نفرت کے سوداگر
20 مارچ 2019 2019-03-20

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 50 نمازی نسل پرستانہ، مسلمان مخالف اور فاشٹ انتہا پسندانہ بیانیے اور نظریات کی وجہ سے شہید کر دیئے گئے۔یہ 50 بے گناہ اور معصوم انسانی جانیں کسی جنگی محاذ پر نشانہ نہیں بنیں اور نہ ہی خانہ جنگی کی نذر ہوئیں۔ بلکہ دنیا میں سب سے پر امن سمجھے جانے والے ملک نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں نشانہ بنے ہیں۔ نیوزی لینڈ کو انسانوں کے رہنے کے اعتبار سے سب سے اچھے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

50 بچے، بوڑھے اور جوان اس نفرت کا نشانہ بن گئے جو کہ 28 سالہ آسٹریلوی شہری برنٹین ٹیرنٹ اپنے ذہن میں پال چکا تھا۔ اس نفرت کی بنیاد وہ زہریلا پروپیگنڈہ ہے جو کہ اسلام ، مسلمانوں اور تارکین وطن کے حوالے سے کہا جاتا ہے۔ ان سفاک دہشت گردوں نے 50 بے گناہ اور معصوم لوگوں کو نشانہ کیوں بنایا اس کے لیے ان سفاک قاتلوں کے نظریات اور خیالات جاننا ضروری ہے۔

یہ بلا شبہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سب سے بڑا دہشت گردی اور فائرنگ کا واقعہ ہے۔ جس نے پورے نیوزی لینڈ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس دہشت گردی میں 9 پاکستانی بھی شہید ہوئے ہیں۔ دہشت گرد اتنا سفاک اور بے رحم، اس میں نفرت اتنی زیادہ ہے کہ اس نے اپنی بر بریت کے مناظر سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کیے۔

ٹیرنٹ نے جو کچھ کیا ا س کی بنیاد وہ بیانیہ اور نظریات ہیں جو اسلام مخالف، کٹر قوم پرستانہ ، نسل پرستانہ اور انتہائی دائیں بازو کے تارکین وطن مخالف گروپوں اور تنظیموں میں پائے جاتے ہیں۔ مغربی ممالک میں ان گروپوں اور تنظیموں کی تعداد میں نہ صرف اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ان کی حمایت بھی بڑھ رہی ہے۔ اس بیانیے اور نظریات کی بنیاد نفرت ہے۔ مسلمانوں تارکین وطن اور مخصوص گروہوں کے خلاف شدید نفرت پر مبنی اس بیانئے کے تین بنیادی ستون ہیں۔ پہلا، سفید فام نسل سب سے اعلیٰ اور برتر ہے۔ دنیا پر حکمرانی کا حق صرف سفید فاموں کو حاصل ہے۔ لہٰذا سفید فام برتری کو در پیش ہر چیلنج سے نبٹنا ضروری ہے۔ دوسرا، اسلام اور مسلمان مغربی تہذیب اور سماج کے لیے خطرہ ہیں۔ ان کی مغربی ممالک میں بڑھتی تعداد سفید فام برتری اور اکثریت کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ مسلمانوں اور دہشت گردی کا

چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مغرب کو محفوظ بنانے کے لیے مسلمانوں کو وہاں سے نکالنا ضروری ہے۔ تیسرا، مغربی ممالک کو درپیش معاشی اور سماجی مسائل اور مشکلات کی وجہ تارکین وطن ہیں۔ مغربی ممالک میں بے روزگاری اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ تارکین وطن اور مہاجرین ان کی نوکریاں چھین رہے ہیں۔ لہٰذا مہاجرین کا داخلہ مغرب میں بند کرو اور پہلے سے موجود مہاجرین اور تارکین وطن کو واپس بھیجو۔یہ بیانیہ اور خیالات مغربی جمہوری معاشروں میں روادری، انسان دوستی، برابری، برداشت اور بھائی چارے جیسی روایات کی جگہ نفرت اور تقسیم کے بیج بو رہا ہے۔ اس بیانیے کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ سماج میں موجود معاشی اور سماجی مسائل کا ذمہ دار سرمایہ دارانہ نظام، حکمران طبقے اور ا ن کی پالیسیوں کو سمجھنے کی بجائے اپنے جیسے دوسرے انسانوں کو سمجھتا ہے جو کہ رنگ اور نسل میں تو مختلف ہیں مگر انہی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ یورپ کے کئی ممالک میں حکمران طبقے کا ایک حصہ قوم پرستی، نسل پرستی اور اسلام فوبیے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ جس سے سماج تقسیم ہو رہے ہیں۔ اختلافات نفرتوں میں تبدیل ہو رہے ہیں ۔ بے روزگاری ، غربت، نسل پرستی، طبقاتی تقسیم ، معاشی و سماجی ناہمواری اور دولت کی بڑھتی ہوئی غیر منصفانہ تقسیم اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف متحدہ اور مشترکہ جدو جہد کی بجائے نسل رنگ اور مذہب کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔ عوام کا حقیقی دشمن اور مخالف تو وہ نظام ہے اور پالیسیاں ہیں جو ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں۔ جن کے نتیجے میں بے روزگاری، غربت، محرومی، رہائش، تعلیم اور صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ امارت اور غربت کی تقسیم میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ کٹویتوں اور بچت کے نام پر بنیادی سہولیات اور خدمات کو عوام سے چھینا جا رہا ہے۔ فلاحی ریاست پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ ماضی کی حاصلات کو واپس چھینا جا رہا ہے۔ ان حالات میں ایک رد عمل پیدا ہو رہا ہے۔ قوم پرستانہ، نسل پرستانہ، اور فاشٹ نظریات اور خیالات رکھنے والے اس رد عمل کو نسل پرستانہ، مہاجرین مخالف اور مسلمان مخالف رنگ اور شکل دینا چاہتے ہیں۔

28 سالہ ٹیرنٹ بیانیے اور نظریات کی بنیاد پر اتنا سفاک اور بے رحم قاتل اور دہشت گرد بنا۔ کسی بھی مذہب، عقیدے ، رنگ، نسل ، قبیلے، قومیت اور نظریے کی بنیاد پر پنپنے والی نفرت انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے اور اس انتہا پسندی کو مسلح دہشت گردی میں تبدیل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ امریکہ، آسٹریلیا، جرمنی، فرانس اور برطانیہ جیسے مہذب اور صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں گزشتہ چند سالوں میں نسل پرستانہ حملوں میں بے تماشا اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ میں صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں نے جس طرح کے بیانیے کو پروان چڑھایا ہے اس کے نتیجے میں نسل پرستانہ اور مذہبی بنیاد پر ہونے والے حملے اور جرائم بڑھ گئے ہیں۔ یہی صورت حال برطانیہ کی ہے جہاں یورپی یونین سے علیحدگی پر ہونے والے بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد سے ان حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

مسلمان اور مہاجرین مخالف بیانیے کو پروان چڑھانے میں مغربی میڈیا نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور پر 9/11 کے بعد سے مغربی میڈیا نے مسلمانوں کو مسلسل تشدد، جنگوں، دہشت گردی اور تشدد کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ مغربی میڈیا میں مسلمان اکثریتی آبادی والے ممالک کے حوالے سے چھیننے والی رپورٹس کا تعلق تشدد اور دہشت گردی کے واقعات سے ہوتا ہے۔

مغربی میڈیا کے بڑے حصے نے اس تاثر کو پھیلانے اور تقویت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے کہ مسلمان تشدد پسند کرتے ہیں اور ا س کی وجہ ان کے مذہبی عقائد ہیں۔ حالانکہ یہ بات حقائق کے بر عکس ہے۔ اس تاثر کو تقویت دینے میں ان مسلح جنگجو اور انتہا پسند گروہوں کا بھی اہم کردار ہے جو کہ مذہب کی آڑ میں نفرت اور تشدد کو فروغ دیتے ہیں۔ ان چند گروپوں اور گروہوں کی بنیاد پر تمام مسلمانوں کو دہشت گردی اور تشدد کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے۔

نفرت کے سودا گر مذہب، عقیدے، قوم ، رنگ ، نسل اور قبیلے کے بنیاد پر تقسیم کی بنیاد رکھتے ہیں۔ وہ ماضی کے ان تمام تعصبات کو نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور پھر اسی نفرت کی بناء پر بے گناہ اور معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہنستے کھیلتے خاندانوں اور سماجوں کو ماتم کدے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ سامراجی طاقتیں اور حکمران طبقات بھی ان تعصبات کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کیا مغربی طاقتیں اس حقیقت سے انکار کر سکتی ہیں کہ انہوں نے اپنے مفادات کے تحت پاکستان اور دیگر ممالک میں مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسندی کو فروغ دیا۔ مغربی میڈیا مذہبی انتہا پسندی کا شور تو ڈالتا ہے مگر یہ نہیں بتاتا کہ مغرب نے بھی اس بیانیے کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا ہے۔


ای پیپر