روک سکتے ہو تو روک لو۔۔۔
20 مئی 2018 2018-05-20

الحمدللہ زندگی میں ایک بار پھر نیکیوں کی لوٹ سیل والاماہ مبارک ماہ رمضان دیکھنا نصیب ہوا، بچوں، بڑوں، بزرگوں، خواتین کا مذہبی جوش وخروش دیدنی کہ جب ہر شخص بند مٹھی کھول لیتا ہے اللہ کریم کی راہ میں کچھ نہ کچھ دینے کیلئے، جگہ جگہ سحری اور افطاری کے دستر خوان سج جاتے ہیں،صبح وشام حمد وثناء، درود و سلام کی محفلیں جمتی ہیں، ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ رمضان لمبارک کی برکتیں سمیٹے جس میں کچھ کامیاب بھی ہوتے ہیں، کئی اس ماہ مبارک کی برکتوں سے بھی محروم رہتے ہیں،جب ماہ رمضان آتا ہے تو ایک ماہ پہلے ہی تیاریاں شروع کردی جاتی ہیں سرکاری اور نجی سطح پر،نجی سطح پر تو ملنے ملانے والوں کیلئے افطاریوں کا بندوبست ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف سرکاری بیانات جاری ہوتے ہیں ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کیلئے، مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کا قبلہ درست کرنے کی بھڑکیں،اس سلسلے میں کمیٹیاں بنتی ہیں جو ٹھنڈے کمروں سے باہر نکلنا گوارا ہی نہیں کرتیں،رمضان بازاروں کے نام پر لوٹ مار زوروں پر ہوتی ہے، سستے بازار رمضان میں مہنگے ہوجاتے ہیں۔

اس ماہ مبارک میں ایک رات ہے جس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ افضل ہے۔ یہ ماہِ مبارک اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور جہنم سے چھٹکارے کا مہینہ ہے،اس ماہ مبارک میں سرکش شیاطین قید کردئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کرکے جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے،ہر نیکی کا اجر و ثواب بڑھا دیا جاتا ہے، غرضیکہ یہ مہینہ اللہ کی عبادت، اطاعت اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی و غمگساری اور قرآن کریم کا مہینہ ہے، روزہ ایسا عظیم الشان عمل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر عمل کا دنیامیں ہی اجر بتا دیا کہ کس عمل پر کیاملے گا مگر روزہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا ۔

کہا جاتا ہے کہ رمضان المبارک میں شیطان جکڑ دےئے جاتے ہیں پھرکون سے شیطان ہوتے ہیں جو ناقص چیزیں بیچ کر سمجھتے ہیں ہم نے مارکہ مار لیا؟ہاں شیطان تو واقعی جکڑ دئیے جاتے ہیں لیکن جواندر کا شیطان ہوتا ہے اسے کون روکے، وہ تو سربازار عام دنوں میں ڈیڑھ سو روپے میں فروخت ہونے والی کھجور 300 روپے میں فروخت کرتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ روک سکتے ہو تو روک لو ۔روزہ دار ناقص سیب مہنگے داموں خریدتے ہیں دکاندار دھڑلے سے کہتے ہیں روک سکتے ہو تو روک لو ۔کیلا جو عام دنوں میں چالیس پچاس روپے میں فروخت ہوتا ہے روزوں میں 175 سے 200 روپے میں بکتا ہے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو کہا جاتا ہے روک سکتے ہو توروک لو ۔سبزیاں عام دنوں میں کم ریٹ پر فروخت ہوتی ہیں ماہ رمضان میں ریٹ سن کر ہی افطاری اور سحری ہو جاتی ہے۔ کوئی ہے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ روک سکتے ہو تو روک لو کہنے والوں کو کوئی روک لے، گرانفروشی عروج پر ہوتی ہے روک سکتے ہوتوروک لو ، ذخیرہ اندوزسینے پہ منج دلتے ہیں جاؤ روک سکتے ہو تو روک لو ،دکاندار ہر چیز کا ریٹ بڑھا دیتے ہیں روک سکتے ہو تو روک لو ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں، تمہارے لئے تقویٰ ضروری ہے اس لئے کہ ہر کام کا سرمایہ یہی تقویٰ ہے ، حقیقت یہ ہے کہ ایسا روزہ جو انسان کو گناہوں سے نہ بچاسکے اسے بھوک و پیاس کا نام تو دیا جاسکتا ہے مگر روزہ نہیں کہا جا سکتا اس لئے کہ روزہ کا مقصد اور اس کا جو فلسفہ ہے اگر وہ حاصل نہ ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ جس روزہ کا حکم دیا گیا تھا ہم نے وہ نہیں رکھا ، بلکہ یہ ہماری اپنی مرضی کا روزہ ہے جبکہ خدا ایسی عبادت کو پسند ہی نہیں کرتا۔ رمضان کریم نیکیاں کمانے کا مہینہ ہے لوٹ مار کا نہیں، اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال بڑھتا ہے اللہ کو راضی کرنے سے کامیابی اور اللہ کی ناراضگی ناکامی ہے۔ مخلوق خدا اللہ کا کنبہ ہے ان کی امداد سے اللہ خوش ہوتا ہے۔ دوسروں کی مدد کرنے کا خیال اور سوچ بہت قیمتی ہے مستحقین کو رمضان اور عید کی خوشیوں میں شامل کرنا بہت بڑا کار خیر ہے، اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہنا چاہئے، آپ کو کچھ معلوم بھی ہے کہ شب قدر کیسی بڑی چیز ہے ، یعنی اس رات کی بڑائی اور فضیلت کا آپ کو علم بھی ہے ، کتنی خوبیاں اور کس قدر فضائل اس میں ہیں،اللہ تعالیٰ ہم سب کو روزہ اور تلاوت قرآن کی برکت سے تقویٰ والی زندگی گزارنے والا بنائے اور ہمیں دونوں جہاں میں کامیابی وکامرانی عطا فرمائے۔


ای پیپر