سیانے
20 May 2019 2019-05-20

انگریز بہت سیانے ہیں۔ ہرکام میں اپنا فائدہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ان کے سامنے تو بنیے ایسے ہی بدنام لگتے ہیں۔ لندن کے باہری علاقوں میں سب سے جدید سٹین فرڈ لگا ، جہاںمعمول کے دومنزلہ ایک جیسے مکانات کے بجائے بلند وبالا عمارتیں ہیں۔ جدید شاپنگ مالز ہیں۔ریلوے کا جدید نظام ہے۔ کئی بار اس علاقے سے گزر ہوا تو ذہن میں اٹھنے والا سوال پوچھ ہی لیا۔ جواب ملا ، لندن اولمپکس کے لیے یہ علاقہ تیار کیا گیا۔ کھلاڑیوں کی رہائش کے لیے عمارتیں اور خریداری کے لیے شاپنگ مالز بنائے گئے۔ اولمپکس میلہ ختم ہوا ، کھلاڑی اپنے گھروں کو لوٹ گئے تو سیانے گوروں نے ان عمارتوں کے فلیٹس فروخت کے لیے پیش کردیے۔ دنیا بھر سے لندن رہنے کے خواہش مندوں نے دیکھتے ہی دیکھتے سارے فلیٹس خرید لیے۔ یعنی گورے نے پہلے کھلاڑیوں کے لیے ہوٹل کرائے پر لینے کے بجائے اپنی عمارتیں بنا کر پیسے بچائے اور پھر ان عمارتوں کو بنانے پر جو لاگت آئی ، انہیں بیچ کر اس سے کئی گنازیادہ کمالیے۔

دنیا میں اپنی منفرد پہچان رکھنے والا لندن کا زیرزمین ریلوے نظام بھی ذہانت کی ایک اور مثال ہے۔ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کے حملوں سے بچنے کے لیے شہریوں کے لیے زیرزمین پناہ گاہیں بنائی گئیں۔ جنگ ختم ہونے کے بعد یہ سرنگیں بیکار ہوگئیں۔ امن کے دور میں انسان اپنے گھروں میں محفوظ ہوگئے۔ اس دوران سرنگوں میں بڑے بڑے چوہے پلنے لگے ، حشرات الارض نے ڈیرے جمالیے۔ ایسے میں ایک سیانے کے مشورے پر ان سرنگوں کو صاف کیا گیا اور یہاں ریل کی پٹریاں بچھا دی گئیں۔ ناکارہ سرنگیں دنیا کے منفرد ریلوے نظام میں بدل گئیں اور آج ان زیرزمین ریلوے ٹریکس نے پورے لندن کو جوڑ رکھا ہے۔ شہری ہوں یا سیاح ، جدید اور برق رفتار ٹرینوں میں سفر کرنا سب کے لیے ایک سستا اور اچھا تجربہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لندن کا محکمہ ٹرانسپورٹ سب سے امیر محکمہ سمجھا جاتا ہے اور ٹرین ڈرائیور کو کئی اعلیٰ افسران سے زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔ اب بھی ان کا مطالبہ ہے ، محکمہ اتنا کماتا ہے ، ہمیں ہفتے میں تین دن چھٹی دی جائے۔

سیانے پن کی ایک اور مثال دیکھ لیں۔ برطانیہ نے پہلے دنیا کو پیش کش کی کہ 2 لاکھ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کرنے والے کو رہائشی ویزا مل جائے گا۔ ملک ملک سے لوگ اپنے خوابوں کی جنت میں رہنے کی قیمت ادا کرنے چلے آئے۔ ایک حد تک دولت ہاتھ آگئی تو اب گورے innovative ویزے کے نام سے نئی سہولت سامنے لے آئے ہیں ۔ اس ویزے میں 50 ہزار پاؤنڈ سے بھی کم چل جائے گا مگر اس کے لیے آپ کو ایک ایسا آئیڈیا برطانوی حکام کو پیش کرنا ہوگا جس کی برطانیہ اور وہاں کے معاشرے کو ضرورت ہو اور اسے فائدہ پہنچے۔ آپ کا آئیڈیا منظور ہوگیا تو مختلف مراحل میں اس کی نگرانی کی جائے گی جب تک وہ عملی شکل کو نہیں پہنچ جاتا۔ یہ برطانیہ میں انسانی صلاحیت کی سرمایہ کاری ہے۔ جس سے ہرشے میں یورپ کا محتاج برطانیہ خودکفالت کا سفر شروع کررہا ہے۔

خودکفالت کی یہ راہ برطانیہ کو بریگزیٹ نے دکھائی ہے۔ گزشتہ برس تک برطانیہ یورپی یونین سے علیحدگی کو بہت آسان سمجھتا رہا لیکن جب اسے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑا تب پتہ چلا۔ یورپی یونین میں رہنا آسان ہے ، نکلنا بہت مشکل۔عوام نے ریفرنڈم میں فیصلہ تو دے دیا لیکن اس کے بعد سے بریگزیٹ کے معاملے پر برطانیہ کو مسلسل سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے۔ برطانیہ میں کیے گئے سروے دلچسپ کہانی سناتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بزرگ گورے بریگزیٹ سے نکلنے اور زیادہ تر نوجوان یورپی یونین میں رہنے کے حامی ہیں۔ بزرگ گورے سمجھتے ہیں کہ یورپی یونین میں رہنے سے نئی نسل کو ملازمتیں ملنا بھی مشکل ہوجائے گا ، جتنی شرح آبادی ہے انگریز انگلستان میں نایاب ہوجائیں گے جبکہ نئی نسل کا خیال ہے ،یورپی یونین میں رہنے میں انہیں اپنا ہنر آزمانے کے لیے ایک بڑی دنیا ملے گی۔ دو نسلوں کے درمیان جاری یہ کشمکش حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بھی نظر آئی۔ زیادہ تر گورے ووٹرز پولنگ اسٹیشن پر ہی نہیں آئے۔ نتیجے میں دونوں بڑی پارٹیوں ٹوری اور لیبر کو اپنی بہت سی نشستیں کھونا پڑی ہیں۔ ایسے میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو دوبارہ پذیرائی ملی ہے جو بریگزیٹ کی حامی ہے۔

گورے دنیا بھر سے منافقت کریں ، جھوٹ بولیں لیکن ان کے سیانے پن کے لیے بس ایک ہی خوبی کافی ہے وہ اپنوں سے جھوٹ نہیں بولتے۔ انفرادی مفاد کے بجائے عام طور پر وہ اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ سوچ کا یہی وہ انداز ہے جو گوروں کو ہر مشکل میں آسانی ڈھونڈنے کی راہ دکھاتا ہے۔مجھے اپنوں سے بس یہی کہنا ہے۔ کوئی قوم ہویا فرد ، کسی سے مرعوب ہونا اچھا نہیں، متعصب ہونا تو بالکل بھی ٹھیک نہیں ، البتہ کسی کی صلاحیت کا معترف ہوا جائے تو برا کیا ہے ؟ کوئی سمجھنا چاہے تو یہی اشارہ کافی ہے۔ غالب کی زبان میں۔۔۔

ایک ہم ہیں کہ لی اپنی ہی صورت کو بگاڑ

ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنانا آتی ہے


ای پیپر