اقتصادی راستے
20 مارچ 2019 2019-03-20

بین الاقوامی سروے ادارے کا تجزیہ تفصیل سے تو ہر گز نہیں پڑھا۔ اس اعتراف کے بعد سروے پر لکھنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اگرچہ سرخیوں سے نفس مضمون کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کئی جید قلم کار ہفتہ گزشتہ میں چھپے اس سروے پر قلم زنی کر چکے۔ بندہ مزدور کا شمار نہ تین میں نہ تیرہ میں۔ ویسے بھی جب سروے میں خوش خبری دیدی گئی کہ عوام الناس کی غالب اکثریت اپنے شب و روز سے خوش ہے۔ کسی ستم ظریف نے لکھا ہے کہ طبقہ نوجوانان کی بجاے سوال ان سے پوچھا ہوتا جن کی کمر پر بلوں کی ادائیگی کا بوجھ لدا ہوا ہے۔ لیکن بحر حال یہ تو سروے کنندگان کی مرضی ہے۔ قارئیں خاطر جمع رکھیں قلمکار کا موضوع مقبولیت اور راے عامہ کا یہ سروے ہر گز نہیں۔ ان تجزیوں کی حقیقت کا پتہ ہے۔ حال دل کا موضوع کچھ اور ہے۔ ایسی صورتحال میں جب کمر توڑ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوے عوام کو سرابوں کے بہلاوے سے راضی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عالمی بنک نے ہفتہ کے آغاز میں پاکستان ایٹ 100 , مستقبل کی تصویر کے نام سے اپنی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کوئی خفیہ نہیں بلکہ بڑے طمطراق سے مقامی پنج ستارہ ہوٹل میں بصد اہتمام جاری کی گئی۔ تقریب میں کفایت شعاری کی حکومتی مہم کا سایہ تک نہیں پڑنے دیا گیا۔ لوازمات سے بھر پور چائے کا وقفہ ، پرتکلف ظہرانہ۔ مکمل تام جھام۔ یہ رپورٹ دو اہم وفاقی وزرا کی موجودگی ہی نہیں بلکہ ان کی زیر صدارت بہت بڑے اجلاس میں جاری کی گئی۔ ایک وزیر تو اپنے جناب اسد عمر تھے۔ جن کی وزارت کی کشتی ہر وقت بھنور کی زد میں رہتی ہے۔ اور دوسرے وزیر موصوف ہر الیکشن سے پہلے نئے ٹرک کے سوار خسرو بختیار۔ ورلڈ بنک کی اس رپورٹ کا لب لباب یہ ہے کہ دو ہزار سینتالیس میں جب پاکستان سو سال کا ہو چکا ہوگا تو وہ بطور ملک کہاں کھڑا ہوگا۔ اور یہ بھی گزشتہ ستر سالوں میں پاکستان نے کیسے پرفارم کیا۔ خاص طور معاشی میدان میں۔ عالمی بنک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے سوویں سالگرہ مناتے تک اگر معاشی میدان میں کامیاب ہونا ہے تو بہت سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔ امیر ممالک میں شامل ہونا ہے تو سب سے پہلے بڑھتی آبادی پر کنٹرول کرنا ہوگا۔ ٹیکس اصلاحات کرنی ہوگی اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ ورنہ ترقی کا خواب ادھورا رہے گا، رپورٹ میں کہا گیا ہے ابتدائی تیس سالوں میں لوگوں کا معیار زندگی بلند ہورہا تھا لیکن اب ترقی کی رفتار غیر متوازن ہے۔ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اگلا عشرہ بہت اہم ترین ہے۔ اس ایک عشرہ میں اپنائی گئی پالیسیاں مستقبل کی ترقی کا تعین کرینگی۔ آبادی کی شرح کو کم کرکے ایک عشاریہ دو کی سطح پر لانا ہوگا۔ تعلیم کیلئے بجٹ ٹوٹل جی ڈی پی کا کم آ ز کم دو فیصد کی بجائے پانچ فیصد مختص کرنا ہوگا۔

عالمی بنک کی تجزیاتی رپورٹ بتاتی ہے کہ ترقی کی اوسط شرح نمو تیس سے چالیس برس تنزلی کا شکار رہی۔ جس کی بڑی وجہ ہیومن ریسورس کا مناسب استعمال نہ ہونا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیکورٹی مسائل کی وجہ سے وسائل کو ترقیاتی شعبوں میں استعمال نہیں کیا جاسکا۔ ملک میں ٹوٹل ٹیکس دہندگان کی تعداد پندرہ لاکھ ہے۔ لہٰذا ریونیو میں اضافہ

کیلئے زراعت کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اخراجات کی شرح ترانوے فیصد ہے اور بچت کی شرح دس اعشاریہ ایک فیصد۔ آئندہ پانچ سالہ پلان میں بچت کی شرح کو پندرہ فیصد کرنا ضروری ہے۔ عالمی بنک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی ترقی کیلئے امن و امان سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے۔ ورلڈ بنک کی رپورٹ اور محصولات کے تازہ ترین اعدادوشمار الارمنگ ہیں۔ تازہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ٹیکس وصولی کی شرح میں تاریخ کا بدترین شارٹ فال ہے۔ پہلے آٹھ ما ہ دو سو بتیس ارب روپے کا خسارہ ریکارڈ ہوا ہے۔ یہ رجحان رہا تو مالی سال کے اختتام تک ٹیکس وصولی کا خسارہ پونے پانچ سو ارب تک پہنچ جاے گا۔ ماہرین کی رپورٹوں اور تجزیوں پر کان نہ دھرا گیا تو وہ بری خبر تیس سال بعد وصول ہونی ہے وہ پانچ سالوں میں سامنے ہوگی۔ ماہرین نے منفی اشارے دیے ہیں تو ساتھ اس متوقع بحران سے نمٹنے کیلئے راستہ بھی بتایا ہے۔ فیصلہ تو ہم نے کرنا ہے کہ اس راستہ کو کتنی جلدی اپنانا ہے۔


ای پیپر