پاک بھارت کشیدگی!آدھی سے زائد دُنیا تباہی کے دہانے پر؛؛؛
20 مارچ 2019 (17:27) 2019-03-20

بھارتی عوام نے اپنی اور دیگر اقوام کی تباہی وبربادی کے پروانے پر اس وقت اپنے دستخط ثبت کیے جب انہوں نے اجتماعی طور پر ایک پُرتشدد ذہن کے مالک دہشت گرد شخص کو اپنا وزیراعظم منتخب کیا۔ پاکستان اور اسلام دُشمنی میں اندھی سیاسی جماعت بی جے پی جس کی درپردہ قیادت حقیقت میں آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ہاتھ میں ہے، جو اپنی انتہاپسندی کے باعث دُنیا بھر کی سلامتی کے لیے باقاعدہ ایک خطرے کا نشان ہے، جو اب پوری دُنیا کے سامنے کھل کر ظاہر ہوچکا ہے۔ نریندرمودی جس نے اپنی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں مسلمانوں کا سرعام قتل کرنے، ان کے گھربار جلانے، املاک کو تباہ کرنے، عورتوں کی عصمت دری کرنے جیسے بھیانک جرائم کے باعث ہندوستان بھر میں شہرت پائی اور پھر اسی سیڑھی کو استعمال میں لاتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ تک پہنچا، تمام بھارتی انتہا پسند تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے اس کا کھل کر ساتھ دیا، اس لیے کہ مودی نے اپنے ہر جلسے میں پاکستان کے خلاف زہرآلود زبان استعمال کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ پاکستان کا نہ صرف بد ترین دُشمن ہے، بلکہ وہ پاکستان کو ایسا سبق سکھائے گا، کہ جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اس کے اکثر ٹی وی شوز کو دیکھا جاسکتا ہے، جس میں اس نے پاکستان کے خلاف بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ اس بھاشا میں بات کریں گے، جو بھاشا وہ سمجھتا ہے۔ یہ وہ متشدد ذہن کا شخص ہے جس نے کبھی دوستی یا امن کی بات نہیں کی بلکہ پاکستان کی طرف سے دوستی یا امن کی بات کو اس نے ہمیشہ پاکستان کی بُزدلی سمجھا اور اس کا جواب دھمکی آمیز الفاظ میں دیا، اپنے پورے دورِحکومت میں وہ پاکستان کے خلاف کچھ نہ کر پایا، جس کا عندیہ بھارتی عوام کو دے کر وزارتِ عظمیٰ کی کُرسی حاصل کرچکا تھا۔ وہ پُرتشدد سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں جو اسی بناءپر مودی سرکار کو لانے والی تھیں کہ مودی پاکستان کو سبق سکھائے گا، اب کے نہ صرف مخالفت میں تھیں بلکہ ان کا یہ مطالبہ اب زور پکڑ چکا تھا کہ پاکستان کے خلاف کوئی ایسی کارروائی عمل میں لاﺅ جس سے ہماری ساکھ بحال ہو سکے اور ہم عوام کے اندر اپنا منہ دکھانے کے قابل ہو جائیں۔

اب چونکہ مودی بھارت کی پانچ ریاستوں میں شکست سے دوچار ہو چکا تھا اور دیگر ریاستیں بھی اسے شکست وپسپائی دینے کے لیے تیار بیٹھی تھیں جسے مودی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا لہٰذا نہایت عجلت وبوکھلاہٹ میں 14فروری کو پلوامہ کا ایک خودساختہ واقعہ رونما ہوا، جو خود مودی سرکار کے گلے پڑ گیا۔ پلان کے مطابق اس کا الزام پاکستان پر لگایا گیا مگر حسب روایت بھارتی حکومت پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہ کر سکی، جس سے مودی سرکار کی بوکھلاہٹ اور جنونیت میں مزید اضافہ ہوا۔ ضلع پلوامہ میں 70 سے زائد فوجی گاڑیوں کا یہ قافلہ جن میں اڑھائی ہزار کے قریب فوجی سفر کر رہے تھے، ان پر ایک خودکش کار بم کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں 44 فوجی موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ وہ مودی پلان تھا جسے آڑ بنا کر پاکستان کو ٹارگٹ کرنا تھا۔ یہ پلان دراصل 9/11 طرز کا پلان تھا جس طرح امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کرنے کے لیے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو ڈائنامیٹ سے اُڑایا اور اس کا الزام القاعدہ پر لگا کر افغانستان پر چڑھائی کر دی، مگر سال ہاسال گزر جانے کے باوجود امریکہ اس کا کوئی ثبوت دُنیا کے سامنے نہ لاسکا، لیکن بے حیائی اور ڈھٹائی کا چونکہ کوئی علاج نہیں لہٰذا امریکہ اپنی اس ڈھٹائی پر ڈٹا رہا اور بالآخر ذلیل ورُسوا ہو کر افغانستان سے نکلنے کے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ اسی ڈگر پر چلتے ہوئے امریکہ کا بغل بچے بھارت نے بھی ایک خودساختہ سانحہ کو جنم دیا تاکہ اس کی بنیاد بنا کر وہ پاکستان پر چڑھائی کر سکے اور خود کو خطے کی سپرپاور ہونے کا ثبوت دے سکے۔

بھارت نے پلوامہ کی آڑ میں پاکستان پر زبردست سرحدی دباﺅ بڑھانا شروع کر دیا جس سے جنگ کے آثار نمایاں دکھائی دینے لگے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے 19فروری کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرس کو خط لکھا کہ بھارت کی طرف سے خطے کے ماحول کو کشیدہ بنایا جارہا ہے لہٰذا آپ فوری طور پر اس میں مداخلت کریں تاکہ خطے کے امن کو یقینی بنایا جاسکے، مگر بھارت پر اس کا خاطرخواہ کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے اپنی جارحانہ روش جاری رکھی، جس پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھارت اور مودی سرکار کو آگاہ کیا کہ اگر اس نے پاکستان پر حملہ کیا تو پھر سوچے بغیر اس کا بھرپور جواب دیں گے، مگر بھارت پر چونکہ جنگی جنون سوار تھا لہٰذا اس نے ہر طرح کے پیغام کو ہوا میں اُڑا دیا اور 26تاریخ کی رات تقریباً 3بجے بھارتی جنگی طیاروں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اندر آئے اور بالاکوٹ کے جنگلات میں چار بم گرا کر بھاگ نکلے۔ بھارت کا ارادہ تھا کہ وہ رات کی تاریکی میں پاکستان کے چھ اہم مقامات پر سرجیکل سٹرائیک کرے گا لیکن بھارت کا یہ پلان اور گمان اس وقت خاک میں مل گیا جب پاکستان نے بروقت بھارت کو آگاہ کیا کہ آپ کے تیرہ ٹھکانے ہمارے نشانے پر ہیں اور اگر آپ نے کوئی ایسی نامعقول حرکت کی تو آپ کو چھ کے مقابلے میں تیرہ کے حساب سے جواب دیا جائے گا۔

اس وارننگ کے بعد بھارت کی بوکھلاہٹ میں شدید اضافہ ہوا، اس لیے کہ اس کا پلان مکمل طور پر فلاپ ہو چکا تھا اور جس فوج کے متعلق اس کا خیال تھا کہ وہ رات کو خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہو گی وہ اس کے استقبال کے لیے مکمل طور پر تیار اور چوکس تھی، لہٰذا اس نے کارروائی ڈالنے اور پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کے لیے جنگلات کو نشانہ بنایا، اس لیے کہ وہ جانتا تھا کہ اب اگر اس نے ان چھ ٹھکانوں کی طرف رُخ کیا تو پاکستان کی طرف سے جوابی کارروائی کی صورت میں بھارت کا شدید نقصان ہو گا، چنانچہ وہ چند سیکنڈ کے لیے پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے اور بم گرا کر بھاگنے میں اپنی عافیت جانی، مگر بھارت کی یہ جارحیت اور حدود کی خلاف ورزی کسی بھی طرح پاکستان کو قبول یا برداشت نہ تھی، لہٰذا پاک فوج کی طرف سے بھارت کو کھل کر اس کا بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے برملا کہا گیا کہ ”وقت اور مقام ہم طے کریں گے، بھارت جواب کا انتظار کرے“۔

بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ اور اپنی اس نام نہاد کارروائی کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ کہا جانے لگا کہ بھارت نے پاکستان میں قائم دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے، ساڑھے تین سو دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے، پاکستان کا دماغ درست کردیا گیا، مگر بھارت نہ تو وہ کوئی ایسا ٹھکانہ دکھا سکا اور نہ ہی کوئی ایک لاش، جس سے یہ حملہ کامیاب ثابت ہوتا۔ بھارت کے اس جھوٹ کا پول بھارت کی جگ ہنسائی کا باعث بنا اور نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ بیرونی دُنیا نے بھی بھارت کو لعن طعن کا نشانہ بنایا۔ چنانچہ بھارت نے اپنی جگ ہنسائی اور خفت کو مٹانے کے لیے اپنے تین فُلی لوڈڈ مگ21 طیارے بمبارمنٹ کی غرض سے پاکستان کی حدود میں داخل کر دیئے۔ پاکستان نے بھارت کا سر توڑنے اور اس کا غرور خاک میں ملانے کے لیے اپنی تیاری مکمل کررکھی تھی لہٰذا جونہی بھارتی طیاروں نے پرواز پکڑی، پاکستان کے شاہین فضا میں بلند ہو چکے تھے اور بھارتی طیاروں کو اپنے نشانے پر رکھ لیا۔ ایک طیارہ پاکستان کی حدود میں گرا اور دوسرا مقبوضہ کشمیر کے ضلع بڈگام میں گر کر تباہ ہو گیا۔ پاکستان میں گرنے والے طیارے کے پائلٹ ابھی نندن کو زندہ گرفتار کرلیا۔ ان دونوں بھارتی طیاروں کو تباہ کرنے والے پاکستان کے نوجوان پائلٹ اور قوم کے ہیرو حسن صدیقی تھے، جنہوں نے یہ عظیم کارنامہ انجام دے کر نہ صرف پوری قوم کا سر فخر سے بلند کردیا بلکہ اپنا نام تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ کے لیے زندہ کردیا، جو نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پوری قوم کے لیے بھی باعث صد افتخار ہے۔ اس شاندار کامیابی پر پاک فضائیہ کے ایک سینئر ریٹائرڈ آفیسر حافظ فاروق نے فون کال پر مبارکباد دیتے ہوئے قوم اور پاک فضائیہ کے ہیرو اسکوارڈن لیڈر حسن صدیقی سے کہا کہ ”آپ کو اس اعلیٰ کارکردگی اور شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، تو جواب میں اس مایہ ناز ہیرو نے کہا کہ سر تھینک یو! میں اپنے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں عزت سے نوازا۔ حافظ فاروق نے دوبارہ کہا کہ میرے خیال میں اب وہ دوبارہ ایسی جرا¿ت نہیں کریں گے۔ جواب میں حسن صدیقی نے نہایت مردانگی اور مجاہد اسلام کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے کہا کہ سر! ہم تو کہتے ہیں کہ جرا¿ت نہیں بلکہ ہمت کریں، ہم ان کے استقبال کے لیے تیار بیٹھے ہیں“۔ یہ تھا بھارت کو وہ جواب، جس کا تذکرہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کو انتباہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”وقت اور مقام ہم طے کریں گے، بھارت جواب کا انتظار کرے“۔ لیکن بھارت نے وقت اور مقام پاکستان کو خود ہی فراہم کردیا اور پاکستان نے بھارت کو اس کا منہ توڑ جواب دے کر یہ ثابت کردیا کہ اگر آئندہ ایسی جرا¿ت یا حرکت کی تو اس سے کہیں بڑھ کر اور خوفناک طرز پر جواب دیا جائے گا۔

بھارتی میڈیا بی جے پی کی پروپیگنڈا مشین ہے

اب بھارت کی بے غیرتی اور بے شرمی ملاحظہ ہو کہ بھارتی میڈیا جو کہ بے جی پی کے پے رول پر ہے، پراپیگنڈہ میں حد سے گزر گیا کہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے بھارتی فضائیہ کے دو طیارے گر کر تباہ ہو گئے ہیں اور ان کے پائلٹس لاپتہ ہیں، مگر یہ جھوٹ آخر کب تک چھپ سکتا تھا۔ پاکستان اس کی تمام ویڈیوز منظرعام پر لے آیا اور اس گرفتار شدہ بھارتی پائلٹ کو بھی دکھا دیا گیا جو عوام کے ہتھے چڑھ گیا تھا اور لوگوں نے مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیا تھا اور پھر اسی دوران پاک فوج کے جوان وہاں پہنچے جنہوں نے اسے لوگوں کے قہر سے بچایا اور بحفاظت اسے سی ایم ایچ پہنچا دیا گیا، یہ تمام ویڈیوز جب منظرعام پر آگئیں اور بھارت کے جھوٹ کا پول کھل گیا تو اس نے اپنی اس بدترین ناکامی وشکست اور ذلت ورُسوائی پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک اور جھوٹ کا سہارا لیا اور ٹی وی چینلز پر یہ شور مچا دیا کہ بھارت نے بھی پاکستان کا F-16 طیارہ مار گرایا ہے۔ بھارتی انتہاپسند عوام کے اندر پھر ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ بھارت نے بھی پاکستان سے بدلہ چکا دیا مگر خوشی کی یہ لہر بھی بھارتی عوام اور بھارتی حکومت کے لیے سونامی کی لہر ثابت ہوئی جو ان کی تمام تر مکاریوں اور عیاریوں کو بہا کر لے گئی۔ بھارت F-16 کا ملبہ نہ دکھا سکا بلکہ اپنے ہی گرے ہوئے مگ21 طیارے کا ایک ٹکڑا دکھایا گیا جسے ایکسپرٹ نے یہ کہہ کر غلط ثابت کردیا کہ یہ نہ تو F-16 کا ٹکڑا ہے اور نہ ہی حالیہ تباہ شدہ کسی طیارے کا بلکہ یہ مگ طیارے کا کوئی پرانا ٹکڑا ہے جبکہ پاکستان کا موقف تھا کہ اس پوری کارروائی میں پاکستان کے F-16 نے حصہ ہی نہیں لیا اور یہ تمام تر کارروائی JF-17 تھنڈر طیاروں کے ذریعے عمل میں لائی گئی۔ بھارت کا پردہ اور مکروہ چہرہ اب پوری طرح بے نقاب ہو چکا تھا لہٰذا بھارت کے پُرامن اور معتدل عوام کا ردّعمل اب سامنے آیا اور بھارتی عوام نے حکومت سے مطالبہ کردیا کہ پاکستان نے تو ایک ایک چیز کو دُنیا کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ بھارتی حکومت بھی ان ساڑھے تین سو دہشت گردوں کی لاشوں کو دکھائے جس کا وہ دعویٰ کررہی ہے اور ان اڈوں کے تباہ حال ملبے کو بھی منظرعام پر لائے جو بھارتی طیاروں نے تباہ کیے مگر بھارتی سرکار اور دہشت گرد مودی یہ سب کچھ دکھانے اور منظرعام پر لانے میں بُری طرح ناکام رہے اس لیے کہ ایسا کچھ ہوا ہی نہ تھا۔

اب بھارت کے پاس سوائے ذلت وُرسوائی کے اور کچھ نہ تھا۔ بھارت کی ہر چال اور ہر حربہ ناکامی ونامرادی سے دوچار ہو چکا تھا، گویا بھارت جنگ سے پہلے جنگ اور مودی انتخابات سے پہلے انتخابات ہار چکا تھا۔ دہشت گرد مودی چاروں اطراف سے حملوں کی زد میں ہے۔ 21اپوزیشن جماعتوں نے مودی سرکار پر تابڑتوڑ حملے شروع کیے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک اعلامیہ میں کہا کہ مودی فوج کی قربانیوں پر سیاست کررہے ہیں، مودی نے بھارت کو تباہ کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے، پاک بھارت جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، یہ ایک بے نتیجہ جنگ ہو گی اور دونوں ممالک میں سے کوئی بھی اس کی فتح یا شکست کا دعویٰ نہیں کرپائے گا وغیرہ وغیرہ۔

پاکستان کی کامیاب حکمت عملی

پاکستان کی کامیاب پالیسی اور بہترین حکمت عملی نے مودی کے ہر ناپاک ارادے کو خاک میں ملا دیا بالخصوص بھارتی پائلٹ ابھی نندن جو سابق ائیرمارشل کا بیٹا بھی ہے، کی گرفتاری نہایت اہمیت کی حامل تھی اور بھارت اس پر ایک ایشو کھڑا کرسکتا تھا، کچھ جذباتی لوگوں کا خیال تھا کہ اس پر بھارت سے بارگیننگ کی جاتی اور اس کو اتنی جلدی رہا نہ کیا جاتا۔ لیکن پاکستان نے نہایت دانشمندانہ قدم اٹھاتے ہوئے ایک تو اس کے ساتھ بہترین انسانی سلوک کیا جس کا درس ہمیں ہمارا دین اسلام دیتا ہے اور اسی حسن سلوک کے باعث اسلام پھیلا، فتح مکہ کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بدترین دُشمنوں کو بھی معاف کردیا اور وہی لوگ یہ حسن سلوک کو دیکھتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہوئے جن میں بڑے بڑے سردارانِ مکہ بھی شامل تھے۔ آج اس حکومتی عمل کو دیکھتے ہوئے فتح مکہ کی ساری تاریخ آنکھوں کے سامنے گھوم گئی اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ریاست مدینہ کے اعلان کی ایک ہلکی سی جھلک دیکھنے کو ملی کہ جس طرح حضور نے امن وامان کے قیام کے لیے بدلہ وانتقام کو دفن کرتے ہوئے دُشمنوں سے حسن سلوک کیا اور وہ آپ کے گرویدہ ہو گئے، آپ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہماری حکومت نے بھی ویساہی اقدام کیا اور کروڑوں بھارتیوں کے دلوں میں پاکستان کیلئے محبت پیدا کردی اور وہ بھارتی عوام جو پاکستان کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگاتے نہیں تھکتے تھے، گھر گھر سے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے نظر آتے ہیں، یہاں تک کہ وہ بھارتی پائلٹ جو ایک نفرت کے ساتھ پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے آیا، وہ اپنے دل میں پاکستان کی محبت لے کر گیا اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ میں پاک فوج کے حسن سلوک سے انتہائی متاثر ہوا ہوں، بھارت میں جس طرح کا پراپیگنڈہ پاکستانی فوج کے خلاف کیا جاتا ہے وہ پاک فوج کے کردار کے قطعی برخلاف ہے۔ بھارتی میڈیا آگ اور مرچ لگا کر عوام کر گمراہ کرتا ہے، جو بیان میں نے یہاں پر دیا، بھارت جا کر بھی اپنے اس بیان پر قائم رہوں گا، دلوں کو فتح کرنا ہی حقیقی فتح ہے اور یہ عظیم الشان فتح حکومتِ پاکستان اور پاک فوج نے حاصل کی۔ لیکن دوسری طرف بھارتی پراپیگنڈہ عروج پر تھا کہ پاکستان نے بھارت کے دباﺅ میں آکر ہمارے پائلٹ کو فوری رہا کرنے کا فیصلہ کرلیا، اس لیے کہ پاکستان جانتا تھا کہ اگر اس نے ہمارے پائلٹ کو رہا نہ کیا تو بھارت پاکستان کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کر سکتا ہے۔ یہ پراپیگنڈہ ہر بھارتی چینل پر زور وشور کے ساتھ جاری رہا، گو کہ اس بے ہودہ پراپیگنڈہ پر بھارتی عوام نے کوئی دھیان نہ دیا بلکہ ان پر لعن طعن ہی کی، لیکن اس کے برعکس اگر اس میں کچھ دنوں کے لیے دیر کر دی جاتی تو ان کا یہ پراپیگنڈہ نہایت موثر ثابت ہوتا، کیونکہ بہرحال پاکستان کو پائیلٹ توواپس کرنا ہی تھا، دیر سے کرنے پرپاکستان کا دُنیا میں وہ تاثر نہ ہوتا جو اب ہوا ہے، بلکہ پاکستان جیتی ہوئی جنگ بھی ہار جاتا، لہٰذا یہاں پر بھی پاکستان کو ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل ہوئی اور بھارت کو منہ کی کھانی پڑی۔

بھارت کا گروو اجیت دوول

اب ہم بھارتی دہشت گرد وزیراعظم نریندر مودی اور اس کے دستِ راست مہا دہشت گرد اجیت دوول کی طرف آتے ہیں جو عرصہ دراز سے پاکستان کے خلاف خفیہ دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہے۔ یاد رہے کہ بھارت اپنی ازلی وروایتی دُشمنی میں تمام حدیں پار کر چکا ہے۔ اس کے لیے بھارت کو چاہے عالمی قوانین کی دھجیاں ہی کیوں نہ بکھیرنی پڑیں یا اخلاقیات کو پاﺅں تلے روندنا ہی کیوں نہ پڑا، اس نے ہر طرح کی ڈھٹائی و بے حیائی کے ساتھ روند ڈالا۔ بھارت کے اندر آج کل اجیت دوول کا چرچا عروج پر ہے اور بھارتی وزیراعظم سمیت بھارت کی ہر انتہاپسند وپُرتشدد تنظیم یا جماعت اجیت دوول کو اپنا بھگوان تسلیم کرتی ہے۔ قتل وغارت گری کرانے یا دہشت گردی پھیلانے کا ماہر اجیت دوول 1945ءمیں اُتراگھٹ کے پُوٹرکڑوال میں ایک کڑوالی خاندان میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنی ابتدائی تعلیم اجمیر کے ایک ملٹری سکول میں مکمل کی۔ 1967ءمیں آگرہ یونیورسٹی سے اکنامکس میں ایم اے کیا۔ پوسٹ گریجویشن مکمل کرنے کے بعد آئی پی ایس کیرالہ میں 1968ءمیں ملازمت اختیار کی۔ ملٹری سکول سے ہی اس کی ٹریننگ اور برین واشنگ ہونا شروع ہوئی۔ دورانِ ملازمت ”ایم آئی“، ”آئی بی“ اور ”را“ کے افسران سے خاص روابط قائم ہوئے۔ اس نے اپنے شاطرانہ ذہن اور منفی سوچوں کے باعث جلد ہی خفیہ ایجنسیوں میں اپنی جگہ بنالی، بالخصوص پاکستان اور اسلام دُشمنی نے اسے یہ مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1965ءکی جنگ میں پاکستان کے خلاف اسے خصوصی ٹاسک دیا گیا مگر پاک افواج کی جوانمردی وجذبے کے سامنے اس کے تمام پلان ہوا میں اڑا دیئے گئے۔ دوول نے ازسرنو اپنے پلان اور پالیسیوں کو متحرک کرنا شروع کیا جس کا مرکز مشرقی پاکستان تھا۔ 1968ءکے اواخر میں دوول نے مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے خلاف نفرت انگیز پمفلٹ جاری کیے اور مکتی باہنی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ 1971ءکی جنگ جو کہ قطعی سیاسی جنگ تھی، کی کامیابی کے بعد اجیت دوول کا بھارت میں طوطی بولنے لگا، اس طرح 1971ءسے 1999ءتک مختلف بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا ہیڈرہا، جن میں جوائنٹ ٹاسک فورس آف انٹیلی جنس (JTFI) کا چیئرمین، ملٹری انٹیلی جنس سنٹر (MAC) کا چیئرمین اور دس سال سے زائد آئی بی آپریشن ونگ کا سربراہ رہا۔ جنوری 2005ءمیں انٹیلی جنس سے ریٹائر کردیا گیا، مگر تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سرپرستی اسے حاصل رہی۔ 2009ءمیںویوک آنندا انٹرنیشنل فاﺅنڈیشن کیندرا کا بانی چیئرمین مقرر ہوا۔ ویوک آنندا کیندرا (Vivekananda Kendra) یہ ایک متعصب ہندو مذہبی آرگنائزیشن ہے جو سوامی ویوک آنند کے اصولوں پر مبنی ہے۔ دوول کی بنائی ہوئی یہ آرگنائزیشن درحقیقت ایک تھنک ٹینک ہے جہاں پاکستان اور عالم اسلام کے خلاف پالیسیاں اور پلان تیار کیے جاتے ہیں۔ دوول نے اپنے خاص کارندے جورا، ایم آئی اور آئی بی وغیرہ کے لیے کام کررہے تھے، انہیں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے ساتھ منسلک کردیا جنہوں نے بلوچستان میں باغیوں کی رہنمائی کرتے ہوئے روپیہ پانی کی طرح بہایا، دھماکے کرائے، دہشت گردی پھیلائی اور بلوچستان کو الگ کرنے کے لیے شب وروز ایک کردیا۔ کلبھوشن یادیو بھی اسی کردار کا ایک حصہ ہے جو اجیت دوول سے تربیت یافتہ ہے۔

انہی دنوں میں اجیت دوول نے ایک بھارتی چینل پر آکر کھلم کھلا کہا کہ ”ممبئی کے بدلے بلوچستان میں لیں گے“۔ انڈین ٹی وی کے مطابق 1986ءمیں جب آزاد خالصتان کے خلاف ”بلیک تھنڈر آپریشن“ کو انجام دیا گیا تو دوول کا کردار اس میں اہم ترین قرار دیا گیا۔ یاد رہے کہ یہ وہی دور تھا جب بھارت نے اپنی دو ڈویژن فوج پاکستان کے بارڈر پر پہنچا دی تھی۔ یہ وہی اجیت دوول ہے جو آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کا ماسٹرمائنڈ ہے اور یہ وہی اجیت دوول ہے جو پاکستانی طالبان TTP کو دہشت گردانا مدد فراہم کرتا رہا اور اسی اجیت دوول کی سرپرستی میں وہ پاکستانی طالبان جن کا تعلق خراسانی گروپ سے تھا، وانا وزیرستان میں پاکستانی فوجیوں کے سر کاٹ کر ان کے ساتھ فٹبال کی طرح کھیلتے رہے۔ سوشل میڈیا پر اس سفاکانہ کھیل کی فوٹیج دیکھی جاسکتی ہیں۔ سمجھوتہ ٹرین کو جب آگ لگائی گئی تو اس پلان میں بھی اجیت دوول کا بھیانک کردار تھا اور اس کے ساتھ لیفٹیننٹ کرنل شری کانت روہت نے اس کی مکمل معاونت کی۔ پلوامہ واقعہ میں بھی اسی اجیت دوول کا ہاتھ ہے جس کی وائس آڈیو لیک ہوچکی ہے جس میں راج ناتھ سنگھ اور امیت شاہ کی گفتگو کو آسانی سے سنا اور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس گفتگو میں کہا گیا کہ کشمیر میں کسی بھی جگہ دھماکہ کرا دیں، سو دو سو فوجی مارے جائیں گے، راج نیتی کے لیے ایسا کرنے میں ہرج ہی کیا ہے۔ راج ناتھ نے کہا کہ یہ کیسی سیاست ہے جس پر امیت شاہ نے کہا کہ فوجی ہوتے کس لیے ہیں؟ مرنے کے لیے! آپ پیسے بھجوائیں سارا کام ہو جائے گا اور پھر اس کے بعد فوجی کانوائے پر کار بم سے حملہ کرا دیا گیا۔ یہ ہے بھارت کا وہ مکروہ چہرہ جو پوری دُنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے، اس آڈیو کے بعد پورے بھارت میں مودی اور دوول کے خلاف آگ بھڑک اٹھی ہے۔ یہی دوول آرایس ایس کا تربیت یافتہ دہشت گرد اور مودی جنہوں نے پلوامہ کا خونی کھیل کھیلا، پاکستان پر ناکام حملہ کے ماسٹرمائنڈ ہیں، جو اس خطے ہی کو نہیں بلکہ پوری دُنیا کو جنگ کی آگ میں دھکیل دینے پر تُلے بیٹھے ہیں۔

پاک بھارت ایٹمی جنگ کے نتائج

دوسری عالمگیر جنگ میں 6اگست 1945ءمیں امریکی ائیرفورس B-29 نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا جس میں ایک لاکھ 40ہزار افراد ہلاک ہوئے اور پھر اس کے صرف دو ہی دن بعد 8اگست کو دوسرا ایٹم بم ناگاساکی پر گرا دیا گیا جس میں کم وبیش 80ہزار افراد پل بھر میں لقمہ¿ اجل بن گئے اور جو ان میں بچ گئے، ان عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ عبرتناک اور بھیانک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ چلتے پھرتے، بھاگتے یا کھڑے لوگ ایٹم بم کی حدت سے یک لخت نظروں سے غائب ہو گئے، یعنی بخارات بن کر اُڑ گئے۔ ہمیں یوں محسوس ہوا گویا سورج زمین پر اُتر آیا ہو۔

پاکستان اور بھارت جب ایٹمی طاقتیں بنیں تو کچھ افراد نے بھارت اور پھر پاکستان کے دورے کیے جس میں انہوں نے دونوں حکومتوں اور فوجی سربراہوں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں ایٹم بم کی تباہ کاریوں سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ خدارا اس مہلک ترین ہتھیار جو انسانیت کا بدترین دُشمن اور قاتل ہے، اسے چلانے سے باز رہیں اس لیے کہ ہم نہیں چاہتے کہ ایک بار پھر ہم یا ہماری نسلیں اس خوفناک اور وحشت ناک منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں، لیکن اس کے باوجود آج دونوں ممالک جو ایٹمی طاقتیں ہیں، اس جوہری جنگ کی طرف بڑھ رہی ہیں اور اس کی بڑی وجہ بھارت کی انتہاپسند ہندو سیاسی جماعتیں، تنظیمیں اور خود بھارتی پردھان منتری نریندر مودی ہے جس کی عملی زندگی کا آغاز ہی دہشت گردی سے ہوا۔ بھارت یہ بات اچھی طرح سے جانتا ہے کہ پاکستان خود ایک ایٹمی طاقت ہے جو بھارت سے کسی بھی لحاظ سے کم نہیں۔ بھارت کے پاس اس وقت 120 سے 130 جبکہ پاکستان کے پاس 130 سے 140 جوہری ہتھیار ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے میزائل یا اس کی میزائل ٹیکنالوجی بھارت سے کہیں زیادہ موثر اور طاقتور ہے، جن کی رینج میں ممبئی تک پورا بھارت آتا ہے۔ ایک ایک میزائل پورے پورے شہر کو نیست ونابود کردینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہی عالم بھارت کے میزائلوں کا بھی ہے لہٰذا اگر یہ جنگ چھڑتی ہے تو یہ کوئی عام یا روایتی جنگ نہیں ہو گی بلکہ ہر حال میں ایک ایٹمی جنگ ہو گی جو دونوں ممالک کو صفحہ¿ ہستی سے مٹا دینے کا موجب بنے گی، یہی نہیں بلکہ یہ جنگ آدھی سے زائد دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ان تمام خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے نہایت دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے امن کی طرف قدم بڑھا کر آدھی سے زیادہ دُنیا کو ہیروشیما اور ناگاساکی جیسی بدترین تباہی سے بچانے کی کوشش کی ہے جبکہ بھارت کی طرف سے تاحال اس کا کوئی مثبت جواب دیکھنے میں نہیں آیا اور دہشت گرد مودی اپنی شیطانی انا پر قائم اور ڈٹا دکھائی دے رہا ہے اور یقینا یہ اس کے اندر کے خوف کی علامت ہے، گو کہ جنگ کے کوئی امکانات نہیں لیکن اگر پاک بھارت یہ جنگ جو کہ آخری جنگ ثابت ہو گی، چھڑتی ہے تو اس کے بعد نہ تو کوئی حکومت باقی رہے گی اور نہ کوئی حکمران، نہ کوئی فتح کا شادیانہ بجا سکے گا اور نہ کوئی شکست وریخت کا رونا روتا دکھائی دے گا۔

٭٭٭


ای پیپر