پی ٹی آئی ، خان اور میں
20 مئی 2018 2018-05-20

آج سے تقریباً ۲۵ سال قبل ۱۹۹۳ ء میں ایف اے کے امتحان کے بعد میں نے صحافت کو بطور کیریر شروع کیا۔ اس زمانے میں سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ میری ابتداء نیوز ایجنسی این این آئی سے ہوئی۔ چند دن کی ٹرینگ کے بعد مجھے پہلے بڑا ٹاسک تب ملا جب ہمارے چیف رپورٹر خواجہ فرح سعید نے مجھے خصوصی طور پر شوکت خانم ہسپتال جانے کا کہا۔ کیونکہ شوکت خانم ہسپتال میں بم دھماکے کی خبر ملی تھی۔ ان دنوں جوہر ٹاؤن کا علاقہ شہر سے بہت دور سمجھا جاتا تھا۔صرف ایک ہی سڑک تھی جو شوکت خانم تک آتی تھی۔ راستہ بھر میں یہی سوچتا رہا کہ عمران خان کو ہسپتال بنانے کے لئے یہی علاقہ ملا تھا۔ بہر کیف مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق شوکت خانم ہسپتال پہنچ ہی گیا۔ وہاں پولیس اور حساس ادارے کہ اہلکار موقع سے ثبوت اکٹھے کرنے میں مصروف تھے۔ دیگر میڈیا بھی پہنچ چکا تھا۔ میں بھی محدود صحافتی تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے جائے وقوعہ کا جائزہ لینے لگا۔ کچھ دیر کے بعد عمران خان بھی وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکہ دشمن ملک کی سازش ہے۔ جو نہیں چاہتا کہ پاکستان میں عالمی معیار کا ہسپتال کامیاب ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی بزدلانہ کارروائی سے ہمارے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ اس موقع پر میں نے عرض کی کہ خان صاحب یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ دھماکہ کسی بم کے پھٹنے کے باعث نہ ہوا ہو بلکہ کسی الیکٹرونک مشین کے پھٹنے کی وجہ سے بھی تو ہو سکتا ہے؟ میری بات سن کر عمران خان مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ کیا تم کوئی بم سپیشلسٹ ہو ؟ تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ یہ بم دھماکہ نہیں بلکہ کسی مشین کے پھٹنے کی آواز ہے؟ میں نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ کیا آپ بم سپیشلسٹ ہو؟ آپ کو کیسے پتا چلا کہ یہ دھماکہ بم کے پھٹنے ہی سے ہوا ہے؟ جبکہ تفتیشی اداروں نے تو ابھی تک کوئی نتیجہ بھی اخذ نہیں کیا؟ عمران خان کو میرا بولنا پسند نہ آیا اور میڈیا بریفنگ کے درمیان ہی بدمزگی پیدہ ہو گئی۔ لوگ بیچ بچاؤ نہ کرواتے تو شدید لڑائی ہوتی۔ اس وقت کے ایس ایس پی لاہور چوہدری سجاد اور سابق ایم این اے انعام اللہ نیازی نے ہمیں ٹھنڈا کیا۔ اس نا خوشگوار واقعہ کے بعد تمام صحافیوں نے مجھ سے یکجہتی کی اظہار کے طور پر نہ صرف اس میڈیا بریفنگ کا بائیکاٹ کر دیا بلکہ عمران خان کی طرف سے بلائی جانے والی کسی بھی پریس کانفرنس کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ یہ واقعہ تو ہوا اور گزر گیا لیکن اس وقت کی حکومتی پارٹی نے میرے لئے زندگی مشکل کر دی۔ مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے مجھ سے اظہار ہمدردی کے لئے مجھے خط لکھ دیا۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن مرد اول جناب آصف علی زرداری ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئے۔ مختلف ذرائع سے مجھے عمران خان کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے پیغامات بھجوائے جانے لگے۔ انہی دنوں عمران خان سیاسی پارٹی لانچ کرنے والے تھے۔جب کہ پیپلز پارٹی اس واقعے کو عمران خان کے خلاف استعمال کرنے کے لئے مجھے تیار کرنا چاہ رہی تھی۔ عمران خان کے لئے ایک مشکل یہ بھی تھی کہ ملکی میڈیا کی طرف سے ان کے بائیکاٹ کے اعلان کے باعث وہ سیاسی پارٹی کے قیام کا اعلان نہیں کر پا رہے تھے۔ ایک باہمی دوست کے توسط سے عمران خان مجھ سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ہم دونوں نے گلے شکوے باہمی رضامندی سے ختم کر لیے۔ میرا ماننا تھا کہ اس پورے واقعہ میں نہ تو عمران خان کا کوئی قصور تھا اور نہ ہی میرا۔ بلکہ یہ وقتی ابال تھا۔ جس کی ایک ہی وجہ تھی کہ عمران خان کی طرح میں بھی ان دنوں بہت جذباتی اور لڑنے بھڑنے پر تیار ہوا کرتا تھا۔ بہرحال ہم دونوں اس ناخوشگوار واقعہ کے خوشگوار انجام پر شاداں تھے۔ عمران خان نے اس صلح کی خبر پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو دی۔ انہوں نے اس موقع پر اعلان کیا کہ ریحان مرزا میرا سگا چھوٹا بھائی ہے۔ اب ہمارے درمیان کوئی غلط فہمی نہیں رہی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی کی لانچنگ کے اس موقع پر پہلا ممبر شپ فارم کوئی اور نہیں بلکہ صحافی ریحان مرزا پر کرے گا۔ یوں ایک نوجوان صحافی پی ٹی آئی کا بانی ممبر بن گیا۔ ہم دونوں پاکستان کے شہر شہر گئے اور ممبر سازی مہم کا آگاز کیا۔ آج کی پی ٹی آئی بہت مضبوط اور مقبول جماعت بن چکی ہے۔ میری دعا ہے کہ ہمارے ہاتھوں سے قائم ہونے والی پارٹی کو عوام اس بار حکومت بنانے کا موقع دیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان واقعی ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔


ای پیپر