سفلی علوم کے ماہر اور مافوق الفطرت ہستیوں کی مداخلت؟
20 مئی 2018 2018-05-20

مدثر عنایت بھٹی (جنات کے ساتھ گاؤں کے درختوں پر تاش کھیلنے والے) آج بھی غائب تھے رات بارہ بجے اُنھوں نے مجھے کچھ نئے لطائف سنائے جنہیں یاد کر کر کے میں ابھی تک لوٹ پوٹ ہو رہا ہوں ۔۔۔
رات مدثر بھٹی کے فون کے بعد حافظ عزیر احمد (گڑھی شاہو والے) کا فون آیا پوچھ رہے تھے جنات کے حوالے سے ضیاء الحق نقشبندی کے ایک Live پروگرام میں جانا ہے کوئی ٹپ دے دیں کہ جنات کی موجودگی کا کیسے پتہ چل سکتا ہے میں نے اپنے دوست آفتاب الرحمن کو فون کیا جن کا بیٹا سمیع الرحمن جامعیہ رحمانیہ، گارڈن ٹاؤن، لاہور میں مذہبی تعلیم حاصل کر چکا ہے اور آج کل ’’عامل‘‘ کورس کر رہا ہے جسے جنات، ہمزاد اور موکل کے حوالے سے تعلیمات بھی دی جا رہی ہیں ۔۔۔
میں نے حافظ عزیر احمد کو بتایا کہ جنات یا دوسری مخلوقات کبوتر، بلی یا دوسرے ایسے جانوروں یا پرندوں کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں اور بڑی سرعت سے دیوار میں یا کسی درخت سے ٹکراتے ہیں پھڑ پھڑاتے ہیں جس سے علم والوں کو پتہ چل جاتا ہے ۔۔۔
آجکل ہمارے ایک سیاسی ’’عامل‘‘ بھی خود کو ’’پہنچی ہوئی‘‘ شخصیت Show کر چکے ہیں اور اُن کے ’’عمل‘‘ سے لگتا ہے کہ وہ واقعی ’’پہنچی ہوئی‘‘ ہستی ہیں لیکن ۔۔۔ دکھ ہوا ۔۔۔ قبلہ خادم حسین رضوی صاحب کا یہ بیان سن کر کہ ۔۔۔ ’’میں رات تھکا ہارا گھر پہنچا تو لمبی لمبی بلیاں آ گئیں جو آپس میں لڑ رہی تھیں، دیواروں میں ٹکریں مار رہی تھیں‘‘ ۔۔۔
میں نے پوچھا ۔۔۔ ’’کیوں آئی ہو ۔۔۔؟‘‘ (یہ گفتگو ۔۔۔ بتایا نہیں گیا کہ کس زبان میں ہوئی؟)
وہ بولیں ۔۔۔ ’’آپ سے ملنے آئی ہیں ہم جنات ہیں اور بلیوں کے روپ میں ہیں۔۔۔
قبلہ خادم حسین رضوی نے ڈانٹا اور ارشاد فرمایا (وہ بتاتے ہوئے مسکرا رہے تھے سر تن پر بڑے بلب کی طرح روشن تھا) ۔۔۔’’یونہی وقت بے وقت منہ اُٹھائے نہ آ جایا کرو، ابھی میں تھک ہار یعنی تقریر کر کے آیا ہوں اور تم آ گئی ہو، عقل کیا کرو‘‘ ۔۔۔
لگتا ہے اُنھوں نے ’’سوری‘‘ کیا ہو گا اور وہاں سے بھاگ گئی ہوں گی اور شرمندہ بھی ہوئی ہوں گی بیچاری ’’جنات بلیاں‘‘ ۔۔۔
میں نے عرصہ اڑھائی سال مدرسہ میں گزارے، قرآن پاک حفظ کیا ۔۔۔ دینی لوگوں سے اب تک وابستگی بھی ہے مگر جنات کے ساتھ ایسی Frankness نہ دیکھی نہ سنی ۔۔۔؟ کوشش کے باوجود یہ مراد پوری نہ ہو سکی ۔۔۔ یہ ہم لوگ کدھر جا رہے ہیں ۔۔۔ ہمارے ارد گرد جو خوفناک کام ہو رہے ہیں، انسان درندہ بنا جا رہا ہے انسان بھول رہا ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے ۔۔۔ ڈراؤن حملے جاری ہیں، دنیا مریخ پر جا رہی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کا صدر بن چکا ہے ۔۔۔ احمد میٹرک میں پاس ہو گیا ہے ۔۔۔ عادل گلزار نے سترہ مئی کو ’’پورا‘‘ روزہ رکھا ۔۔۔ مدثر بھٹی نے موٹر سائیکل چلانا سیکھ لی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ مگر ہم مافوق الفطرت باتیں سنا سنا کر اپنا مذاق خود اڑا رہے ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ اسلام نے ہمیشہ جادو ٹونا کو شرک قرار دیا ۔۔۔ رہی بات جنات کی تو قرآن و حدیث میں ہمیں اس حوالے سے بہت کچھ ملتا ہے ۔۔۔ قرآن پاک میں ’’سورۃ جن‘‘ بھی موجود ہے اور جنات کی صفات بھی درج ہیں ۔۔۔
بابا یحییٰ خان سے لاہور کے الحمراء ہال میں ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا ۔۔۔ ’’حضور ’’پیا رنگ کالا‘‘ میں آپ نے جنات سے ملاقات اور جنات کے ایک سمندر کنارے میلے کا ذکر کیا ہے ۔۔۔ آپ جنات میں سے تو نہیں ۔۔۔؟‘‘ وہ ہنس دئیے اور ہنس کے سنجیدہ انداز میں بولے ۔۔۔ ’’حافظ مظفر محسن مجھے تو تو خود جن لگتا ہے؟‘‘ ۔۔۔ میں شرمندہ بھی ہوا اور پریشان بھی ۔۔۔ ہمارے چینلز پر بھی ایک ’’جن‘‘ آتا ہے اور قصور کے قصور وار ذلیل انسان جو دھبہ ہے انسانیت کے ماتھے پر۔۔۔ ’’جن‘‘ نے کہا ۔۔۔ ’’کہ اس کے اتنے زیادہ بینک اکاؤنٹس ہیں، اس کے کھاتوں میں لاکھوں ’’یورو‘‘ موجود ہیں یہ ورلڈ لیول کا گروہ ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ لوگ بے چارے اتنی لمبی ناک والے شخص سے متاثر تو نہیں ہوئے لیکن گھبرا گئے ۔۔۔ ہونٹوں پر زبانیں پھیرنے لگے ۔۔۔ اور ’’جن‘‘ کو پہنچی ہوئی ہستی تصور کرنے لگے ۔۔۔ ’’پھر جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے خود چینلز پر آ کر یہ بیان دیا کہ ’’اس بدبخت عمران کے حوالے سے ایک بھی بینک اکاؤنٹ موجود نہیں اور ’’جن‘‘ نے محض جھوٹی شہرت کے لیے بکواس فرمائی تھی‘‘ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ آخری خبریں آنے تک یہ جن تین ماہ کے لیے عدالتی حکم پر ’’پابند‘‘ ہو چکا ہے ۔۔۔ ہمارے ہاں ایسے بہت سے ’’جن‘‘ موجود ہیں جو ’’جن‘‘ تو لگتے ہیں مگر جنات والی خوبیاں اُن میں نہیں ہاں البتہ جنات والی خامیاں سبھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں ۔۔۔ یہ شخص شاید PHD ڈاکٹر ہو یا MBBS لیکن اسے بہر حال شرمندگی کا احساس نہیں ہوتا ۔۔۔ کبھی بھی ۔۔۔ یہ پانچ سال سے نواز شریف، شہباز شریف کی حکومتیں گرانے کا روز عندیہ دیتا آیا مگر حیرت ہوئی جب حکومت تقریباً اپنی مدت پوری کرنے کو ہے چاہے اب نواز شریف کی جگہ شاہد خاقان عباسی ہی سہی ۔۔۔ میں نے ایک دن نہ چاہتے ہوئے جھوٹ بول دیا ، سارا دن میں بار بار شیشہ میں اپنا منہ تکتا رہا ۔۔۔ بار بار تکتا رہا ۔۔۔ گھر والے پریشان ۔۔۔ حیران کہ بڑھاپے کی دہلیز پر حافظ مظفر محسن بار بار شیشہ کیوں دیکھ رہا ہے ۔۔۔ وجہ پوچھی تو میں نے عرض کی ۔۔۔ ’’بیگم صاحبہ آج جھوٹ بول گیا تو دیکھ رہا ہوں کہ چہرے پر لعنت پڑی یا نہیں؟ ‘‘ ۔۔۔ بیگم ہنس پڑی ۔۔۔ اور بولی ۔۔۔ ’’میاں لوگ ایک ایک دن میں سو سو جھوٹ بولتے ہیں لعنت نہیں پڑتی ہاں البتہ ’’لعنتی‘‘ کہلاتے ضرور ہیں‘‘ ۔۔۔
یہ ’’جن‘‘ اور اس جیسے ’’ ماہر جھوٹیات‘‘ ہر رات بیسیوں جھوٹ بولتے ہیں مرضی کی چھوڑتے ہیں اور عوام کو پریشان کرتے چلے جاتے ہیں ۔۔۔ کوئی ان کو روکنے ٹوکنے والا نہیں؟ ۔۔۔
آخر میں سب سے اہم خبر سن لیں ۔۔۔ یہ خبر پلیز آپ پوری توجہ سے سن لیں ۔۔۔ ورنہ ۔۔۔ میں ناراض ہو جاؤں گا ۔۔۔ کیونکہ آجکل ہم ایک ایسی بات کو پکڑ کر چیونگم کی طرح چبانے لگتے ہیں جس کا نوے فیصد عوام کو نہ کوئی فائدہ ہوتا ہے نہ ہی نقصان سوائے پریشانی کے ۔۔۔ صرف سیاستدانوں کی تشفی ہوتی ہے اُن کو دوسرے مخالف سیاستدان کو ذلیل کر کے مزہ آتا ہے ۔۔۔ وہ لوگوں کو اینکرز کے ہاتھوں ذلیل ہوتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔۔۔ کبھی کبھی تھپڑ بھی پڑ جاتے ہیں اور ’’توُ توُ توُ‘‘ ہر روز دیکھنے کو ملتی ہے ۔۔۔ اب تو مختلف بڑے چینلز پر ’’اینکرز‘‘ باقاعدہ مکمل طور پر سیاسی ہو چکے ہیں اور نواز شریف کو ’’لعن طعن‘‘ کرنے میں اپنا پورا حصہ ڈال رہے ہیں اور کمال بدتمیزی سے ’’مالکان‘‘ کی خوشنودی کے لیے وہ سب کچھ کہہ رہے ہیں جو عوام سننا پسند نہیں کرتے ۔۔۔
ایک کالم نگار کی حیثیت سے آج میں بھی آپ کو وہ خبر سناؤں گا جو صرف میرے لیے اہم ہے، آپ کے لیے وہ صرف ’’فضول‘‘ تحریر ہو گی ۔۔۔ مگر مجھے اس سے کیا آپ تو عادی ہیں ہر رات کچھ اینکرز کی بے سروپا باتیں سننے کے ؟ ۔۔۔ ’’ہماری گلی کے جمعدار نے نئی موٹر سائیکل ریڑھی لے لی وہ اُس موٹر سائیکل ریڑھی پر اب گھر گھر سے کوڑا کرکٹ اٹھا کر لاتا ہے اس ریڑھی کی اُس کو ماہانہ قسط بھی ساڑھے چار ہزار روپے دینا ہو گی ۔۔۔ اس موٹر سائیکل ریڑھی میں ’’بیک گےئر‘‘ بھی ہے‘‘ ۔۔۔ میں خوش ہوں ہمارا جمعدار بھی صاحب جائیداد ہو گیا ہے ۔۔۔
آپ یہ بکواس پڑھ کر ناراض ہوئے ۔۔۔ تو میں کیا کروں؟ مجھے میرے اخبار نے اجازت دی ہے جو مرضی لکھوں جس طرح رات دو گھنٹے ’’اینکرز‘‘ من مرضی کی باتیں کرتے ہیں اور خود کو مافوق الفطرت ہستی Show کرتے ہیں ۔۔۔
بہر حال میرے لیے اور میرے ’’عامل‘‘ دوستوں کے لیے یہ بات خوش آئند ہے کہ اب ہماری سیاست میں ۔۔۔ سفلی علوم سے وابستہ خواتین و حضرات کی مداخلت دکھائی دینے لگی ہے شاید وہ کوئی آنے والے الیکشن میں ’’کرشمہ‘‘ بھی دکھا پائیں لیکن ہم نے سفلی علوم اور اس سے وابستہ ہستیوں کے ساتھ ’’پچاس سال‘‘ گزارے ہیں ۔۔۔ ہمارے پاس آج بھی وہ ’’عامل‘‘ موجود ہے جس نے پہلے دن سے لے کر مشرف کے جانے تک ایک ہی بیان دیا تھا اور دس سال تک اپنا بیان نہیں بدلا تھا کہ ۔۔۔
’’مشرف دس سال اقتدار میں رہنے سے پہلے نہیں جائے گا‘‘ ۔۔۔


ای پیپر