ظالم کو مظلوم بنتے دیر ہی کتنی لگتی ہے!
20 مارچ 2019 2019-03-20

ظالم کو مظلوم بنتے دیر ہی کتنی لگتی ہے ایک لحظہ ،ایک لمحہ یا پھر 35سالہ سیاسی کرئیر ۔کل تک جن کے اشارہ آبرو سے پو رے ملک کی انتظامیہ ہل کر رہ جاتی تھی جن کے گرے ہوئے قلم کو ایس ایس پی رینک کی افسراٹھایا کرتی تھیں اور جن کی انگلی کی ذرا سی حرکت سے بڑے سے بڑا افسر پلک جھپکتے ہی معطل ہوجایا کرتا تھا اب وہ ایک سیاسی قیدی سے جیل قوانین کے برعکس ہر روز ملاقات کے متمنی نظرآتے ہیں ۔ وقت کا تازیانہ بھی بڑا بے رحم ہوتا ہے جب یہ پیٹھ پر پڑتا ہے تو انسان کن اکھیوں سے اپنے اردگرد ہمدرد تلاش کرنے کی کوشش کرنے لگتا ہے ۔جب اسے’’ ہمد در وں‘‘ کی تعداد کم دکھائی دینے لگتی ہے تووہ مزید ہمددر بنانے کیلئے موت کو ’’ علاج ‘‘پر ترجیح دینے جیسی باتیں کرنے لگتا ہے اورقریبی رشتہ دار سوشل میڈیا پراس کی بیماری کاپرچارمزید شدو مد سے کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں کہ شائد اس بار بھی کوئی’’شاہی حکمران ‘‘ان کا بازو تھام لے لیکن یہ تمام کوششیں اس اس وقت زائل ہوتی نظر آتی ہیں جب حکومتِ وقت انہیں ملک میں ہر طرح کا علاج معالجہ فراہم کرنے کی پیشکش کردیتی ہے ۔ جب سب کوششیں بے سود ثابت ہونی لگیں تو عدالت سے ٹیکنیکل بنیادوں پر ضمانت لینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ وہی عدالتیں جن کے فیصلوں پر مریض معترض تھا جن کے فیصلوں کو بنیاد بنا کرشہرشہر، نگر نگر’’خلائی مخلوق‘‘پر تنقید کی جاتی رہی ۔ دیکھا جائے توبات4اپریل 2016کو صرف دو تین سادہ سے سوالوں سے شروع ہوئی تھی کہ بیرون ملک بنائے گئے فلیٹس کی رقم کہاں سے آئی اور وہ کیسے باہر بھیجی گئی ۔بظاہر آسان سے سوالات نے بات کہاں سے کہاں پہنچا دی ۔ صحیح جواب نہ دینے کی پاداش میں وقت نے وزرات عظمیٰ کی کرسی سے اٹھا کر دیکھتے ہی دیکھتے حوالات کا منہ دکھا دیا ۔ اس دوران ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے گئے اور پابندسلاسل ہونے کا الزام ڈھکے چھپے الفاظ میں اسٹیبلشمنٹ پربھی لگا دیا گیا۔ جو خود اپنے وقت میں اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد سے 1985کے غیر جماعتی انتخابات اور198872371993کے جماعتی انتخابات کے بعد منتخب وزرائے اعظم کے خلاف سازشیں کرتے رہے انہیں اپنے مخالف سمت چلنے والی ہر چال سازش نظر آنے لگی۔ (خیال رہے کہ سابق وزیراعظم ان سازشوں کے حوالے سے اعترافات کرچکے ہیں جن کی وڈیوزانٹرنیٹ پر موجود ہیں)۔ آمریت کے سائے میں پروان چڑھنے والوں کی جماعت نے 1997میں احتساب بیور و بنایا تو سیاسی مخالفین کے خلاف دھڑا دھڑ مقدمات بنائے گئے ۔ اس وقت توچھوٹے بھیاجی بڑے بھائی کی ناراضی کے خوف سے جج صاحب کو ’’سزا‘‘ بڑھانے کی ہدایت جاری کرتے تھے ۔مخالف پارٹی کے شریک چیئرمین کو سیاسی مقدمات میں پھنسایا گیا جس کے نتیجے میں انہیں کم و بیش 11برس جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا۔جب اپنی باری آئی تو موصوف نے جیل میں مقید ہونے کے بجائے دس سالہ معاہدے کے عوض شاہی مہمان بننے کی آفر قبول کی ۔ یا در رہے کہ سابق وزیراعظم معاہدہ کبھی پانچ تو کبھی سات برس کا ہونے کی بات کرتے رہے اس بات سے پردہ بلآخر ایک سعودی شہزادے نے اٹھا یا اورمیڈیا کے درجن بھرے کیمروں کے سامنے معاہدے کی کاپی لہرا کر دکھائی کہ معاہدہ دس برس کا کیا گیا تھا ۔خیرتمام تلخیوں کو بھلا کر میثاق جمہوریت کیاتو صرف پانچ برس بعد ہی میموگیٹ سکینڈل کو بنیاد بنا کر مخالف حکومت کے خلاف جناب سپریم کورٹ پہنچ گئے۔میموگیٹ اور سانحہ ایبٹ آباد کا زخم سینے پر لیے جب یہ حکومت انتخابی میدان میں بازی ہار گئی تو فقط ’’آر۔او‘‘ انتخابات کہنے پر اکتفا کیا ۔پھر ایک اور سیاسی پارٹی نے حکومت مخالف مہم چلائی، انتخابات میں دھاندلی پر کمیشن بنا تو ماضی قریب کی کدورتوں کو بھلا کر یہی سیاسی جماعت وقت کی حکمران پارٹی کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑ ی ہوگئی۔ ابھی کچھ دنوں کی ہی تو بات ہے ماضی بعید میں جس بچے کی ماں کی دو بار حکومتیں گرائی گئیں تو وہ حکومتیں گرانے والے سے مشکل وقت میں جیل میں ملاقات کرنے کیلئے لیے پہنچ گیا ۔ دیکھنے میں تو یہ کم عمر سیاسی پارٹی کا سربراہ تھا مگر اسے جیلیں گھومنے کا بچپن ہی بڑا تجربہ حاصل تھا کیونکہ وہ اپنی والدہ کی انگلی پکڑکر ایک جیل سے دوسری جیل اپنے باپ سے ملاقات کرنے کیلئے گھوما کرتا تھا ۔ آج وہی بچہ بڑا ہو کراپنے مخالف کے علاج کیلئے آواز اٹھا رہا ہے ۔ اس نے تو اپنے صوبے کے ہسپتال میں علاج کرانے کے ساتھ ساتھ آئین سے آرٹیکل 62،63نکالنے کی بھی پیشکش کردی ۔ وہ عمر میں چھوٹا ضرور تھا مگر ظرف میں بڑا نکلا۔ جیل میں قید سابق وزیراعظم یہ سوچتے تو ہوں گے جو پیشکش آج یہ بچہ کررہا ہے کاش 2010ء میں اٹھارویں ترمیم کرتے ہوئے آمر کے بنائے گئے ان آرٹیکلز کو آئین نکال دیتے وہ مخالف پارٹی کے سینئر رہنما جو بعد میں چیئرمین سینیٹ بھی بنے ان کی تجویز مان لیتے تو وہ آج پابند سلاسل نہ ہوتے ۔وقت جو سبق دے رہا ہے اس سے اس وقت کے حکمران کو بھی سیکھنا چاہیے ۔ انہیں اپنے سیاسی مخالف کی تیماری دار ی کرنی چاہیے کیونکہ جب وہ لاہور کی غالب مارکیٹ میں لفٹر سے گرا تھا تو یہی’’قیدی‘‘انتخابات کے شورشرابے کوچھوڑ چھاڑ کرشوکت خانم ہسپتال اس کی تیمارداری کیلئے پہنچا تھا ۔ قیدی کا مقدمہ عدالت میں ہے وہ طبی بنیادوں پر ضمانت چاہتا ہے عدالت کہہ چکی ہے ضمانت دے بھی دی جائے تو مریض کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔وقت کاتازیانہ بڑا بے رحم ہوتا ہے ، ظالم کو مظلوم بنتے بھلا دیر ہی کتنی لگتی ہے ۔ حکمران ماضی کے ہوں یا موجودہ انہیں وقت کے دئیے ہوئے سبق سے سیکھنا ہوگا ورنہ پھر وقت انہیں اپنے طریقے سے بھولے ہوئے اسباق یاد کروائے گا ۔ مخالفین کیلئے کھودے گئے گڑھے کنوؤں میں انسا ن جب خود اوندھے منہ گرتا ہے تو حسرت و یاس کی تصویر بن جاتا پھر وہ اپنے اردگرد ہمدرد تلاش کرنے کی تگ ودو میں لگ جاتا ہے ۔کاش ان حکمرانوں نے اپنے اپنے ادوار حکومت میں ہر رکن قومی اسمبلی کے حلقے میں ایسے ہسپتال بنائے ہوتے جہاں عوام اور عوامی نمائندہ اکٹھے علاج کروا سکتے تو آج اس سابقہ حکمران کی بیماری پر سیاست نہ ہورہی ہوتی ۔


ای پیپر