لوک سبھا انتخابات مکمل-مسلمانوں کے ہاتھ کیا لگا!
20 May 2019 2019-05-20

سات مرحلوں پر مشتمل لوک سبھا الیکشن جو گیارہ اپریل کو شروع ہوا تھا وہ کل یعنی انیس مئی کو مکمل ہو گیا ہے۔آخری مرحلہ کی پولنگ میں کل 59سیٹوں پر الیکشن ہوا ۔جس میں پنجاب کی 13،اترپردیش کی 13،مغربی بنگال کی 9،بہار اور مدھیہ پردیش میں 8-8،ہماچل پردیش میں 4، جھارکھنڈ میں 3اورچنڈی گڑھ کی ایک سیٹ پر الیکشن ہوا ہے۔آخری مرحلہ کے الیکشن میں 10.01کروڑ سے زیادہ شہریوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے 918امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کیا ہے۔وہیں مغربی بنگال کی 9سیٹوں پر 1,49,63,064ووٹرس111امیدواروں کی ہار جیت کا فیصلہ لے چکے ہیں۔آخری مرحلہ کی پولنگ میں بہارمیں سب کی نظریں پٹنہ صاحب پر ہیں جہاں سے نریندر مودی کیبنٹ کے اہم ممبر روی شنکر پرساد کا مقابلہ کانگریس پارٹی کے امید وار شتروگھن سنہاسے ہے۔گرچہ شتروگن سہنا خود گزشتہ الیکشن اور اس سے قبل بی جے پی کے ٹکٹ سے جیتتے آئے ہیں لیکن اس مرتبہ حد درجہ اختلاف سامنے آنے کے بعدوہ بی جے پی کے خلاف کھل کے سامنے آنے والوں میں نمایاں رہے ہیں۔شتروگھن سنہا نے سال2009میں 316,549ووٹ حاصل کیے تھے یہ کل ووٹ کا 57.30فیصد تھا۔وہیں 2014میں 485,905ووٹ حاصل کرکے کامیابی درج کروائی تھی۔ان ووٹوں میں بی جے پی کیڈر کا کتنا بڑا رول تھا اور کس قدر سنہا کی اپنی شبیہ اور کاموں کا حصہ تھا ؟اس کا فیصلہ 2019کے الیکشن کے نتائج واضح کر دیں گے۔اس کے باوجود سنہا کو امید ہے کہ ان کی اپنے ترقیاتی کاموں کے نتیجہ میں عوام انہیں ایک بار پھر کامیاب کرائے گی۔

آخری مرحلہ کی پولنگ سے قبل ہندوستانی سیاست میں کئی اہم واقعات رونماہوئے ہیں۔ان میںدیکھا جائے تو سب سے اہم واقعہ الیکشن کمشنر اشوک لواسا کا میٹنگ میں آنے سے انکار، اقلیتی ووٹ ریکارڈ نہ کرنے کا الزام ہے۔یہ پہلا موقع ہے جب الیکشن کمشنر آپس میں بھی الجھ گئے ہیں۔اس سے ادارے کا وقار بری طرح مجروح ہو رہا ہے جس پر پہلے سے ہی برسراقتدار حکومت کے حق میں نرمی برتنے اور جانبدارانہ رویہ اپنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔خبر کے مطابق لواسا نے الیکشن کمیشن کی میٹنگ میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ذرائع سے ملی معلومات کے مطابق لواسا نے یہ فیصلہ اقلیتی ووٹ کے فیصلے کو ریکارڈ نہیں کیے جانے کی مخالفت میں لیا۔لواسا نے کہا، میٹنگ میں جانے کا کوئی مطلب نہیں اس لیے دوسرے اقدامات پر غور کر سکتا ہوں۔واضح رہے کہ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ایم مودی کو متنازع بیانات کے معاملے میں کلین چٹ دیے جانے پر ان کے (لواسا)فیصلے کو ریکارڈ نہیں کیا گیا۔غور طلب ہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ایم مودی کو 6معاملات میں کسی بھی پول کوڈ کی خلاف ورزی کا مجرم نہیں ماناتھا۔الیکشن کمیشن کی تین رکنی کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر سنیل ارورہ اور دو الیکشن کمیشن اشوک لواسا اور سشیل چندرا شامل تھے۔اشوک لواسا نے 4مئی کو لکھے اپنے خط میں دعویٰ کیا تھا،جب سے اقلیتی ووٹ کو ریکارڈ نہیں کیا گیاتب سے لے کر مجھے کمیشن کی میٹنگ سے دور رہنے کے لیے دبائو بنایا گیا۔دوسری جانب وزیر اعظم مودی کو بار بار کلین چٹ دیئے جانے کے معاملے پر الیکشن کمشنر اشوک لواسا کی ناراضگی اور کمیشن کے اجلاسوں میں شریک نہ ہونے سے متعلق میڈیا رپورٹوں کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے ہفتہ کے دن کہا تھاکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے تناظر میں اپنے اندرونی معاملات پر میڈیا میں اٹھنے والا تنازع بدقسمتی کی بات ہے۔دوسری جانب کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تمام آئینی اداروں کے وقار کو تباہ کر نے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے رکن اشوک لواسا کا انکشاف اس بات کا ثبوت ہے کہ کمیشن بھی مودی کے ہاتھوں کٹھ پتلی ہے۔میٹنگ میں مسٹر لواسا کے شامل نہیں ہونے کی وجہ ظاہر ہونے سے اس باوقار ادارہ کا وقار خاک میں مل گیا ہے۔انہوں نے اسے کمیشن کی تاریخ کا سیاہ دن اور جمہوریت کا قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس انکشاف سے واضح ہو گیا ہے کہ الیکشن کمیشن مسٹر مودی کے ہاتھوں کٹھ پتلی ہے۔

اہم واقعات کے تسلسل میںدوسرا واقعہ مغربی بنگال میں بڑھتا فرقہ وارانہ ماحول ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی اور ترنمول کانگریس کا ٹکرائو ہے۔جس کے نتیجہ میں وہاں کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔اس کے باوجود دونوں ہی سیاسی پارٹیوں کو امید ہے کہ ان حالات سے انہیں سیاسی بساط پر کامیابی حاصل ہوگی۔ان حالات میں ترنمول کانگریس سے زیادہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے لیڈاران پر امید نظر آرہے ہیں۔مغربی بنگال میں بھڑکے تشدد کے دو دن بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ نے ایک بار پھر کہا کہ بنگال میں ممتا بنرجی حکومت نے تشدد کو فروغ دیا ہے جبکہ ہم تشہیر کے ذریعہ اپوزیشن پر حملہ کرتے ہیں۔شاہ نے ریاستی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بنگال حکومت نے میرے ہیلی کاپٹر کو اترنے نہیں دیا،جبکہ دیگر ریاستوں میں ایسانہیں ہوا۔دیگر رہنما بھی مسلسل تشہیر کر رہے ہیں،لیکن دیگر ریاستوں میں کسی طرح کے تشدد نہیں ہوئے تو صرف بنگال میں ہی تشدد کیوں ہو رہے ہیں،کیونکہ ممتا کی حکومت وہاں پر ہے۔دوسری جانب ودیا ساگر کے مجسمے کو دوبارہ نصب کیے جانے،جو کہ دوران تشدد توڑ دیا گیا تھا،کو لے کر ممتا بنرجی اور بی جے پی کے درمیان ٹکرائو شروع ہو گیا ہے۔ممتا بنرجی نے کہا کہ ودیا ساگر کا مجسمہ بنانے کے لیے بنگال کافی ہے،بی جے پی سے روپے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوںنے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مجسموں کو توڑنے کی بی جے پی کی عادت ہے ،ان لوگوں نے تری پورہ میں یہی کیا ہے۔بی جے پی نے دوسوسال قدیم آثارقدیمہ کومنہدم کیا ہے۔بی جے پی کے اس رویے کو عوام کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ممتا بنرجی نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی سوشل میڈیا فیس بک اور ٹوئٹر پر افواہ پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔افواہ پھیلاکر بنگال میں فساد کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر یہ کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔بنگال ہمیشہ امن و امان کا گہوارہے گا۔اس پورے پس منظر میں یہ سوال بھی بہت زیادہ گردش میں ہے کہ لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی اترپردیش سے زیادہ مغربی بنگال میں اپنی طاقت کیوں جھونک رہی ہے؟اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امت شاہ کا کہنا تھا کہ ہم42میں سے 23سیٹیں جیتنے جا رہے ہیں۔دوسری جانب ممتا بنرجی کے قابل اعتماد لیڈر کہتے ہیں کہ اگر اتحاد کی حکومت بنی تو ممتا کسی بھی قیمت پر وزیر اعظم کی کرسی سے سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیں گی۔بنگال میں ترنمول کانگریس کے ایک اور وزیر کا کہنا ہے کہ دیدی دہلی جائیں گی اور ابھیشیک بابو کولکتہ کے تخت سبھالیں گے،پارٹی کا فی الحال یہی موڈ بن رہا ہے لیکن یہ صورت تب ہی ممکن ہے جبکہ ترنمول کو 42میں سے کم سے کم 38سیٹوں پر کامیابی حاصل ہو۔برخلاف اس کے بی جے پی کی مغربی بنگال پر خصوصی توجہ اور نظر اس لیے بھی ہے کہ بی جے پی اترپردیش میں مہاگٹھ بندھن کے نتیجہ میں 23مئی کے نتائج سے قبل ہی مایوس ہو چکی ہے۔اس کے باوجود مغربی بنگال ایک نئی تجربہ گاہ ثابت ہو سکتی ہے جہاں دو کمیونٹی ،نظریات اور کلچر کا مقابلہ ہندو بنام ہندوتوکیا جا سکتا ہے ساتھ ہی مسلمانوں کی کثرت بھی جلتی پر تیل کا کام کرسکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ آخری مرحلہ کی پولنگ سے قبل جو حالات مغربی بنگال میںبنے ہیں،اس کے نتیجہ میں بی جے پی کو گزشتہ 2014کے مقابلہ 2019میں زیادہ فائدہ حاصل ہونے والا ہے۔دوسری جانب ممتابنرجی کے خواب کو ناکام بنانے میں بھی بی جے پی کی حکمت عملی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

آخری بات جو گرچہ اہم واقعات سے زیادہ اہم ہونے والی ہے اُس کا آغاز کانگریس کے سلمان خورشید اور عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال نے یہ تشویشناک بیان دے کر کردیا ہے کہ یوپی میں مسلمانوں نے بہار کی طرح ووٹ نہیں کیا ،کئی مقامات پر اتحاد اور کچھ جگہوں پر اتحاد اور کانگریس کے درمیان تقسیم ہو گیا۔وہیں کیجروال کا کہنا ہے کہ آخری وقت میں کانگریس کو مسلمانوں کا دہلی میں ووٹ شفت ہو گیا،آخری 48گھنٹے میں سب کچھ پلٹ گیا۔سوال یہ ہے کہ ابھی تک ہار کی ذمہ دار ای وی ایم پر تھی لیکن محسوس ایسا ہوتا ہے کہ 23مئی کے نتائج کے بعد ای وی ایم کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ان پارٹیوں کے نشانے پر ہوں گے۔ان حالات میں سیکولر اور جمہوری پارٹیوںکی حمایت اور انہیں مضبوط کرنے کی آواز میں مسلمان کب تک ایسے ہی گرداب میں پھنسے رہیں گے؟اس کے باوجود کہ وہ ذاتی مفاد کے پیش نظر ایک نہیں ہوتے،اتحاد نہیں کرتے لیکن پھر بھی چاہتے ہیں کہ مسلمان انکی خواہشوں کو پورا کرتے رہیں!


ای پیپر