فلسطین کا مسئلہ
20 مئی 2018 2018-05-20

14 مئی کو ہزاروں فلسطینی نوجوان ، بچے ، بوڑھے اور خواتین اس دیوار کے قریب جمع ہوئے جو اسرائیل نے اپنے غیر قانونی قبضے کو تحفظ دینے اور فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے لئے غیر قانونی طور پر تعمیر کی ہوئی ہے۔ فلسطینی امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کے خلاف احتجاج کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ جس وقت صدر ٹرمپ کا داماد اور بیٹی اسرائیلی حکمرانوں کے ساتھ مل کر سفارت خانے کی منتقلی کا جشن منا رہے تھے، قہقہے گونج رہے تھے، مسکراہٹوں کا تبادلہ ہو رہا تھا تو عین اسی وقت غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر جمع ہونے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوجی گولیوں کی بارش کر رہے تھے۔ اسرائیلی نشانے باز تاک تاک کر نوجوانوں، بچوں اور خواتین کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنا رہے تھے۔ جب بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا جشن ختم ہوا۔ اسرائیلی حکمران اور امریکی سفارت کار ایک دوسرے کو مبارکبادیں پیش کر چکے تب تک 60 فلسطینی اسرائیلی سفاکیت اور وحشت کا نشانہ بن کر شہید ہو چکے تھے۔ گولیاں لگنے اور آنسو گیس کے گولوں کی زد میں آ کر 2700 فلسطینی زخمی ہو چکے تھے۔

اسرائیلی فوجی طاقت ، سفاکیت اور ننگی جارجیت کا مظاہرہ پوری دنیا نے دیکھا۔ مگر امریکہ اور اسرائیل آج بھی بضد ہیں کہ اسرائیل نے یہ سب کچھ اپنے دفاع میں کیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسرائیل پر کسی دوسرے ملک کی فوج نے حملہ کر دیا تھا؟ کیا حملہ آور ٹینکوں، A.K47 اور دیگر جدید اسلحے سے لیس تھے ۔ کیا انہوں نے اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں پر گولیاں برسائی تھیں۔ اگر یہ سب کچھ نہیں ہوا تھا تو اسرائیل کے پاس نہتے اور پرامن احتجاج کرتے فلسطینیوں پر اندھا دھند گولیاں چلانے کا کیا جواز تھا؟ یہ سب کچھ کسی جنگل یا دور دراز علاقے میں نہیں ہوا بلکہ بیت المقدس سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر یہ سب کچھ ہوا۔ یہ کیسا دفاع تھا جس میں اسرائیلی فوجیوں پر کوئی گولی نہیں چلی مگر اسرائیلی فوجیوں نے ہزاروں گولیاں چلائیں۔ یہ اسرائیل کی کھلی ریاستی دہشت گردی اور جارحیت تھی۔ یہ ایک کھلا قتل عام تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر ٹرمپ امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ اسرائیلی حمایتی صدر ہیں۔ وہ مسلسل اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی پامالی کو نظر انداز کر رہے ہیں اور روایتی مذمتی بیانات بھی جاری نہیں کر رہے جو کہ عموماً امریکی صدور جاری کرتے رہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیاں مشرق وسطیٰ میں نئی جنگوں کو ہوا دے رہی ہیں جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کا خطہ مزید عدم استحکام اور تباہی کا شکار ہو گا۔ اسرائیل غزہ میں حماس کی موجودگی کا بہانہ بنا کر بے گناہ شہریوں کو قتل کر رہا ہے۔ اسرائیل کی حکمت عملی بہت سادہ ہے۔ زمینوں پر قبضہ کرو، لوگوں کو گھروں سے زبردستی بیدخل کر دو اور غیر قانونی دیوار تعمیر کر کے اپنے قبضے کو جاری رکھو۔ جب فلسطینی اس قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کریں، اپنی زمینوں کی واپسی کی بات کریں اور اس غیر قانونی اور نفرت کی دیوار کو گرانے کا مطالبہ کریں تو ان پر چڑھ دوڑو۔ ان مطالبات کے جواب میں ان کو موت دو، تباہی مسلط کرو اور ان پر ظلم و سفاکیت کی انتہا کردو۔

فلسطینیوں کا اصل جرم اور قصور وہی ہے جو کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کا ہے کہ وہ آزادی کیوں مانگتے ہیں۔ وہ مزاحمت کیوں کرتے ہیں۔ وہ اس قبضے کو مانتے کیوں نہیں ہیں۔ وہ اپنی غلامی کو تقدیر سمجھ کر اس سے سمجھوتہ کیوں نہیں کرتے۔

اسرائیل اور امریکہ چاہتے ہیں کہ فلسطینی اپنی الگ ریاست کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں۔ جب 1948ء میں اسرائیل کے قیام کی منظوری دی گئی تھی تو فلسطینیوں سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کی الگ اور آزاد ریاست کے قیام کے اقدامات کئے جائیں گے مگر اب تک ایسا نہیں ہوا۔ اب انہیں کہا جا رہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو بھول جاؤ اور اسرائیل کی ریاست کے شہری بن جاؤ اور وہ بھی تیسرے درجے کے شہری۔ امریکہ دو ریاستی حل سے منحرف ہو چکا ہے اور اب یک ریاستی حل فلطسینیوں پر تھونپنا چاہتا ہے۔ امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس کے متنازع علاقے میں منتقلی ایک واضح پیغام ہے کہ فلسطینیوں کو اسرائیلی ریاست کے شہری بننا ہو گا اور وہ فلسطینی ریاست کو بھول جائیں۔

صدر ٹرمپ کی پالیسی بہت واضح ہے کہ وہ فلسطینیوں کے حوالے سے اسرائیل کو مکمل فری ہینڈ دینے کے قائل ہیں تاکہ اسرائیل کو شام اور ایران کے خلاف کھلی جارحیت کے لئے استعمال کیا جا سکے۔

اس وقت اسرائیل کو غزہ میں کسی مسلح جدوجہد کا سامنا نہیں ہے بلکہ اسے ایک عوامی مزاحمت کا سامنا ہے جو کہ 1948ء میں مہاجر بنائے گئے فلسطینیوں کو واپس اور غزہ کے بارہ سالہ محاصرے اور ناکہ بندی کے خاتمے کے مطالبات کر رہے ہیں۔ اسرائیل کے تمام تر جبر، سفاکیت اور وحشیانہ تشدد کے باوجود تحریک تقویت پکڑتی جا رہی ہے۔

فلسطینی نوجوانوں کو امریکہ ، حماس اور فلسطینی اتھارٹی سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں۔صدر ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کی وہاں منتقلی نے اس تحریک کو مزید آگ لگائی ہے۔ یہ امریکہ کی جانب سے ایک شعوری کوشش ہے۔ تاکہ فلسطینیوں کے اہم ترین قومی مطالبے کو نظر انداز کیا جائے۔ یہ اشتعال پھیلانے کی شعوری کوشش ہے۔ امریکی سفارت خانے کی منتقلی کی تاریخ 14 مئی بھی جان بوجھ کر رکھی گئی کیونکہ 15 مئی کو اسرائیلی ریاست کے قیام کے 70 سال پورے ہو رہے تھے۔1948ء میں جب اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کیا گیا تو اس کے نتیجے میں 7 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑے تھے۔ فلسطینی اس دن کو تباہی کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔

فلسطینی نوجوان جانتے ہیں کہ ان کا مقابلہ دنیا کی جدید ترین اور مسلح ترین فوجی طاقت سے ہے۔ جو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہے جس کے پیچھے تمام مغربی طاقتیں کھڑی ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی پاس نہ تو ہتھیار ہیں اور نہ ہی جدید مسلح فوجی طاقت بلکہ ان کے اندر آزادی کا جذبہ ہی وہ واحد طاقت ہے جو کہ انہیں لڑنے اور مزاحمت کرنے پر اکساتی ہے۔ ان کے پاس تو پتھر ہیں۔ پتنگیں ہیں اور ٹائر ہیں جنہیں جلا کر وہ ان کا دھواں اسرائیل کی طرف بھیجتے ہیں اور جواب میں انہیں سیدھی گولیاں ماری جاتی ہیں۔ فلسطینی نہتے عوام کا سامنا دنیا کی جدید ترین اور مسلح فوج سے ہے۔ وہ تو آنسو گیس کے شیل ٹینس کھیلنے والے ریکٹوں سے واپس اسرائیل کی طرف پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ تو بس اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں آزادی چاہئے۔ دنیا اپنے وعدے کو پورا کرے۔ فلسطینی نوجوان انسانی جذبے ، ہمت اور بہادری کی نئی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔وہ ناقابل برداشت اذیتوں، تکالیف اور حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اسرائیلی بندوقوں اور گولیوں کا مقابلہ اپنے عزم ، انقلابی دلولے اور حوصلے سے کر رہے ہیں۔ وہ روز اپنے دوستوں اور پیاروں کی لاشیں اٹھاتے ہیں، انہیں دفن کرتے ہیں اور دوبارہ سرحد پر جمع ہو کر اسرائیلی جارحیت ، سفاکیت اور قبضے کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ وہ ہر روز اس عزم اور ارادے سے احتجاج کے لئے نکلتے ہیں کہ شاید سویا ہوا عالمی ضمیر جاگ جائے اور اسے اسرائیلی مظالم اور ریاستی دہشت گردی نظر آ جائے۔

اسرائیل نے غزہ کو ایک کھلے جیل خانے میں تبدیل کر دیا ہے۔ فلسطینی نوجوان جس قسم کے حالات میں پروان چڑھ رہے ہیں ان حالات میں آزادی اور مزاحمت کے سوا کوئی دوسرے خیالات ، سوچ اور خواب پروان ہی نہیں چڑھ سکتے۔

18 لاکھ افراد 40 کلومیٹر لمبی اور 6 سے 12 کلومیٹر چوڑی زمینی پٹی پر زندگی گزار رہے ہیں۔ اسرائیل نے 12 سالوں سے خشکی ، ہوائی اور سمندری راستوں کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔ اس عمل میں مصر کی حکومت بھی اسرائیل کی معاون ہے۔

فلسطینیوں کو ایک طاقتور ، آزاد اور خود مختار ریاست کی ضرورت ہے تا کہ فلسطینی باعزت ، خوشحال اور آزاد زندگی گزار سکیں۔

فلسطین کا ہنوز حل طلب مسئلہ عالمی ضمیر ، شعور اور فکر پر ایک بوجھ ہے۔ فلسطینیوں کو 70 برس سے مسلسل ناانصافی ، جبر، سفاکیت اور ریاستی تشدد کا سامنا ہے۔ یہ جمہوریت ، اعلیٰ انسانی اقدار ، انسانی حقوق ، آزادی اور برابری کے عالمی دعویداروں کے لئے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ یہ ان کی منافقت اور جھوٹے وعدوں کی ایک مثال ہے۔


ای پیپر