سالار کے نام ۔۔۔
20 مئی 2018 2018-05-20

بیٹا تم مجھے نہیں جانتے لیکن کچھ دن پہلے میں تو کیا ساری دنیا تمہارے نام سے واقف ہو چکی ہے۔۔۔یہ بھی تمہارے بابا کا تم سے پیار کا انداز ہے ۔۔۔ تمہارے عظیم بابا کرنل سہیل عابد راجہ جن کے ساتھ تم ان کی شہادت سے چند گھنٹے پہلے کوئٹہ کلب کے جم میں موجود تھے ۔۔۔ تمہیں خوشی سے سکوٹی چلاتے دیکھ کر ٹریڈ مل پر ان کی رفتار میں ہو سکتا ہے کچھ تیزی آ گئی ہو۔۔۔ تم سے محبت کا یہ عالم تھا کہ تمہارے گلے میں پھنسے پلاسٹک کے ایک ٹکڑے کو ( جسے کامیاب سرجری کے ذریعے نکال لیا گیا تھا ) بہت دنوں تک جیب میں رکھے پھرتے رہے ۔۔۔محض اس لئے کہ وہ ٹکڑا کچھ دن تمہارے جسم کا حصہ بنا رہا تھا ۔۔۔ایسا باپ اگر اپنے سالار کو چھوڑ کر جاتا ہے تو شاید اسے تم سے بھی زیادہ کسی چیز سے محبت ہو گی۔۔۔ تمہارے بابا کو پاکستان ، اس دھرتی ماں سے سب سے زیادہ محبت تھی جس کی عزت و حرمت کی حفاظت کے لئے انہوں نے فرنٹ لا ئن پر جا کر اپنی ڈیوٹی سے بڑھ کر، اپنی خوشی سے اپنے ساتھیوں کا سا تھ دیا اپنی جان کی پروا کیے بغیر ۔۔۔ تمہاری معصوم آنکھوں سے آنسو خشک کبھی نہیں ہوں گے لیکن تمہارے بڑھتے قد کے ساتھ ساتھ تمہاراسینہ بھی فخر سے پھولتا جائے گا۔۔۔ جب جب تم اپنے بابا کے بارے میں سنتے اور سمجھتے جاؤ گے ۔۔۔ تمہارے بابا نے اپنے سپہ سالار کی آواز پر لبیک کہا۔۔۔ ان برے لوگوں کو سزا دینے کو تیار ہو گئے جنہوں نے پاکستان کی زمین کو خون سے نہلانے کے منصوبے بنا رکھے ہیں۔۔۔سپہ سالار نے ایک بیٹی کی پکار پر بلوچستان جا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر وعدہ کیا تھا کہ اس کے قبیلے کے بیگناہ لوگوں کی موت کا بدلہ وطن کے دشمنوں سے ضرور لیا جائیے گا ۔۔۔تو تمہارے بابا نے اپنے'' سالار '' کو اللہ کے سپرد کیا اور بہت سارے سالاروں، ان کی بہنوں، ان کی ماؤں اور باپوں کو ظالموں سے بچانے چلے گئے ۔۔۔اور بیٹا تم جانتے ہو نا تمہارے بابا کو حضرت محمد مصطفیؐ سے کتنی محبت تھی ؟ وہ سال میں اکثر روزے سے رہتے تھے ۔۔۔ دوستوں کو رشتے داروں کو درود شریف بھیجا کرتے تھے ۔۔۔انہیں شہادت کا کس قدر ارمان تھا ۔۔۔تم جو اپنے بابا کے ننھے سے سالار ہو ۔۔۔ کل کو شاید اس قوم کے سالار بن جاؤ۔۔۔کہ اب ہمیں ایسی ہی نسلوں کی ضرورت ہے جن کی رگوں میں لہو کی جگہ وطن کی محبت گردش کرتی ہو ۔۔۔تم یہ بھی جانتے ہو گے کہ شہید مرتے نہیں ۔۔۔ان کا جسم ہم سے دور ہو جاتا ہے بس ۔۔۔ وہ کبھی جنت سے قریب آ کر اپنے پیاروں کے درمیان موجود رہتے ہیں ۔۔۔ انہوں نے، ان کے ساتھیوں نے ، تمہارے جیسے بہت سے سالاروں کے بابا ماما اور دوسرے پیاروں کو مارنے والوں کو سزا دی ہے۔۔۔ تم نے اپنے دادا کا حوصلہ دیکھا ہے نا۔۔۔ انہوں نے کتنے فخر سے اپنے شہید بیٹے کو سلیوٹ کیا ۔۔۔مگر ایک باپ کے دل پر جو قیامت گزری ہو گی جوان بیٹے کو کفن میں دیکھ کر ۔۔۔ وہ تو اسی کا دل جانتا ہو گا ۔۔۔ لیکن کیا حوصلہ تھا جب نم آنکھوں کے ساتھ اپنے بہادر بیٹے کے کفن کو انہوں نے چوما۔۔۔ کتنا دل دکھا ہو گا جب ان کے لاڈلے '' سالار '' نے ان کے ہر سوال کا جواب خاموشی میں دیا ہو گا ۔۔۔تمہارے بابا نے تمہیں بتایا ہو گا کہ وہ 90 لانگ کورس سے تھے جو خاص طور پر شجاعت اور بہادری کے کارناموں کی وجہ سے مشہور ہے ۔۔۔جس میں سیاچن اور کارگل کے خصوصی معرکے شامل ہیں جن میں بہت سارے شہیدوں نے اپنے لہو سے وطن کی لاج رکھی ۔۔۔ کیپٹن کرنل شیر شہید نشان حیدر کا تعلق بھی 90 لانگ کورس سے ہی تھا ۔۔۔ تمہارے بابا کے اسی لانگ کورس کو حیدری کورس بھی کہتے ہیں ۔۔۔کرنل سہیل عابد شہید نے مادر وطن اور حیدری کورس کی بھی لاج رکھی ۔۔۔معصوم ہزارہ والوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے خطرناک تین قاتلوں کو تو جہنم واصل کیا ۔۔۔

ایف سی کے محمد ادریس نے بھی تمہارے بابا کی طرح بہت سارے بچوں کو یتیم ہونے سے بچا لیا ۔۔۔ اور کتنے ہیں جو اس دھرتی پر اس دھرتی کے رہنے والوں پر قربان ہو رہے ہیں ۔۔۔شہید کا بیٹا ہونا بھی تو بہت بڑا اعزاز ہے نا۔۔۔ دنیا میں بھی اور اس جہاں میں بھی جہاں ہم نے ہمیشہ رہنا ہے ۔۔۔ اور سنو تمہارے بابا تمہارے ساتھ ہیں ہر لمحہ جب بھی پکارو گے وہ کسی نہ کسی طریقے سے تمہارے ہر مسئلے کا حل تمہیں دیں گے ۔۔۔وہ شہید ہیں ۔۔۔ میں سمجھتی ہوں تمہارے دکھ کو۔۔۔ دوسرے بہت سارے شہیدوں کے بچوں اور فیملی کے احساس محرومی کو محسوس کر سکتی ہوں ۔۔۔ لیکن اللہ تمہارے ساتھ ہے اور اپنے پیاروں کو ہی تو آزماتا ہے وہ ۔۔۔اس پاک وطن کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے غداروں اور سازشیوں کی اولادیں کیسے چھپ چھپ کر رہتی ہیں ۔۔۔کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں اور تم ۔۔۔ایک شہید کے بیٹے ہم سب کے لئے قابل احترام ہو ۔۔۔ اللہ تمہیں لمبی زندگی دے اپنے بابا کے سارے خواب پورے کرو ۔۔۔ اپنی ماما، تینوں بہنوں اور فیملی کا '' سالار '' بن کر دکھاؤ بیٹا ۔۔۔ ساری قوم کی د عائیں تمہارے ساتھ ہیں ۔۔۔ ان سب بچوں کے ساتھ ہیں جن کے گھر اجڑ گئے، جن کے والدین اور پیارے نا حق مارے گئے دہشت گردوں کے ہاتھوں ۔۔۔پولیس، پاک فوج اور ان تمام ہم وطنوں کے لئے ہم سر بسجود ہیں جنہوں نے بہت سارے بچوں کو یتیمی سے بچانے کے لئے اپنے گھروں کی خوشیاں قربان کر دیں ۔۔۔ بیٹا یہ عام انسان نہیں ہوتے یہ اللہ کے چنیدہ بندے ہوتے ہیں ۔۔۔اپنے ننھے ننھے ہاتھ اٹھاؤ اور دعا کرو اللہ اس دھرتی کو ظالموں غاصبوں سے نجات دلائیے۔۔۔ فلسطین کشمیر عراق شام یمن میانمار میں روتے بلکتے بے گھر مسلمانوں اور ان کے بچوں کو اسلام دشمن طاقتوں سے چھٹکارا حاصل ہو ۔۔۔سنا ہے اللہ بچوں کی دعائیں رد نہیں کرتا ۔۔۔اور تمہاری دعا کی قبولیت کی سفارش تو تمہارے شہید بابا خود کریں گے ۔۔۔سلامت رہو ۔۔۔


ای پیپر