نو ا ز شر یف کا متنا ز ع بیا ن او ر سیا سی کشمکش
20 مئی 2018 2018-05-20

کسی بھی ملک میں اس کے قو می ا نتخا با ت کے مو قع پر سیا سی کشمکش میں ا ضا فہ ایک قد ر تی امر ہے۔ و طنِ عز یز میں یہ ا ضا فہ خصو صی پر د یکھنے میں آ تا ہے۔ تا ہم سا لِ رو ا ں میں یہ ا ضا فہ خطر نا ک صو ر ت ا ختیا ر کر چکا ہے۔ خصو صاًسا بق وزیراعظم میا ں نوا ز شر یف کے 2008ء میں بمبئی حملے سے متعلق متنا ز ع بیا ن نے نہ صر ف ملکی سیا ست بلکہ خو د مسلم لیگ ن کو بھی ایک عجیب و غر یب دو را ہے پہ لا کھڑا کیا ہے۔ معتبر سیا سی تجزیہ کا روں کا کہنا ہے کہ میڈیا میں جاری تجزیوں، سیاسی کشیدگی کے تسلسل اور الیکشن کے باعث سیاسی جوڑ توڑ میں عروج اعصاب شکن ہے۔ انتخابات جیتنے کی زبردست اہلیت رکھنے کی حامل سیاسی شخصیات او ر اہم رہنما آ ئے دن کی سیا سی تبد یلی اور ترغیب کے تحت او ر بد لتے حا لا ت کے مطا بق اپنی سیا سی سمت تبد یل کر تے رہنے کا عمل جا ری رکھے ہو ئے ہیں۔ جبکہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال، غیرممالک میں اربوں کے اثاثوں کی چھان بین سے متعلق کئی مقدمات سیاست میں بھونچال کی کیفیت پیدا کر نے کی صلا حیت ر کھتے ہیں۔ بعض نے پاکستانی سیاست کے موجودہ دورانئے کو ایک طرح کے دو ر کے آغا ز سے تعبیر کیا ہے۔کوئی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ محاذ آرائی، تزویراتی رازوں کی نقاب کشائی، برہمی، خلش اور پوائنٹ سکورنگ کا کھیل ملک کو کس سمت لے جائے گا۔ تاہم اس بات پر عوام امید پرستی کا دامن تھامے ہوئے ہیں کہ انتخابات کے شفاف طریقے سے انعقاد کے بعد صورت حال بے یقینی، انتشار، منزل گریز سیاسی چپقلش اور اضطراب سے نکل کر جمہوری عمل کی ا فز ا یش کے لیئے مو ا قع فر ا ہم کر ے گی۔ ادھر ن لیگ کے سیاسی مخالفین کوخدشہ ہے کہ نواز شریف کا اپنے ممبئی حملہ اور نان سٹیٹ ایکٹرز کو کنڑول کرنے کے بیان پر جمے رہنے سے انتخابات کے قریب آنے تک بہت سارے منظر نامے اور خواہشات کے پل دھڑام سے زمین بوس ہوسکتے ہیں، مگر سیاسی اور جمہوری عمل میں کسی قسم کا رخنہ پڑنے کا کوئی امکان نہیں۔ کیونکہ عدالت عظمیٰ اور بالخصوص عسکری قیادت جمہوریت سے اپنی کمٹمنٹ اور قومی امنگوں اور ملکی سالمیت کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کا عزم ظاہر کرچکی ہے۔ تاہم تجزیہ کار یہ بتاتے ہیں کہ ملکی سیاست کسی منزل آشنا جمہوری سفر کے دوران حادثات سے دوچار ہوتی رہی، ادارے مستحکم نہ ہوئے، جمہوریت اور آمریت کی بلاجواز اور ناخوشگوار کشمکش نے بھی قومی سیاست کی اخلاقی شناخت متاثر کی۔ سیاست عبادت سے دور ہو کر نفع خوری کے مجرمانہ اور تاجرانہ رجحانات کی اسیر ہوگئی اور اس استدلال کی تصویر بلاشبہ حالاتِ حاضرہ ہیں۔ ملک سیاسی تھیٹر بنا ہوا ہے۔ جس کے سٹیج پر سنسنی خیز ڈرامے دیکھے جارہے ہیں۔ الزامات اور کردار کشی کے کلچر نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔
آ ج اگر صو ر تِ حا ل پے سنجید گی سے غو ر کیا جائے تو ہم د یکھتے ہیں کہ سنجید ہ معا ملا ت اپنا ا ختتا می سفر طے کر ر ہے ہیں۔ قوم کے سامنے حکمرانی، عسکری قیادت، سیاسی ایشوز پر مکالمہ کی شور و غوغا کسی مدلل بحث سے زیادہ معرکہ آرائی پر جا کر دم لیتا ہے۔ چنانچہ اگلے روز قومی اسمبلی میں نواز شریف کے مذکورہ بیان کے مضمرات اور رد عمل سے پیدا شدہ صورتحال پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہناتھا کہ نواز شریف کو حب الوطنی کے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ ان کے انٹرویو میں ایک جملہ غلط رپورٹ ہوا اور ملک کو ناقابل تسخیر بنانے والے پر غداری کا الزام لگایا جارہا ہے۔ فیصلہ عوام الیکشن میں کردیتے ہیں۔ اس معاملے پر ماضی میں جانا ہے تو پارلیمنٹ ایک کمیشن بنادے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی طرف سے نواز شریف کے انٹرویو کے حوالے سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ نوازشریف کا بیان بھارتی میڈیا نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور یہاں پر اسے سیاسی مقاصد کے لیے پھیلایا جارہا ہے جبکہ نواز شریف اپنے بیان پر نظر ثانی کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ افسوسناک ہے، جسے انہوں نے مسترد کردیا۔ اسے بھی مخالفین نے بوکھلاٹ سے تعبیر کیا ہے اور معتبر حلقوں کا پر خلو ص مشورہ ہے کہ سیاسی صورتحال کی گیند بہرطور سیاست دانوں کے اپنے کورٹ میں رہنی چاہیے اور اسی پانی پت کا میدان نہ بنایا جائے۔ اگر بدقسمتی سے سیاستدانوں اور ریاستی اداروں کے درمیان مفاہمت اور خیرسگالی کا فقدان اور بے جا اعتمادی کی خلیج مزید گہری ہوگئی، قوم سیاسی تمازت اور اختلافات و الزامات کے دا ؤ پیچ سے سخت تنگ آجائے گی پھر حالات کسی کے بس میں نہیں رہیں گے۔ اپوزیشن بلاشبہ مشتعل اور مضطرب ہے، اس کے پاس اس کا جواب اور جواز بھی ہے۔ اسی طرح حکومت کی شکایات بھی لائق توجہ ہیں، ریاست کے اندر ریاست جمہوریت کے شایان شان نہیں ہوتی مگر ملک کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے جن سا یو ں نے اپنی لپیٹ میں لیا، وہ ہما رے کر مو ں ہی کا تو نتیجہ ہیں۔ خلائی مخلوق کی اصلا ح ا ستعما ل کر نے کے تنا ظر میں لاہو ر ہائی کورٹ نے نواز شریف کا بیان اور قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کی پریس ریلیز طلب کر لی تھی۔ نواز شریف حقائق اور ملکی سیاست کے پوشیدہ رازوں اور زخموں سے چُور سسٹم کو تکلیف دہ قرار دیتے ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کا انداز نظریہ ہے کہ اس بیان سے دشمن ملک کو فائدہ پہنچا۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ سیاسی ٹکراؤ سے پارلیمانی اور جمہوری اساس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس لیے ضرورت افہام و تفہیم اور رواداری کی ہے۔ احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر سابق وزیر اعظم نواز شریف، ڈاکٹر مصدق ملک اور پرویز رشید کے ساتھ کسی موضوع پر طویل صلاح مشورہ کرتے رہے جو وقت کی ضرورت بھی ہے۔ ن لیگ دو بیانیوں کے درمیان پھنس کر ر ہ گئی ہے۔ نواز شریف اور مقابل قوتوں کو جنگ بندی کی طرف آنا ہوگا، نیا انتخابی معاہدہ عمرانی انتہائی ناگزیر ہے۔ تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔ لہجوں کی تلخی میں کمی حا لا ت کی نا گز یر ضر و ر ت بن چکی ہے۔ جمہوریت کو بے وقار نہ ہونے دیا جائے، خطے کی صورتحال کا ادراک ناگزیر ہے۔
ایک ا ہم امر پر رو شنی ڈا لنے کی ضر و رت کچھ یو ں ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیتی نے چیئرمین نیب کو ما ہِ رو ا ں کی سو لہ تا ر یخ کو طلب کیا تھا ۔اس مو قع پر اپوزیشن کے بعض اراکین کا کہنا تھا کہ اس سے اداروں کی تحقیر ہوگی، ادارے کمزور ہوجائیں گے۔ لیکن معاملہ پر قانونی بنیادوں اور ثبوتوں کے حوالہ سے اگر موقف اپنایا گیا ہے تو اس کے لیے حقیقی پوزیشن واضح ہونی چاہیے۔ ملکی سیاست کولہو کا بیل بننے کے بجائے دیگر امور حیات کو بھی اپنے حصار میں لے۔ مثلاً قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن چاہتا ہے، ہمسایہ ملک الزام تراشی سے گریز کرے کیونکہ یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ علا وہ ا ز یں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کا بیا ن بھی ا ہمیت کا حا مل ہے جس کے مطا بق ان کا کہنا تھا کہ اے این پی روز اول سے جمہوریت کی بالادستی، آئینی و قانونی اور عدم تشدد کی بنیاد پر اپنی جدوجہد پر یقین رکھتی آئی ہے۔ بہتر ہو گا کہ ا سفند ولی یا ر ا پنے اس بیا نیئے کو پو رے ملک کے مجمو عی مفا د کو سا منے رکھتے ہو ئے آ گے کی جا نب بڑ ھا ئیں۔


ای پیپر