درزی کی خواہش
20 مئی 2018 2018-05-20

کہا جاتا ہے کہ عالمی سطح پر وقوع پذیر تبدیلیوں کے اثرات سے شاذر نادر ہی کوئی سماج محفوظ رہ سکتا ہے کسی نہ کسی انداز میں اسکے مثبت یا منفی اثرات ضرورمرتب ہوتے ہیں عمومی تاثر یہ ہے کہ جب پیہہ ایجاد ہوا تھا تو اس وقت ایک بڑی تبدیلی نے جنم لیا تھا اسکے مابعد اثرات قریباً ہر شعبہ ہائے زندگی میں دیکھے گئے زمین پر سست گام سفر تیز گام میں تبدیل ہوگیا اور اس انقلابی تبدیلی نے انسان کو چاند پر قدم رکھنے کے قابل بنادیا۔ دھیرے دھیرے انداز میں چلتے سماج اچانک سبک رفتار سے دوڑنے لگے۔ زندگی میں جاری اس دوڑ میں فی زمانہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت برق رفتار ی ہر شعبہ زندگی میں عود آئی ہے جس انداز سے پیہہ کی ایجاد نے صنعتی ترقی کے حامل معاشروں کی ’’ فیبر کس‘‘ کو سرے سے تبدیل کرکے رکھ دیا تھا اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دوسرے عہد جدید نے سارا سماجی ماحول ہی بدل دیا ہے۔اس بڑی تبدیلی کے اثرات اب دیہاتوں تک دیکھے اور محسوس کیے جاسکتے ہیں جن میں کلیدی کردار سوشل میڈیا کا ہے ۔
اب یہ میڈیا اتنا طاقتور ہے امور مملکت سے لیکر ذاتی کاروبار تک اس کی باز گشت سنائی دیتی ہے او ر وہ تمام امور جو گوشہ تنہائی میں بھی انجام پاتے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی طور پر اسکا حصہ بن جاتے ہیں اب تو بڑے اخباری ادارے خبروں کی تلاش میں سرگرداں سوشل میڈیا کو بھی اسکا ذریعہ قرار دیتے ہیں ہماری سماجی زندگی میں سوشل میڈیا بری طرح داخل ہوچکا ہے بجا طور پر اس کے مثبت اور منفی اثرات اب ظاہر ہورہے ہیں۔
جہاں اس کی وساطت سے ہم تمام عالمی حالات سے باخبر رہتے ہیں اوراپنی سرگرمیوں سے دوستوں کو آگاہ رکھتے ہیں وہاں اس کے ذریعہ سے ہم اپنی دنیا آپ پیدا کرنے میں مگن رہتے ہیں خاندان کے درمیان بیٹھے ہوئے ہمارا رابطہ باہر کی دنیا سے تو ہوتا ہے لیکن اپنے قرب و جوار سے ہم لاتعلق دکھائی دیتے ہیں گوناگو مصروفیات نے اب تعلقات نبھانے کیلئے نئے طریقہ ہائے زندگی متعارف کروادیئے ہیں ہم اہل مغرب کی مانند اب مدر ڈے اور فادر ڈے منانے کے روشن خیالات پر چل نکلے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر جذبات کے اظہار اور پھولوں کے گلدستہ کی نمائش سے یہ فریضہ کماحقہ طور پر ادا ہوگیا ہے میڈیا کی اس دنیا میں ہم جتنے محو ہوجاتے ہیں اتنے ہی فاصلے بڑھتے جاتے ہیں لیکن ہمیں احساس تک نہیں ہوتااور ہم اس خوش فہمی میں غلطاں ہوتے ہیں کہ ہمارے ہزاروں دوست ہماری ہتھیلی میں بند ہیں ۔
متاثرین سوشل میڈیا اب ان اخلاقی اقدار سے بھی راہ فرار اختیار کرتے جارہے یں جو ہمارے مسلم معاشروں کا خاصہ ہے اب تو شادی کی مبارکباد یا فوتیدگی کی تعزیت کا معاملہ ہوتو بھی سوشل میڈیا پیج سے بہتر ہمیں مقام جچتا نہیں۔ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ سوشل میڈیا سے برق رفتار کوئی ذریعہ نہیں جس تک تقریباً ہر شہری کی رسائی ہے اور اس کے توسط سے فوری اطلاعات کی فراہمی کا فریضہ جلد انجام دیا جاسکتا ہے لیکن اسکو بنیاد بنا کر سماجی،روایتی اور اخلاقی اقدار سے روگردانی کرنا خودفریبی اور سیراب کے سوا کچھ نہیں۔
عام مشاہدے کی بات ہے کہ ہم اپنے عزیزو اقرباء دوست احباب کے ساتھ خوشی اور غم کے لمحات صرف کرنے میں بھی کنجوسی سے کام لیتے ہیں سماجی برق رفتاری کے اثرات اب ہر کسی کی شخصیت پے نمایاں نظر آتے ہیں ہر فرد جلدی میں یوں دکھائی دیتا ہے جیسے وقت کے سینے میں دھڑک رہا ہے۔
گزشتہ دنوں ہمیں اپنے دیرینہ ساتھی ایس ای کالج بہاولپور انگلش کے پروفیسر ضیاء الحق اعوان کی والدہ محترمہ کے جنازے میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی اس موقع پر امام صاحب نے حاضرین کی توجہ ایک واقعہ کی جانب دلوائی جو قارئین کی نذر ہے۔
موصوف فرمانے لگے پرانے زمانے میں ایک درزی کی اپنی دوکان میں سلائی کڑھائی کا کام کرتا تھا جو نہی کسی فرد کی وفات کا اعلان ہوتا وہ اپنی دکان کو قفل لگاتا اور جنازہ کی ادائیگی کیلئے نکل کھڑا ہوتا یہ اسکا معمول تھا۔ حلقہ احباب کی جانب سے اس فعل پر تنقید کا سامنا بھی کرناپڑتا۔ یہ تو اک فرض کفایہ ہے اگر تم ادا نہیں بھی کرو گے تو بھی یہ فریضہ ادا ہوجائے گا۔ اور پھر تمہارے کوئی دیگر وسائل بھی نہیں ہیں۔ تمہاری روزی روٹی کاانحصار صرف اسی پر ہے علاوہ ازیں تمہاری سماج میں کوئی بڑی حیثیت بھی نہیں کہ تمہاری شرکت کو باعث اعزاز سمجھا جائے۔ دوسرا ضروری نہیں کہ جب تم وفات پا جاؤتو مرحومین کے لواحقین بھی تمہارے جنازے میں شرکت کریں جن کے جنازوں میں تم شریک ہوتے ہو ، درزی ان ساری باتوں کو برداشت کرتا رہا لیکن اس نے سنی ان سنی کردی۔ اک روز تمام دوست اس کی دکان پر جمع تھے کہ اتنے میں قریبی بستی سے کسی کی وفات کا اعلان ہوا یہ سنتے ہی درزی نے اپنا کام سمیٹنا شروع کردیا تمام دوست اسکی حرکت پر برہم ہوگئے اور اسے ذاتی کام پر توجہ دینے کی نصیحت کرنے لگے ۔جب سب نے اپنی اپنی بات مکمل کی تو درزی گویا ہوا کہ میر ی یہ خواہش ہے کہ جب مجھے موت ائے تو میرے جنازے میں نہ صرف عا م لوگ بھر پور شرکت کریں ،بلکہ آئمہ اور حفاظ کرام کے علاوہ علماء دین شریک ہوں۔ میں اپنی اس خواہش کی تکمیل کیلئے ہر جنازے میں شریک ہونے کی پوری کاوش کرتا ہوں خواہ اس سے میرا کوئی خونی رشتہ ،قلبی تعلق ہے یا نہیں یہ میرا اور میرے رب کامعاملہ ہے۔
اتفاق ایسا ہوا کہ اس عہد میں ایک بہت بڑی علمی اورمذہبی شخصیت کاا نتقال ہوگیا جو اپنے زمانے کے ایک برگزیدہ بزرگ تھے انکے جنازے میں لوگ جوق در جوق شرکت کیلئے پہنچے اور ان میں بڑی تعداد دوردراز سے آنے والوں کی تھی۔اتنی بڑی بزرگ ہستی کے جنازے میں انسانوں کا جم غفیر تھا اور انکا جنازہ پڑھانے والی شخصیت بھی اعلیٰ پائے کی تھی تما م افراد جنازے کی ادائیگی کے بعد ابھی فارغ ہی ہوتے تھے تو دوسرے بہت سے افراد جنازہ میں آشریک ہوئے اور خواہش کا اظہار کیا اس بزرگ ہستی کا جنازہ پڑھنے کی سعادت حاصل کرنے کیلئے دوبارہ جنازہ پڑھایا جائے تاکہ تاخیر سے آنے والے جنازہ ادا کرسکیں۔ابھی صفوں کی تکمیل کا مرحلہ جاری تھا کہ ٓاواز ا آ ئی ٹھہریں اک اور جنازہ آرہا ہے پھر نماز جنازہ ادا کی جائے جب اس میت کو سب کے سامنے رکھا گیا لوگ دیدارکیلئے آگے بڑھے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ دوسرا جنازہ اسی درزی کاہی تھا ۔اللہ تعالیٰ نے اس کے نیک جذبہ کی بدولت اسکی خواہش پور ی کردی تھی اس کے جنازے میں نہ صرف لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی بلکہ سینکڑوں حفاظ اور آئمہ کرام کے علاوہ بزرگان دین بھی شرکت تھے۔دلوں کے حال اللہ تعالیٰ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
دولت کی دوڑ میں شریک سماج نے انسانوں کو بھی خانوں میں بانٹ رکھا ہے اب ہم کسی کے جنازے میں شریک ہوتے ہوئے بھی اسکی سماجی حیثیت کا اندازہ لگاتے ہیں لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وزرائے اعظم سے لیکر بڑے بڑے سرداروں کے جنازے میں صرف چند افراد ہی شرکت کرسکے حالات کے جبر نے عوام کو شرکت کاموقع فراہم نہیں کیا اس لئے اسکا فیصلہ بھی اوپر والا ہی کرتا ہے۔وفاقی دارالحکومت میں راقم کو ایک بار کسی بڑی شخصیت کے جنازے میں شرکت کاموقع ملا تو عمومی تاثر تھا کہ یہاں بھی جنازے میں شرکت کا تعلق مرحوم کے محکمہ ،گریڈ اور سماجی حیثیت سے ہے۔
زندگی کی تیز رفتاری نے ہماری روحانی اقدار کو بھی زوال پذیر کردیا ہے کہ کسی کے جنازے کو کندھا دینے یکلئے بھی وقت نہیں بچتا۔مقام شکر ہے کہ دیہاتوں میں بعض روایات اور اقدار اب بھی نہ صرف زندہ بلکہ پوری طرح فعال ہیں ہمیں مدر اور فادر ڈے کی مغربی نقالی سے نکل کر سوشل میڈیا پر خاندان کی مضبوطی اور اسلامی اقدار او رروایات کو پروان چڑھانے کا درس دینا چاہیے اور خود بھی اسکی عملی تفسیر بننا چاہیے تاکہ بڑھتے ہوئے فاصلے کم ہوسکیں اور ہم لوگوں کی خوشی اور غم میں بروقت شریک ہوکر زندہ معاشرہ کا عملی ثبوت فراہم کرسکیں۔


ای پیپر