ہر بار قوم ہی کیوں قربانی دے…؟
20 May 2019 2019-05-20

قربانی کے لیے کوئی فرقہ، نسل یا فرد و احد مختص نہیں ہوتا۔ مدد یا مسائل سے چھٹکارے کے لیے ہر صاحب استطاعت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسائل اور مصائب میں مبتلا قوم یا شخص کی مدد کو پہنچے۔ ایسی قربانی کے لیے آپ حدود و قیود سے آزاد ہوتے ہیں۔ مدینہ میں قحط پڑ گیا۔ حضرت عثمان غنی ؓ نے سیکڑوں اونٹ غلے کے منگوائے۔ تاجر دوگنی، تین گنا قیمت دینے کو تیار تھے تو آپ نے فرمایا مجھے اس سے زیادہ منافع مل رہا ہے۔تاجر اور بھی زیادہ منافع دینے کو تیار ہوئے تو آپ نے فرمایا مجھے اس سے بھی زیادہ منافع مل رہا ہے۔ تاجر حیران ہوئے کہ اتنا منافع کون دینے کو تیار ہے۔ تو آپ نے سارا غلہ غریبوں میں تقسیم کر دیا اور قحط کا خاتمہ ہو گیا۔ پانی کی قلت اور کمی آ پڑی۔ یہودی مہنگے داموں مسلمانوں کو پانی فروخت کرتا تھا۔ آپ نے آدھا کنواں خریدا اور مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔ یہودی کا کاروبار ماند پڑ گیا اور وہ باقی حصہ بھی فروخت کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ آپ ؓ نے وہ حصہ بھی خریدا اور پوری انسانیت کے لیے فروخت کر دیا۔ خلیفہ دوم حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اپنا سارے کا سارا مال نبی ؐ کے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔ آپؐ نے ابوبکر صدیق ؓ سے پوچھا! ابوبکر ! ’’گھر میں بھی کچھ چھوڑ کے آئے ہو‘‘ خلیفہ دوم ، یار غار فرمانے لگے اللہ کی کتاب اور آپؐ کی سنت گھر میں چھوڑ آیا ہوں۔ یہ تھی ریاست مدینہ اور یہ تھے ریاست مدینہ کے والی اور پیرو کار…

پرویز مشرف کی سر سبز اور جدیدیت پر مبنی آمریت میں ایک دفعہ پٹرول مہنگا ہو گیا تو جناب نے کہا ! کہ میری قوم اتنی بہادر ہے کہ یہ 100 روپے لٹر پٹرول بھی خرید ے سکتی ہے۔ اس وقت ڈالر کی قیمت ستر یا پچھہتر کے لگ بھگ تھی۔ اور یہ جاہل قوم نعرے لگانے لگی، اس کے بعد چوہدری برادران کی باری آئی تو ان کا بھی یہی نعرہ رہا کہ قوم بہادر ہے، قوم قربانی دے گی اور جمہوریت کو بر قرار رکھنے کے لیے ہمارا ساتھ دے گی اور بے وقوف قوم چپ چاپ قربانی کا بکرا بن گئی۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ چشم فلک نے دیکھا۔ حالات بدل گئے۔ صوبہ پنجاب میں میاں شہباز شریف صاحب وزیر اعلیٰ اور وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بن گئی۔زر کے مالک جناب آصف علی زرداری صاحب صدر پاکستان بن گئے۔ یوسف رضا گیلانی صاحب وزیر اعظم پاکستان بنے اور کم و بیش ساڑھے تین سال تک وزیر اعظم رہے۔ گیلانی صاحب نے اپنے دور بادشاہت میں جو سوٹ ایک بار زیب تن کیا اس کی باری دوبارہ کبھی نہیں آئی تھی۔ یعنی وہ سوٹ طاق نسیاں ہو گیا۔ گیلانی کے یہ سوٹ فرانس سے آتے تھے اور ایک سوٹ کی قیمت لاکھوں میں تھی۔ اس جاہل قوم نے اس دور میں بھی بھرپور قربانی دی۔ وقت بدلا آمریت، ق لیگ اور پی پی پی اپنی باریاں پوری کر کے، کرپشن کا خوبصورت کھیل کھیل کر ناک آئوٹ سسٹم کے تحت واپس چلی گئیں۔ حالات یکسر تبدیل ہو گئے۔ وفاق میں بڑے میاں صاحب اور پنجاب میں ’’ نکے میاں صاحب‘‘ نے اپنی اپنی ’’ لنگوٹیں کس‘‘لیں۔ عمران خان کی خوش نصیبی یہ ہوئی کہ وہ اس بار یوٹرن، لیتے لیتے بچ گئے۔ میاں صاحب کے دور میں ہر طرح کی ہلچل اور کرپشن اپنے عروج پر رہی۔ ادارے تباہ ہوئے، مہنگائی ہوئی۔ قرضے لیے گئے اور قربانی اس اکھڑ اور غلام قوم نے دی۔ اس دوران عمران خان کے نعرے، وعدے، امیدیں، تسلیاں عوام کے لیے مہمیز کا کام کرتے رہے۔ عمران خان نے قوم کو نئے پاکستان اور ریاست مدینہ کا ویژن دے کر باقی پارٹیوں کو چت گرانے کی جو مستقل کوشش کی وہ اس میں کامیاب ہو گئے۔ عمران خان عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کر کے حکومت بنانے میں کامیاب تو ہو گئے مگر عوام کے بے شمار مسائل اور عوام کی معاشی حالت سے نا آشنا رہے۔ IMF کو قرضے کی واپسی اور خزانے کے خالی ہونے میں اکیس کروڑ عوام کا کوئی قصور نہیں ہے۔ عوام کو تو روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ عمران خان کی ستم ظر یفی یہ ہے کہ صرف خزانے کو بھرنے اور معاشی بحران کو پورا کرنے کے لیے حد درجہ مہنگائی کر دی۔ میڈیسن سے لے کر ڈاک ٹکٹ اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء میں سو فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوا۔ پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتیں حدِ اختیار سے تجاوز کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں اور اوپر سے خان کے چمچے، فرمارہے ہیں کہ عوام دو سو روپے لٹر پٹرول بھی خرید لے گی۔ عوام کو قربانی دینے پڑے گی۔عوام کو صبر کرنا پڑے گا۔ اس میں عوام کا کیا قصور ہے؟ عوام کیوں مہنگائی برداشت کرے؟ عوام کیوں غربت کی چکی میں پسے؟ اگر عمران خان اس قوم کا نجات دہندہ ہے؟ اگر عمران خان کو قوم کا احساس ہے؟ اگر عمران خان اس قوم کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے؟ تو بنی گالا والا گھر فروخت کرے اور قرضہ ادا کر دیں۔ عمران خان کی ٹیم میں 22 لوگ ایسے ہیں جو ارب پتی اور بے بہا جائیداد کے مالک ہیں۔ وہ اپنی آدھی آدھی جائیداد فروخت کریں اور ملک کا قرضہ اتار دیں،ڈیم بنا دیں۔ آخر یہ قوم اور ملک ان کا بھی تو ہے۔ قربانی غریب عوام پر تو فرض نہیں۔ امراء بھی اس زمرے میں آتے ہیں۔ اس بات کا خیال اس قوم کے نام نہاد نجات دہندوں کو کیوں نہیں آتا۔ ریاست مدینہ میں تو دولت کے انبار لگانے کا تصور ہی نہیں ہے۔ بقول سلطان باہو

ادھی لعنت دنیا تے ساری دنیا داراں ہو

قرآن مجید میں ارشاد ہے جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری کائنات پر احسان کیا۔

ایسا کرنے سے ایک انسان کی نہیں آدھے سے زیادہ پاکستانیوں کی جان بچے گی۔ اور دوسرا اہم پہلو یہ کہ ریاست مدینہ کا خواب بھی پورا ہو جائے گا۔ تیسرا اہم قدم یہ کہ اس سے دنیا بھی اچھی ہو جائے گی اور آخرت بھی اچھی ہو گی۔ دنیا میں بھی سکون میسر ہو گا اور قبر بھی روشن ہو گی۔ لہٰذا خان صاحب آپ سے گزارش ہے کہ آپ اور آپ کی ٹیم قوم سے قربانی نہ مانگے۔ اس بار آپ اور آپ کی ٹیم قربانی دے کر یہ ثابت کر دے کہ آپ نے واقعہ ہی ریاست مدینہ کا تصور دیا تھا ۔ اور آپ نئے پاکستان کے خواہاں تھے۔ اور میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کے ریاست مدینہ کا وجود اور نئے پاکستان کی تعمیر اسی طرح ممکن ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسا دوسرا کوئی آپشن نہیں ہے جس کے تحت ملک اور قوم کی قسمت بدلی جا سکے۔ وما علینا الالبلاغ


ای پیپر