کیا تحریک چلنے والی ہے؟
20 May 2019 2019-05-20

پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی رہائش گاہ پر ’’گرینڈ سیاسی افطاری‘‘ نے تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ہے تحریک کا ماحول بنا دیا ہے اگرچہ باقاعدہ ’گرینڈ اپوزیشن الائنس‘ نہیں بنا لیکن عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس افطار پارٹی میں ملک کی دو بڑی جماعتوں کے ساتھ اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے شرکت کی۔ سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر آنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس ڈنر کی وجہ سے اپوزیشن کی جانب سے کسی تحریک کی پہلکاری بلاول بھٹو نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔

جماعت اسلامی کے امیرمولانا سراج الحق کاکہنا ہے کہ وہ عیدالفطر کے بعدمہنگائی، بیروزگاری، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے خلاف احتجاج شروع کرے گی۔جماعت اسلامی کا یہ عندیہ سولو فلائٹ کا لگ رہا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے حامیوں کو متحرک بھی کر دیا ہے اسلام آباد کو بند کرنے کی باتیں شروع کررہے ہیں، پیپلز پارٹی جے یو آئی (ف) کے ساتھ مل کر تحریک شروع کرنے پر آمادہ ہے۔ جبکہ نواز لیگ چاہتی ہے کہ حکومت کو وقت دیا جائے یا پھر وہ خود اپنے ہی بوجھ کے نیچے دب کر گر جائے۔یہ اشارہ نواز شریف کے پیغامات سے بھی لگتا ہے جس کا ذکر مریم نواز کر چکی ہیں۔

پیپلزپارٹی اور نواز لیگ یہ تاثر دینا نہیں چاہتی کہ حکومت کے خلاف تحریک اس وجہ سے چلائی جارہی ہے کہ ان دو جماعتوں کی قیاد ت کے خلاف کرپشن کے الزامات کے تحت نیب کے ذریعے کارروائی ہو رہی ہے۔تاریخ نے ایک بار پھر دو حریف جماعتوں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو ساتھ کھڑا کردیا ہے۔ لیکن دونوں جماعتیں ایک دوسرے سے محتاط ہیں۔ ایک دوسرے پر سیاسی عدم اعتماد کی تاریخ ہے، انتخابات کے بعدکٹھی نہیں ہوئیں۔عمران خان کو راستہ صاف مل گیا۔ ابھی سابق وزیراعظم نواز شریف کی جیل اور سابق صدر آصف زرداری کی ممکنہ گرفتاری انہیںایک صفحے پر لائی ہیں۔

اپوزیشن جمااعتوں کے ایک صفحے پر جانے کو حکومت زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ وزیراعظم عمران خان مذاکرات کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اگرچہ بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال، مہنگائی اور قومی بجٹ کی آسانی سے منظوری اہم معاملات ہیں۔ ایک مثبت علامت نظر آئی تھی جب فاٹا کوکے پی میں شامل کرنیکی لئے26ویں آئینی ترمیم پر اور قومی اسمبلی اور خیبرپختونخواکی اسمبلی میں سیٹیں بڑھانے پر وزیراعظم پہلی بار اپوزیشن کا شکریہ ادا کیا لیکن اس کو بعد میں کوئی عملی شکل نہیں دی گئی۔ حکومت پُراعتماد ہے کہ اپوزیشن گرینڈ الائنس نہیں بنے گا اور اگر بن بھی گیا تو اپوزیشن جماعتوں میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ حکومت

کو مذاکرات یامڈٹرم انتخابات کیلئے مجبور کرسکیں۔ حکومت کو یہ مشورے دیئے جارہے ہیں کہ پی پی پی اور نواز لیگ کی قیادتیں نیب کیسز میں جیل جائیں گی اور حکومت اپوزیشن کے اقدامات پر قابوپا لے گی۔ تجزیہ نگار اس سوچ پر متفق نہیں کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد کچھ بھی نہیں ہوگا۔

صورتحال یہ بن رہی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی تصادم کے راستے پر چل رہے ہیں۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ ابھی 9 ماہ کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلانا کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔ اس سے مجموعی طور پر جمہوری پروجیٹ کو نقصان پہنچے گے گا۔ جمہوری پروجیکٹ کی ناکامی کی صورت میںیہ بھی اندیشہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ تیسرا فریق مداخلت کرے۔

حکومت مخالف تحریک کی شکل کیا ہو؟ علامتی ملین مارچ ٹرین مارچ سے 2014کی طرز کے دھرنے تک بدل گئی ہے، اسمبلیوں کا بائیکاٹ؟ یا کچھ اور مولانا فضل الرحمان کی حکومت مخالف تحریک یعنی قومی اورصوبائی اسمبلیوں سے اجتماعی استعفیٰ دینے کی تجویز ہے ۔ اس سے قبل پی پی پی اور نواز لیگ کی ہچکچاہٹ کے باعث جی ڈی اے نہیں بن سکاتھا۔ کیا بڑی سیاسی جماعتیں اب تیار ہیں؟ بظاہر ایسا مشکل ہی لگتاہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اسمبلیوں سے باہر آنا حکومت کو واک اوور دینے کے برابر ہے۔تجربہ بتاتا ہے کہ عمران خان کے دھرنے کے دوران وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کے پی اسمبلی کو تحلیل کرنے سے انکارکردیاتھا۔پی ٹی آئی نے صرف قومی اسمبلی سے ہی استعفیٰ دیاتھا لیکن بعد میں 2013کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی پرانھوں نے جوڈیشل کمیشن پرمعاہدہ کیاتواستعفے واپس لے لئے تھے۔

پیپلزپارٹی ملین مارچ وغیرہ کے لئے تیار ہے۔ جبکہ نواز لیگ کی قیادت منقسم نظرآتی ہے۔ افطار ڈنر کے موقع پر مریم نواز نے میثاق جمہوریت کو دوبارہ زندہ کرنے پر زور دیا اور کہا کہ یہ سب کچھ اسٹبلشمنٹ کے خلاف نہیں ہورہا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ملک کو موجودہ مالی بحران او رمہنگائی کے خلاف جدوجہد ہوگی۔ مطلب نواز لیگ اس طرح کا موقف نہیں رکھ رہی جس طرح کا پیپلزپارٹی اور جے یو آئی رکھتی ہیں۔

تحریک چلتی ہے یا نہیں؟ مگر حکومت پر دبائو ضرور آنے ولا ہے۔ یہ سوالات اپنی جگہ پر ہیں کہ کیا احتجاجی تحریک چلنے والی ہے؟ کیا صرف دس ماہ بعد حکومت کے خلاف تحریک کے حالات پیدا ہو گئے ہیں؟ کیا پیپلز پارٹی تحریک چلانے کی پوزیشن میں ہے؟ اگر تحریک چلی تو اس کی شکل کیا ہوگی؟ وہ کیا رخ اختیار کرے گی؟اگرچہ بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ سرگرمیوں اور سیاسی بیانیہ کی وجہ سے مزاحمتی قوتوں میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔ تاہم پیپلزپارٹی اکیلے سیاسی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں۔ وہ اس تحریک میں دیگر سیاسی قوتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے گی۔

پیپلزپارٹی نے یہ ٹاسک مولانا فضل الرحمٰن کو دیا ہے کہ وہ نواز لیگ ، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر ہم خیال جماعتوں کو پیپلز پارٹی کی مجوزہ سیاسی تحریک کی حمایت کے لیے راضی کرلیں ۔کامیاب تحریک کے لئے پیپلزپارٹی کو روایتی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی اور پریشر گروپس کی بھی مدد درکار ہوگی۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگردیگر سیاسی قوتیں بھی اس کا ساتھ نہیں دیتی اور پیپلز پارٹی احتجاجی تحریک شروع نہیں کر پاتی ، ایسے میں موجودہ بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی اور مہنگائی ، معاشی حالات خود بھی کوئی رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ یہی حالات کسی بھی سیاسی تحریک کے لیے سازگار ہوتے ہیں۔اگر سیاسی جماعتوں نے سمجھداری سے کام نہیں لیا توسیاسی جماعتوں غیر متعلق ہو کر رہ جائیں گی۔ اس کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں کہ عوام مہنگائی سے پریشا ن ہو کر سڑکوں پر آگئے تو اس کا فائدہ اٹھانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

حکومت مخالف تحریک کی قیادت کون کرے گا؟ نواز شریف جیل میں ہیں، آصف زرداری کسی بھی وقت گرفتار ہو سکتے ہیں۔ بقول ایک تجزیہ نگار کے الٹا عمران خان اپنی حکومت کیخلاف تحریک چلاتے نظر آئیں گے۔سنجیدہ احتجاجی تحریک چلتی ہے تو اس کی قیادت مریم، بلاول اور مولانا فضل الرحمن تینوں کو کرنا پڑے گی۔


ای پیپر