امریکہ : ایک متشدد اور مریضانہ معاشرہ
20 مئی 2018 2018-05-20

کتنا عجیب لگتا ہے کہ جب ایک تیسری دنیا کا ایک نسبتاً جاہل شخص جب امریکہ جیسے ترقی یافتہ اور تہذیب کے نمائندہ ملک اور اس کے شہریوں کو متشدد اور مریضانہ کا خطاب دے۔ بالکل میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں تیسری دنیا کے ایک غریب ، جہالت میں لتھڑے ہوئے ، کمزور اور دھتکارے ہوئے ملک پاکستان کا ایک عام فرد امریکی سماج میں عوامی اجتماعات اور تعلیمی اداروں میں معصوم جانوں کی ہلاکت کے اعداد و شمار اکٹھے کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچا کہ امریکی معاشرے کواس کے صدر سمیت نفسیاتی علاج کی اشد ضرورت ہے۔ نفسیاتی مریض قابلِ نفرت نہیں بلکہ قابلِ ہم دردی ہوتے ہیں لہٰذا پاکستانی اپنے دل میں امریکیوں کے لیے ہم دردی کا جذبہ رکھتے ہیں اسی ہم دردی کے جذبے کے تحت ہم نے ریمنڈ ڈیوس اور کرنل جوزف کو سکہ رائج الوقت نامعلوم ڈالرز کے عوض امریکیوں کے حوالے کردیا لیکن انکل سام نے آج تک ہماری عافیہ صدیقی اور نجانے کتنے افراد واپس نہیں کیے۔لہٰذا یہ بات تو طے ہے کہ پاکستانی ایک نرم دل قوم واقع ہوئے ہیں ۔ ہم اتنے نرم دل ہیں کہ بڑ ے سے بڑا دکھ بھول جاتے ہیں بھلے ملک کا دو لخت ہونا ہو یا قوم کا لخت لخت ہونا ، ہم بھول جاتے ہیں ۔کھیل اور دکھ ہمیں متحد رکھتے ہیں لہٰذا ہمیں متحد رکھنے کے لیے دکھ اور کھیل وقتا فوقتا اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں ۔ خیر بات ہورہی تھی امریکہ کی۔ حال ہی ایک امریکی تعلیمی ادارے میں سترہ سالہ نوجوان کی طرف سے ریوالور سے فائرنگ کے نتیجے میں ۱۰ طالب علم ہلاک جب کہ ۱۰ ہی طالب علم زخمی ہوگئے۔ جس مشکوک سترہ سالہ نوجوان کو اس واقعے کے ذمہ دار کے طور پر زیرِ حراست رکھا گیا ہے اس کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس نے یہ ریوالور اپنے والد سے حاصل کیا ۔ تاہم اس کا اس عمل سے قبل کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ملتا۔تاہم اس نوجوان کی چند دن قبل فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک تصویر ملی ہے جس میں اس نے جو شرٹ زیب تن کی تھی اس پر تحریر ہے "Born to Kill"۔ امریکہ میں عوامی اجتماعات اور تعلیمی اداروں میں اسلحے سے قتل و غارت گری کے اعداد و شمار نہایت بھیانک ہیں۔ ۲۰۱۷ کے ایک سروے کے مطابق چالیس فی صد امریکیوں کے پاس اسلحہ موجود ہے یعنی نصف سے دس فی صد کم امریکی آبادی اسلحہ بردار ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں اس قسم کے مشینی اسلحہ سے مقامی قتل کی وارداتوں میں امریکہ سب سے آگے ہے۔۲۰۱۶ کے ایک سروے کے مطابق امریکہ میں ۶۴ فی صد قتل Guns سے ہوئے۔ جب کہ برطانیہ میں اس کی شرح چار اعشاریہ پانچ فی صد ، کینیڈا میں تیس فی صد ، جب کہ آسٹریلیا میں تیرہ فی صد رہی۔ فی سو گھرانوں میں اسلحے کی شرح امریکہ میں ۹۰ ہے اور اس لحاظ سے امریکہ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ جب کہ دوسرے نمبر پر یمن ، تیسرے پر سوئٹزر لینڈ ، چوتھے پر فن لینڈ، پانچویں پرقبرص ، چھٹے پر سعودی عرب ، ساتویں پر عراق ، آٹھویں پریورا گوئے ، نویں پرکینیڈا جب کہ آسٹریا دسویں نمبرپر ہے۔ ۲۰۱۴ میں امریکہ میں ۵۹۴،۳۳غیر طبعی اموات ہوئیں جن میں سے ۸۳۶،۲۱ افراد نے خود کشی کی جب کہ ۰۰۸،۱۱ افراد کو Guns سے قتل کیا گیا۔ایسے ہی ۲۰۱۵ میں اسلحے سے امریکہ میں ۳۵۲،۳۶ افراد کی موت ہوئی جس میں سے ۰۱۸،۲۲ افراد نے اسلحے سے خود کشی کی جب کہ ۹۷۹،۱۲ افراد اسلحے سے قتل کیے گئے۔جب کہ یکم جنوری ۲۰۱۸ سے ۱۹ مئی ۲۰۱۸ تک ۲۸۶،۱۶ افراد امریکہ میں خود کشی کرچکے ہیں جب کہ ۶۳۹۶ افراد کو اسلحے کی نوک پر موت کی گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ابھی سال کے پانچ مہینے ہی گزرے ہیں ۔امریکی ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ حالانکہ ایسا کرنا امریکہ سمیت ہر اس طاقت ور ملک کا حق ہے جس کے سامنے تمام دنیا صف باندھ کر کھڑی ہو۔ کم زور ممالک کے حقیر عوام کا قتال تو سمجھ میں آتا ہے تاہم یہ کہاں کا ’’انصاف‘‘ ہے کہ اپنے ہی عوام کو مارا جائے؟ اپنے عوام کو مارنا ایک تہذیب یافتہ اور ترقی یافتہ قوم کے نمائندگان کو زیب نہیں دیتا ، یہ اعزاز تو تیسری دنیا کی حقیر اقوام کے حصے میں آنا چاہیے۔خیر انکل سام کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے یہ کون جانتا ہے۔ امریکہ نسلِ نو یا نسلِ تازہ دو چیزیں غلامانہ اعزاز کے ساتھ اپنے سینے سے لگاتی ہے ، ایک جنس کا کھیل اور دوسر اسلحے کا کھیل ۔ ہر دو سطح پر امریکہ میں جنسی اظہاریوں اور موت کے کھیل کو اس طور سے اختراعا گیا ہے کہ وہ ایک تہذیبی آدرش کے طور یا مہابیانیے کے طور پر متشکل ہوچکا ہے۔ ویڈیو گیمز ہوں یا بصری بیانیے ہر دو اظہاریوں میں یہی دو لوازمات اس طور پر تخلیق کیے جاتے ہیں ان میں مہارت اور ترفع کا اعجاز حاصل کرنا ہر دوسرے امریکی کا خواب بن چکا ہوتا ہے۔ جنس کاحوالہ کسی اور موقع کے لیے اٹھا رکھتا ہوں ، اسلحے کے زور پر سپر ہیروز بننا اور اپنے جیسے تہذیبی انسانوں کا قتال امریکی نسل کو ورثے میں ملا ہے۔ , Pin Ball , Pacman سے ہوتے ہوئے بالعموم دنیا اور بالخصوص امریکی سماج میں Street Fighter(1994), Mortal Kombat(1995)Wing Commander اور Taken سیریز کی ویڈیو گیمز سے لے کر Law & Order سیریز ، Darksiders , World warcraftکی ویڈیو گیمز اور تشدد کا سب سے بڑا قانونی مرکز یعنی WWE نے امریکی نوجوانوں کے یہاں ایک مقابلہ سازی کا رجحان پیدا کیا جس میں فتح و شکست کے لیے ان کے سامنے جو میدان تھے ان میں پہلا اور آخری مقابل انسان ہی تھا۔حیرت کی بات ہے کہ قریباً نصف کے قریب امریکی سماج اسلحے سے لیس ہے لیکن باوجویکہ مزاحمت کے مقامی بیانیوں کے امریکی حکومتیں تخفیفِ اسلحہ سے متعلق قانون سازی سے گریزاں ہیں۔یہی تشدد زدہ ذہنیت بعد ازاں ان کے عسکری بیانیے میں نظر آتی ہے بھلے اس کا اظہار وہ ابو غُرَیب کے زندانوں میں کرتے دکھائی دیں ، گنتانموبے کے عقوبت خانوں میں کرتے نظر آئیں یا نام نہاد War against terror میں دنیا کے مختلف ممالک بالخصوص مسلمان ممالک کے خلاف کرتے نظر آئیں، امریکی ایک بیمار ذہنیت کے معاشرے کے نمائندہ کے طور پر عالمی سطح پر دہشت کی ایک ایسی ویڈیو گیم کھیلتے نظر آئیں گے جس میں ان کی ہمرہی دیگر متشدد آمیز ممالک بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ امریکہ سمیت ان تمام ممالک کو سنجیدگی سے دنیا میں امن لانے سے قبل اپنی بیماری کا علاج کرانے کی شدید ضرورت ہے۔


ای پیپر