Muhammad Awais Ghauri, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
20 مارچ 2021 (11:48) 2021-03-20

فرینکلن ڈی روزویلٹ جب 1933ء میں امریکہ کے 32ویں صدر بنے تو معاشی اور سماجی بحران اپنی انتہا پر تھا ٗ اداروں کو مضبوط کرنا ٗ عوام کو شعور دینا روزویلٹ کا اہم کارنامہ تھا ٗ ان کا بہت مشہور مقولہ ہے ’’جمہوریت اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اپنی ترجیحات کا انتخاب سمجھداری سے نہیں کیا جاتا ٗ  جمہوریت کا اصل تحفظ محض تعلیم کرتی ہے‘‘۔ 

جمہوریت کی کشتی پار لگانے والے مانجھی اور کنارے پر کھڑے ان گنت جمہوریت پسند اپنے اپنے تخلیقی اذہان میں نت نئی کہانیاں لئے بیٹھے ہیں ٗ ہر کسی کا مختلف نظریہ حیات ہے اور میرے رفیق کا مقولہ تو ہر جگہ فٹ آجاتا ہے کہ ’’ہر انسان اپنے ماحول کی پیداوار ہے‘‘۔ اپنے اپنے ماحول سے تجربات کشید کرنے والے جمہوریت پسندوں کی ایک قبیل کا یہ ماننا ہے کہ جمہوریت کی بالا دستی کے مختلف مدارج تو ضرور ہیں لیکن آخر کار سڑکوں پر نکلنا پڑے گا ٗ اسمبلیوں کا بائیکاٹ کرنا پڑے ٗمسلسل جدوجہد کرنی پڑے گی اور پھر جلد ہی ایک سورج طلوع ہو گا جب پاکستان میں آزادانہ انتخابات ہوں گے ٗ سب غیر جمہوری قوتیں اپنا اپنا کام کرنا شروع کر دیں گی ٗ سیاست دان قانون سازی کریں گے ٗ سرکاری ملازمین ایماندار ہو جائیں گے ٗ پولیس قانون کی عمل داری کو یقینی بنائے گی جبکہ مسلح افواج سرحدوں کی حفاظت کریں گی اور راوی چین لکھے گا۔

جبکہ جمہوریت کے دوسرے مانجھی کا ماننا ہے کہ میدان کو خالی نہیں چھوڑنا چاہیے ٗ اگر کھیل کے میدان سے آپ باہر نکل جائیں تو پھر کھیلنے والے خود ہی بائولنگ کرائیں گے ٗ خود ہی ہٹ کریں گے اور پھر خود ہی کیچ پکڑتے پھریں گے ۔ اصل طریقہ تو یہ ہے کہ آپ میدان میں موجود رہیں ٗ چاہے امپائر آپ  کیخلاف فیصلے دیتا رہے ٗ آپ کو مسلسل آئوٹ کرواتا رہے لیکن کبھی تو آپ کا چھکا بھی لگ ہی سکتا ہے ٗ ایسے ہی بڑا چھکا اس سے قبل نواز شریف 58-2Bکی شکل میں لگا چکے ہیں جب جنرل ضیاء الحق کے  کالے قانون کا خاتمہ کیا گیا ٗ اسی طرح آصف علی زرداری نے پاکستان کی جمہوریت پر احسان عظیم کیا اور 18ویں ترمیم کی شکل میں  شاندار ریکارڈ قائم کیا ۔ اس کا ایک چھوٹا سا اظہاریوسف رضا گیلانی کی سینیٹ انتخاب میں کامیابی کی شکل میں سامنے آیا ۔

اب اگر ہم دلوں کا حال جاننے کی کوشش نہ کریں اور اس بات پر یقین کر لیں کہ ہم نیتوں کے حال جاننے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے تو پھر ہمیں یہ قیاس بھی نہیں کرنا چاہیے کہ عہدوں کے لالچ اور اسمبلیوں میں بیٹھنے کی کشش میں لوگ اپنے پیٹی بھائیوں سے بغاوت کر رہے ہیں ۔ جمہوریت پسندوں کو یہ یقین تو بہرحال کرنا ہی ہو گا کہ سب مانجھی کشتی پار لگانے کی کوشش میں مصروف ہیں ٗ طریقہ سب کا مختلف ہو سکتا ہے لیکن مقصد ایک ہے تو پھر ہمیں کچھ کڑا پوسٹ مارٹم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

مریم نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن اسی نظریہ سیاست کے قائل ہیں کہ اب کچھ کرنے کا وقت ہے مگر معذرت کہ ان کے الفاظ ان کے عمل کے ساتھ میل نہیں کھاتے۔ اگر مسلم لیگ(ن) آج سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کرتی ہے تو کیا اس کا ورکر اتنا پرجوش ہے کہ وہ دھرنوں اور احتجاجوں کا بار سہ سکے ؟ تو اس کا جواب میرے خیال میں نفی میں آتا ہے۔ بالفرض محال اگر مولانا فضل الرحمن ٗ مریم نواز شریف اور دیگر اتحادی مل کر بہت کامیاب دھرنا کر لیتے ہیں ٗ حکومت کو گھر جانے پر مجبور کر دیتے ہیں ( جو بعید از قیاس ہے) تخیل کی اڑان کو تھوڑا اور اونچا کریں تو یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ نئے انتخابات کا اعلان ہو جاتا ہے تو ڈسکہ کے حوالے سے عدالت کے وہ ریمارکس ذہن میں رہنے چاہئیں کہ ’’انتخابات عوام کے پیسوں سے ہوتے ہیں ٗ 

پاکستان ایک غریب ملک ہے ٗ ڈسکہ میں امن و امان کی صورتحال صرف اسی لئے خراب ہوئی کہ وہاں پر فوج تعینات نہیں تھی ‘‘۔ آپ انتخابی عمل میں چلے جاتے ہیں تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ انتخابات 2018جیسے نہیں ہو ں گے؟ ٗ امپائر کی انگلی ہو گی یا نہیں ٗ وہ انگلی کس کا ساتھ دیگی  اور اگر صورتحال پھر پہلے جیسی رہی تو پھر پی ڈی ایم کیا کرے گی ؟ کیا پھر دوبارہ لانگ مارچ اور دھرنے ہوں گے ٗ کب تک ہوں گے او رآخر ان کا نتیجہ کیا نکلے گا؟۔

سینیٹ انتخابات میں پی ڈی ایم کے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی اور پھر ناکامی کو کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر سامنے رکھیں تو یہ معلوم ہو گا کہ اپوزیشن کو حکمت عملی ٗ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور مخالف کے طریقوں کو قبل از وقت ڈی کوڈ کرنے  کی صلاحیت کو بہتر کرنا ہو ۔ مسلم لیگ(ن) کو ازحد ضرورت ہے کہ پارٹی کی صورتحال بہتر کرے ٗ وفادار ٗ باشعور لوگوں کو پارٹی میں شامل کیا جائے ٗ جماعت کا اندرونی نظام بہتر کریں ٗ کالی بھیڑوں کو پہچانا جائے جو عین وقت پر آکر بہت بڑا نقصان کروا دیتی ہیں۔ 

مسلم لیگ(ن) کا  میڈیا ونگ اس وقت بہت کمزور ہے ٗ اگر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ(ن)  کے ترجمانوں ٗ میڈیا سیل اور ان کی کارکردگی کا بے رحمانہ موازنہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مسلم لیگ(ن) کو بہتری کی بہت ضرورت ہے۔ پارٹی کو ازسرنو متحد کرنے ٗ رہنمائوں کو اپنے نظریہ پر قائم کرنے اور سب سے بڑھ  کرورکر کو اپنے نظریہ پر چارج کرنا بہت ضروری ہے۔ ٗ ٹویٹر ٹرینڈ ایک بہت چھوٹی سے کہانی ہوتی ہے اور اگر صرف اسی کو کامیابی سمجھا جائے تو پھر معاملات عین وقت پر ایسے ہی ہو جاتے ہیں جیسے نظر آرہے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے اذہان کو اس بات پرسوچنا چاہیے تھا کہ آخر اس بار وہ کون سا طریقہ ہو سکتا ہے  جس پر عمل کرتے ہوئے سینیٹ انتخابات میں ا نہیں ناکامی ہو سکتی ہے۔ وہ طریقے ڈی کوڈ کرنا ہی اپوزیشن کی اصل کامیابی ہو سکتی ہے۔ آنیوالے وقت میں اپوزیشن کو اپنی صفوں کی ان کالی بھیڑوں کا معلوم ہونا چاہیے جو وقت آنے پر دغا دے سکتی ہیں اور دوسرا ان کے متبادل کیلئے بھی کام کرنا چاہیے۔ 

پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی اس وقت حقیقت کے بہت قریب ہے ۔ لیکن  ایک زرداری سب پر بھاری  کہنے والے دراصل پیپلز پارٹی کے اصل پیغام کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا موقف بالکل درست ہے کہ استعفے نہیں دینے چاہئیں ٗ سیاسی عمل کا حصہ رہنا چاہیے اور وقت آنے پر بھرپور قوت اور حکمت عملی سے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہاں ابھی ناکامیوں کی تعداد زیادہ ضرور ہوگی ہے لیکن پاکستان میں جمہوریت کی بالا دستی کا واحد حل میدان میں رہ کر صعوبتوں کا مقابلہ کرنے میں مضمر ہے۔ 

مریم نواز شریف ایک سیاسی رہنما کے طور پر ابھر رہی ہیں ٗ لیکن پی ڈی ایم کے گزشتہ اجلاس کے بعد ان کی باڈی لینگوئج اس بات کی غماز تھی کہ ابھی بحر سیاست میں انہیں بہت سفر کرنا ہے ٗ ان کی سیکھنے کی قابلیت قابل تعریف ہے ٗ ان کی شاندار شخصیت کا اپنا کرزما ہے لیکن خاردار سیاست اور خاص طور پر دنیا کے ایک غریب ٗ شعوری طور پر پسماندہ ملک میں  سیاست کے دائو پیچ ابھی ان پر وا ہونے ہیں ۔ پاکستان کے سیاسی بحران کا حل صرف قانون سازی میں ہے ٗ اسمبلیوں میں موجود رہنے میں ہی ہے ۔ یہ وقت اتحاد دکھانے کا ہے ٗ سیاسی بے چارگی اور اختلاف دکھانے کا ہرگز نہیں۔


ای پیپر