حکومت کی پریشانیاں
20 May 2019 2019-05-20

جو وزیر مشیر یہ پکا راگ تسلسل کے ساتھ رہے تھے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ختم ہو گئی ،اب انہیں وزیروں مشیروں اور سکائی لیبوں کو بیانوں کو ایک افطار پارٹی سے گھبراہٹ عیاں ہوئی ہے کمال ہے۔غیر منتخب مشیر مولانا فضل الرحمان کو اے پی سی کا سربراہ بنانے پر اعتراض کر رہے ہیں کہ غیر منتخب مولانا کو عہدہ کیوں دیا گیا ہے،شریں مزاری تک کہہ رہیںہیں کہ ن لیگ تو تقسیم ہو چکی۔ان کی پریشانیاں درست ہیں ایک بار شروع ہوجائے تے ایویں رک دی نئی۔ پیار کا پہلا پتھر پھینکا جا چکا ہے،۔اور بات شروع ہو چکی ہے

وزیر اعظم کے خصوصی معاون برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے نہ جانے کپتان کو کیا خواب دکھائے تھے کرکپتان نے قوم کے پورے پندرہ ارب روپے کراچی کے سمندر میں ڈبو دئے۔یہ رقم تو اس سال کے آغاز میں سمندر میں سوراخ کرکے تیل نکالنے کے منصوبے کیکڑا ون پرخاموشی سے لگادیے۔ وزیراعظم عمران خان نے پشاور کی ایک تقریب میں کہا تھا ہوسکتاہے گیس کااتنابڑاذخیرہ ملے کہ آئندہ 50سال کیلئے گیس کی کمی پوری ہوجائے۔ عوام کا خون پسینہ نچوڑ کر حاصل کی گئی رقم کے بارے میں عین اس روز اعلان کیا جب پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو نے افطار ڈنر پر پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں کو اسلام آباد کے بلاول ہاوس میں مدعو کر رکھا تھا۔اس روز قوم نے یہ منحوس خبر بھی سنی کہ تیل نکالنے کا کپتان نے جو منصوبہ بنایا تھا 3550میٹر کی سمندر میں جو کھدائی کی گئی اس کا فائدہ ارضیاتی سائنس کے طالب کو تو ہوسکتا ہے۔ مگر اس سمندر سے تیل نکلا یا نہیں البتہ پاکستان کے اس بے ہودہ منصوبے پر قوم کے پورے دس کروڑ امریکی ڈالر کراچی کے سمندر میں ایسے موقع پر بہا دیے گئے جب اس مقروض قوم کو ایک ایک ڈالر کی اشد ضرورت تھی۔ اس رقم کے ڈوبنے کی اطلاع قوم نے جب افسوس کے ساتھ سنی تو اس وقت وزیر اعظم عمران خان سے لے کر فردوس عاشق اعون تک بلاول اور مریم نواز کی ملاقات پر ایسے ایسے رد عمل کا اظہار کر رہے تھے۔ان میں تو حکومت کے مخالف سیاست دانوں کے اکٹھا مل بیٹھنے کا حوصلہ تک نہیں ہے۔ یہ تو سابق وزیر اعظم نواز شریف کا حوصلہ تھا ، کپتان کو پورے ایک سو چھبیس دن دھرنا پر بیٹھنے دیا۔ جوڈیشل انکوائری سے ثابت ہو چکا تھا کہ کپتان نے جو مطالبات اور الزامات 2013کے حوالے سے دھاندلی کے لگائے تھے وہ سارے جھوٹ اور مفروضوں پر مبنی تھے اس پر سب سے دلچسپ تبصرہ تو مسلم لیگ(ن)کے مرکزی جنرل سیکرٹری احسن اقبال کاہے ’’ نفرت اور تکبر سے ملک نہیں چلتا‘روپیہ کی قدر گرنے کی وجہ سے قرضہ ڈبل ہوگیا ہے۔اناڑی کے ہاتھ میں استرا دے دیا گیا ہے اب معیشت تو کٹے گی،پاکستان کاروپیہ فٹبال کی طرح ادھر سے ادھر لڑک رہا ہے عمران خان کی ساری باتیں صفر ہوچکیں‘ وزیراعظم نے ناک سے لکیریں کھینچ کر قرضے حاصل کئے۔ پاکستان کی ترقی کو پانامہ سازش کے ذریعے سبو تاژ کیا گیا‘‘یہ تو ایک موقف تھا ۔ کپتان کی شخصیت میں تکبر کا عنصر غالب رہے گا تو مسائل آتے رہے گے۔جس ورلڈ کپ کا وہ کریڈٹ لیتے ہیںاس میچ کا مین آف دی میچ تو وسیم اکرم تھا۔ کپتان تھے جیت کا کریڈٹ لیتے رہے ،اب بھی کپتان ناکامیاں وزرا پر کیوں ڈالتے ہیں۔شکست ہوگی تو آپ کی ہوگی۔اپوزیشن کے بغیر میچ نہیں جیت سکتے۔ اپوزیشن عید کے بعد اپنا تماشالگا رہی ہے جس پر کپتان نے ردعمل دیا ہے،سخت ردعمل ہے، ایک ڈرے ہوئے چیف اگزیکٹو کا ردعمل، کپتان تو کہتا تھا کہ احتجاج کرو میں کنٹینر بھی دوں گا یہ بات اخباری بیان نہیں وزیر اعظم کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر میں یہ آفر تھی۔ڈالر پورا 20 فیصد مہنگا ہو گیا۔ عوام کی کمر ٹوٹ گئی اپوزیشن مل کر ملکی حالات کے بارے میں سوچھے تو وزیر اعظم کی طرف سے یہ ردعمل آتا ہے ’’کرپٹ سیاسی مافیامعیشت کے ذریعے بلیک میل کرنا چاہتا ہے۔جمہوریت بچانے کے نام پر جمع ہونے والے لوگوں کی وجہ سے ملک آگے نہیں بڑھا۔ کپتان ہی نہیں یہاں تو بیان بازوں کا پورا کنبہ ہے نہ وزیر بچا یہ وزیر اتوار کے بیان بازی کا ایک ٹورنا منٹ تھا۔ ۔شیخ رشید کو اایک وزارت گھسیٹنے کے لیے نہ جانے کیا کیا کرنا پڑتاہے ان کا ارشاد عالیہ ہے ۔مودی سے تو ان کو خطرہ نہیں کیوں کہ مودی کے لیے کامیابی کی تمنا کپتان الیکشن مہم میں کرچکے ہیں شیخ رشید کو کتنی تکلیف ہے انہوں نے بلاول کی افطاری پر دل کے پھپولے یوں پھوڑے ہیں’’ملک کوخطرہ‘‘ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے نہیں بلکہ زرداری اور نواز گینگ سے خطرہ ہے۔ دو، دو ارب ان کے فالودے والے کے اکاؤنٹ سے نکل رہے ہیں۔ ‘‘ عید کے بعد اے پی سے بلانے کی ذمہ داری مولانا فضل الرحمان کے سپرد کیا ہوئی ایک سے ایک بڑھ کر کہ رہا تھا کہ غیرمنتخب شخص کو اپوزیشن کی اے پی سی کا سربراہ بنادیا گیا، اپوزیشن کا اتحاد چوری بچانے کیلئے ہے،جتنی چاہیں افطاریاں کرلیں، این آراونہیں ملے گا، ’’ابو بچاو افطاری‘‘ کی آڑ میں انکے ذاتی مفادات کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا فرمانا ہے افطار ڈنر کی آڑ میں مک مکاکیلئے چور دروازہ ڈھونڈاجارہا ہے، ایک دوسرے پر کرپشن کے الزام لگانے والے آج کس کیلئے گٹھ جوڑ کر رہے ہیں۔ پنجاب کے صوبائی وزیراطلاعات صمصام علی شاہ بخاری کا ارشاد عالیہ ہے کہ عمران خان سے استعفیٰ لینا کو ئی خالہ جی کا گھر نہیں، اپوزیشن کے افطار ڈنرمیں یہ سب لو گ عوام کیلئے نہیں نیب کے کیسز کیلئے گئے جن کا حکومت سے کو ئی تعلق نہیں۔ مراد سعید کی وہی رام کہانی وہی طوطے کی طرح پرانی کہانی ، قوم کی جانب سے مسترد کردہ اور عمران خان سے شکست خوردہ عناصر نے آج زرداری کو اپنا سیاسی امام تسلیم کیا ہے ۔ بابر اعوان نے کہا کہ مریم ابا کو جیل اور حمزہ ابا کو پاکستان سے باہر نکالے رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ کانفرنس احتساب سے بھاگنے کیلئے تھی مگر بھاگنے کے راستے بند ہیں۔

یہ تو سیاست کی بات تھی،ایسے موقع پر چیئرمین نیب بھی درمیان کود پڑے ہیں ، عین اس موقع پر جب افطار ڈنر کے لیے اپوزیشن قیادت بلاول ہاوس آرہی تھی تو چیئرمین نیب نے پہلی پریس کانفرنس کی اور اس سے پہلے بھی وہ ایک اینکر کو انٹرویو کے ذریعے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر چکے تھے۔ شایع ہونے والی خبر میں جو معلومات تھیں اس کی تردید اس طرح سے نہیں ہوئی جیسے ہونی چاہیے تھی۔انہوں نے جو کہا اتفاق کی بات یہ ہے ان کی پریس کانفرنس کے الفاظ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے بیابات سے ملتے جلتے تھے۔جیسے عمران خان نے کہاجمہوریت بچانے کے نام پر۔شیخ رشیدنے فا لودے والے کا ذکر کیا یہ الفاظ جسٹس ریٹائر جاوید اقبال کی پریس کانفرنس میں تھے۔آصف زرداری کی کرپشن کا ذکر بھی انہوں نے نام لیے بغیر کیا۔ایساہی ذکر انہوں نے شہباز شریف کا نام لیے بغیر کیا۔ حکومت کے خلاف وہ کارروائی اس لیے نہیں کرتے کہ دنیا میںنیگٹیوتاثر جاتا ہے۔جناب چیئرمین صاحب کا فرمانا یہ ہے کہ5لاکھ کی جگہ 50 کروڑخرچ کرنے سے پہلے اپنی پگڑی کا خیال ہونا چاہے۔جناب جسٹس جاید اقبال صاحب آپ نے اپنی پریس کانفرنس میں اپنے با اصول ہونے کا حوالہ دیا۔ جناب اس قوم کے 15ارب روپے سمندر سے تیل نکالنے کے نا م پر زیرو ہوگئے اور اورنج ٹرین کا خرچہ اربوں روپے بڑھ گیا ہے۔اس اصول پر بابر اعوان کے خلاف ریفرنس دائر ہے تو ان اربوں کا حساب آپ کیوں نہیں مانگتے۔ علیم خان کی ضمانت منسوخ کرانے کے لیے ابھی کوئی بیان بھی سامنے نہیں آیا۔ چوروں ڈاکووں کو آپ پکڑ رہے ہیں آپ نے اپنے ادارے کی کریڈبیلٹی کی بات بھی کی ہے۔مگر پریس کانفرنس کی ٹائمنگ درست نہیں تھی اور کسی بھی حوالے سے درست نہیں تھی۔ انتہائی عاجزی سے درخواست ہے کہ آپ کو اس طرح آکر نہیں بولنا چاہیے۔ کو آپ آپ کرپٹ سمجھتے ہیں کل کو وہ بری ہو گئے تو پھر؟

پوزیشن تو سمجھتی ہے کہ نااہلوں نے پاکستان کو کمزور کردیا۔مگر آپ اپوزیشن کے اس نکتہ کو مسترد کرتے ہوئے واک اور دے رہے ہیں جس کو پکڑنا ہے پکڑ لو اس میں ڈھندورا پیٹنے والی بات کیا ہے آپ نے سعد رفیق،شہباز شریف کو پکڑنا تھا پکڑ لیا، علیم خان کو تو پکڑنے سے معاملہ نہ برابر ہوا نہ اس کی ضرورت تھی۔ بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے دئیے گئے افطار ڈنر میںشریک تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت کیخلا ف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کا اصولی فیصلہ کیاہے۔ حکومت ملک کو بحران سے نکالنا چاہتی ہے تو پارلیمنٹ میں اس کا حل تلاش کریں۔


ای پیپر