بحرانوں کی ذمہ دار سیاست
20 مئی 2018 2018-05-20

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے ممبئی حملوں سے متعلق متنازع بیان بازی کیخلاف پورے ملک میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ قوم کا ہر طبقہ اس صورتحال پر انتہائی فکر مند ہے۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے علاوہ سول سوسائٹی، وکلاء، طلباء اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی اراکین پارلیمنٹ نواز شریف کے بیان کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں اور ہر طرف سے ازلی دشمن بھارت سے یاری ‘ ملک سے غداری کے نعرے گونج رہے ہیں۔صوبائی اسمبلیوں میں متنازع بیان کیخلاف قرار دادیں جمع کروا ئی گئی ہیں جبکہ عام شہریوں کی جانب سے مختلف شہروں میں سابق وزیر اعظم کیخلاف غداری کے مقدمات درج کروائے گئے ہیں اور ان کیخلاف فی الفور عدالتی کاروائی شروع کرنے کے مطالبات کئے جارہے ہیں۔ ملک میں اس وقت ایک ہیجان کی کیفیت ہے اور ہر کوئی اس بات پر پریشان ہے کہ ایسے حالات میں جب پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی پیداہوئی اور سفارت کاروں پر پابندیاں لگائی جارہی تھیں اچانک میاں نواز شریف کو ڈان لیکس والی متنازع رپورٹ شائع کرنے والے صحافی سرل المیڈا کو پورے پروٹوکول کے ساتھ بلا کریہ انٹرویو دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟میڈیا میں یہ رپورٹیں واضح طور پر شائع ہو چکی ہیں کہ اسے مشیر ہوابازی کے احکامات پر خصوصی طور پر ملتان ایئر پورٹ پہنچایا گیا ؟ اور یہ ہدایا ت بھی دی گئیں کہ سرل المیڈا کی کسی قسم کی چیکنگ نہ کی جائے۔ یوں بلا روک ٹوک اسے ملتان ایئرپورٹ کے ایپرن تک پہنچایا گیا اور پھر طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت ممبئی حملوں کے حوالہ سے یہ سب باتیں کی گئیں۔

نواز شریف نے اس انٹرویو سے چند دن قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے یہ دھمکی دی تھی کہ معاملات کو اس حد تک نہ لیجائیں کہ انہیں وہ راز افشا کرنا پڑیں جو ان کے سینے میں دفن ہیں۔حالیہ بیان بازی کو اسی دھمکی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے اور اسے پاک فوج اور ملکی سلامتی اداروں پر ڈان لیکس سے بھی بڑا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔جس دن سے یہ انٹرویو آیا ہے بھارتی کی بی جے پی سرکااور ان کے متعصب میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ وہ دن رات یہ زہر اگلنے میں مصروف ہیں کہ تین مرتبہ وزیر اعظم بننے والے پاکستانی سیاستدان نے انڈیا کا وہ موقف تسلیم کرلیا ہے جس کا وہ پچھلے دس سال سے ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا۔ بھارتی ٹی وی چینلز پر چلنے والے ٹاک شوز ، سوشل میڈیا اور اخبارات میں پاکستانی فوج اور ملکی دفاعی اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کی جارہی ہے۔ اب تو بھارتی میڈیا میں یہ رپورٹیں بھی شائع ہو رہی ہیں کہ مودی سرکا ر اس معاملہ کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر لیجانے کی کوشش کر رہی تاکہ پاکستان کو چہرہ بین الاقوامی سطح پر ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کیا جائے۔انڈیاماضی میں بھی یو این میں یہ قرار داد پیش کر چکا ہے تاہم اسے مسترد کر دیا گیا تھا لیکن نواز شریف کے متنازع انٹرویو کی بنیاد پر وہ دوبارہ اس معاملہ میں خاص طو رپر سرگرم دکھائی دیتا ہے۔ بھارت سرکار نے اس وقت عالمی سطح پر پاکستان کیخلاف زبردست سفارتی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔ افسوس اس امر کا ہے کہ محض ذاتی مفادات کی خاطر انڈیا کو پاکستان کیخلاف دہشت گردی کے پروپیگنڈہ کیلئے کھلا میدان فراہم کیا جارہا ہے۔مسلم لیگ (ن) کے بعض لوگوں نے یہ بات کر کے معاملہ کو کنفیوژ کرنے کی کوشش کی کہ نواز شریف کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے تاہم حقیقی صورتحال یہ ہے کہ آپ جس کے متعلق بات کر رہے ہیں وہ تو کسی طور پر اپنی غلطی تسلیم کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ میں متفقہ طور پر ممبئی حملوں کے مبینہ ملزمان کے پاکستانی ہونے سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کیا گیا۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے اس انتہائی اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس میںآرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجود، چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا، وزیردفاع انجینئر خرم دستگیر، مشیر قومی سلامتی ناصرجنجوعہ و دیگر نے شرکت کی اور متفقہ طور پر ایک پالیسی بیان جاری کیا گیا تاہم سابق وزیر اعظم نے پوری ڈھٹائی کے ساتھ اسے بھی مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ درست نہیں ہے۔ میں اپنے بیان پر قائم ہوں۔ غداری کی تو کمیشن بنائیں اگر غلط نکلوں تو سرعام پھانسی دے دیں۔دیکھنے میں آیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی بھارت سے دوستی اور تعلقات قائم کرنا ان کی بڑی کمزوری رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پشاور میں معصوم بچوں کی قتل و غارت گری کا افسوسناک سانحہ ہو، نیول بیس، پاک فضائیہ ایئربیس، جی ایچ کیو، پریڈ لین مسجد، واہگہ بارڈر، واہ کینٹ، پولیس لائن اور دیگر مقامات پر ہونے والے حملوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مداخلت کے ثبوت سامنے آئیں یا کلبھوشن یادیو جیسے بھارتی جاسوس اور حاضر سروس افسر پکڑے جائیں میں نواز شریف کی زبان سے کبھی ان کیخلاف ایک لفظ تک نہیں کہا ۔ انہوں نے مودی کے ذاتی دوست سجن جندال سے مری میں ملاقات کی ۔ ان کی شوگر ملوں سے انجینئرز کے روپ میں کام کرنے والے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ پکڑے گئے، اسی طرح نریندر مودی جاتی امرا پہنچ کر ان کی نواسی کی شادی کی تقریب میں شریک ہوئے اورشریف خاندان کے لوگوں سے ملاقات کی ۔اپنے دور اقتدار میں سابق وزیر اعظم نے بھارت کو موسٹ فیورٹ نیشن قرار دینے اوراسے افغانستان تک محفوظ تجارتی راہداری فراہم کرنے کی بھی بھرپور کوششیں کیں تاہم عوامی دباؤ کی وجہ سے وہ اپنے اس منصوبہ میں کامیاب نہ ہو سکے۔ میاں صاحب کی جانب سے ممبئی حملوں کے خلاف متنازع بیان بازی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب بھارت سرکار نے واویلا کیا تھاکہ ممبئی حملوں کا واحد بچ جانے والا ملزم اجمل قصاب پکڑا گیا اور وہ پاکستانی ہے تو سب سے پہلے نواز شریف نے غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے کہا تھا کہ وہ اوکاڑہ کے نواحی علاقے فرید کوٹ کا رہائشی ہے۔اس وقت بھی انڈیا نے بہت شور مچایا تھا۔ اس سارے عرصہ میں جب کبھی نواز شریف پر کوئی مشکل وقت آیا بھارتی تجزیہ نگاروں کی جانب سے بھارتی ٹی وی چینلز پر کہا جاتا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوا ز شریف کی حکومت باقی رہنی چاہیے کیونکہ انڈیا نے اس پر بہت سرمایہ کاری کی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ میاں صاحب یونہی یہ سب کچھ نہیں کر رہے انہیں صرف انڈیا ہی نہیں بعض دیگر بین الاقوامی قوتوں کی بھی سرپرستی حاصل ہے۔ جس طرح دیدہ دلیری سے وہ پاک فوج ، عدلیہ اور قومی سلامتی کے اداروں کیخلاف بیان بازی کر رہے ہیں اس کے بغیر یہ سب کچھ ممکن نہیں ہے۔ وہ روزانہ اپنی تقاریر میں ’’خلائی مخلوق‘‘ کہہ کر افواج پاکستان کا تمسخر اڑانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے وطن عزیز پاکستان کی سرحدوں کا دفاع کرتے ہوئے ہر مشکل وقت میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے مابین جنگیں ہوں، فتنہ تکفیر اور خارجیت کے سد باب کی کوششیں ہوں یا تکفیری گروہوں اور بیرونی ایجنسیوں کے آلہ کار دہشت گردوں کی تخریب کاری کچلنے کا معاملہ ہو پاک فوج کے سجیلے جوانوں نے ہمیشہ ملک کی سرحدوں کے دفاع کیلئے اپنا خون بہایا ہے۔ ہم صرف چند برسوں کے دوران کی جانے والی دہشت گردی کی وارداتوں اور مختلف آپریشن کے دوران ہونے والی شہادتوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ افواج پاکستان کے ہزاروں جوان اس میں شہید ہوئے ہیں۔ دیگر دفاعی اداروں کی قربانیاں اس سے الگ ہیں۔ہم کسی کے غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کرتے تاہم میاں نواز شریف جب خلائی مخلوق کہہ کر افواج پاکستان کا تمسخر اڑاتے ہیں تو درحقیقت وہ پاک فوج کے ان شہداء کے لواحقین اور دوسرے لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہوتے ہیں۔ پاک فوج کو کمزور کرنا اور اسے ملکی سیاست میں الجھانا دشمن قوتوں کا ایجنڈہ ہے۔ میاں صاحب جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں اس سے تو ایسے لگتا ہے کہ یہ کسی بھارتی لیڈر کی باتیں نقل کی جارہی ہیں لیکن ان کے یہ سب کرنے کے باوجود بھی ہندو بنیا خوش نہیں ہے۔ بی جے پی لیڈر کھل کر کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ نواز شریف صرف اپنی داخلی سیاست کیلئے متنازع بیان بازی کر رہے ہیں۔ انہیں یہ باتیں اس وقت کرنے کی توفیق کیوں نہیں ہوئی جب وہ اس ملک کے وزیر اعظم تھے؟۔ اللہ کا قرآن واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ یہودوہنود مسلمانوں سے کبھی خوش نہیں ہوں گے۔ اس لئے میاں صاحب جو چاہیں کر لیں انڈیا پھر بھی ان سے خوش نہیں ہو گا اور اسے جب کبھی موقع ملے گا وہ ان کی کمر میں خنجر گھونپنے سے باز نہیں آئے گا۔ پاک فوج کے شہداء اور سرحدوں کی حفاظت کیلئے قربانیاں دینے والے جوان جنہیں خلائی مخلوق کہہ کر ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے‘ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کی لاج رکھے گا اور یہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے۔


ای پیپر