کال کوٹھری۔۔۔ اہم واقعات اہم انکشافات
20 May 2020 (01:25) 2020-05-20

ذوالفقار علی بھٹو نے وزیراعظم بننے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ ملک کے تین سرکردہ لوگوں کو پابند سلاسل کردیا، جن میں احمد دائود، قمرالدین ولیکا اور میرے سسر لیفٹیننٹ جنرل … اللہ خان شامل تھے، انہیں ٹیلی ویژن پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے دکھایا گیا جس کا مقصد تاجربرادری اور صنعت کاروں کو یہ پیغام دینا تھاکہ انہیں بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور ان کی جائیدادوں کو قومی تحویل میں لیا جاسکتا ہے۔ بھٹو کی حکومت نے بینکوں، فلورملوں یہاں تک کہ روئی کی فیکٹریوں کو بھی قومی تحویل میں لے لیا۔ ان حالات میں بہت سے صنعتکار ملک سے باہر چلے گئے۔ جن صنعتی یونٹوں کو قومی تحویل میں نہیں لیا گیا وہ بھی تنز ل کا شکار تھے۔ قومیائے … کے اندیشے سے ان میں جدت پیدا کرنے اور ان کی استعداد بڑھانے کی کوششیں نہیں کی گئیں اور وہ بھاری خسارے میں جانے لگے۔ پاکستانی کرنسی کی قدر میں 132فیصد کمی کر دی گئی جس سے اشیاء کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔ زرّمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی آنے لگی۔ درآمدات برآمدات سے زیادہ مہنگی ہوگئیں۔ راشن کارڈ، پرمٹ اور بلیک مارکیٹ کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا۔ اقتدار میں آنے سے قبل بھٹو نے فوج میں اپنے تعلقات کو استوار کیا تھا اور ان تعلقات کو بروئے کار لائے۔ انہیں معلوم تھا کہ فوج پاکستان کی سیاست میں فیصلہ کُن کردار ادا کرتی رہی ہے۔ انہوں نے اپنے تعلقات کی بنیاد پر فوج کو مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے خلاف استعمال کیا۔ مشرقی پاکستان کی سیاست میں فوج کی یہ مداخلت بھارت کے ہاتھوں فوج کی شکست کا باعث بنی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ 1971ء کی جنگ کے بعد بھٹو کے برسراقتدار آنے سے جرنیلوں کے معاشقوں کی خبریں اخبارات میں تواتر کے ساتھ شائع ہوتی رہیں۔ بعض اخبارات نے ان کہانیوں کے ساتھ تصاویر بھی شائع کردیں۔ جرنیلوں کے حوالے سے بہت سے چٹکلے اور اصطلاحات زبان زدعام ہو گئیں۔ اس قسم کی خبریں معمول بن گئیں کہ جنرل ناکام ہو گئے اور ان کی پہنی ہوئی وردی ملک اور قوم کے لیے شرمندگی کا باعث بن گئی۔

بھٹو کو فوج کی طاقت کا بخوبی اندازہ تھا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ اختیار کیا اور انہوں نے کمانڈر انچیف کی بجائے چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ متعارف کرایا۔ انہوں نے فوج کو چار کمانڈز کے ماتحت منقسم رکھنے کی کوشش کی تاکہ چاروں کی کمان کسی ایک شخص کے ہاتھ میں نہ آسکے۔ ان حالات میں چیف آف آرمی سٹاف مارشل لاء نافذ نہیں کرسکتا۔ بعدازاں لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کردیا گیا۔ چندماہ بعد بھٹو نے انہیں اجلاس کے بہانے اپنے دفتر میں بلایا۔ بعدازاں انہیں لاہور بھجوا دیا اور انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کو ’’فادر آف آرمرڈکور‘‘ کہا جاتا تھا۔ان کی برطرفی پر کسی نے بھی آواز نہیں اُٹھائی۔ افسروں کے درمیان اختلافات کو اس حد تک ہوا مل چکی تھی کہ لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ بعدمیں لیفٹیننٹ جنرل گل حسن عام محفلوں میں یہ کہتے رہے کہ انہوں نے ایسے لوگوں کی خدمت اور کمان کر کے اپنی زندگی ضائع کردی جو حددرجہ کے مفادپرست نکلے۔ بھٹو نے اسی وقت فضائیہ کے سربراہ رحیم خان کو بھی پشاور میں ہڑتال کرنے والے پولیس والوں کے بیرکوں پر حملے سے انکار کرنے کی پاداش میں ان کے عہدے سے برطرف کردیا۔

ملک کو پولیس سٹیٹ بنانے کی تیاریاں ہورہی تھیں۔سیاسی مخالفین کو اُٹھا کر آزادکشمیر کے بدنام زمانہ دلائی کیمپوں میں پہنچا دیا جاتا۔ یہ کیمپ پاکستانی عدالتوں کے دائرہ سماعت سے باہر تھے۔ وزیراعظم کی حیثیت سے بھٹو نے اپنے پہلے دورِاقتدارمیں پیپلزپارٹی کے ساتھ منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ جیسے تیسے گزارہ کیا تاہم 1977ء کے انتخابات میں وہ جاگیرداروں کو اقتدار میں لے آئے جن کی وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران مخالفت کرتے تھے۔ا سلام آباد میں تعینات ایک جرمن سفارتکار نے کہا تھاکہ بھٹو کے اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہٹلر کی کتاب ’’مائین کیمف‘‘ پر روزانہ صفحہ وار عمل درآمد کراتے ہیں۔ بھٹو نے فیڈرل سکیورٹی فورس تشکیل دے دی اور مسعود محمود کو اس کا سربراہ مقرر کردیا۔ اس فورس کے قیام کا بنیادی مقصد فوج کو کائونٹر کرناتھا۔ (یہ وہی مسعود محمود تھے جنہوں نے قبل ازیں بھٹو کو قتل کرنے کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کی تھیں)۔ پاک فوج نے بھٹو کے نامناسب طرزِعمل پر کوئی اعتراض نہیں کیا کیونکہ فوج پہلے ہی مشرقی پاکستان میں شکست اور بھارت کے ہاتھوں جنگی قیدی بننے کے بعد دلبرداشتہ تھی۔

پورے ملک پر تسلط جمانے کے لیے بھٹو نے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں دانستہ طور پر ایسے حالات پیدا کردیئے کہ وہاں کی صوبائی حکومتوں کو مستعفی ہونا پڑا۔ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو مٹھی میں بند رکھنے کے لیے کوئی بھی حربہ استعمال کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ 1973ء میں فوج کے چند جونیئر افسروں نے وزیراعظم، ان کی کابینہ اور بعض سینئر جرنیلوں کی برطرفی کا منصوبہ بنایا۔ یہ پلان اس وقت ناکام ہو گیا جب افسروں کی فہرست غلطی سے ایک غیرمتعلقہ کیپٹن کو دی گئی۔ انہوں نے یہ فہرست آرمی چیف جنرل ٹکا خان کے حوالے کردی۔ اس سازش میں ملوث بیشتر افسروں کے خلاف اٹک قلعہ میں مقدمات چلائے گئے اور انہیں سزا دے دی گئی۔ منصوبے کے تحت لاہور سے فوجیوں کو سی ون تھرٹی طیارے میں چکلالہ ایئرپورٹ لانا تھا اور وہیں سے فوجی انقلاب برپا کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا تھا۔ مجھے اس پلان کا 1977ء میں لیفٹیننٹ کرنل علیم آفریدی کی زبانی علم ہوا۔ علیم آفریدی بھی ان افسروں میں شامل تھے جنہیں سازش میں ملوث قرار دے کر سزا دی گئی، انہیں پشاور جیل میں رکھا گیا تھا۔ ان دنوں مجھے بھی ڈیفنس آف پاکستان رول 42 اور سیکشن 124 اے کے تحت پشاور جیل میں قید رکھا گیا تھا۔ میں نے بھی اس پلان میں چند بنیادی غلطیوں کی نشاندہی کی۔ حیران کُن امر یہ ہے کہ منصوبے میں ملوث افسران اہم اداروں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا کام ہی منصوبے بنانا، نقشے تیار کرنا اور منصوبے پر عملدرآمد کرانا ہوتا ہے تاہم انہوں نے اتنی پیچیدہ پلاننگ کی تھی کہ اگر سازش میں ملوث تمام افراد پکڑے نہ بھی جاتے تب بھی اس منصوبے کو ناکام ہونا تھا۔

کراچی سمیت ملک کے تمام علاقوں میں کاروبار میں مندے کا رُجحان تھا۔ میں اور میری اہلیہ نے ایبٹ آباد جانے کا فیصلہ کرلیا تاکہ والد کے قریب رہ سکیں۔ ان کی طبیعت خراب رہنے لگی تھی۔ بچے چھوٹے تھے اور ہماری نقل مکانی سے بچوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ اس لیے متفق ہو گئے اور اگر میں عملی سیاست میں آنے کا فیصلہ کرتا تب بھی میرا آبائی علاقہ ہی میرے لیے بہتر ثابت ہوسکتا تھا۔ اس طرح ہم 1973ء میں کراچی سے ایبٹ آباد منتقل ہو گئے۔

یکم جولائی 1972ء کو شملہ معاہدے پر دستخط کے بعد بھارتی کیمپوں میں موجود پاکستانی جنگی قیدیوں کی رہائی شروع ہونی تھی۔ بھارت نے ان جنگی قیدیوں کو طویل عرصے تک اپنی تحویل میں رکھنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ پاکستان واپسی کے بعد وہ ریفریشر ٹریننگ کر کے یہی فوج میں واپس جائیں۔ اس دوران پاک فوج کے اندر بدقسمتی سے ایک غلط روایت پروان چڑھنے لگی۔ مغربی پاکستان میں موجود فوجیوں کے لیے ’’ہمارے‘‘ اور جنگی قیدیوں کے لیے ’’ان کے‘‘ کی اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ پہلے کسی افسر سے اس کی زندگی کے خواب کے بارے میں پوچھا جاتا تو جواب ملتا کہ دہلی کے لال قلعے پر پاکستان کا سبزہلالی پرچم لہرانا میری زندگی کا خواب ہے۔ ہر فوجی بھارت پر چڑھ دوڑنے کو تیار تھا۔ 1971ء کے بعد بہت کم لوگوں کو یہ توقع تھی کہ ہم بھارت کے ساتھ چند دنوں کی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں۔

بھارتی کیمپوں سے رہائی کے بعد ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اے اے کے نیازی والدہ سے ملنے آئے۔ والدہ نے ان سے پوچھا۔ نیازی! لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے مشرقی پاکستان میں کوئی جنگ نہیں لڑی۔ کیا یہ سچ ہے؟ نیازی نے جواب دیا: ’’ماں جی! کون کہتا ہے کہ میں یا میرے فوجیوں نے جنگ نہیں کی۔ ہم نے نومہینے تک آپریشن جاری رکھا۔ مون سون کے موسم میں ہماری وردیوں کے چیتھڑے اُڑ جاتے تھے۔ ہمارے جوان جہاں شہید ہوتے وہیں گڑھا کھود کر انہیں دفنا دیا جاتا۔ ہم نے کسی پاکستانی فارمیشن کو بھارت سے مغلوب ہونے نہیں دیا۔ ان حالات میں بھی ہم نے بھارتی فوج اور مکتی باہنی کو ناقابل تلافی جانی نقصان پہنچایا۔ ہمیں آرام کرنے کا موقع ملا نہ ہی کوئی کمک پہنچی۔ اس کے باوجود ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم نے جنگ نہیں لڑی۔ ہمارے جنرل مشرقی پاکستان جانے کو تیا رنہ تھے۔ میں نے سپاہی ہونے کے ناطے ایک ناممکن ٹاسک قبول کیا۔ ماں جی! جو لوگ مجھ پر جنگ نہ لڑنے کا الزام لگارہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو محاذ جنگ کی بجائے اپنے گھروں میں اپنی بیگمات کے ساتھ آرام سے زندگی گزار رہے تھے‘‘۔

صدر فضل الٰہی چوہدری 24اکتوبر 1974ء کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کی پریڈ کا معائنہ کرنے آئے۔ وہ کچھ دن گورنر ہائوس ایبٹ آباد میں ٹھہر گئے۔ شملہ پہاڑی پر میرا گھر ایک پہاڑی پر ہے جبکہ گورنر ہائوس دوسری پہاڑی پر تعمیر کیا گیا ہے۔ میرے گھر اور گورنر ہائوس کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہے۔ گورنر ہائوس کی طرف جانے والا راستہ میرے گھر کے سامنے سے ہو کر گزرتا ہے۔ دو دنوں کے دوران میں نے یہ بات نوٹ کی کہ مقامی انتظامیہ کے حکام کے سوا کوئی بھی صدر سے ملنے نہیں گیا۔ ایک صبح میں نے صدر کے ملٹری سیکرٹری کو فون کیا اور انہیں بتایا کہ میں اور صدر صاحب 1965ء کی قومی اسمبلی میں دونوں ساتھ رہے ہیں۔ اس وقت وہ میرے گائوں بھی آئے تھے۔ اب میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے وضاحت کی کہ میری ملاقات کا کوئی سیاسی یا اور کوئی مقصد نہیں ہے۔ پندرہ منٹ کے بعد صدر کے ملٹری سیکرٹری کا واپسی کا فون آیا اور مجھ سے کہنے لگے کہ صدر کے پاس سیدھے چلے آئیں۔ مجھے سن روم لے جایا گیا جہاں صدر اکیلے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے علیک سلیک کے بعد ان کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے جواب دیا ’’بہتر محسوس نہیں کررہا‘‘۔ میں نے پوچھا ’’کیا مسئلہ ہے؟‘‘ مجھے ڈپریشن ہے۔صدر نے جواب دیا: میں اپنی حیرت چھپا نہیں سکا اور پوچھا: آپ کو ڈپریشن ہے؟ صدر پھر گویا ہوئے کہ آپ کیا توقع رکھتے ہیں؟ سرکاری حکام کے علاوہ آپ پہلے شخص ہیں جو مجھے ملنے آئے ہیں۔ میں نے کہا کہ ’’جناب! قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی حیثیت سے آپ سب کی توجہ کا مرکز تھے اور ہر ممبر آپ کی توجہ چاہتا تھا۔ اس دوران کافی آگئی ۔ ہم دونوں نے کافی پی لی۔ اس دوران زیادہ تر خاموشی چھائی رہی۔ جب میں وہاں سے نکلا تو مجھے ان کے لیے بہت افسوس ہورہا تھا۔ بھٹو کی برطرفی کے بعد جب میں چوہدری فضل الٰہی سے ملنے گیا تو انہوں نے مجھے یاد دلایا کہ ایبٹ آباد میں ہماری ملاقات ہوئی تھی۔ اس کے بعد بھٹو نے انکوائری کروائی کہ کیا یہ ملاقات ان کے خلاف کوئی سازش ہوسکتی ہے۔

1970ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کے تمام گروپوں کو بُری طرح شکست ہوئی تھی۔ صرف قیوم لیگ صوبہ سرحد میں چند نشستیں جیت سکی۔ قیوم خان خود پشاور اور ہری پور کی دو نشستوں سے کامیاب ہوئے۔ ہری پور میں انہوں نے میرے چچا سردار بہادر خان کو ہرادیا۔ میں نے 1970ء کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔ انتخابات میں شکست کے بعد مسلم لیگ کے تینوں گروپ باہم ضم ہو گئے اور پاکستان مسلم لیگ (پی ایم ایل) تشکیل دی تاہم پارٹی زیاد فعاہل نہ ہوسکی۔ چوہدری ظہورالٰہی کو گرفتار کرلیا گیا اور انہیں چار سال قید کی سزا ہوئی۔ ان پر تین بھینسیں چرانے اور ہوٹل کی لابی میں حکومت مخالف باتیں کرنے کے الزامات تھے۔ چوہدری ظہورالٰہی کا انجام دیکھ کر مسلم لیگ حکومت کے خلاف آگے آنے پر تیار نہ تھی تاہم مجھے ایسے کسی سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت تھی جہاں سے بھٹو اور پیپلزپارٹی کے خلاف آواز اُٹھائی جاسکے۔ اس مرحلے پر اصغرخان کی پارٹی تحریک استقلال ہی سب سے مناسب پلیٹ فارم تھا۔ ایبٹ آباد میں نیم ریٹائرمنٹ گزارنے کے دوران میں نے ایک منشور تیار کیا تھا جس پر میں نے اصغر خان سے بھی بات کی۔ انہوں نے میرا تیارکردہ منشور اختیار کرنے کی حامی بھرلی۔ اس طرح میں نے تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کرلی اور 1975ء میں پارٹی کا صوبہ سرحد کا صدر منتخب ہوا۔

ہم نے ہزارہ سے اپنی مہم کاآغاز کیا جسے مسلم لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے تاہم اس علاقے سے تمام مسلم لیگی اور آزاد ممبران پیپلزپارٹی کے ساتھ شامل ہو چکے تھے۔ میری تقریروں نے لوگوں کی توجہ حاصل کرلی کیونکہ میں نے ان تقریروں میں سیدھی اور سچی باتیں کی تھیں۔ انہی تقریروں کو بنیاد بنا کر میرے خلاف ڈیفنس آف پاکستان رول کی شق 42 کے تحت مقدمے بنائے گئے۔ میں نے اپنی تقریروں میں کہا تھا کہ ’’بھٹو! میں تمہیں خبردار کرتا ہوں۔ آپ جس راہ پر چل رہے ہیں۔ تمہارا انجام مسولینی، ہٹلر اور شیخ مجیب الرحمان سے مختلف نہیں ہو گا۔ وہ اس حالت میں مر گئے کہ ان کے جنازے کو کندھا دینے والا کوئی نہیں تھا‘‘۔ میں نے عالمی تاریخ سے آمروں کا انجام ایک ایک کر کے لوگوں کو بتایا۔ ’’تمہارا دعویٰ ہے کہ تم غریبوں کا خون نہیں پیتے۔ کسی بھی ہسپتال میں خون کا ایک تھیلا 250روپے میں ملتا ہے جبکہ تم رائل سلوٹ وہسکی پیتے ہو جس کی ایک بوتل کی قیمت 1200 روپے ہے، تمہارا یہ بھی دعویٰ ہے کہ تم بطور وزیراعظم قومی خزانے سے ماہانہ صرف ایک روپیہ تنخواہ لیتے ہو جبکہ تمہاری عیاشیوں پر قومی خزانے سے ماہانہ بیس لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں جو بحیثیت وزیراعظم تمہاری تنخواہ اور تمام مراعات سے بھی زیادہ ہے، تمہارے دو کتے ہیں۔ ایک ویٹرنری ڈاکٹر کراچی سے ہوائی جہاز میں راولپنڈی آتا ہے۔ اسے انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل میں ٹھہرایا جاتا ہے۔ وہ سرکار کے خرچ پر تمہارے کتوں کے ناخن کاٹتا اور ان کی آنکھیں صاف کرتا ہے۔ تم پاک فضائیہ کو نئے طیارے خڑید کر دینے کے روادار نہیں۔ فضائیہ کے پاس جو بوسیدہ طیارے ہیں، وہ لوگ انہیں اُڑتے ہوئے کفن کہتے ہیں۔ تمہیں آرمرڈکور کا کرنل انچیف بنایا گیا ہے۔ فوجی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی سویلین کو کرنل انچیف بنایا گیا۔ یاد رکھو تمہارا کڑا محاسبہ کیا جائے گا۔ بشام کے زلزلہ زدگان کے لیے دیئے گئے 70لاکھ ڈالر کہاں گئے، متاثرین نے ایک دھیلا نہیں دیکھا۔ ساری رقم تمہارے فارن اکائونٹ میں پڑی ہے۔ تم پوچھتے ہو کہ ایوب خان نے پاکستان کے لیے کیا کیا؟ ایوب خان نے تربیلا بند، منگلا بند، چشمہ بند اور خانپور بند تعمیر کروایا جبکہ تمہارے دورِحکومت میں لوگوں پر آٹابند، تیل بند اور ڈالڈا بند کردیا گیا‘‘۔ (اوپر کے جملے میں بند سے مراد ’’ڈیم‘‘ اور دوسرے جملے میں بند سے مراد ’’بندش‘‘ ہے۔ بھٹو کے دور میں اشیائے خوردونوش کی شدید قلت تھی)۔

انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اپوزیشن رہنمائوں کے پیچھے لگایا گیا تھا۔ ان کے فون ٹیپ کیے جاتے تھے۔ ان کے خطوط کھول کر پڑھے جاتے تھے۔ ان کے گھروں کے باہر ایجنٹ بٹھائے جاتے تھے۔ ایجنسیوں نے اپنے ہر شکار کا ایک خفیہ نام رکھا ہوا تھا۔ میرا خفیہ نام ’’صابراسیون‘‘ تھا۔ یہ بات مجھے ان کے ایک ایجنٹ نے لاہور میں بتائی (دراصل اس کا تعلق ہری پور سے تھا)۔ جب میں ہوائی جہاز کے ذریعے لاہور کے ہوائی اڈے پر اُترا، وہ شخص میرے پاس آیا اور مجھ سے لاہور میں میری مصروفیات کی تفصیلات معلوم کیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں تمہارا پیچھا نہیں کروں گا۔ آپ سب کچھ مجھے بتائیں گے تو ہم دونوں کے لیے آسانی ہو گی۔ میں نے بڑی خوشی سے اپنی مصروفیات کے بارے میں انہیں بتایا۔ بعد میں شام کے وقت جب میں واپسی کے لیے ایئرپورٹ آیا تو انہوں نے مجھے رُخصت کیا۔ میں نے سمجھا کہ وہ میری مدد کررہا ہے۔ اب مجھے اپنی انٹیلی جنس ٹریننگ کی وجہ سے معلوم ہورہا ہے کہ ان ایجنٹوں کے ذریعے مجھے مقدمات میں پھنسایا جارہا تھا۔

فروری 1976ء کو منڈی بہائوالدین میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے میں نے اس حقیقت کا انکشاف کیا کہ وزیرمواصلات نے نیشنل شپنگ کارپوریشن کے لیے انتہائی مہنگے داموں جو تیل آئل ٹینکر خریدے تھے، وہ دراصل تقریباً کباڑ تھے۔ اس بات پر میرے خلاف ڈیفنس آف پاکستان رول 42 کے تحت مقدمہ چلایا گیا جس میں مجھ پر حکومت کے خلاف لوگوں کو اُکسانے کا الزام لگایا گیا۔ مئی 1976ء کے پہلے ہفتے میری گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیئے گئے۔ مجھے ایبٹ آباد میں میری رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا گیا اور میری اپنی گاڑی میں مجھے بٹھا کر ساری رات سفر پر رکھا گیا۔ صبح ہم ایس ایچ او ہائوس منڈی بہائوالدین پہنچے۔ ان کے ساتھ ناشتہ کیا۔ مجھے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا گیا۔ اس کے بعد مجھے گجرات جیل لے جایا گیا۔ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے شام تک مجھے اپنے دفتر میں رکھا۔ اس کے بعد مجھے کلاس سی کے بیرک میں بھیجا گیا۔ اس بیرک میں اوپر نیچے سونے کی جگہیں بنی تھیں۔ میں نے ایک کتاب نکالی اور پڑھنا شروع کیا۔ وہاں موجود دیگر قیدی مجھے دیکھ کر آپس میں باتیں کرنے لگے۔ پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا۔ خان صاحب! آپ یہاں کتاب پڑھنے آئے ہیں؟ ہمارے ساتھ بھی گپ شپ لگایئے۔ میں نے اپنی کتاب رکھ دی اور اوپر والے تختے پر بیٹھ گیا جو مجھے الاٹ کیا گیا تھا۔ پھر میں نے بھٹو کے خلاف لمبی چوڑی باتیں کیں۔ قیدی میری باتیں سن کر بہت محظوظ ہورہے تھے۔ رات کو شور کی آواز پر میری آنکھ کھل گئی۔ (جاری ہے)

پہلے مجھے یوں لگا کہ شاید کبوتر بلی کو دیکھ کر شور مچا رہا ہے یا پھر اس قسم کی کوئی اور بات ہو گی لیکن یہ آواز رات ڈھلنے تک آتی رہی۔ جب صبح کی روشنی پھیل گئی تو میں نے اس شور کا سبب معلوم کرلیا۔ ہمارے سیل کے اندر ایک قوی ہیکل آدمی پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اور دو آدمی اسے مساج کررہے تھے۔ معلوم ہوا کہ وہ کوئی مقامی پیر تھا اور قتل کے الزام میں اسے جیل کی سزا ہوئی تھی۔ اگلے روز مجھے کلاس بی کے بیرک میں منتقل کردیا گیا جہاں تقریباً آٹھ قیدی تھے۔ ان میں سے کچھ ریٹائر فوجی بھی تھے۔ جیل کا سپرنٹنڈنٹ اپنے سٹاف کے ہمراہ انسپکشن کرنے آیا۔ ہم سب اپنی چارپائیوں کے پائیوں پر کھڑے ہو گئے۔ سپرنٹنڈنٹ نے ہدایت کی کہ اس بیرک میں کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہو گی۔ اگر مجھے کسی کی طرف سے خلاف ورزی کی رپورٹ ملی تو اسے واپس سی کلاس کے بیرک میں بھیج دیا جائے گا۔ میں نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ صاحب! مجھے سیاسی الزامات کے تحت جیل بھیجا گیا ہے اور اس پر مجھے کوئی شرمندگی بھی نہیں۔ میں تو سیاسی باتیں کروں گا اور بھٹو کو بُرا بھلا کہوں گا۔ آپ کے جو جی میں آئے کریں۔ سپرنٹنڈنٹ میری بات سُن کر خاموشی سے چلے گئے۔ اس سے ظاہر ہورہا تھا کہ وہ ایک اچھا آدمی تھا۔ گجرات جیل میں جتنا عرصہ میں نے گذارا، سپرنٹنڈنٹ نے میری ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کی۔

بی کلاس کے قیدی ہونے کے ناطے مجھے باہر سے کھانے پینے کی چیزیں منگوانے کا حق حاصل تھا۔ میرا کھانا روزانہ چوہدری ظہورالٰہی کے گھر سے آتا تھا جبکہ وہ خود حیدرآباد جیل میں چارسال قید کی سزا بھگت رہے تھے۔ گجرات جیل کے چاروں اطراف سکیورٹی کے کافی سخت انتظامات تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ ایک ملنگ جیل کے گیٹ پر نمودار ہوا۔ یہ وہ ملنگ تھا جو ہر دس پندرہ دن بعد اسلام آباد میں میرے والد کے گھر پر پیسے مانگنے آتا تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے سمجھا کہ وہ جیل کے اطراف کا معائنہ کررہا ہے تاکہ کسی کو جیل سے بھگانے کی کوشش کرے، اس واقعے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔

مئی 1976ء میں لاہور ہائیکورٹ نے میری درخواست ضمانت کی سماعت کی۔ حکومت نے درخواست کی مخالفت کی۔ جج نے سماعت مکمل ہونے کے بعد اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’گوہرایوب کھلے عام کہہ رہا ہے کہ ایک وزیر نے پاکستان شپنگ کارپوریشن کے لیے آئل ٹینکر خریدنے میں کرپشن کی ہے جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا ہے۔ حکومت کا کام کرپشن ختم کرنا ہے، حکومت کو چاہیے کہ اس الزام کے حوالے سے گوہر ایوب خان سے معلومات حاصل کرے لیکن اس کے برعکس انہیں دبانے کی کوشش کی گئی اور ان پر مقدمات قائم کر کے انہیں جیل میں بند کردیا گیا۔ اگر حکومت یہی کچھ کرتی رہی تو ملک سے کرپشن کیسے ختم ہوگی‘‘۔ اگلے روز میری ضمانت منظور کرلی گئی۔ میرے لیے گاڑی بھجوائی گئی تھی۔ میں اس میں بیٹھ کر ایبٹ آباد آگیا۔ مجھے معلوم تھا کہ صوبہ سرحد میں میرے خلاف بہت سے اور بھی کیس تیار کیے ہوئے ہیں۔ مارچ 1976ء کو بالاکوٹ میں ایک جلسہ عام کا اہتمام کیاگیا۔ قریبی بازار اور جلسہ گاہ کے قرب وجوار میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی مگر جلسہ گاہ میں کوئی نہیں تھا۔ جب ہم بازار میں داخل ہوئے تو لوگ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ وہ جلوس کی شکل میں ہماری گاڑیوں کے پیچھے ہولیے۔ ہم نے کسی دوسری جگہ جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا اور جلسہ کے لیے ایک زیرتعمیر مسجد کا انتخاب کیا گیا۔ وہاں لوگوں کے بیٹھنے کے انتظامات کرنے کا وقت نہیں تھا۔ جلسہ جب شروع ہوا تو وہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں رہی۔ تقریریں شروع ہو گئیں۔ میں نے بھٹو اور ان کی حکومت کے خلاف اپنی تقریر شروع کی اور بتایا کہ انہوں نے لوگوں کے لیے کیا کیا مشکلات پیدا کیں۔ ابھی میری تقریر شروع ہوئے پندرہ منٹ کا وقت گزرا ہو گا کہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی ایس پی مسجد میں داخل ہو گئے اور میرے سامنے والی جگہ پر کر کھڑے ہو گئے۔ ڈی ایس پی نے دفعہ 144 کے نفاذ کا حکم نامہ کھول کر مجھے دکھایا تاکہ میں پڑھ سکوں کہ انہوں نے کیا اُٹھا رکھا ہے۔ لوگوں کو تجسس تھا۔ وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ سامنے کیا ہورہا ہے۔ جونہی لوگوں نے پیچھے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں مجھے دھکیلا، میں سیدھا ڈی ایس پی کے اوپر جاگرا۔ ڈی ایس پی نیچے گر گیا اور اسے چوٹیں بھی آئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے بازار میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ میں نے ڈی ایس پی کی پٹائی کردی۔

جلسے سے ایبٹ آباد واپسی پر میں نے اپنی اہلیہ کو بتایا کہ آج تو پولیس کے ہتھے چڑھنے سے بال بال بچ گئے تاہم میرا ضروری سامان تیار رکھنا۔ لمبے عرصے کے لیے جیل جانے کی تیاری کرنی ہو گی۔ پشاور میں خصوصی عدالت قائم کی جاچکی تھی جس کے سامنے میرے خلاف مقدمے پیش ہونے تھے اور میرے خلاف ایک اور مقدمہ چلانے کی تیاریاں مکمل تھیں۔ بھٹو نے اپنا کرنا پورا کردیا تھا۔ خصوصی عدالت کے صدر (جوسرحد اسمبلی کے سیکرٹری بھی تھے)کو ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ سماعت کی کارروائی تیز کی جائے اور تمام مقدمات میں مجھے زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔ توقع کے مطابق آدھی رات کو پولیس پہنچ گئی۔ میں پولیس افسر سے ملنے گھر سے باہر نکلا تو انہوں نے بتایا کہ میں خود کو زیرحراست سمجھوں اور ان کے ساتھ چلوں۔ میں نے پوچھا کہ گرفتاری کا وارنٹ کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی وارنٹ نہیں۔ مجھے زبانی ہدایت کی گئی ہے۔ میں نے کہا کہ جب تک آپ میری گرفتاری کے وارنٹ نہیں لاتے میں آپ کے ساتھ جانے کو تیار نہیں ہوں، مجھے کیا پتہ کہ تم کون ہو، اس لیے میرا مشورہ ہے کہ ابھی واپس جائیں اور جب دوبارہ آجائیں تو گرفتاری کے وارنٹ اپنے ساتھ لے آئیں۔ میری بات سُن کر پولیس افسر اور ان کے ساتھی واپس چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد وہ میری گرفتاری کے وارنٹ لے کر واپس آگئے جس میں مجھ پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ مجھے ہری پور جیل لے جایا گیا جہاں مجھے تین دن رکھا گیا۔ وہاں سے مجھے پشاور لے جایا گیا اور قید تنہائی میں رکھا گیا۔ جس پھانسی گھاٹ میں مجھے رکھا گیا اسے جیل کے اندر ایک اور جیل قرار دیا جاسکتا ہے۔ میرے خاندان کو بھی نہیں بتایا کہ مجھے کہاں رکھا گیا ہے۔ (جاری ہے)

٭٭٭


ای پیپر