گو سلو
20 مئی 2018 2018-05-20

دارالحکومت کا منظر ویسا ہی ہے جیسا کسی بھی رخصت ہوتی حکومت کے آخری ایام میں ہوتا ہے۔ سرکاری باپوؤں نے ایک نہایت جامع اصطلاح نکالی ہے۔ گھاگ افسر نے وقت گزاری کرنی ہو تو،سائل کو ٹالنا ہو،سیاسی باس کو ٹرخانا ہو تو منہ پر نہ نہیں کرتے۔بلکہ سلو گو کا اشارہ کر دیتا ہے۔کام بھی نہیں ہو تا لیکن سائل آخری دم تک آس لگائے رہتا ہے۔ آخر وہ وقت آ جاتا ہے جب سیاسی باس کو اچانک الوداعی جانے کا دعوت نامہ موصول ہوتا ہے۔ یہ دعوت بظاہر تو ماتحت عملہ کی جانب سے ہوتی ہے لیکن جاتی سرکار کے ہی کھاتہ میں ہے۔ وفاقی دارالحکومت بھی ماہ مئی کے آخری عشرے میں گو سلو کے نرغے میں ہے۔ رمضان المبارک کی وجہ سے دفتری اوقات بھی کم کر دیے جاتے ہیں۔لہٰذا سیاسی باپوؤں کیلئے بچ نکلنے کے سو بہانے ہیں۔ گو سلو کا پنجابی میں ترمیم لارا لپا ہی بنتا ہے۔ حکومت کی آئینی مدت کے خاتمے میں صرف 9 دن باقی ہیں۔دفاتر میں حو کا عالم ہے۔قومی اسمبلی کے اجلاس کی وجہ سوکچھ رونق ابھی تک قائم ہے۔اگلے دو روز میں یہ رونق بھی ختم ہو جائے گی پھر پیچھے رہ جائے گی سینیٹ آف پاکستا ن۔سکہ چلے گا الیکشن کمیشن آف پاکستان کا۔حکم ہو گا نگران حکومت کا۔جس کے پاس گنتی کے دن تہہ شدہ تعداد میں راتیں محدود مینڈیٹ ہوتا ہے۔ چار لوگ جو سمندر کی لہریں گننے سے بھی منفعت کی کوئی صورت حال نکال لیتے ہیں۔وہ ان گنے چنے دنوں سے بھر پور استفادہ کرتے ہیں۔چند ہفتے پہلے ایک محفل میں جن کے شریک مری کے عباسی قبیلہ کے دبنگ سپوت شاہد خاقان عباسی بھی تھے۔ یہ تو بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ تا دم تحریر ملک پاکستان کے وزیر اعظم ہوا کرتے ہیں۔ میزبان اس خصوصی محفل کے جناب وزیر اعظم کے خصوصی مشیر تھے۔ اپنے تئین جناب مشیر خاص ابلاغی ماہر ہیں۔ ادویہ سازی سے ماہر ابلاغیات کا سفر انہوں نے کیسے کیا۔ اس پر تاریخ اور مورخ دونوں خاموش ہیں۔بہر حال پانچ سال سے ان کا کاروبار چل رہا ہے۔سکرین پر بھی رونق افروز ہوتے ہیں۔ سو احوال اس میٹنگ کا یہ ہے کہ جیسے ہی حاکم وقت سے سوال کیا کہ نگران وزیر اعظم کون ہو گا تو فوری بولے کہ ایسا تو ہر گز نہ ہو گا جیسے ’’وہ‘‘ تھے۔پھر انہوں نے اس ’’وہ‘‘کا نام لیا۔ اور بولے کہ جس روز انہوں نے ٹیک اوور کیا اسی روز سیکرٹریٹ میں صاحبزادہ نے دوکان کھول لی تھی۔ مسئلہ کوہ مری کے اس لکی سیاستدان کا یہ ہے کہ ان سے اداکاری نہیں ہوتی۔ جو کہ ہر کھرے بندے کی نشانی ہوا کرتی ہے۔ بتاتے گئے کہ پلاٹوں کی واردات کے علاوہ اصل دوکانداری ممنوعہ بوراسلحہ کے پرمٹوں پر ہوئی۔تعداد بتائی جو اتنی تھی کہ پوری فوج اتنے اسلحہ کے بل بوتے پر کھڑی کی جاسکتی ہے۔ زر نقد بطور وصولی جو اس حاکم وقت نے بتایا۔اتنی اماؤنٹ کا تھا کہ اتنی گنتی بھی اس نو کر پیشہ قلمکار کو نہیں آتی۔کہنے لگے دل کی بات بتاؤں میرا بس چلے تو کسی ’’سابق‘‘کو نگران نہ بناؤں۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نگران کی تقرری کیلئے اصلاح و مشورہ جاری ہے۔ منگل کی ڈیڈلائن طے ہوئی ہے۔نام جو بھی ہے حکومت نہ اپوزیشن کوئی بھی کریڈٹ لینے کیلئے تیار نہیں۔ کسی با خبر سے پوچھا تو بولے حالت ایسے ہیں کہ کوئی بھی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں۔ پوچھا وہ کیوں؟ بولے الیکشن اور اس کے نتائج پوسٹ الیکشن نقشہ ایسا ہے کہ کوئی اس کا بوجھ اٹھا نے کیلئے تیار نہیں۔ ساتھ ہی کہنے لگے یہ کمپنی زیادہ دیر چلتی نظر نہیں آتی۔شاید زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑے اور نگران کا تقرر جلد از جلد ہو جائے۔ ابھی کل کی بات ہے میڈیا سے متعلقہ محکمہ کی راہداریوں میں آبلہ پائی کا موقع ملا۔کچھ اعلیٰ افسروں کو حجان کی حالت میں ٹائی سمیت کسی کا نمبر ڈھونڈتے دیکھا۔ خاکسار سے بھی استفسار ہوا۔اوہ بھائی او ہدا نمبر تے دیو۔پوچھا کس کا۔نام بتایا گیا تو نمبر دیدیا۔پوچھا خیریت ہے۔کہنے لگے کہ متوقع منسٹر انفارمیشن کی لسٹ میں ٹاپ پر ہیں۔فوراً جواب دیا۔ بھائی ان کے علاوہ کچھ اور پتر کار بھی امید سے ہیں۔فوری بات کاٹی اور کہا کہ بھائی آج صبح سے یہ نمبر ون پر ہیں۔کل کا پتہ نہیں دل نے گواہی دی کہ اگر موصوف اچانک سینئر تجزیہ نگار کے درجہ اْتم پر پہنچ سکتے ہیں تو وزارت کیا چیز ہے۔ کل سے مجوزہ وزیر کی تلاش میں ہوں۔ فی الحال رابطہ نہیں ہوا۔حالانکہ گزشتہ سال تو موصوف مجوزہ وزیر نے بندہ مزدور کو دعوت افطار پر بھی مدعو کیا تھا۔ خوشی کی بات ہے کہ پے در پے صحافیوں کے وزیر بننے کے بعد اس وزارت پر اہل صحافت کا حق فائق ہو گیا ہے۔جو بھی آئے گا اپنا پیٹی بھائی ہی ہو گا۔ بات کہاں سے چلی اور کدھر نکل گئی۔بیو رو کریسی اور روایتی سیاستدان۔ دونو ں کا خمیر ایک ہی مٹی سے اٹھا ہے۔ کہتے ہیں کہ اچھا قابل انتخاب سیاستدان اور اچھا بیوروکریٹ وہ ہے جو تبدیلی کی بو اس وقت سونگ لے جب ابھی وہ بہت دور ہو۔ شاید دارالحکومت میں بھی ایسا ہی ہے۔5 وفاقی سیکرٹری لمبی تعطیل پر ہیں۔ صوبائی دارالحکومتوں میں بھی ایسی ہی کیفیت ہو گی۔جو عملہ حاضر ہے وہ بھی کوشا ں ہیں کہ صاحب یا صاحبہ کا سامنا کم سے کم ہو۔مبادہ کوئی مشکل کام کرنا پڑ جائے۔بڑے افسر تو خیر نئی پوسٹنگ کیلئے لابنگ میں مصروف ہیں۔جبکہ چھوٹے اپنی تھال بچانے کے چکر میں۔ ایسی ہی کیفیت روایتی سیاستدانوں کی ہے۔ اعلیٰ سطح کے افسر اور روایتی سیاستدان تو ویسے بھی مفادات کے علاوہ خون کے رشتہ میں بندھے ہوئے ہیں۔ایک بھائی سیاست میں ہے تو دوسرا ملازمت میں۔ملازم پیشہ طواف کوچہ جاناں میں مشغول ہیں جبکہ اہل سیاست ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے منہ ول بنی گالہ شریف کا ورد کرتے ہوئے بگٹٹ بھاگتے جا رہے ہیں۔ بس کسی نہ کسی طرح سہرنگا پٹکا گلے کی زینت بن جائے۔بعض تو یہ بھی بھول گئے کہ انہوں نے چند مہینوں میں تیسری مرتبہ پارٹی بدلی ہے۔جھنگ سے خاتون رکن قومی اسمبلی پیر آف سیال شریف کے جلسہ فیصل آباد میں گئیں۔مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔خوب تالیاں بجیں۔ چند روز قبل ہانپتے کانپتے بنی گالہ پہنچی پی ٹی آئی جوائن کی ایک مرتبہ پھر مستعفی ہوئیں۔ رپورٹروں کا انبار تھا۔لیکن کسی نے نہ پوچھا کہ بی بی وہ پرانا استعفیٰ کیا ہوا۔ایک دوڑ ہے جو جاری ہے۔پی ٹی آئی کی قیادت تالیاں بجا کر سیاسی مسافروں کو خوش آمدید کہہ رہی ہے۔ اور کارکن پریشان ہیں بوجھ زیادہ ہو گیا ہے تو کشتی ڈوب جائے گی۔کشتی والوں کو فکر نہیں تو دوسرے کون ہوتے ہیں۔
حکومت کی آئینی مدت کے خاتمے سے صرف نو دن۔پہلے حکمران جماعت نے بجٹ بھی منظور کر لیا۔فاٹا کے انضمام کا بل بھی پاس ہو چکا۔یہ آئینی کارنامہ مسلم لیگ کے کریڈٹ میں جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) شاید واحد جماعت ہو گی جس کی اچھی کارکردگی اس کا ڈس کریڈٹ بن گئی۔ اسی صورت حال کو بھانپ کر نواز شریف نے اپنی سیاسی کشتیاں جلا دی ہیں۔آر یاپار ان کو معلوم ہے کہ وہ بیانیہ یا الیکشن میں سے ایک چیز بچا پائیں گے۔ ان کی ترجیح بیانیہ لگتی ہے۔


ای پیپر