پرواز (TAWA-85)وہ واقعات جو لمحہ لمحہ آپ کیلئے حیرت انگیز ہونگے
20 May 2020 (01:20) 2020-05-20

میگزین رپورٹ:

1960 ء کی دہائی میں جب ہائی جیکنگ کی وارداتیں عام تھیں اس وقت امریکہ میں اوسطً ہر چھ دن میں ایک مسافر طیارہ اغوا کیا جا رہا تھا۔ پندرہ برس قبل اس ہفتے رافیلی منیکیلو ہائی جیکنگ کی ان وارداتوں میں سے ایک کے ذمہ دار تھے جسے اس وقت کی طویل ترین اور سب سے سنسنی خیز واردات قرار دیا گیا تھا۔ اس مسافر بردار طیارے میں سوار مسافر کیا کبھی اس ہائی جیکر کو معاف کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے وہ گھنٹوں زندگی اور موت کی کشمکش کا شکار رہے اور اپنی زندگی کے اذیت ناک لمحات سے دوچار ہوئے۔

21 اگست1962

جنوبی اٹلی کے پہاڑوں کے دامن میں، نیپلز سے ذرا شمال مشرق میں، زمین پھٹتی ہے اور سب کچھ لرزنے لگتا ہے۔ اس خطے میں بسنے والے اس کے عادی تھے کیونکہ یورپ میں سب سے زیادہ زلزلے اسی علاقے میں آتے ہیں۔ زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 6.1 تھی اور سرِ شام آنے والا پہلا جھٹکا لوگوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ لیکن اس کے بعد آنے والے دو شدید جھٹکوں نے پورے علاقے میں تباہی پھیلا دی۔ زلزلے کے زیر زمین مرکز سے 20 کلو میٹر اوپر اور چند سو میٹرشمال میں مینیکیلو گھرانہ بستا تھا جس میں 12 سالہ رافیلی بھی شامل تھے۔ زلزلے کا تیسرا جھٹکا جب تھما تو ان کا گاؤں نیست و نابود ہو چکا تھا۔ مینیکیلو فیملی کے پاس کچھ نہیں رہا تھا۔ رافیلی نے زلزلے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مدد کو کوئی سرکاری اہلکار کوئی سرکاری ادارہ نہیں آیا۔ زلزلے سے ہونے والی تباہی سے پورا گاؤں زمین بوس ہو گیا اور اسے از سر نو تعمیر کیا گیا۔ بہت سے گھرانے واپس آ گئے لیکن مینیکیلو فیملی نے بہتر زندگی کی تلاش میں امریکہ جانے کا فیصلہ کر لیا، رافیلی مینیکیلو کو جہاں صرف جنگ کی ہولناکی، زخم اور بدنامی ملی۔

21 اکتوبر 1969، ایک بج کر 30 منٹ

کیموفلاج وردی میں ملبوس رافیلی نے لاس اینجلس سے سان فرانسسکو جانے کے لیے ساڑھے پندرہ ڈالر کا ٹکٹ خرید کر جہاز پر قدم رکھا۔ ٹرانس ورلڈ فضائی کمپنی کی پرواز 85 جو کئی گھنٹے قبل بالٹی مور سے شروع ہوئی تھی براستہ سینٹ لوئس اور کنسس سٹی، لاس اینجلس پہنچی تھی اور اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہونے والی تھی۔ کاک پٹ میں تین افراد کے عملے کو چار فضائی میزبان خواتین کی مدد حاصل تھی جن کو اس شعبے میں نوکری کرتے تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا۔

ان میں سے سب سے زیادہ تجربہ کار، 23 سالہ ’باب کٹ‘ ہیئر سٹائل والی شارلین ڈیلمونکو تھیں جو اس فضائی کمپنی کے ساتھ گزشتہ تین برس سے کام کر رہیں تھیں۔ ڈیلمونکو نے ’ہیلوئن‘ کی شب چھٹی کرنے کی خاطر اپنی شفٹ تبدیل کروائی تھی۔ کنسس سٹی سے پرواز کرنے سے قبل، 31 سالہ کپتان ڈونلڈ کک نے فلائٹ اٹینڈنٹس کو معمول کے طریقہ کار میں تبدیلی سے آگاہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر انھیں جہاز کے کاک پٹ میں آنے کی ضرورت پیش آئے تو دروازے پر دستک کے بجائے وہ دروازے کے ساتھ لگی ہوئی گھنٹی دبائیں۔

جہاز رات گئے لاس اینجلس پہنچا۔ چند مسافر اتر گئے اور کچھ سان فرانسسکو جانے کے لیے مختصر پرواز پر سوار ہوئے۔ جہاز پر موجود خوابیدہ مسافروں کی سہولت کے پیش نظر جہاز کی روشنیوں کو مدھم رکھا گیا تھا۔ فضائی میزبان یہاں سے سوار ہونے والے مسافروں کے ٹکٹ دیکھ کر ان کی نشستوں کی نشاندہی کر رہے تھے۔ لیکن ڈیلمونیکو کی نظریں ایک مسافر اور خاص طور پر اس کے بیگ پر لگی ہوئیں تھیں۔ دھوپ میں جلی ہوئی رنگت، سر پر گھنے جمے ہوئے لمبے بالوں اور کیموفلاج لباس میں ملبوس ایک نروس مگر شائشتہ نوجوان جہاز پر سوار ہوا۔ اس کے پشتنی بیگ سے ایک ٹین کے ڈبے کا ابھار نظر آ رہا تھا۔

ڈیلمونیکو فرسٹ کلاس کی طرف گئیں جہاں ان کی ساتھی تانیا نواکوف اور روبرٹا جانسن مسافروں کو ان کی نشستوں تک پہنچنے میں مدد کر رہی تھیں۔

ڈیلمونیکو نے اپنی ساتھی فضائی میزبانوں سے دریافت کیا کہ اس نوجوان کے بیگ میں وہ ڈبہ کیسا تھا۔ انھیں جواب ملا کہ وہ مچھلی پکڑنے کی راڈ تھی اور یہ جان کر وہ مطمئن ہو گئیں اور جہاز کے عقبی حصے کی طرف لوٹ گئیں۔ جہاز پر معمول سے کم رش تھا۔ صرف 40 مسافر جہاز پر موجود تھے اور ہر ایک کو پیر پھیلا کر سونے کی جگہ میسر تھی۔ ان مسافروں میں ’ہارپر بیزار‘ پاپ گروپ کے پانچ ارکان بھی موجود تھے جو پاساڈینا شہر میں ایک کنسرٹ کرنے کے بعد تھکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ان کا ایک گانا مشہور ہوئے دو سال ہو گئے تھے لیکن شہرت کی بلندیوں کو پہنچنے میں اس گروپ کو ابھی چند اور سال درکار تھے۔ اس گروپ کے گلوکار اور گٹار بجانے والا ڈک سکوپیٹون اور ڈرمر جان پیٹرسن بائیں طرف والی نشستوں پر بیٹھے سگریٹ کے کش لگا رہے تھے۔ جمعہ 31 اکتوبر کو رات کے ڈیڑھ بجے ٹی ڈبلیو اے کی پرواز 85 لاس اینجلس سے سان فرانسسکو کے لیے روانہ ہوئی۔ پرواز کے 15 منٹ بعد جہاز کو اغوا کر لیا گیا۔

خبر پڑھیں:مکافاتِ عمل

زمین سے فضا میں بلند ہوتے وقت جہاز پر سوار سوئے ہوئے مسافروں کی نیند خراب ہو گئی۔ جہاز کو رفتار کو بڑھانے کے لیے بوئنگ 707 طیارے کے انجنوں میں پانی انجیکٹ (چھوڑنا) پڑا جس کی وجہ سے ہوا بازی کی صنعت میں اس طیارے کا نام واٹر ویگن پڑ گیا تھا۔ اس عمل کا اثر بہت شدید ہوتا ہے، انجن کا شور بڑھ جاتا ہے اور پورا جہاز خوفناک انداز میں لرزتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جہاز کے عملے نے روشنی مزید مدھم کر دی اور جہاز کے اندر تقریباً مکمل تاریکی چھا گئی۔ انجن کا شور کم ہوتے ہی شارلین ڈیلمونیکو نے جہاز کے عقب میں 21 سالہ ٹریسی کولمین کے ساتھ مل کر چیزوں کو سمیٹنا شروع کیا۔ کیموفلاج لباس میں ملبوس نروس نوجوان بھی وہاں پہنچ گیا اور ان کے برابر آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایم ون بندوق تھی۔ ڈیلمونیکو نے بڑے پیشہ وارانہ اور پرسکون انداز میں اس نوجوان سے کہا کہ وہ بندوق نہیں رکھ سکتے۔ اس نے جواب میں یہ ثابت کرنے کے لیے کہ بندوق میں گولیاں موجود ہیں، سات اعشاریہ باسٹھ ملی میٹر کی گولی ان کے ہاتھ میں تھمائی اور انھیں کاک پٹ میں لے جانے کا حکم دیا۔

ڈک سکوپیٹون اس وقت سونے والے تھے جب وہ غیر معمولی نقل و حرکت سے خبردار ہو گئے۔ انھوں نے دیکھا کہ ڈیلمونیکو کے پیچھے ایک نوجوان نے ان پر بندوق تانی ہوئی تھی۔ ان کے ساتھی جان پیٹرسن جو اگلی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے انھوں نے مڑ کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے دریافت کیا کہ کیا یہ سب حقیقت ہے۔ جہاز کے پچھلے حصے میں ایک مسافر جم فنڈلے مینیکیلو کو روکنے کے لیے کھڑا ہوا۔ ہائی جیکر گھوما اور اس نے چیخ کر کہا ’ہالٹ‘۔ ڈیلمونیکو کو اس کے انداز سے لگا کہ یہ شخص فوج میں رہا ہے۔ فنڈلے کو اس کی نشست پر بھیجنے کے بعد ڈیلمونیکو اور مینیکیلو کیبن کی طرف بڑھ گئے۔ ڈیلمونیکو نے فرسٹ کلاس میں داخل ہونے کے لیے فرسٹ کلاس کا پردہ ہٹایا۔ ان کے پیر جواب دے رہے تھے لیکن انھوں نے اپنے سے آگے والی ایئر ہوسٹسوں کو خبردار کیا۔ 'میرے پیچھے جو شخص ہے اس کے ہاتھ میں بندوق ہے،' دونوں ایئر ہوسٹس فوراً راستے سے ہٹ گئیں۔

کچھ مسافروں نے مینیکیلو کو ڈیلمونیکو پر چیختے ہوئے سنا۔ ہائی جیکر شروع میں بہت شائستہ رہا اور اس نے کوئی بدتمیزی نہیں کی اور ایئرہوسٹس کے بقول ’وہ ایک خوش اخلاق نوجوان‘ لگ رہا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ذہنی دباؤ کی وجہ سے اس کا رویہ شدید ہوتا جا رہا تھا۔ ڈیلمونیکو کو کپتان کی ہدایت یاد آئی کہ دروازے پر دستک دینے کے بجائے گھنٹی بجائے۔ لیکن مینیکیلو کو لگا کہ اس میں کوئی چال ہے اس لیے اس نے ایسا کرنے سے روک دیا۔ ایئرہوسٹس نے کاک پٹ کے دروازے پر کپتان کی ہدایت کے برعکس اس امید کے ساتھ دستک دی کہ شاید عملے کو خطرے کا اندازہ ہو جائے۔ کاک پٹ کا دروازہ کھلا اور انھوں نے عملے کو بتایا کہ ان کے پیچھے کھڑے نوجوان نے ان پر بندوق تان رکھی ہے۔ مینیکیلو کاک پٹ میں داخل ہو گیا اس نے عملے کے تین ارکان جن میں کپتان کک، فرسٹ آفیسر وینزل ولیم اور فلائٹ انجینئر لائڈ ہولراہ شامل تھے ان کو اپنے نشانے پر لے لیا۔ ولیم کو لگا کہ مینیکیلو تربیت یافتہ اور پوری طرح مسلح ہیں۔ وہ پوری طرح جانتے تھے کہ جہاز کے عملے کو کیا کہنا ہے اور اس بارے میں ان کا ارادہ بہت پختہ ہے۔

ایئر ہوسٹس کے کاک پٹ سے نکل جانے کے بعد ہائی جیکر نے عملے سے کہا کہ وہ طیارے کا رخ نیویارک کی طرف موڑ دیں۔ جہاز کے اندر بندوق اٹھائے ایک نوجوان کے کاک پٹ کی طرف جانے کا غیر معمولی منظر بہت سے مسافروں نے دیکھا جو اس وقت جاگ رہے تھے۔ ہارپر بیزار بینڈ کے ارکان فوراً ایک جگہ جمع ہو گئے۔ اور وہ اس بارے میں خیال آرائی میں لگے کہ کس طرح ایک مسلح شخص جہاز پر سوار ہونے میں کامیاب ہوا۔ وہ سوچنے لگے کہ انھیں کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ شاید ہانگ کانگ؟ وہ ہانگ کانگ کبھی نہیں گئے تھے انھوں نے سوچا کہ بہت مزا آئے گا۔ جوڈی پرونس کی تربیت کام آ گئی۔ وہ ٹی ڈبلیو اے میں فلائٹ اٹینڈنٹ تھیں اور آٹھ دن تک ایشیا میں مختلف جگہوں پر پرواز کے بعد سان فرانسسکو اپنے گھر لوٹ رہی تھیں۔ ہر سال ٹی ڈبیلو اے کے دیگر اہلکاروں کے ساتھ انھیں اس طرح کے ہنگامی حالات کا سامنا کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ ان کو پہلا سبق اپنے اوسان برقرار رکھنے اور پر سکون رہنے کا دیا جاتا ہے۔ دوسرا سبق انھیں یہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہائی جیکروں سے جذباتی ہونے سے پرہیز کریں کیونکہ وہ ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔ پرونس نے خاموشی سے اپنے اردگرد مسافروں کو بتایا کہ انھوں نے ایک مسلح شخص کو کاک پٹ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہے۔ انھیں اس صورت حال کا بڑے پرسکون انداز میں سامنا کرنے کی تربیت حاصل تھی۔ جم فنڈلے جس نے پہلے ہائی جیکر کو روکنے کی کوشش کی تھی وہ ٹی ڈبلیو اے میں پائلٹ تھے۔ انھیں ہائی جیکر کے بیگ مل گئے اور انھوں نے ان بیگوں کی تلاشی لینا شروع کر دی۔کپتان کک کی لاؤڈ سپیکر پر آواز آئی کہ ایک بہت پریشان نوجوان اس وقت کاک پٹ میں موجود ہے اور ہمیں پہلے وہاں جانا ہے جہاں وہ جانا چاہتا ہے۔ جہاز کا رخ موڑ دیا گیا اور جوں جوں جہاز سان فرانسسکو سے دور ہوتا چلا گیا مسافروں کو مختلف پیغام دیے جاتے رہے اور ان میں چہ میگوئیاں بڑھتی گئیں کہ جہاز کو کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ کچھ کا خیال تھا کہ ڈینور۔ کچھ کہہ رہے تھے قاہرہ یا شاید کیوبا یا اٹلی۔ کاک پٹ کے اندر موجود عملے کو زندگی خطرے میں محسوس ہو رہی تھی جب کہ کچھ مسافر اسے ایڈونچر تصور کر رہے تھے۔ ایک انوکھی نوعیت کا ایڈونچر۔ ٹی ڈبلیو اے کی اس پرواز کے مسافروں کے لیے یہ قدرتی بات تھی کہ وہ یہ سوچیں کہ انھیں کیوبا لے جایا جا رہا ہے کیونکہ اس زمانے میں کیوبا ہائی جیکروں کی پسندیدہ منزل ہوتی تھی۔60ء کی دہائی سے فیدل کاسترو کے انقلاب کے بعد بہت سے نوجوان امریکہ سے دلبرداشتہ ہو کر یا کیمونسٹ نظام سے متاثر ہو کر کیوبا کا رخ کرتے تھے۔ امریکی فضائی کمپنیاں کیوبا نہیں جاتی تھیں ہائی جیکنگ کے ذریعے لوگ یہاں پہنچنا چاہتے تھے۔

امریکہ سے آنے والے ہائی جیکروں کو پناہ دے کر کاسترو ایک طرف تو اپنے دشمن کو شرمندہ کرنا چاہتے تھے اور دوسری طرف وہ جہاز کو واپس کرنے کا معاوضہ بھی طلب کرتے تھے۔ 1961ء میں تین مہینوں میں ہائی جیکنگ کی کئی وارداتیں ہوئیں۔ یکم مئی کو ریمیرز اورٹز، نیشنل ایئر لائن کی ایک پرواز پر ایک فرضی نام سے میامی سے سوار ہوئے اور چاقو دکھا کر انھوں نے طیارہ ہائی جیک کر لیا۔ انھوں نے طیارے کو کیوبا لے جانے کا مطالبہ کیا جہاں وہ کاسترو کو خبردار کرنا چاہتے تھے کہ انھیں قتل کرنے کی سازش تیار کی جا رہی ہے جو ان کے اپنے ہی ذہن کی اختراع تھی۔ دو اور وارداتیں اگلے دو ماہ میں ہوئی اور اس کے بعد آنے والے گیارہ برسوں میں امریکہ میں 159 پروازوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔برینڈن آئی کورنر نے ایک ہائی جینکنگ کی وارداتوں کے بارے میں ایک کتاب میں لکھا کہ ہائی جیکنگ کی وارداتیں جن کی منزل کیوبا ہوتی تھی بہت عام تھیں اور ایک موقع پر امریکہ کی فضائی کمپنیوں کے پائلٹس کو جزائر غرب الہند کے نقشے اور ہسپانوی زبان میں لکھے ہوئے ہدایت نامے بھی جاری کیے جانے لگے تھے کہ کہیں انھیں غیر متوقع طور پر ہوانا جانا نہ پڑ جائے۔ کیوبا اور فلوریڈا کے ایئر ٹریفک کنٹرولر کے درمیان براہ راست فون لائن بھی لگا دی گئی۔ یہاں تک تجویز دی گئی کہ فلوریڈا میں ہوانا کی طرح کا ایک ہوائی اڈہ بنایا جائے تاکہ ہائی جیکروں کو لگے کہ وہ کیوبا پہنچ گئے ہیں۔

امریکی ہوائی اڈوں پر ناکافی سکیورٹی ہائی جیکنگ کی وارداتوں کی بڑی وجہ تھی۔ ہائی جیکنگ کی وارداتیں شروع ہونے سے پہلے کسی مسافر کے سامان کی تلاشی لینے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی تھی کیونکہ کسی مسافر کی طرف سے کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی۔ کئی برس تک فضائی کمپنیاں مسافروں کی تلاشی لینے کی مخالفت کرتی رہیں کیونکہ ان کے خیال میں اس سے مسافروں کی مشکلات بڑھیں گی اور جہاز پر مسافروں کے سوار ہونے میں وقت لگے گا۔ لاس اینجلس کے ہوائی اڈے پر تعینات ٹی ڈبلیو اے کے ایک اہلکار جان پراکٹر نے میڈیا سے 1960ء میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم ایک مختلف دنیا میں رہ رہے ہیں۔‘جہازوں کو تباہ کرنے کی وارداتیں پیش نہیں آئی تھیں۔ مسافر جہازوں کو اغوا کر کے صرف کیوبا جانا چاہتے تھے اور وہ جہاز کو تباہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ رافیلی مینیکیلو بندوق کے تمام پرزے چھپا کر جہاز پر لے جانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ جہاز کے بیت الخلا میں جا کر انھوں نے ان پرزوں کو جوڑ لیا۔ پراکٹر کے مطابق یہ پرزے جہاز پر لے جانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ گیٹ پر تعینات سیکیورٹی اہلکار نے صرف بیگ کا وزن دیکھا ہو گا لیکن اس کی تلاشی نہیں لی ہو گی۔

1969ء میں ٹی ڈبلیو اے 85 کے اغوا کی ورادات پیش آنے تک امریکہ میں ہائی جیکنگ کے 54 واقعات ہو چکے تھے۔ امریکی خبر رساں ادارے نے اس وقت خبر دی تھی کہ ہر چھ دن میں ہائی جیکنگ کی ایک واردات پیش آ رہی ہے۔ لیکن کسی نے ابھی تک جہاز کو اغوا کر کے ایک دوسرے برے اعظم میں لے جانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ جہاز کے عملے کو جھنجھلاہٹ کا شکار نوجوان اغوا کار کی طرف سے متضاد ہدایت مل رہی تھیں۔ وہ نیویارک یا روم جانا چاہتا ہے۔ اگر وہ نیویارک جانا چاہتا ہے تو اس میں ایک مشکل درپیش ہو گی کیونکہ جہاز پر سان فرانسسکو تک جانے کا ایندھن موجود تھا اور نیویارک جانے کے لیے اسے ایندھن بھروانے کے لیے راستے میں کہیں اترنا پڑتا۔ روم جانا اور بھی زیادہ مشکل تھی جہاز کے عملے میں شامل تینوں اہلکار بین الاقوامی پروازوں کی تربیت نہیں رکھتے تھے۔

آخر کار کپتان کک کو کیبن میں آ کر مسافروں سے بات کرنے کی اجازت دی گئی۔ کپتان کک نے مسافروں سے کہا کہ اگر سان فرانسسکو میں ان کی کوئی مصروفیات تھی تو وہ اب پوری نہیں ہو سکے گی کیونکہ وہ نیویارک جا رہے ہیں۔ کافی بحث کے بعد مینیکیلو نے کپتان کو ڈینور میں اترنے کی اجازت دی تاکہ وہ امریکہ کے مشرقی حصہ تک پہنچنے کے لیے ایندھن بھروا سکیں۔ کولاراڈو کی فضائی حدود میں داخل ہو کر کک نے ایئر ٹریفک کو پہلی مرتبہ خبردار کیا کہ جہاز کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

پلان تبدیل ہوتا ہے

مینیکیلو نے ڈینور پر 39 مسافروں کو جہاز سے اترنے کی اجازت دے دی لیکن انھوں نے ایک فضائی میزبان کے جہاز پر رکنے پر اصرار کیا۔ یہ بحث ہونے لگی کہ کون جہاز پر رکے گا۔ ہائی جیکر کی خواہش تھی کہ ڈیلمونکو جہاز پر رکیں۔ جہاز کے کپتان کا خیال تھا کہ رابرٹا جانسن رکیں جنہیں وہ دیگر تین ایئرہوسٹس کے مقابلے میں قریب سے جانتے تھے۔ ڈیلمونکو نے مسافروں کے کوائف درج کرنا شروع کیے تو ان کی ساتھی ٹریسی کولمین کاک پٹ میں عملے کو کافی دینے کے لیے گئیں۔ کاک پٹ سے نکلنے کے بعد انھوں نے کہا کہ ’میں جہاز کے ساتھ جاؤں گی۔‘ کولمین کا بوائے فرینڈ نیویارک میں رہتا تھا اور وہ ان سے ملنے کے لیے نیویارک جانا چاہتی ہیں۔ لیکن ڈیلمونکو کو یقین تھا کہ نیویارک اغوا کار کی آخری منزل نہیں ہو گی۔

انھوں نے کولمین سے کہا کہ تمہیں نیویارک میں اترنے کا موقع نہیں ملے گا۔ ڈیلمونکو نے کہا کہ اگر یہ نیویارک میں اترا تو اسے فوراً گرفتار کر لیا جائے گا۔ ’وہ وہاں نہیں رکے گا۔ اگر وہ نیویارک میں باہر نکلا تو گرفتار ہو جائے گا۔ وہ کہیں اور جائے گا۔ میں نہیں جانتی کہاں لیکن وہ کہیں اور جائے گا۔‘ کولمین نے ہائی جیکنگ کے بعد ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ جانتی تھیں کہ کیا چیز داؤ پر لگی تھی۔ انھوں نے کہا کہ وہ جہاز پر رہ کر مفت سیر کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے جہاز پر رہنا چاہتی تھیں کہ اگر کوئی ایئر ہوسٹس جہاز پر رکنے کے لیے تیار نہیں ہوئی تو اغوا کار کسی مسافر کو رہا نہیں کرے گا۔ٹی ڈبلیو اے کی پرواز 85 ہائی جیکنگ کے بعد امریکہ سے اٹلی لے جانے والے پہلی فلائٹ تھی۔ اغوا کار نے مطالبہ کیا کہ جہاز کے لینڈ ہوتے ہی ڈینور کے ہوائی اڈے کی تمام بتیاں بجھا دی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو وہ مسافروں کو رہا کر دیں گے۔

وہ پُرسکون ہوتے دکھائی دے رہے تھے اور حیران کن طور پر ان کا رویہ لچک دار تھا۔ جہاز سے اترتے وقت جم فریڈلے کو خیال آیا کہ وہ ’ہیلوئن‘ کا لباس تو جہاز پر ہی بھول آئے ہیں اور انھوں نے واپس جا کر اسے لانے کی درخواست کی جسے ہائی جیکر نے بڑے اطمینان سے مان لیا۔

مسافر ایک سرد کہر آلودہ رات کو سورج طلوع ہونے سے دو گھنٹے قبل ایک قطار میں جہاز سے باہر آئے تو سب سے پہلے انھیں لمبے اوور کوٹوں میں ملبوس ایف بی آئی کے ایجنٹ ملے۔

جہاز سے اترنے کے بعد مسافروں کو ایک تاریک راہداری سے گزر کر ایک کمرے میں لے جایا گیا جو ایف بی آئی کے اہلکاروں سے بھرا ہوا تھا جہاں 39 مسافروں کے بیانات لیے جانے لگے۔

ہارپر بیزار بینڈ کو ان کے مینیجر کی ہدایت تھی کہ جب کبھی بھی وہ کسی مشکل میں پھنس جائیں تو وہ پولیس سٹیشن یا ہسپتال پہنچنے سے پہلے انھیں فون کریں اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔ گو کہ یہ آدھی رات سے زیادہ کا وقت تھا لیکن انھوں نے جہاز سے اترتے ہی اپنے منیجر کو فون پر اطلاع دی۔ اس کا انھیں بہت فائدہ ہوا۔ جب وہ ایف بی آئی کو اپنے بیانات دینے کے بعد باہر آئے تو انھیں فوٹو گرافروں نے گھیر لیا۔ ایئرپورٹ پر موجود اخباری رپورٹروں نے ان سے چیخ چیخ کر سوالات کرنا شروع کر دیئے۔ انھیں اس سے پہلے کبھی ذرائع ابلاغ نے اتنی توجہ نہیں دی تھی۔ فوٹو گرافر تھکے مارے مسافروں کی تصاویر بھی اتار رہے تھے۔ تین فضائی میزبانوں نے بھی اپنے بیانات قلمبند کرائے اور شارلین ڈیلمونکو کا بیان ہاتھ سے تحریر کردہ 13 صفحات کا تھا۔

ڈیلمونکو جس دن گھر پہنچیں اسی دن شام کو انھیں ایف بی آئی نے فون کیا۔ وہ ان سے ملنا چاہتے تھے۔ ایف بی آئی کے اہلکار جب ان سے ملنے گھر پہنچے تو انھوں نے ڈیلمونکو کو ایک تصویر دکھائی اور پوچھا کیا یہ وہی ہائی جیکر ہے۔ انھوں نے کہا بالکل یہ وہی ہائی جیکر ہے۔ یہ وہ چہرہ تھا جس کو 40 سال بعد بھی ان کے سامنے آنا تھا۔ڈینور سے تین گھنٹے طویل پرواز بہت آرام سے گزر گئی۔ مینیکیلو بندوق ایک طرف رکھے فرسٹ کلاس میں پیر پھیلا کر آرام کرتے رہے۔ وہ کینیڈین وسکی اور جن پیتے رہے۔ جہاز پر اب صرف پانچ لوگ بچے تھے جن میں کپتان کک، فرسٹ آفیسر وینزل ولیم اور فلائٹ انجینئرلائڈ ہولراہ اور فلائٹ اٹینڈنٹ کولمین شامل تھے۔جہاز جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر اترا اور اسے جہاز کی عمارت سے دور ایک کونے میں کھڑا کر دیا گیا۔ ہائی جیکر نے ایک مرتبہ پھر اپنا مطالبہ دہرایا کہ کم سے کم افراد جہاز کے قریب آئیں۔ ایف بی آئی کے اہلکار جہاز کو یہیں روکنا چاہتے تھے اور ایک اندرونی پرواز کو کسی دوسرے براعظم پر اغوا کر کے لیے جانے کی خطرناک روایت قائم ہونا نہیں دینا چاہتے تھے۔ ہوائی اڈے پر ایف بی آئی کے سو اہلکار موجود تھے کچھ ائیرپورٹ کے عملے کے لباس میں تھے تاکہ موقع ملنے پر وہ جہاز میں داخل ہو سکیں۔ جہاز کے لینڈ ہونے کے چند منٹ بعد ہی جب اس میں ایندھن بھرنا شروع کیا گیا تو ایف بی آئی کے اہلکار خاموشی سے جہاز کی طرف بڑھنے لگے۔ کک نے ایک ایجنٹ سے بات کی جو چاہتا تھا کہ ہائی جیکر کاک پٹ کی کھڑکی کے قریب آ کر بات کریں۔

ویزل ولیم نے 50 سال بعد بتایا کہ رافیلی جہاز میں آگے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ کھڑکی کے قریب گیا اسے گولی مار دی جائے گی۔ کپتان نے ایف بی آئی کے ایجنٹوں کو خبردار کیا کہ وہ جہاز سے دور رہیں۔ ذرا دیر میں گولی چلنے کی آواز آئی۔ ان واقعات جن کی تفصیل پر اب اتفاق ہے ان کے مطابق مینیکیلو گولی چلانے نہیں چاہتے تھے۔ کاک پٹ کے باہر اس نے سراسیمگی کے عالم میں بندوق کے ٹریگر پر انگلی رکھ دی۔ گولی جہاز کی چھت میں لگی آکسیجن ٹینک سے ٹکرائی لیکن یہ جہاز کے ایندھن کی ٹینکی میں نہیں لگی۔ اگر یہ آکسیجن ٹینک میں گھس جاتی تو ٹینک زور دار دھماکے سے اڑ سکتا تھا۔ اس صورت میں نہ جہاز باقی رہتا نہ اس کا عملہ اور نہ ہی ہائی جیکر۔ گو کہ گولی حادثاتی طور پر چل گئی تھی لیکن پھر بھی جہاز کا عملہ خوف زدہ ہو گیا۔

کپتان کک جو سمجھے کہ گولی دانستہ طور پر چلائی گئی ہے انھوں نے چیخ کر ایف بی آئی کے اہلکاروں سے کہا کہ جہاز سے دور ہٹ جائیں اور جہاز فوری طور پر اڑ رہا ہے۔ ٹی ڈبلیو اے کے دو کپتان بل ولیم اور رچرڈ ہیسٹنگ جن کا ہوا بازی کا 24 سال کا تجربہ تھا اور جنھیں بین الاقوامی پروازوں کی اجازت حاصل تھی وہ ایف بی آئی کے اہلکاروں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے جہاز میں گھس آئے۔ جہاز کے کپتان کک نے بعد میں نیو یارک ٹائمز سے انٹرویو میں کہا کہ ایف بی آئی کا منصوبہ تو ہمیں مروانے کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’وہ چھ گھنٹے اس لڑکے کے ساتھ رہنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ ایک مستقل مزاج اور ہوشیار نوجوان ہے اور ان احمقوں نے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اس سے نمٹنے کے بارے میں اپنا ذہن بنا لیا اور جو معلومات اور اعتماد ہم نے چھ گھنٹے میں حاصل کیا تھا اس کی بالکل پرواہ نہیں کی۔‘ (جاری ہے)

دو نئے آنے والے پائلٹس نے جہاز کو سنبھال لیا۔ مینیکیلو نے ہر ایک کو سر پر ہاتھ رکھ کر کھڑے رہنے کا کہا۔ جہاز بغیر اتنا ایندھن بھرے کے اسے روم لے جایا جا سکے پرواز کر گیا۔ جہاز کے پرواز کرنے کے بعد 20 منٹ بعد ماحول میں کشیدگی کم ہوئی اور کک اغوا کار کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ کینیڈی ایئرپورٹ پر جو کچھ ہوا اس کے وہ ذمہ دار نہیں تھے۔

کینیڈی ایئرپورٹ پر پیش آنے والی صورتحال کی وجہ سے جہاز میں ایندھن نہیں بھروایا جا سکا۔ لہذا جہاز کے پرواز کرنے کے ایک گھنٹے بعد یہ امریکہ کے شمالی مشرقی کونے میں بنگور مین میں اترا جہاں اس پر ضرورت کے مطابق ایندھن بھروایا گیا تاکہ یہ بحر اوقیانوس عبور کر کے یورپ پہنچ سکے۔ اس وقت سہ پہر ہو چکی تھی اور ہائی جیکنگ کی واردات کی خبر تمام ذرائع ابلاغ پر آ چکی تھی۔ بنگور کا ہوائی اڈہ اخباری نمائندوں اور فوٹوگرافروں سے بھرا ہوا تھا۔

75 کے قریب پولیس اہلکار اس کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ فوٹوگرافوں اور رپورٹروں کو جہاز سے محفوظ فاصلے پر رکھا جائے کہیں یہ نہ ہو کہ ہائی جیکر خوفزدہ ہو کر کوئی حرکت کر دے۔

ہزاروں کی تعداد میں عام شہری بھی اس ہوائی جہاز کو دیکھنے کے لیے ایئرپورٹ کی طرف چل پڑے لیکن پولیس نے انھیں ایئرپورٹ سے نصف میل دور روک لیا۔ جہاز سے ہائی جیکر نے دیکھ لیا کہ دو افراد ایک قریبی عمارت سے جھانک رہے ہیں۔ کک نے ریڈیو پر کنٹرول ٹاور سے ان افراد کو فوراً ہٹانے کا کہا۔ انھوں نے کہا کہ ہائی جیکر کہہ رہا ہے کہ اگر ان افراد کو نہیں ہٹایا گیا تو وہ عمارت پر فائرنگ شروع کر دے گا۔ یہ دونوں افراد فوری طور پر غائب ہو گئے۔

جہاز نے جب بین الاقوامی فضائی حدود کی طرف بڑھنا شروع کیا تو جہاز پر موجود لوگوں میں اعتماد بڑھنے لگا۔ عملے کے افراد ہائی جیکر کو مطمئن رکھنے کی کوشش میں تھے لیکن اندر سے وہ اپنی زندگیوں کے بارے میں خوف کا شکار تھے۔

دو نئے کپتانوں کے آنے سے کپتان کو کو موقع مل گیا کہ وہ اغوا کار کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کر سکیں۔ کک نے انھیں امریکہ فضائیہ میں ائیر ٹریفک کنٹرول کی حیثیت سے گزارے ہوئے اپنے دنوں کو یاد کیا۔ اس دوران ہائی جیکر کی بندوق ان کے درمیان پڑی رہی لیکن کسی بھی موقع پر جہاز کے عملے نے اس کو اٹھانے کو کی کوشش نہیں کی کہ کہیں کوئی گڑبڑ نہ ہو جائے۔

مینیکیلو کپتان کک سے بار بار یہ پوچھتے رہے کہ کیا وہ شادی شدہ ہیں۔ انھوں بعد میں نیویارک ٹائمز کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ کنوارے تھے لیکن اس کے باوجود انھوں نے ہائی جیکر سے کہا کہ وہ شادی شدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شادی شدہ شخص کو کوئی بھی مارتے ہوئے سوچے گا جبکہ اس کے مقابلے میں کنوارے آدمی کو ہلاک کرتے ہوئے اسے زیادہ افسوس نہیں ہو گا۔ ہائی جیکر نے کپتان کک سے یہ سوال کیا کہ ان کے کتنے بچے ہیں جس پر کپتان نے کہا ایک۔ اس کے بعد انھوں نے عملے کے دیگر ارکان کے بارے میں بھی اسی نوعیت کے سوالات پوچھے جس پر کک نے کہا وہ سب کے سب شادی شدہ ہیں۔ حقیقت میں ان میں سے صرف ایک شخص ہی شادی شدہ تھا۔ ٹریسی کولمین کو بھی مینیکیلو سے بات چیت کا موقع ملا۔ ٹریسی کے لیے امریکہ سے باہر کسی فلائٹ پر جانے کا یہ پہلا موقع تھا۔

اس دوران مینیکیلو نے کولمین کو تاش کے کئی کھیل سکھائے۔ کولمین نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اغوا کار اپنی فیملی کے امریکہ آنے کے بارے میں بات کرتا رہا اور اس نے اپنی اس خواہش کا ذکر بھی کیا کہ وہ واپس اٹلی لوٹنا چاہتا ہے۔ بینگو سے شینن تک چار گھنٹے کی پرواز کے دوران انھیں بہت کم سونے کا موقع ملا جہاں اس پر دوبارہ ایندھن بھروایا گیا۔ دیگر افراد بھی زیادہ نہیں سو سکے۔ آئرلینڈ میں آدھا گھنٹہ ٹھہرنے کے بعد وہ روم کے لیے روانہ ہو گئے۔ روم پہنچنے کے بعد مینیکیلو نے یہ مطالبہ کر دیا کہ جہاز کو ایئرپورٹ کی عمارت سے دور کھڑا کیا جائے اور وہ غیر مسلح پولیس اہلکار سے بات کریں گے۔ کیلیفورنیا کی فضاؤں سے جہاز کو اغوا کرنے کے اٹھارہ گھنٹے بعد ہائی جیکر روم میں موجود تھا۔ اس وقت نیویارک ٹائمز نے اسے تاریخ کی سب سے طویل اور سنسنی خیر ہائی جیکنگ قرار دیا۔ ولیم نے بعد میں بتایا کہ ہائی جیکر نے یہ پیش کش بھی کی کہ وہ روم میں لینڈ کرنے کے بعد عملے کو کسی ہوٹل لے جائیں لیکن ان کی اس پیش کش کو منظور نہیں کیا گیا۔ مینیکیلو کو ڈر تھا کہ عملے کو شاید اس لیے سزا دی جائے کہ انھوں نے ہائی جیکر کی بندوق نہیں چھینی جب کہ انھیں اس کا موقع بھی ملا۔ ہائی جیکر نے کک سے کہا اس نے ان سب کو بہت پریشان کیا ہے۔ کپتان نے جواب میں کہا کہ کوئی بات وہ ان سب باتوں کو پیشہ وارانہ انداز میں لیتے ہیں۔

ایئر پورٹ پر صبح پانچ بجے ایک ایلفا رومیو گاڑی جہاز کی طرف بڑھی۔ اس گاڑی سے پیٹرو گْلی جو ڈپٹی کسٹم آفیشل تھے نکلے اور انھوں نے ہائی جیکر سے بات کرنے کے رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ وہ ہاتھ بلند کر کے جہاز کی سیڑھیاں چھڑنا شروع ہوئے۔

مینیکیلو ان سے بات کرنے کے لیے نکلے۔ دونوں سیڑھیوں سے نیچے اتر کر گاڑی کی طرف بڑھنے لگے۔ مینیکیلو کے ہاتھوں میں ابھی بھی بندوق تھی اور جہاز پر موجود عملے نے سکھ کا سانس لیا۔ وہ کئی گھنٹوں کے بعد ایک مرتبہ پھر آزاد تھے لیکن وہ امید کر رہے تھے کہ ہائی جیکنگ کا اگلا مرحلہ بھی خیر خیریت سے گزر جائے گا۔ مینیکیلو اور ان کے ساتھ اہلکار محفوظ رہیں گے۔ لاس اینجلس، ڈینور، نیویارک، بنگور شینن اور روم کے بعد ہائی جیکر نے اپنے نئے مغوی سے کہا کہ انھیں نیپلز لے جایا جائے۔ مینیکیلو نے پیترو سے کہا کہ وہ گھر جانا چاہتے ہیں۔

پولیس کی چار گاڑیاں ایلفا رومیو کا پیچھا کرنے لگیں۔ مینیکیلو پچھلی نشست پر بیٹھ کر اپنے مغوی کو راستہ بتانا لگے کہ کہاں جانا ہے۔

روم سے چھ میل دور ایک دیہی علاقے میں پیچھے آنے والی پولیس کی گاڑیوں کو جھانسہ دے کر ایلفا رومیو تنگ سڑکوں سے گزر کر ایک بند گلی میں رک گئی۔ دونوں افراد گاڑی سے اتر گئے۔ ہائی جیکر اپنے آپ کو بند گلی میں پا کر گھبراہٹ میں بھاگ کھڑے ہوئے۔

لاس اینجلس سے روانہ ہونے کے 23 گھنٹے بعد مینیکیلو کا سفر اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ روم کے مضافات میں پہاڑوں میں جاسوس کتوں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی پولیس کی تلاش کے بعد ہائی جیکر ایک پادری کے پاس پائے گئے۔

ہفتہ یکم نومبر ’آل سینٹ ڈے‘ پر ’سینچوری آف ڈوائن لو‘ کا چرچ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ خوش لباس لوگوں کے اس اجتماع میں ایک نوجوان نکر اور بنیان پہنے الگ ہی نظر آ رہا تھا۔ مینیکیلو نے اپنی فوجی وردی اور بندوق پھینک کر چرچ میں پناہ لے لی تھی۔ ان کا چہرہ اب جانا پہچانا چہرہ تھا اور چرچ کے وائس ریکٹر ڈون پاسکیول سیلا نے انھیں پہچان لیا۔ چرچ کے باہر جب مینیکیلو کو پولیس نے گھیر لیا تو انھوں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے لوگو آپ مجھے کیوں گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔ روم کے ایک پولیس سٹیشن میں چند گھنٹے تفتیش کے بعد انھوں نے اسی لہجے میں نامہ نگاروں سے بات کی۔ ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں نہیں تھیں۔ ایک رپورٹر نے ان سے پوچھا کہ آپ نے طیارہ کیوں اغوا کیا۔ انھوں نے جواب میں سوال دہراتے ہوئے کہ ’میں نے یہ کیوں کیا۔‘ ایک اور رپورٹر نے ان سے جب جہاز کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ کونسا جہاز۔ انھوں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کس جہاز کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن ایک اور انٹرویو میں انھوں نے جہاز اغوا کرنے کی وجہ بتائی۔ مینیکیلو کی گرفتاری کی خبر جب دنیا میں پھیلی تو اس وقت اوٹس ٹرنر کیلیفورنیا کی فوجی بیرکوں میں ناشتہ کر رہے تھے۔ اس فوجی میس کے ایک کونے میں رکھے ٹی وی پر ہائی جیکنگ اور روم میں ہائی جیکر کی پولیس کارروائی کی خبر تفصیل سے چل رہی تھی۔

"مینیکیلو نے گرفتاری کے بعد کہا کہ کونسا جہاز آپ کسی جہاز کی بات کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ٹی وی پر رافیلی کی تصویر آنا شروع ہوئی۔ ٹرنر نے بعد میں بتایا کہ وہ یہ خبر سن کر ہکا بکا رہ گئے۔

وہ ویتنام جنگ میں ایک ہی پلٹن میں تھے اور قریبی دوست بن گئے تھے۔ ٹرنر نے کہا کہ وہ خبر سن کر حیران رہ گئے لیکن بعد میں جب انہوں نے اس بارے میں غور کیا تو انھیں سمجھ میں آیا کہ مینیکیلو کے کچھ مسائل تھے۔

جب ہائی جیکنگ ہوئی ویتنام جنگ کو چار سال گزر چکے تھے لیکن سکوت سائگون میں پانچ سال باقی تھے۔ امریکہ کو ویتنام میں اپنے 58 ہزار فوجیوں اور غیر فوجی افراد کی ہلاکت اور مکمل ناکامی کے بعد نکلنا پڑتا تھا۔

1969ء میں امریکہ میں جنگ کی مخالفت بھرپور انداز میں جاری تھی۔ ہائی جیکنگ سے دو برس قبل امریکہ بھر میں جنگ کے خلاف بڑے بڑے تاریخی مظاہرہ ہوئے جن میں دسیوں لاکھ افراد نے شرکت کی۔ امریکی فوج میں نوجوان کی بھرتی کے لیے لاٹری کے ذریعے نام نکالنے کی سکیم شروع ہونے میں ابھی ایک مہینہ باقی تھا اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان کیمونسٹوں کے خلاف جنگ کو جائز تصور کرتے ہوئے فوج میں شامل ہو رہے تھے۔ رافیلی مینیکیلو بھی فوج میں رضا کارانہ طور پر شامل ہوئے۔ مئی 1967 میں 17سالہ نوجوان سی ایٹل میں اپنے گھر سے نکلے جہاں اٹلی میں 1962ء میں آنے والے زلزلے کے بعد ان کا گھرانہ آ کر آباد ہو گیا تھا۔ وہ سان ڈی آگو میں جا کر میرین کور میں بھرتی ہو گئے اور جو لوگ انھیں جانتے تھے وہ ان کے اس فیصلے سے حیران نہیں ہوئے۔ مینیکیلو مشکل سے انگریزی بول سکتے تھے اور ان کے سکول کے ساتھی ان کے لہجے کا مذاق اڑاتے تھے۔ انھوں نے سکول چھوڑ دیا اور اس ہی وجہ سے کمرشل پائلٹ بننے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ وہ اپنے اختیار کردہ ملک پر فخر کرتے تھے اور اس کے لیے جنگ میں جانے کو بھی تیار تھے۔ انھیں امید تھی کہ انھیں امریکہ کی مکمل شہریت حاصل ہو جائے گی۔

اوٹس ٹرنر اور مینیکیلو تقریباً ایک ساتھ ویتنام پہنچے تھے۔ وہ میرین کور کی مختلف پلٹونوں میں تعینات رہے۔ کیمونسٹ فورسز کے خلاف جنگ کے دوران انھیں گھنے جنگلوں میں اگلے محاذ پر بھیج دیا گیا۔

ٹرنر جو اب آئیوا میں مقیم ہیں انہوں نے بتایا کہ انھیں 49 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور مون سون کی بارشوں میں انتہائی دشوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

2019ء میں ٹرنر نے گزری ہوئی زندگی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انھیں شرمندگی ہوتی ہے کہ انھیں کیا احکامات دیئے جاتے تھے۔ ان کا مشن واضح طور پر بہت بے رحمانہ اور سفاکانہ تھا۔ انھیں گاؤں اور قصبوں میں داخل ہو کر دشمنوں کو ہلاک کرنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ جس دن سے وہ میرین کور میں شامل ہوئے تھے ان کا کام صرف مارنا، مارنا اور مارنا تھا۔ وہ صرف فوجیوں سے یہ ہی چاہتے تھے اور انھوں نے ابتدا سے ہی ہمیں اس سفاکی کے لیے تیار کیا تھا۔

اگلے محاذوں پر تعینات میکیلینو اکثر حملہ کرتے وقت پیش پیش ہوتے تھے۔ اس دوران انھیں اپنے ساتھیوں کی جان بچانے کا بھی موقع ملا۔ انھیں بہادری کا فوجی اعزاز بھی ملا۔ یہ لوگ صرف ایک چیز جانتے تھے کہ وہ میرین ہیں اور ان کا کام صرف لڑنا ہے۔ ان کے لیے عام زندگی گزرانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ہے۔ ٹرنر نے بتایا کہ کوئی ایسی جگہ نہیں ملتی جہاں آپ کچھ سکون حاصل کر سکیں اور اپنے ذہن اور جسم کو ہم آہنگ کر سکیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ کوئی وقفہ یا وقت نہیں دیا جاتا کہ اس سب کو ذہن سے نکال دینے کا موقع ملے اور یہ سوچنے کی مہلت مل جائے کہ جو کچھ آپ نے کیا وہ ایک پیشہ وارانہ ذمہ داری تھی۔ ’جب ہم ویتنام سے نکلے تو بہت سے لوگ بیمار تھے، ذہنی انتشار کا شکار تھے، رافیلی کی ذہنی حالت بھی درست نہیں تھی۔‘

ویتنام جنگ میں رافیلی نے بڑی بے جگری سے حصہ لیا

ٹرنر نے بتایا کہ مینیکیلو اور ان کی پلٹن کے بہت سے فوجیوں کا معائنہ کیا گیا اور انھیں اذیت ناک صورت حال سے گزرنے کے بعد شدید نفسیاتی اور دماغی دباؤ کا شکار قرار دیا گیا۔

سابق فوجیوں کے امریکی ادارے کے اندازے کے مطابق ویتنام میں تعینات رہنے والے فوجیوں میں سے تقریباً 30 فیصد یعنی آٹھ لاکھ سے زیادہ اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر نفسیاتی اور ذہنی پیچیدگیوں کا شکار ہوئے۔ 2008ء میں مینیکیلو کے بھی اس ذہنی دباؤ کا شکار ہونے کی تشخیص ہوئی۔

اٹلی کے شہر نیپلز میں اخبار نویسوں نے جب مینیکیلو کے والد کو ڈھونڈ نکالا، اس وقت وہ امریکہ سے واپس آ کر مستقل طور پر یہاں مقیم ہو گئے تھے اور سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔ وہ فوراً سمجھ گئے کے ان کے بیٹے نے طیارہ ہائی جیک کرنے کی حرکت کیوں کی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی تباہ کاری اور صدمے نے اس کے ذہن پر اثر ہوا ہو گا۔

لیوگی مینیکیلو نے کہا ہے کہ اس سے پہلے وہ بالکل ذہنی طور پر متوازن شخص تھا۔ انھوں نے کہا کہ اگلی مرتبہ جب وہ اس سے ملیں گے تو اس کے کان کے نیچے ایک لگائیں گے۔ ہائی جیکنگ کی ایک اور وجہ جلد سامنے آ گئی۔ ویتنام میں تعیناتی کے دوران مینیکیلو پیسے جمع کر رہے تھے۔

انہوں نے ویتنام میں آٹھ سو ڈالر جمع کیے اور امریکہ اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیئے۔ لیکن جب وہ کیلیفورنیا میں کیمپ پینڈلٹن پہنچے تو انھیں معلوم ہوا کہ ان کے اکاؤنٹ میں صرف چھ سو ڈالر ہیں۔ یہ رقم بستر مرگ پر پڑے والد کی عیادت کرنے کے لیے اٹلی تک کے سفر کے لیے کافی نہیں تھی۔ مینیکیلو نے اپنے افسروں سے اس تشویش کا اظہار کیا اور یہ اصرار کیا کہ انھیں دو سو ڈالر فراہم کیے جائیں۔ ان کے افسروں نے ان کی بات پر کان نہیں دھرا اور ان کی شکایت کو رد کر دیا۔ اپنے افسروں کے رویے سے دلبرداشتہ ہو کر انھوں نے بڑے بھونڈے انداز میں خود ہی اس کا حل نکالنے کی کوشش کی۔ ایک رات فوجی اڈے کے اندر ایک سٹور میں انھوں نے نقب لگائی۔ بدقسمتی سے انھوں نے بیئر کی آٹھ بوتلیں پی لیں اور نشے کی حالت میں سٹور کے اندر ہی سو گئے۔ اگلی صبح انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ جہاز اغوا کرنے کے ایک دن بعد انھیں چوری کے جرم میں کورٹ مارشل کے لیے ایک فوجی عدالت کے سامنے پیش ہونا تھا۔ جنگ کے دوران ایک چینی ساخت کی بندوق جو ’وار ٹرافی‘ کے طور پر درج تھی اسے اٹھا کر وہ لاس اینجلس چلے گئے۔ تمام منفی باتوں کے باوجود مینیکیلو اٹلی میں ایک ہیرو بن گئے۔ اٹلی میں عوام کی نظروں میں انھیں ایک ایسے خوش شکل نوجوان کے طور پر دیکھا جانے لگا جو وطن واپس لوٹنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ گرفتاری کے بعد ان پر اٹلی میں مقدمہ چلایا گیا جہاں حکام ان کی گرفتاری کے وقت سے انھیں امریکی حکام کے حوالے کرنے کے مخالف تھے۔ اگر انھیں امریکہ جلا وطن کر دیا جاتا تو ان کو موت کی سزا بھی سنائی جا سکتی تھی۔ اٹلی میں مقدمے کے دوران مینیکیلو کے وکیل نے انھیں ایک ایسے معصوم نوجوان کے طور پر پیش کیا جو ایک غیر اخلاقی بیرونی جنگ کا نشانہ بن گئے۔ انھوں نے جرح کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ اس نوجوان کے جرم کا فیصلہ کرتے ہوئے اٹلی کے جج اس بات کو ذہن میں رکھیں گے کہ کس طرح غریب کسان گھرانے کا ایک نوجوان جنگ کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ان پر صرف اٹلی کی فضائی حدود میں ہونے والے جرم کی سزا پر ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔ سزا کے خلاف اپیل میں ان کی قید کی مدت کم کر دی گئی اور وہ یکم مئی 1971ء کو رہا ہو گئے۔

بھورے رنگ کا سوٹ پھنے 21 برس کا نوجوان جب ’کوئن آف ہیون‘ نامی جیل سے رہا ہوا تو اس کا استقبال کرنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں لوگ اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی ایک فوج موجود تھی۔

اتنی بڑی تعداد میں لوگوں اور فوٹو گرافروں کو دیکھ کر یہ نوجوان پریشان سا ہو گیا لیکن وہ رپورٹروں کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دینے کے لیے رکا۔ ’جو کچھ آپ نے کیا کیا اس پر آپ شرمندہ ہیں؟‘ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انھیں کیوں شرمندہ ہونا چاہیے۔ اس کے بعد ان کی زندگی میں کئی منصوبے ناکام ہوئے۔ کئی سال تک یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ جان ریمبو کا کردار بھی مینیکیلو سے متاثر ہو کر لکھا گیا تھا۔ ریمبو کو اعزاز یافتہ فوجی ہونے کے باوجود معاشرے نے قبول نہیں کیا یا وہ عام زندگی گزارنے میں ناکام رہا۔ لیکن جس شخص نے ریمبو کا کردار تخلیق کیا تھا اس نے کبھی اس بات کا اعتراف نہیں کیا کہ انھوں نے مینیکیلو سے متاثرہ ہو کر ریمبو کا کردار تخلیق کیا ہے۔ جیل سے رہائی پانے کے بعد مینیکیلو روم میں ایک شراب خانے میں نوکری کرتے رہے۔ انھوں نے شراب خانے کے مالک کی لڑکی شنزیا سے شادی کر لی جس سے ان کا ایک بیٹا ہوا۔ ایک مرحلے پر انھوں نے ایک پیزا ریسٹورانٹ کھولا جس کا نام انھوں نے ’ہائی جیکنگ‘ رکھا۔

23 نومبر1980

1962ء کے جس زلزلے میں مینیکیلو فیملی کا گاؤں تباہ ہو گیا تھا وہ تو صرف ایک پیش خیمہ تھا۔ اٹھارہ سال بعد جنوبی اٹلی میں چھ اعشاریہ نو شدت کا ایک زلزلہ آیا اور اس کا محور سنہ 1962 کے زلزلے سے صرف 20 میل دور تھا۔ گزشتہ 70 برس میں اٹلی میں آنے والے یہ شدید ترین زلزلہ تھا اور اس نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی۔ اس زلزلے میں ساڑھے چار ہزار لوگ ہلاک ہوئے اور بیس ہزار گھر مسمار ہو گئے۔ زلزلے کے بعد فوری طور پر بہت بڑی تعداد میں لوگ اس خطے میں پہنچ گئے اور متاثرہ افراد کو مدد فراہم کرنا شروع کر دی۔ ان میں رافیلی مینیکیلو بھی پیش پیش تھے۔ اس وقت وہ 31 برس کے تھے اور روم میں مقیم تھے۔ زلزلے کی تباہی کی خبر سن کر وہ رہ نہیں سکے اور تین سو میل کا سفر کر کے لوگوں کی مدد کرنے ارپینیا پہنچ گئے۔ انھوں نے ایک رسالے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ سمجھ سکتے ہیں کہ زلزلے کی تباہی کیا ہوتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ اسی علاقے میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی زندگی میں آنے والے مسائل زلزلے سے ہی شروع ہوئے تھے۔

ان کا سرکاری حکام پر عدم اعتماد جس کو فوج میں نوکری کے دوران مزید تقویت ملی ان کے ساتھ ساری عمر رہا۔ ’مجھے سرکاری اداروں پر کوئی اعتماد نہیں اس لیے میں نے ذاتی طور پر لوگوں کی مدد کرنے کی ٹھانی۔‘ زلزلے کے بعد مینیکیلو ایک بدلہ ہوا انسان نظر آیا۔ ’

٭٭٭


ای پیپر