انفرادی قواعد و ضوابط
20 May 2020 (22:07) 2020-05-20

دنیا میں وہی اقوام کامیابی کی منازل طے کرتی ہیں جو اپنے نافذ کردہ قواعد و ضوابط پر عمل کرتی ہیں۔قاعدہ قانون کی تشکیل اور اس پر عمل پیرا ہونے کا مقصد مثبت سمت پر گامزن ہونا ہے۔ کچھ قواعد و ضوابط وہ ہیں جو ریاست کے قائم ہوتے ہی ترتیب دیے جاتے ہیں، جنھیں آسان الفاظ میں قوانین کہتے ہیں۔ اور کچھ قواعد و ضوابط ہنگامی حالات میں تشکیل دیے جاتے ہیں، جنھیں ہم معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے، یا یوں کہہ لیں، سماج کے نظم و ضبط میں شائستگی کے لئے وجود میں لاتے ہیں۔

عالمی وباـــ کورونا وائرس دنیا سے بغل گیر ہوچکی ہے۔ قریباََ سینتالیس لاکھ سے زائد افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں، تین لاکھ سے زائد افراد نِگل چکی ہے اور تو اورتمام سرگرمیاں معطل کر چکی ہے۔ وہ عالمی طاقتیں جو سپر پاور بننے کے لئے جدید اسلحہ سازی سمیت متعدد مہلک ٹیکنالوجیز کی ایجادات میں مصروف تھیں کہ کورونا وائرس نے جھپٹ لیا اور احساس دلایا، جتنی مرضی تدابیر بنا لو، قدرت کے آگے سب ڈھیر ہے۔ پاکستان اِس ضمن میں اپنی بساط کے مطابق اقدامات میں مصروف ِعمل ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈائون مارچ 2020ء میں شروع ہوا۔ ابتدا ء میں سرکار کی جانب سے سختی برتی گئی اور عوام الناس بھی اس وائرس کا خوف قبول کر رہے تھے۔ گزرتے دنوں کے ساتھ لاک ڈائون میں توسیع دیکھنے میں آئی۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے پچاس ہزار کیسز کی پیش گوئی بھی کر دی۔ مندرجہ بالا بیان کردہ احوال میں قومی و بین الاقوامی طبی ماہرین نے صرف احتیاطی تدابیر کو وبا سے چھٹکارے کا حل قرار دیا۔ ہم نے ڈرتے سہمتے ہوئے احتیاط کرنا شروع تو کی مگر بعد میں شاید ہماری یاد داشت نجی اداروں کے ملازمین کی تنخواہ کی طرح

کم ہونا شروع ہوگئی یا الیکشن سے قبل لگائے جانے والے سیاسی نعروں کی طرح ڈھکوسلا ثابت ہوئی۔ ہم نے احتیاطی تدابیر کا ایسا قلع قمع شروع کیا کہ دنیا یاد رکھے۔ حالیہ دنوں میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا عوام ذہن بنا لے کہ ہمیں کورونا کے ساتھ ایک سال تک رہنا ہے، ہمیں ایس او پیز کے ساتھ چلنا ہے۔اگر کورونا کے کیس بڑھے تو ایسے علاقوں کو لاک ڈائون کرنا ہوگا۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا کہ وائرس کے بڑھتے کیسز کے ایام میں لاک ڈائون مزید سخت کریں ورنہ سنگین نتائج نکلیں گے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرنے بھی جون کے مہینے میں کورونا وبا کے بڑھنے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔ لیکن پاکستانی معیشت کو بچانے کے لئے سرکار نے لاک ڈائون میںاحتیاطی تدابیر کے ساتھ نرمی کی اجازت دی۔موجودہ حالات میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی عوام کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔

اقدامات کا ثمر تب ہی میسر ہو سکتا ہے، جب عوام احتیاطی تدابیر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ لیکن ناجانے کیوں عوامی رویہ مخالف زاویے پر ہے۔ عوام کا جم غفیر سڑکوں پر اُمڈ آیا۔ اشیا ء خورونوش کی دکانوں پر بے پناہ رش دیکھا گیا۔ متعدد اشیاء کی قلت بھی خبروں میں آ رہی تھی۔ حکومت کی بار ہا اپیلیں عوام کے اذہان پر نہ اثر کر سکیں۔ اب اس کا یہ نتیجہ ہو رہا ہے کہ ہمارے ہاں کیس45 ہزارسے تجاوزکر چکے ہیں۔ لوگوں نے حکومت سے شکایات کے انبار لگا دیے، لیکن رعایا اپنے طور پر کیا کر رہی ہے۔ تاجرتنظیموں نے لاک ڈائو ن میں نرمی کی درخواست کی، حکومت اور خصوصاََ عدلیہ نے صورت حال بھانپتے ہوئے قبول کی اور نرمی کر دی۔ عوام تو عوام، تاجروں نے بھی تجویز کردہ ایس او پیز کو ملحوظ ِخاطر نہ رکھا۔ بلکہ متعین اوقات کے اختتام کے باوجود بھی شٹرڈائون کر کے سامان کی فروخت جاری رکھی۔ سماجی فاصلہ تو دور کی بات، ماسک کا استعمال اور ہینڈ سینی ٹائزر کو خدا حافظ کہنے میں ہی عافیت جانی۔مختصراََہم نے انفرادی قواعد و ضوابط پرہی من و عن عمل کیا ہے۔

اب ٹرانسپورٹرز بھی بَری الذِمہ ہیں۔ حکومت کی جانب سے منظور شدہ ایس او پیز پر عمل لازمی تصور کیا جارہا ہے۔ بس کی صفائی جراثیم کش سپرے سے ممکن بنانا، مسافر کو بس میں چڑھتے وقت ہینڈ سینی ٹائزر مہیا کرنا، ٹمپریچر چیک کرنا، بس 44 سیٹر ہے تو22 مسافروں کو بٹھانا وغیرہ ، ایس او پیز کے نکات ہیں۔ عوام نے جیسے دیگر شعبوں میں ایس او پیز پر عمل کیا،حالات مندرجہ بالا احوال کی مانند ہی ہیں۔چین نے کورونا وائرس کو شکست کسی طلسمی طاقت سے نہیں دی، بلکہ احتیاطی تدابیر اور جدید ٹیکنالوجی سے دی ہے۔ جب چین میں کیسز تواتر سے بڑھنا شروع ہوئے تو معاشی ماہرین بھی پیش گوئی کر رہے تھے کہ چین سے تجارتی و سیاحتی سمیت ہرقسم کا رابطہ منقطع ہونے جا رہا ہے۔ لیکن اب دیکھیں، چین اپنے دوست ملک پاکستان کو طبی اشیاء عطیہ کر رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت چین کی مرض کے بارے میں شناخت میں مدد اور روک تھام کے لئے اقدامات کی تصدیق کر رہاہے۔چین کی مشہور پِیکنگ یونیورسٹی میں نئی دوا پر تجربہ کیا گیا ہے۔ ماہرین نے دعوی کیا ہے کہ یہ دوا متاثرہ مریض کو جلد صحت یاب کر سکتی ہے۔ نیز عوامی جمہوریہ چین دنیا کے لئے مثال بن چکا ہے۔ امریکہ نے اپنے رویے میں تبدیلی نہیں کی تھی، جس کے مضر اثرات 15لاکھ سے زائد وائرس متاثرین کی صورت میں واضع ہیں۔

عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے سے معاشی حالات میں مثبت جنبش پیدا ہو سکتی ہے، اگر ریاست کے تمام ادارے صحت کی صورتِ حال کی سنگینی کو سمجھیں۔ حکومت کے نافذ کردہ طبی قواعد و ضوابط کی حساسیت پر غور کریں،ذاتی تسکین کی جگہ اجتماعی مفاد کا سوچیں،لاک ڈائون میں وسیع نرمی کے باوجود گھروں میں قرنطینہ کریں، اس دوران تخلیقی مشغلوں کو اپنا شعار بنائیںاور اپنی مفاد پرستانہ فکر پر مبنی انفرادی قوائد و ضوابط میں ترمیم کریں تو ہم من حیث القوم اس وائرس کو چت کر سکتے ہیں۔


ای پیپر