اپنے رب کی خاطر صبر کیجیے
20 May 2020 (01:13) 2020-05-20

لیاقت بلوچ:

انسانی معاشروں میں حسد،غصہ، انتقام، مایوسی ایسے عناصر ہیں جو لازمی امر ہیں، انسان میں صبر کی صفت اْسے حسد کی آگ اور زیادتی کے مقابلہ میں انتقام اور محرومیوں کے ماحول میں مایوسیوں سے بچاتی ہے۔ قرآن کریم اور اسلامی تعلیمات میں صبر کے معنی و مفہوم، مقام اورمعراج کو جاننے کی کوشش دراصل صبرکو اختیار کرنا اوراس پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ صبر بہت اہم صفت ہے اور یہ بڑے نصیب والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:’’اور اے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نیکی اور بدی یکساں نہیںہیں، تم بدی کو اْس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگراْن لوگوں کو جو صبرکرتے ہیں اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اْن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔( حٰم السجدہ۴۱:۳۴۔۳۵) 

شکایت کا ترک کرنا صبر ہے او رانسانوں کی جانب سے اذیت پہنچنے پر صبر کرلیاجائے تو یہ مِن جملہ ولایت ہے۔ قرآن پاک میں رب کائنات کی طرف سے صبر کے حوالے سے یہ حکم دیاگیاہے۔’’ اور جولوگ ظلم ہونے کا بدلہ لیں اْن کوملامت نہیں کی جاسکتی ، ملامت کے مستحق وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین پر ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگذر کرے تو یہ بڑی اولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے‘‘۔(الشوریٰ۴۲:۴۱۔۴۳)

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو قرآن کریم کے ذریعے وحی کی کہ: ’’پس اے نبی صبر کرو اورصبر بھی ایسا جس میں شکایت کانام نہ ہو۔‘‘  ( المعارج۷۰:۵)

’‘’ پس اے نبی صبر کرو یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے(الروم۳۰:۶۰)

سورۃ لقمان آیت 17میں حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہیں ’’بیٹا نماز قائم کر ، نیکی کاحکم دے، بدی سے منع کر اور جو مصیبت بھی آپڑے اْس پر صبر کر یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکیدکی گئی ہے‘‘۔ حقیقت میں بندہ صبر اپنے رب کی خاطر کرتا ہے۔ سورۃ العصر میں تو انسانی زندگی کا بالکل واضح ، دوٹوک اور عام فہم چارٹر دے دیاگیا ہے۔ ’’زمانے کی قسم انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے سوائے اْن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ،ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے‘‘(العصر۱۰۳:۱تا۳)

رسول اللہ نے اپنے صبر اور حسنِ اخلاق سے ہی تو مکہ کے پتھر دلوں کو موم کردیا، کفار کے ہر ظلم پر صبر اختیار کیا اور انسانوں کی بھلائی کی اللہ سے دعا کرتے رہے ، اْمید کا دامن قائم رکھا کہ انہی ظلم کرنے والوں میں سے ہی اللہ کے دین کے علمبردار اٹھیں گے۔ صبر کے ضمن میں خاتم النبیین ، رحمۃ للعالمین کے اسوہ حسنہ سے رہنمائی ملتی ہے۔’’وہ مسلمان جولوگوں سے ملتا جلتا ہے اور ان سے اذیت پہنچنے پر صبر کرتا ہے اْ س سے اچھا ہے جو نہ لوگوں سے ملتا ہے اور نہ اْن سے اذیت پہنچنے پر صبر کرتا ہے‘‘(صحیح بخاری)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دعوت دین ، تبلیغ دین اسلام کے لیے اپنے اْمتیوں کو رہنمائی دی کہ ’’کسی کے غضب پر صبر کرنا اور ایذا رسانی سے درگزر کے رویہ کو جولوگ اختیار کریں گے تو اللہ انہیں محفوظ رکھے گا اور اْن کے مخالف اْن سے عاجزی کریں گے۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا’’جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اْس کو صبر دے گا اور صبر سے زیادہ بہتر اور بہت سے بھلائیوں کو سمیٹنے والی بخشش اور کوئی نہیں‘‘ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا’’آزمائش جتنی سخت ہوگی اتنا ہی بڑا انعام ملے گا اور اللہ تعالیٰ جب کسی گروہ سے محبت کرتا ہے اور اْن کو مزید نکھارنے اور صاف کرنے کے لیے آزمائشوں میں ڈالتا ہے ، اور وہ لوگ اللہ کے فیصلہ پر راضی رہیں اور صبر کریں تو اللہ اْن سے خوش ہوتا ہے اور جوگ اِس آزمائش میں اللہ سے ناراض ہوں تو اللہ بھی اْن سے ناراض ہوتا ہے۔(بخاری، ترمذی)

اسلام کا نظام اصل میں نظام عبادت ہے، عبادات اسرار ورموزسے آگہی کا ذریعہ ہیں۔جب بھی مومن پرکوئی آفت ، تکلیف اور آزمائش آتی ہے تو عبادات ہی صبر کے لیے زادِ راہ بن جاتی ہیں۔ دنیا وی آزمائشوں ، انسانوں کی تکالیف سے بندہ ٹوٹ پھوٹ کاشکا رہوتا ہے، انسان تو فانی ، ضعیف اور بہت ہی محدود قوتِ برداشت کاحامل ہے، جب اْسے حق کے لیے جدوجہد کرنا ہے تو عظیم ترین قوت اللہ تعالیٰ سے ربط و تعلق قائم کرنے سے ہی صبر کی عظیم نعمت حاصل ہوتی ہے۔ نماز صبر و استقامت کا بہترین ذریعہ ہے‘‘ اے ایمان والو صبر و استقامت اور نماز سے مدد حاصل کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘(البقرۃ:35)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر شدتِ حالات مسلط کردیئے جاتے تو فرماتے’’اے بلالؓ نماز سے ہمیں راحت وآرام پہنچاوئو۔ جب آپ کسی پریشانی میں مبتلا ہوتے تو کثر ت سے نمازیں پڑھتے تاکہ اللہ سے زیادہ ملاقات ہوسکے، استقامت اور صبر کا یہ بہترین ذریعہ ہے۔

انسان کے لیے معاشی،خاندانی ، سماجی حالات ،تنازعات اور مشکلات کا باعث بنتے ہیں، فرقہ پرستی ، تعصبات اور نفسا نفسی کے ماحول میں بندہ زیادہ آزمائش اور بے صبری کا شکا ر ہوتا ہے۔ حضرت دائودد علیہ السلام نے کیا شاندار رہنما اصول دیا کہ ’’جب تمہاری روزی دوسروں کی روزی سے الگ ہے تو پھر یہ بے صبری او رپریشانی کیوں‘‘ صبر بڑا کار آمد پھل اور ترقی کی منازل طے کرنے کا ذریعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’جب کبھی کسی مسلمان کو قلبی تکلیف ، کوئی جسمانی بیماری، کوئی دکھ اور غم پہنچتا ہے اور وہ اْس پر صبر کرتا ہے تو اْس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اْس کی خطاوئوںکو معاف کرتا ہے یہاں تک کہ اگر اْسے ایک کانٹا چبھ جاتا ہے تو وہ بھی اْس کے گناہوں کی معافی کا سبب بنتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان کے ساتھ صبر انسانی زندگی میں نکھار، بشاشت اور وقار اور صحت مندی کا باعث بنتا ہے۔ 

اسلامی تاریخ میں اہل حق پر بے شمار مشکلات اور مصائب کے پہاڑ توڑے گئے لیکن انہوںنے ہمیشہ اِسی اصول کو نشانِ منزل بنایا کہ مصیبت میں صبر کرنامشکل اور سخت ہے لیکن صبر کے ثواب کا ضائع نہ ہونے دینااس سے سخت تراور مشکل ہے۔ ہر چیز کا اچھے عمل سے ثواب کا اندازہ کیاجاسکتا ہے، لیکن صبر کا ثواب بے اندازہ اور لامحدود ہوتا ہے۔ بندہ صبر کرے تو کوئی مصیبت اہم نہیں رہتی لیکن مصیبت میں بے صبری اور چیخ و پکار کرے تو اِس کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ انسان زندگی میں لالچ کرتا ہے یہ مفلسی ہے ، بے غرض ہونا ،امیری اور بدلہ نہ چاہنا، صبر ہے ، بندہ مومن کا تو مقام ہی یہ ہے کہ مصائب و مشکلات کامقابلہ صبر اور حوصلے سے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی حفاظت شکر سے کرے۔ کوئی مشکل درپیش ہوتو صبر کی بجائے بے قراری زیادہ تکلیف کا باعث بنتی ہے۔حرام کاموں سے نفس کو روکنا بھی صبر کی دوسری قسم ہے، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ جلد باز نقصان نہ اٹھائے اورایسا شازو نادر ہی ہوتا ہے کہ صبر کرنے والا کامیاب وکامران نہ ہو، بہادرانسان تو وہ ہے جو ہمیشہ ، پریشانی ، آزمائش میں صبر و تحمل سے کام لے، یہ بھی انسانی زندگی کا وطیرہ بن جاتا ہے کہ محرومی، دوسروں کی طرف سے ملنے والی تکلیف پر شکایتی روش اپناتا ہے لیکن شکایت کارویہ ترک کرنا صبر ہے۔ ایسارزق جس میں فراخی ہو لیکن شکر نہ ہو او رمعاشی تنگی آجائے اور صبر نہ ہوتو ایسی صورت حال فتنہ بن جاتی ہے۔

دنیا تو ہے ہی آفات، مصائب اور مشکلات جھیلنے کے لیے ، صبر اختیار کرنے سے زندگی آسان ہوجاتی ہے، کسی بھی مشکل اور آزمائش میں بلند آواز سے رونا آہ وبکا کرنا، بے صبری او ربے فکری ،موج و ترنگ میں زوردار قہقہے مارنا سفاہت کی دلیل ہے۔ زمانے کی گردش سے دل شکستگی ہوتی ہے۔لیکن ایسی صورتحال میں صبر کا دامن پکڑے رکھنا اگرچہ مشکل عمل ہے یقینا صبر کی لذت کڑوی ہے لیکن اِس کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ صبر ہی سب سے بڑی دعا ہے جس نے بھی صبر کی زرہ پہن لی وہ شتاب کاری کے تیروں سے بچ جاتا ہے۔انسانی معراج تو یہی ہے کہ اپنی موجودہ حالت پر قناعت کرے اور صبر وشکر کی زندگی اختیار کرے، جو مشکل میں برداشت نہیں کرتا وہ اور زیادہ مشکلات سے دوچار ہوجاتا ہے، جس میں برداشت نہیں اْس میں صبر نہیں صبر انسان کو بے شمارپریشانیوں سے بچا لیتا ہے۔ ہر تکلیف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور جو مصائب پر صبر کرے اللہ تعالیٰ اسے بے شمار اجر عطاکرتے ہیں، یہ کبھی نہیں ہوا کہ صبر کا پھل کڑوا ہو۔ روزہ نصف صبر اورصبر نصف ایمان ہے۔ صبر اللہ کی نعمتوں کے حصول کی کنجی ہے۔

ماہِ رمضان کی رحمتیں اور مسرتیں سایہ فگن ہیں، روزہ صبر کی بہترین ریاضت و تربیت ہے۔ بھوک، پیاس،خواہشات کے باوجود اللہ کے حکم پر عمل کی وجہ سے صبر پرہیز گاری کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو سچے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو متقی ہیں‘‘ (البقرۃ۲:۱۷۷)

ایمان لانے والے راست بازی اختیار کرتے ہیں ایمان و اعتقاد میں سچے او رمخلص ہیں جو ہر اعتبار سے سچے اور باعمل ہیں کہ عملی زندگی میں اپنے ایمان و اعتقاد کے تقاضے پورے کرتے ہیں۔

اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس شکار ہے ، مسلم و غیر مسلم ،سارے انسان متاثر ہیں۔ میڈیا اورتشہیری مواد نے خوف کی چادر تانی ہوئی ہے لیکن اہل ایمان کے لیے تو یہ آزمائش ہے اور وہ اِسے صبر وسکون کے ساتھ برداشت کرتے ہیں، ہمت نہ ہاری جائے، اللہ کے ہر کام میں کوئی حکم،حکمت اور مصلحت ہوتی ہے۔دنیا گھمنڈ ، تکبر، غرور میں مبتلا ہوگئی ،کرونا تو ایک جھٹکا ہے ، ویک اپ کال ہے، رجوع الی اللہ، توبہ استغفار، قرآن و سنت سے جڑنا اور اللہ کی راہ میں صبر استقامت کا عزم و عمل اختیار کیاجائے۔احتیاطیں ، سماجی فاصلے اور ضابطے بھی علاج ہیں لیکن عبادات کے ساتھ دکھ درد میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا اور صبر کی تلقین کرنا اس لیے کہ رب کائنات صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

٭٭٭


ای پیپر