سانحہ نیوزی لینڈ اور تہذیبوں کا تصادم
20 مارچ 2019 2019-03-20

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع مسجد النّور میں پوری دنیا کے لوگوں کے دلوں کو ہلا دینے اور دماغوں میں ہلچل پیدا کرنے والا بدترین دہشت گردی کا جو واقعہ جمعہ کے روز ہوا ہے، اُس میں 9پاکستانیوں سمیت 50 مسلمانوں کو عین عبادت کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔۔۔ ان کی شہادت واقع ہوئی اور یہ اس درجے کی شہادت تھی کہ سیکولر مغربی دنیا کے اندر فہم و ذکا کے مالک اور درد دل رکھنے والے انسانوں کی کثیر تعداد نے بھی انہیں martyers قرار دیا۔۔۔ اس لحاظ سے یہ جاری تاریخ کا منفرد واقع ہے کہ بے دردی کے ساتھ مارے جانے والے جو سب مسلمان تھے وہ تہذیبوں کی جنگ کے عالمی ماحول یا یوں کہہ لیجیے کہ اسلام اور مغربی افکار کے درمیان تصادم کی کشیدہ فضا میں ان کی موت پر پورے عالم انسانیت نے شہادت کی مہر ثبت کرنے کے ساتھ گہرے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔۔۔ اگرچہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے مذمت کے باوجود اسے دہشت گردی قرار دینے سے گریز کیا ہے تاہم انہیں اپنے ملک کے اندرسخت تنقید کا سامنا ہے۔۔۔ دنیا بھر کے صاحبان ضمیر نے اس پر ناگواری کا اظہار کیا ہے۔۔۔ اس اندوہناک واقعے سے خیر کا پہلو یہ برآمد ہوا ہے کہ ایک مغربی ملک کی وزیراعظم نے جہاں یہ حادثہ پیش آیا ۔۔۔ اظہار افسوس اور اظہار یکجہتی کے لیے سر پر ڈوپٹا اوڑھا مشرقی لباس پہن کر شہیدا کی غمزدہ خواتین کے پاس آئیں ۔۔۔ ان سے خالصتاً مشرقی انداز میں بغل گیر ہو کر اظہار تعزیت کیا۔۔۔ اس کے دو روز بعد ان کی پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد ہوا تو اس کا آغاز باقاعدہ تلاوت قرآن سے کیا گیا۔۔۔ وزیراعظم جسندا السلام و علیکم کہہ کر مخاطب ہوئیں۔۔۔ کل جمعہ کی نماز کے وقت اس ملک کے شہری احترام کے ساتھ اذان کی آواز سنیں گے۔۔۔ یہ طرز عمل خواہ اسے وقتی اور رسمی یا غمزدہ کنبوں کے آنسو پونچھنے کی کوشش قرار دیا جائے حقیقت یہ ہے کہ عالم انسانیت کی جانب سے اسلامی اور مسلمان ثقات کی نمائندہ علامتوں کے احترام کا آئینہ دار ہے ایک سر بر آوردہ مغربی خاتون کی جانب سے سر پر ڈوپٹا اوڑھنا اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کی ان آیات سے کرنا جس میں صبر اور نماز کی تلقین کی گئی ہو۔۔۔ خدا کی راہ میں مرنے والوں کو شہادت کی خوش خبری دی گئی ہو۔۔۔ اس کے ساتھ السلام وعلیکم کے الفاظ کی ادائیگی یہ سب کچھ شاید پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔۔۔ سر کے ڈوپٹے یا چادر کو تو پوری مغربی دنیا کے اندر تحقیر اور مذاق کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔۔۔ یورپ اور امریکہ کے شہروں میں چادر اوڑھنے یا سکارف پہننے والی مسلم خواتین پر سکولوں اور دفاتر میں داخلے کی پابندی تک لگائی گئی ہے۔۔۔ تلاوت قرآن تو دور کی بات ہے۔۔۔ یہ لوگ تو اللہ تعالیٰ ، نبی آخر الزماں اور کتاب حکیم کا خوشدلی کے ساتھ نام سننا گوارہ نہیں کرتے تھے۔۔۔ اس ماحول اور ایسی دنیا کے اندر مندرجہ بالا اسلامی اور مسلم علامات کے تقدس کا جو جذبہ اُبھر کر سامنے آیا ہے۔۔۔ وہ اس لحاظ سے لائق توجہ ہے کہ مسلمانانِ عالم نے بڑی قربانی دے کر اپنے دینی تشخص کو منوایا ہے اور اس کے ثقافتی حسن کو تسلیم کرایا ہے۔

دہشت گردی کے مرتکب انسان نما درندے کا زبان پر نام لانا بھی نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی غیرت انسانی پر گراں گزرا ہے۔۔۔ اب نیوزی لینڈ کی سربراہ حکومت کا فرض ہے کہ مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اس تمام تر اظہار ہمدردی کے بعد اپنے ریاستی ذرائع کے ذریعے پوری تحقیق کروائیں اور اس بات کا کھوج نکال کر بلا تاخیر دنیا کو آگاہ کریں کہ سفید نسل پرستی کے تعصب سے آلودہ اور اسلام فوبیا کے تعصب میں ڈوبا ہوا یہ آسٹریلوی شخص ان کے ملک میں کیسے آیا۔۔۔ اس کے پیچھے کون سا گروہ اور کن لوگوں کی منصوبہ بندی کام کر رہی تھی۔۔۔ اہل مغرب کا یہ وتیرہ ہے مسلمانوں میں سے کسی کے ہاتھوں سے معمولی درجے کی خونی کارروائی ہو جائے تو اس کی کڑیاں ناجائز طو رپر اسلامی عقیدے سے ملا دینے اور اس الزام کو تقویت دینے میں کمی نہیں رہنے دیتے کہ مسلمان عالمی دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔۔۔ اس کے برعکس جب کسی سفید فام شخص

کے ہاتھوں معصوم مسلمانوں کا خون بہا دینے کی انسانیت دشمن حرکت ظہور پائے تو اسے شخص واحد کی مجنونانہ حرکت قرار دے کر جان چھڑا لی جاتی ہے۔۔۔ جھوٹے ضمیر کو تسلی دے دی جاتی ہے۔۔۔ امید کرنی چاہیے کہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم محترمہ جسندا اور حکومت میں ان کے قریبی ساتھیوں نے جس طرح زبان عمل سے مسلمانوں کے ساتھ گہرے افسوس اور دُکھ اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔۔۔ اسی انسان دووستی کا تقاضا ہے کہ ان کے اندر کا انسان زبان عمل سے بھی اس واقعے کی جڑوں تک پہنچنے میں کوئی دقیقہ باقی نہ رہنے ۔۔۔ دنیا کے سامنے اس کالی کرتوت کے اصل چہرے اور حقیقی منصوبہ بندی کو بے نقاب کیے بغیر دم نہ لیں کہ ان کا اصل امتحان اسی میں ہے۔۔۔ اس حقیقت کو تو تسلیم کیا جا چکا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں مگر وہ دہشت گردی جسے سفید نسل پرستی کی آئینہ دار کہا جاتا ہے بلکہ صحیح تر الفاظ میں اسلامی فوبیا کی عکاس ہے۔۔۔ اسلام کے ساتھ اس نفرت کی جڑیں مغربی دنیا اور تہذیب نے فکری اور عملی لحاظ سے کہاں کہاں پائی جاتی ہیں اور اس کے حقیقی اسباب کیا ہیں۔۔۔ اس پر آج کی دنیا میں نسبتاً بہت کم کام ہوا ہے۔۔۔ جبکہ اسلام اور دہشت گردی کے درمیان مصنوعی رشتے کو حقیقی بنانے کی خاطر تجزیوں ، مضامین اور کتابوں کے ڈھیر لگا دیئے گئے ہیں۔۔۔ یہ عمل اہل مغرب کی کج فکری غیر موضوعی سوچ اور اسلام دشمنی کی عکاسی کرتا ہے تاہم اس ساری صورت حال کے اندر مسلم تہذیب کی نامیاتی قوت کا اندازہ لگائیے کہ ایسے ماحول میں جب کہ ایک آدھ سوا تمام مسلمان حکومتیں مغربی طاقتوں کے آگے سر نیہواڑائے کھڑی ہیں۔۔۔ اور ہمارے اصحاب علم و فضل کی بھاری تعداد ان کے world view سے دنیا کے حالات کا جائزہ لینے کی عادی ہو گئی ہے۔۔۔ اس عظیم تہذیب کی اندرونی طاقت نے اپنے آپ کو منوایا ہے اور دنیا کو اپنی ثقافتی علامات سے نفرت کی بجائے اور 50 مسلمانوں کے خون کی قربانی دے کر اپنی ثقافتی علامات کی تقدیس کا رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔

تاہم وقت کی فکری اور عملی ضرورت متقاضی ہے کہ مسلم دنیا کے آزاد فکرو خیال کے حامل صاحبان علم و نظر اُٹھیں اور باقاعدہ اور معروضی علم و تحقیق کو بروئے کار لاتے ہوئے لمحہ موجود کے اسلامی فوبیا کی جڑوں کو واضح کریں تا کہ دنیائے مغرب کو حقیقی معنوں میں باور کرایا جا سکے کہ ان کے فکرو خیال اور سوچ و عمل کے کون سے پیمانوں میں بنیادی خرابی اور توازن کا فقدان پایا جاتا ہے جس نے جاری تصادم کے اہم اسباب کو جنم دیا ہے۔۔۔ مسلمانوں کے جس رویے کو دہشت گردی پر معمول کیا جاتا ہے۔۔۔ اس کی ایک بڑی وجہ بھی امریکہ اور یورپ کے مفکرین اور پالیسی سازوں کی پر زور کوشش اور زبردست ذہنی کاوش ہے کہ اسلام اور جمہوریت میں ملاپ وجود میں نہ آنے دیا جائے ۔۔۔ اسی لیے Islam and democracy are not comptibleکا فقرہ ان قوموں کی نمائندہ فکر کے حامل محققین اور دانشوروں کے عقیدے (creed) کا جزو بن گیا ہے۔۔۔ جبکہ امریکہ اور یورپی طاقتوں کی حکومتوں نے اسے اپنی پالیسیوں کے اندر طرح سمو رکھا ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ 1991-92ء میں جب الجزائر آزادانہ انتخابات کے نتیجے میں اسلامی جمہوری کے دہانے پر کھڑا تھا تو مغربی ریاستی دہشت گردی روبہ عمل آئی، اسلامی محاذ کو کامیابی کو بزور طاقت روک دیا گیا۔۔۔ اس کے نتیجے میں اتنی بڑی خون ریزی عمل میں آئی کہ الجزائر کی ریاست، حکومت اور عوام اس کے اثرات سے ابھی تک نہیں نکل سکے۔۔۔ جدید دنیا کے مبصرین کی رائے ہے کہ اس ایک امر نے مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کی لہر کو بڑے زور کے ساتھ اٹھایا۔۔۔ القاعدہ کو نئی تقویت ملی اور اس کے بعد داعش اور اس کی ناپسندیدہ کارروائیوں نے غلبہ حاصل کرلیا ہے۔۔۔ ان دونوں جماعتوں کے طرز عمل کی وجہ سے امریکہ کو افغانستان و عراق کو قبضے میں لینے اور ملک شام کے اندر خانہ جنگی کی آگ بھڑکانے کا موقع فراہم کیا اس کے بعد 2013ء میں مصر کے اندر محمد مرسی کی منتخب حکومت کو اکھاڑ دینے کے عمل اور 2016ء میں ترکی کی منتخب حکومت کے خلاف وہاں کی فوج کے ایک حصے کی بغاوت روبہ عمل لانے کے پیچھے بھی یہی نظریہ اور فکر محرک کا کام دیتا نظر آتا ہے کہ اسلام اور جمہوریت کو ایک دوسرے سے متعارض بنا کر رکھ دیا جائے ان کا ملاپ نہ ہونے دیا جائے مبادا اسلامی تہذیب ماہ کامل بن کر ہمارے مقابل میں کھڑی ہو جائے اس حقیقت نفس العمری سے مستشرقین کی معتدبہ تعداد واقف ہے کہ قرآن میں اسلامی ریاست کے کار پردازوں کو فیصلہ سازی کے عمل کے دوران جمہوری طرز عمل اپنانے کا حکم دیا گیا ہے۔۔۔ پیغمبر اسلام نے اس پر عمل کیا اور اسی کی روح خلافت راشدہ کی بنیادوں میں شامل تھی۔۔۔ بعد میں ملوکیت نے انہی بنیادوں پر پانی ڈال کر انہیں کھوکھلا کر دیا۔۔۔ بیسویں صدی کے نصف دوم میں جب کئی مسلمان ریاستیں آزاد ہوئیں ان میں سے جنہوں نے جمہوری بنیادوں پر اٹھان کا عزم باندھا ان میں پاکستان کو منفرد حیثیت حاصل تھی کہ اس کے حصول کی جدوجہد میں اسلام کے ساتھ مسلماناں برصغیر کے بنیادی جمہوری حقوق کی بازیابی نے بنیادی کردار ادا کیا لیکن امریکہ نے پاکستان کو اس کی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے اپنی جکڑ بندی میں لے کر یہاں کبھی جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا۔۔۔ آمروں و نیم آمروں کے ذریعے اس عظیم ریاست اور اس کے وسائل کا خوب خوب استعمال کیا۔۔۔ یکے بعد 4 مارشل لاء لگوائے اور آج کی صورت حال یہ ہے کہ جمہوریت کے غلاف میں عسکری آمریت لپٹی ہوئی ہے۔۔۔ ترکی شاید مسلم دنیا کا واحد ملک ہے جس نے اب تک نہایت کامیابی کے ساتھ امریکہ سمیت ساری مغربی طاقتوں کے اسلام کے مخالف غیر جمہوری عزائم کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا ہے اور اسی لیے طیب اردوان کی شخصیت ان کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔


ای پیپر