بلاول بھٹو اور پی پی پی کا سیاسی مستقبل
20 مارچ 2019 2019-03-20

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بے نظیر بھٹو کو ملک کا وزیر اعظم بننے میں 9 سال کا عرصہ لگا مگر کیا وجہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے 12 سال بعد بھی ابھی تک بلاول بھٹو زرداری اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچ سکے بلکہ دور دور تک ایسے امکانات بھی نظر نہیں آتے کہ ان کی پارٹی قومی سطح پر اقتدار حاصل کرنے کی پوزیشن میں واپس آ سکے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ذوالفقار بھٹو کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو مکمل طور پر پارٹی کے کلی اختیارات کی مالک تھیں ان کے دور میں ایک وقت ایسا آیا کہ وہ اپنے والد سے زیادہ مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں مگر بلاول کی بد قسمتی یہ تھی کہ والدہ کے قتل کے بعد وہ اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ پارٹی پر قبضہ کر سکتے۔ آصف علی زرداری نے بے نظیر اور پھر بلاول کے نام پر پارٹی کو قطعی طور پر اپنی آہنی گرفت میں رکھا اور اپنی مرضی سے چلایا۔ پاکستان پیپلز پارٹی تاریخی طور پر بھٹو اور بے نظیر کی پارٹی تھی مگر عملاً یہ پارٹی اپنے نظریات سے کنارہ کش ہو کر پاور پالیٹیکش کی ایک عملی مثال تھی جس نے اقتدار کی خاطر ہر موقع اور ہر موڑ پر سمجھوتے کا عمل جاری رکھا جس کی وجہ سے پنجاب جہاں سے پارٹی نے جنم لیا تھا وہاں سے پارٹی کا خاتمہ ہو گیا۔ بلاول بھٹو اس لیے لیڈر نہ بن سکے کہ ان کی ساری نمائشی اور شو روم ٹائپ کی سیاست کے لیے انہیں مخصوص ماحول سے دانستہ طور پر باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ برائلر مرغیوں کی افزائش کا جدید نظام جسے کنٹرول شیڈ کہا جاتا ہے آج کل کافی عروج پر ہے۔ اس میں مرغیوں کو خوراک ٹمپریچر پانی ہوا ٹھنڈک اور دیگر لوازمات کا ایک fixed سسٹم مہیہ کیا جاتا ہے۔ بلاول اس کنٹرول شیڈ کے پنجرے کا ایسا سیاستدان ہے جس کی قدرتی طور پر پروان چڑھنے کی امنگ اب بھی تشنہ ہے۔

اس میں سارا قصور آصف علی زرداری صاحب کا نہیں ہے ۔ بلاول بھٹو جب سیاسی بلوغت کے درجے پر پہنچا تو اس کے سامنے دو راستے تھے ایک بے نظیر school of thought تھا جس پر عمل پیرا ہو کر بلاول بھٹو اسی طرح عوامی لیڈر بن سکتا تھا جس طرح بھٹو صاحب کے بعد بے نظیر بنی تھیں۔ دوسرا راستہ زرداری school of thought تھا بلاول بھٹو نے بے نظیر کی بجائے آصف زرداری کو اپنے لیے مشعل راہ بنایا۔ شروع کے عرصہ میں بلاول کو خاصی کشمکش کا سامنا رہا جب وہ

چاہتے تھے کہ وہ بے نظیر کے نقشِ قدم پر چلیں لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ آصف علی زرداری کے دور صدارت میں بلاول نے بڑے لمبے عرصے تک کوشش کی کہ وہ اپنے نام کی طرح بھٹو کی سیاسی وراثت حاصل کریں اس عرصہ میں فریال تالپور پارٹی پر مکمل قابض تھیں اور بلاول کے فریال تالپور اور آصف زرداری سے اختلافات کی خبریں ہر سطح پر آتی رہیں وہ سب کچھ چھوڑ کر کچھ عرصہ کے لیے پاکستان سے چلے گئے لیکن بالآخرانہیں سمجھوتہ کرنا پڑا اور وہ سیاست میں بے نظیر کے نہیں بلکہ آصف زرداری کے وارث بن گئے۔

انہیں ایک سنگین مشکل یہ بھی درپیش تھی کہ وہ پاکستان کی قومی زبان سے نا آشنا تھے۔ انہوں نے زبان سیکھنے کی بجائے رٹے رٹائے جملے اور تقاریر کا سہارا لیا جس کی وجہ سے انہیں کافی تنقید اور مذاق کا سامنا کرنا پڑا۔ 12 سال کی ریاضت کے بعد اب وہ بمشکل اس قابل ہوئے ہیں کہ بغیر رٹا وہ اردو میں بات کر سکتے ہیں مگر زبان کے بنیادی رموز و قواعد سے وہ اب بھی واقف نہیں ہیں اور کم و بیش پٹھانوں والی اردو بولتے ہیں جس میں مذکر اور ؤونث کی تمیز گڈمڈ ہو جاتی ہے اور حفظِ مراتب کا خیال رکھنا ان کے لیے نا ممکن ہے جیسے وہ پچھلے ہفتے میاں نواز شریف سے ملنے کے بعد کہہ رہے تھے کہ میاں صاحب کہتا ہے کہ وہ بیمار ہے وغیرہ۔

بلاول بھٹو کے سیاسی سفر میں انہیں ایک مشکل یہ بھی پیش آ رہی ہے کہ آصف زرداری پر لگنے والے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات براہ راست نہ سہی مگر بالواسطہ طور پر بلاول بھٹو کو haunt کر رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ بلاول کے لیے ان سے پیچھا چھڑانا اور مشکل ہوتا جائے گا۔ مثال کے طور پر آج کل پارک لینڈ کمپنی کا ایک کیس نیب راولپنڈی میں لگا ہوا ہے جس میں محکمہ جنگلات کی 2500 کنال سرکاری اراضی غیر قانونی طور پر ایک فرنٹ مین اقبال میمن کے ذریعے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے سنجرانی میں الاٹ ہوئی۔ یہ وہ کیس تھا جس پر جسٹس ثاقب نثار نے بلاول کا نام اس گراؤنڈ پر ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا کہ جس سال یہ زمین ناجائز طور پر لی گئی اس وقت یعنی 1989 ء میں بلاول کی عمر ایک سال تھی مگر کیس کے دیگر شواہد بتاتے ہیں کہ 2008 ء سے بلاول اس کمپنی میں ڈائریکٹر ہیں اور دوسرے ڈائریکٹر آصف زرداری کے ساتھ یہ دونوں کمپنی کے 25-25 فیصد کے شیئر ہولڈر ہیں۔ اس کیس میں نواز شریف کے بیٹوں کی طرح بلاول کے لیے کلین چٹ لینا اتنا آسان نہیں ہوگا ۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ میاں نواز شریف کے نا اہلی کی وجہ پارک لین فلیٹ تھے جبکہ آصف زرداری اور بلاول کا کیس پارک لینڈ کمپنی کی وجہ سے ہے۔

بلاول بھٹو کے راستے کا ایک اور پتھر منی لانڈرنگ کیس ہے جس کی مالیت 35 ارب روپے ہے۔ اس میں بلاول کا نام نہیں ہے یہ کیس اصل میں فریال تالپور اور آصف زرداری کے خلاف ہے۔ اس میں بے نامی اکاؤنٹ کھول کر کرپشن کا پیسہ آصف زرداری کے فرنٹ مین اومنی گروپ کے انور مجید کے ذریعے باہر بھجوایا گیا ایف آئی اے نے یہ کیس سندھ بینکنگ کورٹ میں رجسٹر کیا یہ وہی کیس ہے جس میں فالودے والے کے اکاؤنٹ سے دو ارب روپے باہر بھیجے گئے تھے اب یہ کیس چیئر مین نیب کے حکم پر سندھ سے راولپنڈی ٹرانسفر ہوا ہے۔ جس پر پیپلز پارٹی میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ اس میں بلاول کی دخل اندازی اس حد تک ہے کہ ایان علی اور بلاول کے ایئر ٹکٹ ایک ہی اکاؤنٹ سے خریدے گئے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق سندھ سے 90 ارب روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی ہے۔ایسی تحقیقات سامنے آ رہی ہیں کہ ترقیاتی پراجیکٹ کے ٹھیکیداروں نے اومنی گروپ کے کھاتوں میں پیسے جمع کروائے جو ملک سے باہر بھیج دیئے گے۔

سندھ میں غربت کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے سندھ کی غربت پنجاب کی غربت سے کہیں زیادہ سنگین ہے کیونکہ وہاں تو پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر اور بے زمین ہیں اور جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ میں ایک political cartel کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں اگر کوئی شخص انہیں ووٹ نہیں دے گا تو سنگین نتائج کا ذمہ دار خود ہو گا۔پورے سندھ سے منتخب ہونے والے سیاستدان اس cartel کا حصہ ہیں۔ اگر کوئی مخالفت کرے گا تو اس کا انجام ذوالفقار مرزا جیسا ہو گا لہٰذا یہ لوگ وہاں رسک لینے کا سوچ بھی نہیں سکتے اور پیپلز پارٹی کے سندھ پر قبضہ جاری رکھنے کی سب سے بڑی وہ یہ ہے کہ وہاں کوئی متبادل قیادت یا پارٹی اندرون سندھ موجود نہیں ہے سوائے کراچی اور حیدر آباد کے۔ اگر بلاامتیاز احتساب کا عمل اپنا راستہ میرٹ پر متعین کرتا ہے تو سندھ سے بھی آنے والے وقت میں پیپلز پارٹی کی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔


ای پیپر