آئی ۔اےم۔اےف ہمےں کہاں لے جائے گا؟
20 May 2019 2019-05-20

مسئلہ ہر گز ےہ نہےں کہ عمران خان کی حکومت نے آئی ۔ اےم ۔ اےف سے 6 ارب ڈالر قرض لےنے کا معاہدہ کر لےا ہے۔ دنےا کے بہت سے ممالک آئی ۔ اےم ۔ اےف سے قرض لےتے رہتے ہےں۔ خود پاکستان کے لئے بھی ےہ کوئی انہونی بات نہےں۔ عمران خان سے پہلے پاکستان اٹھارہ مرتبہ آئی ۔ اےم ۔ اےف پروگرامز کا حصہ رہ چکا ہے۔ اصل مسئلہ ےہ ہے کہ عمران خان متواتر کئی سالوں تک پےپلز پارٹی اور مسلم لےگ (ن) کی حکومتوں کو آئی ۔ اےم ۔ اےف کے پاس جانے پر لتاڑتے رہے۔ ان کی لعن طعن کرتے رہے۔ ا ور عوام کو باور کرواتے رہے کہ اگر وہ (عمران خان)بر سر اقتدار آئے تو کشکول پکڑ کر بھےک مانگنے اور آئی ۔ اےم ۔ اےف کے در پر جانے کے بجائے خود کشی کرنے کو ترجےح دےں گے۔ اس سے بھی بڑھ کر مسئلہ ےہ ہے کہ اگر عمران حکومت کو آئی ۔ اےم ۔ اےف پروگرام کا حصہ بننا ہی تھا تو اس معاملے مےں 9 ماہ کی انتہائی غےر ضروری تاخےر کےوں کی گئی؟ ۔ معاشی امور کی سمجھ رکھنے والے صحافی اور غےر جانبدارماہرےن معاشےات متواتر پےش گوئی کر رہے تھے کہ پاکستان کاآئی۔ اےم ۔ اےف کے پاس جانا نا گزےر امر ہے۔ مسلسل کہا جاتا رہا کہ ےہ تاخےر پاکستان کے حق مےں نہےں ہے۔ حکومت نے مگران تجاوےز پر کان نہےں دھرا۔ اسکے برعکس اعلیٰ حکومتی عہدےدار اس تاخےر کے فوائد (بلکہ فضائل) عوام الناس کو سمجھاتے رہے ۔ آخر کار وہی ہوا جس بات کا خدشہ تھا ۔اس تاخےر کا نتےجہ ےہ نکلا کہ آئی ۔ اےم ۔ اےف نے 6 ارب ڈالر کا قرضہ سخت ترےن شرائط کے ساتھ عمران حکومت کو عطا کر نے کا وعدہ کر لےا۔ ےہ تاخےر ہوئی تو حکومت کی عاقبت نااندےشی کی وجہ سے ہے۔ مگر اس کا سارا بوجھ پاکستان کے غرےب عوام کو ڈھونا پڑے گا۔ ا ور وہ بھی متواتر تےن برس تک۔

صورتحال ےہ ہے کہ آئی ۔ اےم ۔ اےف پاکستان کے لئے واقعی اےک سونامی کی شکل اختےار کر گےا ہے۔ ابھی معاہدے کی حتمی منظوری بھی نہےں ہوئی۔ شرائط نامے پہ دستخط بھی نہےں ہوئے۔ بس اےک اصولی فےصلہ ہوا ہے ۔ حکومت نے ابھی تک کچھ نہےں بتاےا۔بس آئی ۔ اےم ۔ اےف کا واشنگٹن سے جاری کردہ اےک اعلامےہ سامنے آےا اور اس کے ساتھ ہی ہماری پہلے سے کمزور معےشت مےں زلزلوںاور " آفٹر شاکس" کا سلسلہ شروع ہو گےا۔ دےکھتے دےکھتے مہنگائی آسمان سے باتےں کرنے لگی۔ اسد عمر نے جو کہا تھا وہ سچ ثابت ہوا کہ عوام کی چےخےں نکل رہی ہےں۔ڈالر راکٹ کی رفتار سے اوپر کو اٹھ رہا ہے اور روپےہ مسلسل نےچے ہی نےچے لڑھکتا جا رہا ہے ۔ سب سے پرےشان کن بات ےہ ہے کہ کسی کو کچھ خبر نہےں کہ ےہ کےا ہو رہا ہے۔ کوئی نہےں جانتا کہ گہری کھائی مےں گرتی اس گاڑی کو کےسے بچاےا جائے ۔ کوئی ےہ بتانے کے لئے بھی تےار نہےں کہ ہم نے درپردہ آئی ۔ اےم ۔ اےف سے کےا شرائط طے کی ہےں؟ وفاقی وزراءبھی معاہدے کی مکمل شرائط کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کررہے ہےں۔ کاروباری لوگ، صنعتکار، تاجر، ماہرےن معاشےات، کرنسی اےکس چےنج اےسوسی اےشن سب چےخ رہے ہےں کہ معےشت کی اس تباہ کاری کا سبب آئی ۔ اےم ۔ اےف سے معاہدہ ہے۔ لےکن حکومت کا کوئی ٹھوس موقف سامنے نہےں آرہا۔ کوئی کہتا ہے کہ ڈالر کی قےمت گرانے کے حوالے سے آئی ۔ اےم ۔ اےف کے ساتھ کوئی معاہدہ نہےں ہوا۔دوسرا کہتا ہے کہ ےہ سٹےٹ بنک کر رہا ہے۔ تےسرا منہ دوسری طرف پھےر کے چپ ہو جاتا ہے اور چوتھا وہی گھسا پٹا راگ الاپتا ہے کہ ےہ سب کچھ پچھلی حکومتوں کا کےا دھرا ہے۔

حقےقت ےہ ہے کہ عوام کی اکثرےت کواس بےان بازی اور الزام تراشی سے قطعاً کوئی دلچسپی نہےں۔ عوام کو صرف ےہ معلوم ہے کہ مہنگائی نے ان کا جےنا دوبھر کر رکھا ہے۔ رمضان کے با برکت مہےنے مےں بھی انہےں کوئی رےلےف مےسر نہےں۔ گوشت،دودھ،پھل تو رہے اےک طرف، دالےں اور سبزےاں بھی ان کی قوت خرےد سے باہر ہو چلی ہےں۔ مستقبل کے حوالے سے بھی انہےں کوئی خوش امےدی نہےں۔ حکومت اور مےڈےا کی طرف سے انہےں بتاےا جا رہا ہے کہ آنے والے وقت مےں انکی مشکلات مےں مزےد اضافہ ہو گا۔ اور انہےں صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ انہےں اندازہ ہو گےا ہے کہ جون مےں بجٹ پےش ہونے کے بعد مہنگائی کا اےک اور سونامی انکا منتظر ہے۔

جہاں تک آئی ۔ اےم ۔ اےف کی طرف سے 6 ارب ڈالر کے قرض کا معاملہ ہے تو ےہ رقم ےکمشت حکومت کو نہےں ملے گی۔ بلکہ تےن سال کے عرصے مےں قسطوں کی صورت حکومت کے حوالے کی جائے گی۔ ہر چند ماہ بعد ، قرض کی قسط جاری کرنے سے پہلے، آئی ۔ اےم ۔ اےف اچھی طرح جائزہ لے گا کہ اسکی طرف سے طے کردہ (بلکہ نافذ کردہ) شرائط پر عمل ہو رہا ہے ےا نہےں؟ کہنے کا مطلب ےہ کہ اےک تےز دھاری تلوار ہے جس پر پاکستان کے عوام کو مسلسل تےن سال تک چلنا ہو گا۔ اپوزےشن اس تباہ کاری کی ذمہ داری حکومت کے اناڑی پن اور وزےر اعظم کی نااہلی پر ڈالتی ہے۔ مخالف جماعتےں اس طرح کے الزامات لگاےا ہی کرتی ہےں لےکن اب غےر جانبدار مبصرےن کو بھی ان الزامات مےں وزن محسوس ہونے لگا ہے۔ کوئی دن، کوئی ٹاک شو کوئی چےنل اےسا نہےں ہوتا جو عمران خان کے بلند بانگ دعوو¿ں کے پرانے کلپس نہ چلا رہا ہو۔ ےہ دعوے اور نعرے مسلسل عوام کے کانوں مےں گونجتے رہتے ہےں۔ مےں کسی سے قرض نہےں لوں گا، کسی سے بھےک نہےں مانگوں گا، آئی ۔ اےم ۔ اےف کے پاس جانے سے بہتر ہے خود کشی کر لوں،کبھی اےمنسٹی نہےں دوں گا وغےرہ وغےرہ۔پھر لوگوں کو تاکےد کرتے رہے کہ پےسے ہنڈی سے بھےجو، بجلی گےس کے بل ادا نہ کرو، سول نافرنامی کرو۔پھر پاکستان کے معصوم لوگوں کو بتاےا کہ ان کے آتے ہی روزانہ کی بنےاد پر ہونے والی اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ختم ہو جائے گی۔ ٹےکسوںکی آمدنی دگنی تگنی ہو جائے گی۔ سمندر پار پاکستانی ڈالروں کی بارش کر دےں گے۔ ہم قرضے لےں گے نہےں، دوسرے ملکوں کو دےں گے۔ پاکستان کے عوام جب پی۔ٹی۔ آئی کی نو ماہ کی کارکردگی کو ان دعووں اور نعروں کی روشنی مےں دےکھتے ہےں تو انہےں شدےد ماےوسی ہوتی ہے۔ ےہی وجہ ہے کہ اناڑی پن اور نا اہلی کا تاثر گہرا ہو رہا ہے۔ صاف محسوس ہو رہا ہے کہ پی ۔ ٹی۔ آئی نے نہ صرف ےہ کہ کوئی ہوم ورک نہےں کےا تھا بلکہ وہ معاملات کو سمجھنے اور مناسب وقت پر موزوں اقدام کرنے کی صلاحےت سے بھی محروم ہے۔

مثال کے طور پرعمران خان کئی برس تک اسد عمر کو اےک اےسے شخص کے طور پر پےش کرتے رہے، جو وزےر خزانہ بنے گا تو قوم کی تقدےر بدل کر رکھ دے گا۔ ڈالر کے مقابلے مےں روپے کی قےمت مےں استحکام لائے گا۔ بجلی، گےس،پٹرول کے نرخوں مےں انتہائی کمی لائے گا۔غےر ملکی سرماےہ کار پاکستان مےں کثےر سرماےہ کاری کرےنگے۔ پچاس لاکھ گھر تعمےر ہونگے۔ اےک کروڑ نوکرےاں ملےں گےں۔ دےگر ممالک کے لوگ نوکرےاں حاصل کرنے پاکستان کا رخ کرےں گے۔ مگر عملی طور پر ان مےں سے کوئی اےک وعدہ بھی پورا نہ ہو سکا۔ نتےجہ اس کا ےہ نکلا کہ بہ امر مجبوری اسد عمر سے وزارت واپس لےنا پڑی۔ اب وفاق کے ساتھ ساتھ صوبہ پنجاب مےں بھی خزانے کی وزارتےں غےر منتخب افراد (ڈاکٹر حفےظ شےخ اور ڈاکٹر سلمان شاہ) کے حوالے کر دی گئی ہےں۔ ےہ اقدام اس امر کے غماز ہےں کہ تحرےک انصاف مےں کوئی اےک بھی اےسا شخص نہےں جو معاشی معاملات کی سوجھ بوجھ رکھتا ہو۔ اےک اور افسوسناک بات جو صحافتی سطح پر کہی جا رہی ہے وہ ےہ کہ وفاقی وزےر خزانہ حفےظ شےخ اور اسٹےٹ بنک کے گورنر رضا باقر کوآئی۔ اےم ۔ اےف کی ہداےت پر تعےنات کےا گےا ہے، لہٰذا وہ پاکستان کی حکومت اور عوام کے بجائے آئی ۔ اےم ۔ اےف کے مفادات کو تحفظ فراہم کرےں گے۔

اگرچہ امےد تھی کہ آئی ۔ اےم ۔ اےف سے معاہدہ طے ہو جانے کے بعد معاشی بے ےقےنی کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ فی الحال اےسا بھی نہےں ہو سکا ہے۔ اس کی وجہ غالبا ملک کی سےاسی صورتحال ہے۔ حکومت کسی صورت اپوزےشن کو برداشت کرنے پرآمادہ نہےں۔ دوسری طرف اپوزےشن کی دونوں بڑی جماعتےں ( پےپلز پارٹی اور مسلم لےگ نواز) جو گزشتہ نو ماہ سے مولانا فضل الرحمن کی ترغےب کے با وجود ، حکومت مخالف تحرےک چلانے سے گرےزاں تھےں، اب سڑکوں پر آنے کی باتےں کر رہی ہےں۔ اگر عےد کے بعداپوزےشن سڑکوں پر آتی ہے، تو بحرانوںمےں گھری معےشت مزےد مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔کاش حکومت اس امر کی تفہےم کرے کہ کسی بھی قسم کی ا قتصادی اصلاحات درکار ہےں تو اس کے لئے پہلے سےاسی استحکام کو ےقےنی بناناہو گا۔


ای پیپر