اقلیتی جمہوریت
20 مئی 2018 2018-05-20

اندلس کی جلتی لائبریریوں سے میدان جنگ میں پڑے ٹیپو سلطان کے خون آلود جسد خاکی تک کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ریاستوں کو اصل خطرہ بیرونی حملہ آوروں سے نہیں بلکہ اندرونی بغاوتوں اور سازشوں سے ہوتا ہے ۔ مضبوط سے مظبوط قلعے اس وقت ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں جب قلعہ کی فصیل سے پیغام آلود تیر دشمن کی صفوں میں گرنے لگتے ہیں ۔سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے طویل عرصہ اس ملک پر حکومت کی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ اپنی حکومت کے ابتدائی برسوں میں پرویز مشرف پاکستان کے طاقتور ترین حکمران ثابت ہوئے تھے ۔ یہی پرویز مشرف اپنی کتاب میں ’’ جوابی وار ‘‘ کے عنوان سے ایک باب میں انکشاف کرتے ہیں کہ اس ملک کا تختہ الٹنے کے لئے صرف آٹھ سے نو آفیسرز کی ضرورت ہوتی ہے ۔ نواز شریف کا تختہ الٹنے کے لئے پرویز مشرف کے ساتھیوں کو دو طرفہ محاظ پر لڑنا پڑا تھا ۔ ایک طرف ان کے جہاز کا فیول ختم ہو رہا تھا لیکن جہاز کو پاکستان اترنے کی اجازت نہیں مل رہی تھی ۔دوسری جانب ان کے ساتھی وزیر اعظم کے خلاف ’’جوابی وار‘‘ شروع کر چکے تھے ۔ اگر پرویز مشرف کی بتائی صورت حال کو درست مان لیں تو پھر شاید سرکار گرانے کے لئے آٹھ آفیسر بھی زیادہ ہیں اور یہ کام چار سے چھ طاقتورآفیسر ز سر انجام دے سکتے ہیں ۔ یہ داستان جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب ’’ان دا لائن آف فائر ‘‘ میں تفصیل سے لکھی ہے جس کا اردو ایڈیشن ’’سب سے پہلے پاکستان ‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا ۔ یہ اس جمہوریت کی کل کہانی ہے جسے نواز شریف تین تہائی اکثریت کے ساتھ مضبوط ترین جمہوریت قرار دیتے تھے ۔
یہ بات طے ہے کہ فوج اب مارشل لا کی جانب قدم نہیں بڑھانا چاہتی ۔ پاکستان میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مسلسل دو سری منتخب پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کر رہی ہے ۔ اس دوران کئی بار ملک کو بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑا لیکن فوج حکومت کا تختہ الٹانے نہیں آئی۔ ماضی کے برعکس گزشتہ دس برس سے پارلیمنٹ اپنا سفر مسلسل طے کر رہی ہے جو خوش آئند بات ہے لیکن اس کے باوجود یہ بھی سچ ہے کہ جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکی اور ملک کو لاحق اندرونی خطرات کم نہیں ہو ئے ۔ جب ہم جمہوریت کی مضبوطی کا نعرہ لگا کر خوش ہو رہے تھے تب ہی یہ ثابت ہو گیا کہ ملک اندرونی طور پر مزید کمزور ہو چکا ہے ۔ 26 نومبر 2017 کو فیض آباد میں دھرنے کے شرکا سے اظہار یکجہتی کے نام پر پنجاب بھر میں وزرا کے گھروں پر حملے ہونے لگے ، جگہ جگہ آگ لگائی گئی ، اور عملی طور پر پورا پنجاب مفلوج کر دیا گیا ۔ اس احتجاج کے دوران لگ بھگ 52 پولیس اہلکار و افسران بھی زخمی ہوئے ۔ یہاں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ پنجاب بھر کو مفلوج کرنے کے لئے اس تحریک کو پورے صوبے میں زیادہ سے زیادہ 13075 افراد کی عملی حمایت حاصل تھی۔ پنجاب میں 76 جگہ احتجاج کرتے ہوئے راستے بند کیے گئے اور اکثر جگہوں پر صرف 40 سے 50 افراد احتجاج کا حصہ بنے تھے ۔ دیگر الفاظ میں جمہوریت اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ کوئی بھی تیرہ ہزار غیر مسلح اورغیر تربیت یافتہ افراد کا ہجوم اکٹھا کر کے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کو مفلوج کر سکتا ہے ۔ ایک قدم آگے بڑھیں تو حالات اس سے بھی زیادہ خطرناک نظر آتے ہیں ۔اگلے روز کلمہ چوک پر صرف دس نابینا افراد نے میٹرو بس سروس معطل کر کے میٹرو ٹریک بند کر رکھا تھا ۔ اس سے قبل محض 30 سے چالیس ینگ ڈاکٹر لاہور کی بڑی سڑکوں کو بند کر کے شہر کے مرکز میں پہیہ جام کر چکے ہیں ۔ محض 20 سے 25 ڈاکٹر سرکاری ہسپتال عملی طور پر یرغمال بنا لیتے ہیں ۔ جمہوریت اکثریت کی حکمرانی کا نام ہے لیکن ہمیں جس جمہوریت کا سامنا ہے اس میں اقلیت ہی اکثریت کے حقوق سلب کرتی نظر آتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ کیا ایک بڑے ملک کی جمہوریت صرف آٹھ نو طاقتور افسران کے ایک فیصلہ کی مار ہے ؟ سوال یہ بھی نہیں کہ کیا محض تیرہ ہزار غیر تربیت یافتہ افراد پنجاب کو فتح کر سکتے ہیں ؟ سوال یہ بھی نہیں کہ کیا محض ایک سکندر کئی گھنٹوں تک اسلام آباد کی سڑک بند کر سکتا ہے یا دس نابینا افراد لاکھوں افراد کو سفر کرنے سے روک سکتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ایسی نوبت کیوں آتی ہے؟ ۔ سوال یہ ہے کہ آخر جمہوریت کی وہ طاقت کہاں گئی جس کے بارے میں ہم ایسوں کو بتایا جاتا رہا ۔ میں نے تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ تیرہ ہزار کے ایسے ہجوم کو پولیس دس منٹ میں کنٹرول کرنے کی اہلیت رکھتی ہے لیکن جمہوریت کو مضبوط کرنے کا نعرہ لگانے والی ہماری پارلیمنٹ نے ہی جمہوریت کو کمزور کیا ہے ۔ جمہوریت اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتی جب تک ادارے مضبوط اور درست لائن آف ایکشن کے پابند نہ ہوں ۔ اسلام آباد کا سکندر ہو یا میٹرو بس سروس بند کرنے والے دس افراد ہوں ، اگر میڈیا کی لائیو اور جذباتی رپورٹنگ نہ ہو توپولیس چند لمحوں میں راستہ کلیئر کروا سکتی ہے۔
یہ واضح ہے کہ آرمڈ فورس حکم کے تابع ہوتی ہے اس لئے نتائج کے ذمہ دار فورس کے جوان نہیں بلکہ پالیسی میکرز ہوتے ہیں ۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پالیسی میکرز تو بچا لئے گئے لیکن فورس کی پشت پر کوئی نہ آیا ۔ پارلیمنٹ نے شاید کبھی نہیں سوچا کہ آبادی میں جس فورس نے ایکشن میں آنا ہے اس کو کتنا بجٹ دیا جانا چاہئے ، اس فورس کو دیئے گئے جدید اسلحہ کا معیار اور مقدار کیا ہے اور نقل و حرکت کے لئے گاڑیوں سمیت دیگر سہولیات کیا ہیں اور فورس کو کسی ایکشن کا حکم دینے کے بعد اسکے نتائج کی ذمہ داری کو ن قبول کرے گا؟ جب نواز شریف کا تختہ الٹا جا رہا تھا تب پرویز مشرف کے بقول ایک جگہ پولیس کی نفری تعینات تھی لیکن اس نے فوج کے سامنے مزاحمت نہیں کی ۔ اسے نواز شریف کی بدقسمتی سمجھیئے کہ انہوں نے اس کے بعد بھی سبق نہ سیکھا اور پولیس پر ویسی توجہ نہ دی جو کہ ضروری تھی ۔ دوسری جانب ترکی میں بغاوت کو پولیس کی مدد سے کنٹرول کر کے رجب طیب اردوغان نے پوری دنیا کے سامنے ایک مثال رکھ دی ہے ۔ وہاں پولیس اور دیگر ادارے مضبوط ہیں لیکن پاکستان میں تاحال پارلیمنٹ پولیس کو خودمختار نہیں ہونے دیتی ۔ اب پرانا مجسٹریٹی نظام بحال کرنے کا بل بھی پیش کیا گیا ہے جس میں پولیس پر ایک اضافی دباؤ آجائے گا جو کہ الیکشن کے نزدیک یہ مزید خطرناک ہو سکتا ہے ۔جب تک ہمارے سیاست دان پولیس اور دیگر اداروں کو مضبوط نہیں کریں گے ، جب تک شہروں اور دیہات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی ضرورت کے مطابق بجٹ نہیں ملے گا اور جب تک پولیس سیاسی دباؤ سے آزاد نہیں ہو گی تب تک مقدس پارلیمنٹ کو اسی طرح 8 تربیت یافتہ افسروں یا 13 ہزارغیر تربیت یافتہ اور غیر منظم ہجوم سے خطرہ لاحق رہے گا۔ تاریخ کے پلندوں میں اندلس کی جلتی ہوئی لائبریریوں کے شعلوں سے لے کر طیب اردوغان کی دوبارہ حکومت سنبھالنے تک کی داستان یہی بتاتی ہے کہ تعلیم اور پولیس جیسے شعبوں کی کمزوری حکومت کی تباہی کا باعث بنتی ہے اس کے باوجود ہماری پارلیمنٹ ان اداروں کو نظر انداز کرتی رہی ہے ۔ ہم پارلیمنٹ کی جس بالادستی کا نعرہ لگاتے ہیں،ہماری سیاسی اشرافیہ ہی اسے ختم کرتی ہے۔ دراصل اداروں کی کمزوری ہی پارلیمنٹ کی کمزوری بنتی ہے لیکن افسوس کہ نواز شریف نے تیسری بار بھی تاریخ کا یہ سبق نہ سیکھا۔انہوں نے اداروں کو اتنا کمزور کر دیا کہ اسلام آباد کے سکندر سے لاہور میٹرو ٹریک تک اقلیت جمہور کی منشا پرحاوی ہو گئی۔


ای پیپر