الخدمت فائونڈیشن ,یتیم بچوں کی کفالت کرنے والا بڑا ادارہ
20 May 2020 (01:16) 2020-05-20

مجدی رشید:

والدین کا سایہ دھوپ میں چھاؤں، بارش میں چھت، صحرا میں پانی اور زندگی میں رحمت خداوندی کے مترادف ہے۔ اس سائے سے محروم افراد کیلئے دھوپ گرمی حشر کا سامان، بارش مصائب کی وجہ، صحرا موت کا پیغام اور زندگی عذاب کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ معاشرہ انہیں نظر انداز کرتا ہے تو زمانہ انہیں طوفان میں اڑتے تنکوں کی مانند وقت کی دھول کے ساتھ اڑاتا چلا جاتا ہے۔ انہیں چھوٹی سے کوشش طوفان میں ڈوبنے سے بچا لیتی ہے، وقت کی بے رحم موجوں میں انہیں ایک تنکا بھی جینے کا حوصلہ دے دیتا ہے۔اسلام نے ان بے آسراوں کی کفالت پر رحمتوں کی بشارت سنائی ہے، نبی مہربان ﷺ کی رفاقت کا انعام دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق پاکستان میں یتامی کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ نا گہانی آفات،روزمرہ حادثات، صحت عامہ کی ناقص صورتحال اور معیار زندگی بہتر نہ ہونے کے باعث گزشتہ عرصے میں یتامیٰ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اوران میں بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جنہیں تعلیم وتربیت ،صحت اور خوراک کی مناسب سہولیا ت میسر نہیں۔بد قسمتی سے روز بروز بگڑتی معاشی صورتحال ،کم آمدنی اور سماجی رویوں کے باعث بھی یتامیٰ کے خاندان کے لئے اُس کا بوجھ اُٹھانا مشکل ہو جاتا ہے ۔یہ بچے تعلیم و تربیت اور مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث معاشرتی اور سماجی محرومیوںکا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ کئی تو بے را روی تک کا شکار ہو جاتے ہیں ۔توجہ اور بنیادی سہولیات نہ ملنے کے باعث یہ یتیم بچے معاشرے کے بے رحم تھپیڑوں کی نظر ہو جاتے ہیں۔ جہاں ان کی تعلیم و تربیت اور مستقبل ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

الخدمت فائونڈیشن اِسی نازک صورتحال کے پیش ِنظر یتیم بچوں کی کفالت کے حوالے سے ’’ الخدمت کفالت یتامیٰ پروگرام‘‘کے تحت کام کر رہی ہے ۔جس کا مقصد یتیم بچوں کا سہارا بن کر انہیںتعلیم و تربیت اور دیگر بنیادی ضروریات کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہیں تاکہ وہ با اعتماد اور صحت مند شہری کے طور پرملک و ملت کی ترقی میں اہم حصہ لے سکیں۔ الخدمت آرفن کفالت یتامیٰ پروگرام کے دو حصے ہیں جن میںگھروں میں یتیم بچوں کی کفالت کے منصوبے کے ساتھ ساتھ آغوش الخدمت ہومز کی تعمیرشامل ہے۔

1۔ آرفن فیملی سپورٹ پروگرام(گھروں میں یتیم بچوں کی کفالت)

2۔ آغوش الخدمت

آرفن فیملی سپورٹ پروگرام(گھروں میں یتیم بچوں کی کفالت کا اہتمام )

چونکہ پاکستان میں یتیم بچوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور اتنی بڑی تعداد میںیتیم بچوں کی کفالت کااہتمام صرف یتیم خانے (Orphan Age)بنانے سے پورا نہیں ہو سکتا۔اِسی ضرورت کے پیش ِنظرالخدمت فائونڈیشن نے ’’ آرفن فیملی سپورٹ پروگرام‘‘ کے نام سے یتیم بچوں کی کفالت کا ایک مربوط پروگرام پیش کیا ہے جس کے تحت ایسے یتیم بچوں اور بچیوں کی کفالت کا اہتمام اُن کے گھروں میں کیا جارہا ہے ،جو اپنے خاندان کے کفیل کے نہ ہونے کے باعث بنیادی ضروریات ِ زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں۔وہ بچے جو اپنی والدہ، نانا ، چچا یا کسی بھی عزیز رشتہ دار کے گھر رہ رہے ہوں، اگر ان کی عمر 5 سے 15 برس ہے اور وہ سکول جاتے ہیں تو وہ آ رفن فیملی سپورٹ پروگرام کا حصہ بن سکتے ہیں۔الحمد اللہ اِس وقت الخدمت فائونڈیشن ـ’’آرفن فیملی سپورٹ پروگرام‘‘ کے تحت تمام صوبہ جات بشمول آزاد کشمیر ، گلگت و بلتستا ن اور فاٹا میں12,934یتیم بچوں کی کفالت کر رہی ہے۔ اِن یتیم بچوں کو ملک بھر میں57 کلسٹر(Clusters) میں سے چُنا گیا ہے۔بچوں کی مکمل دیکھ بھال کے لئے الخدمت نے کلسٹر کا ایک مربوط نظام وضع کیا ہے۔جس میں 100سے 250 بچوں کو ایک کلسٹر میں شامل کیا ہے ۔ہر کلسٹر (Clusters) میں 1 انچارج مقرر کیا گیا ہے جسے ایف ۔ایس ۔او(فیملی سپورٹ آرگنائزر) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ فیملی سپورٹ آرگنائزر بچوں، ان کے خاندان اور تعلیمی ادارے کے سربراہ سے مسلسل رابطہ رکھتے ہیں۔ فیملی سپورٹ آرگنائزرز اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ بچے سکول جاتے ہوں۔ بچوں کو گھروں اور سکولوں میں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اورا لخدمت کی جانب سے جاری کیے گئے وظائف ان بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہی استعمال ہوں۔

چائلڈ اینڈ مدرکیریکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام

الخدمت فائونڈیشن نے اِن یتیم بچوں کا سہارا بننے کے لئے خود کو صرف تعلیم،خوراک، صحت اور دیگر ضروریات تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ ایک مشکل لیکن اہم کام اِن یتیم بچوں کی کردار سازی کا بیڑا بھی اٹھایا ہے۔اس مقصد کے لئے ملک بھر میں مثالی مطالعاتی مراکز ( ماڈل سٹڈی سینٹرز)قائم کئے جارہے ہیں ۔اس وقت ملک بھر میں 140ماڈل سٹڈی سنٹرز کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے۔بچوں کی کردار سازی کے اِس مربوط نظام کو4 نکات کی مدد سے واضح کیا گیا ہے جس میں تعلیمی سرگرمیاں ، جسمانی سرگرمیاں ، اخلاقی سرگرمیاں اور معاشرتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ چھوٹے بچوں کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے اُن کے لئے تصویری کتب بنائی گئی ہیں جبکہ بڑے بچوں کے لئے عملی سرگرمیوں پر مشتمل نصاب تشکیل دیا گیا ہے۔ ایک صحت مند اور باشعور ماں ہی ایک مہذب معاشرے کی ضامن ہوا کرتی ہے لہذاان سنٹرز میں بچوں کے ساتھ ساتھ ان کی ماں کی تربیت کے لئے ’’با ہمت ماں‘‘کے نام سے سالانہ منصوبہ عمل اورنصاب تشکیل دیا گیا ہے۔ اِس ضمن میں ماؤں کے لیے تربیتی ورکشاپس کے ساتھ ساتھ اُنہیں اُن کے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے الخدمت مواخات پروگرام کے تحت بلا سود 35ہزار روپے تک کا قرض بھی فراہم کیا جا رہا ہے جس میں وہ کوکنگ، سلائی کڑھائی، کریانہ شاپ، بیوٹی پارلر اور اسٹیشنری شاپ جیسے کاروبار شروع کر رہی ہیں۔ اِسی طرح اِن یتیم بچوں کے ٹرینرکے لئے بھی نصاب تشکیل دیا گیا ہے ۔ الخدمت فائونڈیشن ، فیملی سپورٹ آرگنائزر کے لیے بھی مختلف ٹریننگ ورکشاپس کا انعقاد کر رہی ہے ۔جس میں بچوں سے ہمدردی، دوستانہ ماحول اور ذمہ داری کا احساس اجاگر کیا جاتا ہے تاکہ وہ اس اہم ذمہ داری کو احسن طریقے سے سر انجام دے سکیں۔بچوں کوایسی اخلاقی اقدار و عادات جن میں صداقت، ایمانداری،نظم و ضبط، قوانین کی پاسداری ، حقوق العباد،بحیثیت ذمہ دار شہری فرائض وغیرہ جیسی صفات سے لے کر بچوں کی کیریئر کونسلنگ کے ذریعے بچے کی ذہنی قابلیت ، دلچسپی اورمشاغل کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب شعبے کا انتخاب بھی چائلڈ ڈویلپمنٹ پروگرام کا حصہ ہے تاکہ وہ اس میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر معاشرے کا ایک کارآمد رکن بن سکے۔بچوں میں سکول بیگ اور سٹیشنری کی تقسیم کے حوالے سے مختلف تقاریب کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ تعلیمی اور دیگر بنیادی ضروریات کے ساتھ ساتھ بچوں کو سیر و تفریح کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔اِس کے علاوہ لیکچرز، دستاویزی فلمیں اور کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ جس سے بچوں میں احساس محرومی کم کرنے میں مدد مل رہی ہے اور بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہو رہی ہے ۔

آغوش ہومز

الخدمت کفالت یتامیٰ پرو گرام میں جہاں یتیم بچوں کی کفالت ان کے گھروں پر کی جا رہی ہے وہیںیتیم بچوں کے لئے ’’ آغوش الخدمت ‘ ‘ کے نام سے اداروں کے قیام کے منصوبو ں پر بھی کام جا ری ہے۔ الخدمت آغوش سینٹرز کے قیام کا مقصد والدین سے محروم بچوں کی پرورش و تربیت کے لئے قیام و طعام، تعلیم و صحت اور ذہنی و جسمانی نشو نما کے لئے ساز گار ماحول فراہم کرنا ہے۔الحمد اللہ !اس وقت الخدمت آغوش سینٹرز اٹک،راولپنڈی،اسلام آباد(گرلز)، مری،راولاکوٹ، باغ،پشاور، مانسہرہ، شیخوپورہ،لوئر دیر،ڈیرہ اسماعیل خان، گوجرانوالہ اورترکی(غازی انطب میں یتیم شامی بچوں کے لئے) میں قائم آغوش 941 بچے قیام پذیر ہیںجبکہ مری، کراچی،لاہور، کوہاٹ، ہالہ،ہری پور اور شیخوپورہ کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔اِس ماں جیسی آغوش عمارت میں ان بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے تعلیم یا فتہ انتظامی عملہ موجود ہے جو بچوں کے لیے نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے صحت مند ماحول کا اہتمام کرتاہے۔آغوش کے قریب ہی بچوں کے لئے سکول کی سہولت بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ آغوش الخدمت میں ماہانہ طبی معائینہ، کمپیوٹرلیب ، لائبریری،سپورٹس گرائونڈ، ان ڈور گیمز اوربچوں کی نفسیاتی نشو نما کے لیے مختلف لیکچرز اور تعلیمی دوروں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ الخدمت لاہور،کوئٹہ ،گلگت اور کوٹلی سمیت دیگر شہروں میں بھی آغوش الخدمت کے قیام کا عزم رکھتی ہے۔

اسلام ایک مکمّل نظامِ حیات ہے، جس میں یتیموں کی بہتر طریقے سے پرورش اور تربیت پر خاص زوردیا گیا ہے۔اپنی ہی اولاد کی طرح یتیم بچّوں کا خیال رکھنا افضل اور اپنی استطاعت کے مطابق اُن کی تعلیم و تربیت کے اخراجات برداشت کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یتیم کی کفالت اور پرورش کرنا، انہیں تحفّظ دینا اور اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا صدقہ جاریہ ہے،اس کے بر عکس یتیموں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں، اُن کا مال کھانے والوں اور اُن پر ظلم کرنے والوں کے لیے سخت ترین عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

قران پاک میں ارشاد ہے : ’’اللہ تمھیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ سکے گی۔‘‘(النساء ۔۱۲۷)

نبی مہربان ﷺخود بھی ایک یتیم تھے اور اسی لئے جہاں آپﷺ اوروں کے ساتھ صلہ رحمی ، عدل، پاک دامنی، صداقت و درگزر کا پیکر تھے۔ وہاں مسکینوں ، بیوائوں اور خصوصاََ یتیموں کے لیے سب سے بڑھ کر پیکر ِ ضود سخا تھے۔

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا :

’’ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح(قریب) ساتھ ہوں گے۔ ‘‘(اور آپ نے اپنی شہادت اور بیچ والی انگلی سے اشارہ کیا)بخاری شریف

آج کا یتیم کل کا جوان ہوگا اور یہ حقیقت ہے کہ بچپن میں بچہ جن محرومیوں اور احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے اُس کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا اور یہ محرومیاں اُس بچے کے مستقبل پربری طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس لئے ہمارا فرض بنتا ہے کہ یتیم بچہ ،جو ملک و قوم کا وارث بننے جا رہا ہے، اِسے زیادہ سے زیادہ شفقت و محبت سے نوازیں۔ا گر بچپن میں یتیم کو آوارہ چھوڑ دیا گیا اور اس نے غلط تربیت پائی تو یہ اپنے معاشرے کے لئے مفید شہری ثابت ہونے کی بجائے خطرہ بن جائے گا۔اِس ضمن میںاِس نقطے کو نمایاں کرنا بہت ضروری ہے کہ یتامیٰ کی کفالت کسی ایک فرد یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے اور قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ان کو قومی و ملی سرمایہ خیال کرتا ہے یا کوئی محکوم و محتاج سمجھتا ہے۔ الخدمت فائونڈیشن معاشرے میں ایک مثبت رویے کو پروان چڑھا رہی ہے۔ اپنی مدد ا ٓپ کے تحت ۔

٭٭٭


ای پیپر