 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تو ہر پاکستانی کے سینے پر آگ برساتی ننھی زینب کی روح نے بھی سکھ کا سانس لیا۔ سعادت امین کو ناروے پولیس سے ملنے والی حساس معلومات کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور گرفتاری کے وقت ملزم کے قبضے سے بچوں کی 65 ہزار نازیبا ویڈیوز برآمد ہوئیں. مجرم کے قبضے سے ایک ہزار گیگا بائٹ کی ہارڈ ڈسک برآمد ہوئی تھی جس پر ایف آئی اے کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں بچوں کی پورنوگرافک فلمیں اور تصاویر موجود تھیں. تحقیقات کے دوران پتہ چلا کے سعادت امین ناروے، اٹلی، برطانیہ اور دیگر ممالک میں موجود سہولت کاروں سے ویڈیوز کے عوض 23 ہزار ڈالر سے زائد کی رقم وصول کر چکا ہے ۔ سعادت امین کی گرفتای ایک اچھی خبر تھی سائبر کرائم ونگ نے خوب داد وصول کی اور پاکستانیوں کے دل سے زینب کا غم بھی کچھ مزیدکم ہواتھا۔ یہاں تک تو سب اچھا تھا کہ اچانک 2 روز قبل ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا ٹویٹ دیکھا جس سے پتہ چلا کہ لاہور کی معزز عدالت عالیہ نے وبا کے ان دنوں میں اہم ترین کیسز کو چھوڑ کر بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے والے ملزم کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کا بیڑا اٹھایاہے ۔ مجرم کے لیے ضمانت کے عوض 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا اور ضمانت کا فیصلہ محفوظ ہو گیا۔ وہ تو بھلا ہو سوشل میڈیا اور پاکستانی عوام کاجس کے واویلے نے محفوظ فیصلے کو بدل ڈالا اور آخرکار معزز جج صاحب نے ضمانت منسوخ کر کے مجرم کی 7سالہ

سزا بحال رکھی جانے کا فیصلہ سنا دیا۔ چائلڈ پورنوگرافی اور دیگر الیکٹرانک جرائم کے لیے ہمارا قانونی نظام کتنا مضبوط کے اس کا اندازہ سعادت امین کے کیس کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس سائبر کرائم ایکٹ 2016 تو موجود ہے مگر بہت سی قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ڈیجیٹل شواہد کا نہ مانا جانا، گواہان کی پیشی لازم ہونا اور ڈیجیٹل ڈیوائس کی فرانزک رپورٹ جیسے لوازمات عدالت میں پیش کرنا الیکٹرانک کرائم کے تحقیقاتی آفیسرز کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ہمارے ملک میں قانون اندھا نہیں ہے مگر قوانین میں ایسے جھول موجود ہیں جو کہیں نہ کہیں مجرم کو بچا رہے ہوتے ہیں۔ 2018 میں زینب زیادتی و قتل کیس کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر جو عوامی دباؤ دیکھنے کو ملا اس کے نتیجے میں عمران نامی مجرم کو سزا بھی ملی اور اس حوالے سے ازخود ایک بہترین آگاہی مہم بھی چل پڑی لیکن کچھ عرصے بعد واقعات کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا۔انتہائی افسوس اور تکلیف کے ساتھ یہاں لکھ رہی ہوں کہ گزشتہ روز ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر غیر مستند ذرائع سے ایک ایف آئی آر کی کاپی موصول ہوئی ہے جس کے مطابق ضلع گجرات میں اعتکاف کے دوران 15 سالہ بچے کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والا شخص پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق عادل حسین کے والد افضال حسین نے بیان دیا کہ وہ 14 مئی کی شب ساڑھے 11 بجے اپنے بیٹے کو کھانا دینے جب مسجد پہنچے تو انہیں چیخ و پکار کی آواز آئی۔انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ ’’جب ہم نے قریب جا کر دیکھا تو تبریز میرے بیٹے سے بدفعلی کی خاطر ان کو برہنہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم جب ہم وہاں پہنچے تو تبریز وہاں سے فرار ہو گیا۔‘‘

ایسے ایک نہیں ہزاروں واقعات ہمارے ارد گرد روز رونما ہوتے ہیں، کوئی رپورٹ ہوتا ہے تو کوئی والدین کی جانب سے ہی دبا دیا جاتا ہے۔ ماہ رمضان میں جب شیاطین قید ہوتے ہیں، اعتکاف جس دوران دنیا سے بے نیاز ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے وہاں بھی نفسیاتی مسائل کا شکار تبریز جیسے لوگ اپنی ذہنی بیماری ہر قابو پانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ زینب کیس کو یاد کریں تو زینب کی تصویر وائرل ہونے سے لوگوں کا جذباتی ردعمل دیکھنے کو ملاتھا ۔ کئی لوگوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ زینب کی تصویر دیکھتے ہی اپنے بچوں کا خیال آیا۔ دوسری طرف مجرمانہ ذہن کو دیکھیں تو مجرم عمران زینب کے قتل کے لئے کئے جانے والے احتجاج میں شامل رہا ۔یعنی ایک مخصوص ذہنی حالت ایسے جرائم کے ارتکاب کی وجہ بنتی ہے ۔ سزائے موت، عمر قید اور ہر طرح کی سزائیں انکی سوچ کو بدل نہیں سکتیں۔ بچوں کے حوالے سے جرائم کا سدباب کرنے والے اداروں سے گزارش ہے کہ ایسے مجرموں کو سخت سزائیں ضرور دیں لیکن ساتھ ساتھ انکا نفسیاتی علاج بھی کرائیں ورنہ سعادت امین جیسے مجرم 3 سال بعد ضمانت ملنے پر یا 7 سال بعد سزا پوری ہونے کے بعدآزاد ہو کر پھر وہی پرانا دھندا شروع کریں گے۔ بطور معاشرہ زینب کیس اور پھر سعادت امین کیس میں اچھی چیز یہ دیکھی گئی ہے کہ عوامی شعور موجود ہے۔ زینب کیس میں انصاف کا حصول اسی لیے ممکن ہوا کہ سماجی ویب سائٹس پر عوامی دباؤ مسلسل موجود رہا۔ اسی طرح سعادت امین کیس میں ہائی کورٹ نے کیس سنا تو فیصلے سے قبل ہی شدید ردعمل دیکھنے کا ملا ۔ دونوں کیس سٹیڈیز ثابت کرتی ہیں کہ دباؤ پڑے تو انصاف کا حصول ممکن ہے..اور صد شکر ہے کہ آج ہم  یہ کہنے کے قابل ہیں کہ زینب ہم بھولے نہیں ہیں۔


ای پیپر