”تبدیلی تو آگئی ہے ....مگر سعودیہ میں “

20 مئی 2018

نواز خان میرانی

پاکستان میں یار لوگ ہی نہیں، بلکہ عمران خان کے کزن انعام اللہ نیازی اور دوسری کزن اور بہنوئی حفیظ اللہ نیازی، جو انہیں سیاسی میدان عمل میں لانے والے ہیں، مرتکب دُشنام مگر دشیا ہو جاتے ہیں ، جب وہ اُن سے اختلافی ردعمل کا اظہار کرتے ہیں ، تو پھر وہ ہم جیسوں کے دلوں میں شکوک وشبہات اور تخیلاتی ونظریاتی افکار میں دراڑ ڈال دیتے ہیں، کیونکہ مجھ جیسے دوسرے کچھ تنقید نگار بھی شیخ رشید کی طرح عمران خان کے کھلاڑی تو نہیں کہ سچ نہیں بولتے، بلکہ پہلے ہی سے ”کلمہ حق“ کہتے ہیں، اور اس کا عرصہ اور طوالت کچھ طویل ضرور ہے ۔
مگر ہمیں اس طولانی تمحیص میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے ، اس سے ہم بلوچوں اور پٹھانوں میں عداو ت کی ”حلاوت“ نہیں ڈالنا چاہتے، کہ پھر دشمن داریاں، نسل درنسل ، صدیوں پہ محیط ہو جاتی ہیں۔ بلکہ وارثین یہ وصت کرجاتے ہیں، کہ تم نے بدلہ ضرور لینا ہے مگر میں وکیل رکھ لینے کو ترجیح دیتا ہوں چونکہ میں بھی اپنے آپ کو ”نظریاتی “ شخص تصورکرتا ہوں، کیونکہ ”نظریہ “ اس کو کہتے ہیں جس میں فکرونظر سے کام لیا جائے، لیکن چونکہ بات سے بات نکلتی ہے ، کیا وہ شخص جس کی دوریانزدیک کی نظر کمزور ہو جائے وہ شخص نظریاتی ہونے کا دعویدار ہوسکتا ہے ؟
خیراس بحث پہ نظرالتفات کرتے اور نظرثانی کرکے، نظر چارسو ہوکر قارئین سے نظریں چرانے کی بجائے، نظریں چار کرکے، اور چاق وچوبند ہوکر، تاکہ آپ کی نظروں سے نہ اتر جاﺅں ، اور نہ نظروں سے گر جاﺅں بلکہ میں تو ہمیشہ آپ کی نظروں میں ٹھہرنا چاہتا ہوں۔ اسی لیے تو سعودی عرب اور پاکستان کے آج کل کے حالات کو نظروں میں تول کر بلکہ تاڑ کر اور نظریں جماکر تقابلی جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ کیونکہ تحریک انصاف کو دعویٰ تبدیلی حالات ہے ۔ اُدھر سعودیہ میں جس کا نام اسلامی مملکت سعودیہ العربیہ ہے ، اور پاکستان کا نام اسلامی مملکت خداداد پاکستان ہے ، اس میں تبدیلی کے خواہاں وکوشاں ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسا شخص جو پہلی دفعہ سیاسی افق پہ وارد ہورہا ہو، وہ منٹو پارک کو کیسے بھر سکتا ہے ؟
دراصل اللہ تبارک وتعالیٰ، بڑا مسبب ”الاسباب“ ہے ، یہ بات ہم سعودیہ کے بارے میں کیوں نہیں کہہ سکتے، اس لیے کہ وہ حرمین شریفین یعنی وہاں، نہ صرف اللہ کا گھر ہے ، بلکہ اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ کی محبوب ترین ہستی کی آرام واستراحت کی جگہ بھی ۔وہاں مدینہ شریف مسجد نبویہ بھی ہے ، جہاں نہ صرف چڑیا پر نہیں مارسکتی ہے بلکہ مکہ شریف کو تو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا کے عین درمیان میں واقع ہے ، اور اس کی سائنسی بنیادوں کی وجہ سے وہاں کوئی طیارہ یا کوئی اور چیز بھی اس کے اوپر سے نہیں گزر سکتی۔
حال ہی میں کی گئی تحقیق کے حوالے سے میں یہ بات کررہا ہوں، سعودی عرب میں پہلی تبدیلی تو تب آئی تھی، جب برطانیہ نے بڑی منصوبہ بندی، اور عیاری سے خلافت عثمانیہ ، جو ترکی کے زیر اثر سعودی عرب تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس وقت بھی مسلکی تفاوت کے باوجود، وہاں کوئی بدعت نہیں ہوتی تھی، اور نہ ہی شدت پسند عناصر کا کوئی وجود تھا، مگر انگریزوں نے انتہائی چالاکی سے خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے کے لیے سعودیہ کے شہر ریاض کے مضافاتی قبائل میں سے عبدالعزیز نامی ایک شخص کو آمادہ اقتدار کرکے اس کو امداد کے نام پہ نوازشات کی بارش کردی ، اور آخر کار انہی کے ہاتھوں خلافت عثمانیہ ، گو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی تنزلی میں ان بادشاہوں کی اپنی عیاشیوں کا بھی بہت ہاتھ تھا مگر جلتی پہ تیل ڈالنے کا کام برطانوی پونڈنے انجام دیا اور آخر کار برطانیہ نے سعودی عرب میں نئے حکمران، کے ساتھ نیا نظام بادشاہت، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں ”وہابی مسلک “ نافذ کرادیا۔ جس کی ایک جھلک آپ سب نے دیکھی کہ حضور کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی آمنہ ؓسمیت متعدد پاک ہستیوں کے مزارات ، اور قبور مبارکہ کا نام ونشان تک مٹا دیا گیا .... سعودیہ میں یہ پہلی ”تبدیلی“ تھی، جو انگریز لائے تھے۔
دوسری تبدیلی اب امریکہ کے ہاتھوں ہوئی ہے کہ جس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی عمران خان ہیں، یا عمران خان سعودی محمد بن سلمان ہیں، سعودی عرب میں امریکی جس طرح کی تبدیلی کرارہے ہیں آخر کار اس کی اجازت اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ اور اللہ کے حبیب بالکل نہیں دیں گے ۔سعودی غیرت ، جذبہ ¿جہاد اور جاں ہتھیلی پہ رکھ کر محض 313عاشقان رسول نے پوری دنیا میں اسلام پھیلا دیا تھا، اور جب اسلام کی حقانیت سرچڑھ کر بول رہی ہے ، تویہ کیونکر ممکن ہے کہ ٹرمپ ان بنیادوں کو ہی ہلا دے۔ اب سعودی حکومت نے خواتین کو، محرم، شوہر یا ولید کی اجازت کے بغیر کاروبار شروع کرنے کا فتویٰ دے کر مسلم ممالک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ، اور شہزادہ محمد بن سلمان جوکہ اصلاحاتی پروگرام 2030ءکے معمار وموجد بنے ہوئے ہیں اور جو زیادہ سے زیادہ عورتوں کو سعودیہ کے بازاروں، ہوٹلوں، ٹیکسی ڈرائیوروں کو ”عبائیہ“ کی پابندی سے آزاد کرکے مذہبی کونسل کے ممبر ڈاکٹر عبداللہ المطلق سے فتویٰ جاری کرادیا ہے کہ وہ آزاد ہیں، مگر پردے کا خیال رکھا جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عبائیے کے بغیر کونسا پردہ ؟ تبدیلی تو آگئی ہے ۔ سعودیہ نے مودی کو، دنیا کے کافر ملک کے سربراہ کو سعودیہ کا سب سے بڑا اعزاز اور ایوارڈ بھی دے دیا ہے ، اور دبئی کے حکمران نے انہیں مسلمان ملک میں ”مندر“ بنانے کی نہ صرف اجازت دی ہے ، بلکہ درہم و دینار بھی نچھاور کردیئے ہیں، تبدیلی تو یہ بھی آگئی ہے ، کہ حضور کے آباﺅ اجداد بت شکن تھے، مگر اب عرب ریاستوں کے حکمران ”صنم کدوں“ کے پجاری بن گئے ہیں، یہاں تک کہ سعودیہ نے دنیا بھر کے ممالک کے لیے ”وزٹ ویزا “ فیسوں میں کمی کا اعلان کردیا ہے ، مگر یہ رعایت پاکستان کے لیے نہیں ہوگی، جبکہ اس کا اطلاق بھارت پر لازمی ہوگا، پاکستان کے ٹریول ایجنسیوں کے سربراہ اب عمروانکسار کے ساتھ سعودی عرب کے وزیر خارجہ نام کے ”عادل“ الجبیر کو درخواستیں دے رہے ہیں کہ اسلامی مساوات کا سلوک ہم پہ بھی کیا جائے۔ میں اپنی طالب علمی کے دوران اور شادی سے بہت پہلے، اپنی ہمشیرہ اور نانا جان کو ملنے سعودیہ گیا تھا، وہاں رات کے اندھیرے میں سمندر کے کنارے، سعودی شرطوں کے اشارے پہ بھارتی فلمیں کبھی کبھی دکھائی جاتی تھیں۔ جن کی اطلاع سینہ بہ سینہ چلتی ہوئی، شائقین تک شام تک پہنچ جاتی تھی، راقم نے بھی وہاں بھارتی فلم ”ہاتھی سب کا ساتھی “ وہاں دیکھی تھی۔
مگر وہاں اب ایسی تبدیلی آئی ہے کہ دنیا بھر کی فلمیں وہاں کے سینماﺅں میں دیکھی جاسکتیں ہیں، دھڑا دھڑ سینما بن رہے ہیں، اور اب تو وہاں 34ارب ساٹھ کروڑ ڈالر سعودیوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے وقف کیے جارہے ہیں، جس میں سب سے زیادہ تفریحی اور کھیلوں کے شعبے میں خرچ کیے جائیں گے، تاکہ شہریوں کا معیار زندگی بلند ہو۔
غالباً سعودی عمران خان، شہزادہ محمد بن سلمان ، لبنان وبیروت، شام اور افغانستان کے شاہ ظاہر شاہ والا چاہتے ہیں، لیکن میرے تصور میں نجانے کیوں ”دجالی“ تصور حاکمیت آرہا ہے ، اور یہ کس چیز کا ”قرب“ ہے جو ملت اسلامیہ کو ”کرب“ میں مبتلا کررہا ہے ۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ کیا یہ ممکن ہے ؟ کہ خانہ خدا پہ دور موجود کا ابراہہ ، حملہ آور ہوجائے، روسی، اور ایرانی میڈیا، اسی بات کو اچھال رہے ہیں کہ پچھلے دنوں ان کے شاہی محل پہ جو حملہ ہوا تھا، اسی وجہ سے وہ صاحبِ فراش ہیں۔ حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ
دلوں میں ولولہ¿ انقلاب ہے پیدا
قریب آگئی شاید جہانِ پیر کی موت

مزیدخبریں