بھارت، امریکہ، اسرائیل ٹرائیکا کوایٹمی پاکستان منظور نہیں؟
20 مارچ 2019 (17:24) 2019-03-20

امتیاز کاظم:

صیہونیت اور ہندو انتہا پسند ذہنیت ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں، دونوں میں قدرِ مشترک مسلمان دُشمنی خصوصاً پاکستان دُشمنی ہے۔ بھارتی مبصرین کی ایک بڑی تعداد بار بار یہ دُہراتی رہی ہے کہ اسرائیل کی دائیں بازو کی صیہونیت اور بھارت کی دائیں بازو کی قوم پرست، بنیاد پرست اور انتہاپسند جماعتوں کا گٹھ جوڑ دونوں ممالک کی دوستی کی بنیاد نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسرائیل کے اپنے اخبار ”ہاربز“ میں کئی مضامین شائع ہو چکے ہیں جو اسی تناظر میں ہیں، لیکن بھارت کا ہندو اپنی نظریاتی اساس صرف اور صرف مسلمان دُشمنی پر رکھتا اور پرکھتا ہے۔ ہندوﺅں کو ہندوستان میں یہ سبق پڑھایا جارہا ہے کہ تم پر سات صدیوں سے زائد حکومت کرنے والے مسلمانوں نے ظلم ڈھائے ہیں۔ اب وقت ہے کہ اپنے ”پُرکھوں“ کی ارواح کو شانتی دینے کے لیے مسلمانوں سے بدلہ لیا جائے اور اسرائیل ان انتہاپسندانہ خیالات کو مہمیز کررہا ہے، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ 2017ءمیں بھارت اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار تھا۔ 53کروڑ ڈالرز کی خطیر ترین رقم بھارت نے اسرائیلی اسلحہ خریدنے پر صرف کی۔ اسرائیل بھارت کو اسلحہ بیچنے کے ضمن میں یہ باور کرانے میں کامیاب رہا ہے کہ فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل جن کو وہ فلسطین اور شام کے خلاف استعمال کر کے آزما چکا ہے، نہایت کامیاب میزائل ہیں اور اسی طرح سے دیگر ایمونیشن، ائیرڈیفنس سسٹم اور ”راڈارسسٹم“ ہیں جو کہ بھارت کی ضرورت ہیں، چنانچہ ”مودی یاہو“ دوستی رنگ لائی اور 53کروڑ ڈالرز کا اسلحہ خرید لیا گیا۔ مودی جی نے پہل کرتے ہوئے پہلے اسرائیل یاترا کی جس کے بعد بنیامین نیتن یاہو نے بھی بھارت کا دورہ کیا۔ اسی خریدے ہوئے ایمونیشن سے اسرائیلی ساختہ ”رافیل سپائس 2000 سمارٹ بم“ پاکستان کے علاقے میں دراندازی کرنے والے بھارتی طیاروں نے استعمال کیے۔ یہ جی پی ایس گائیڈڈ بم ہوتے ہیں جن کے متعلق بھارت نے دعویٰ کیا کہ ہم نے 300 سے 400 دہشت گرد جو کہ کالعدم تنظیم جیش محمد کے مبینہ ٹھکانے پر جمع تھے مار دیئے۔ دراصل ”آکاش وانی“ جھوٹ اتنے بولتی ہے اور اس تسلسل سے بولتی ہے کہ بھارتی جنتا کو یقین کرنا پڑتا ہے کہ شاید ایسا ہی ہوا ہو، بلکہ دُنیا بھر کو اس پراپیگنڈہ سے گمراہ کیا جارہا ہے، جبکہ بالاکوٹ میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا، شاید بھارت کو عالم بالا سے یہ خبر ملی ہو۔

اسرائیل نے اپنے سپیشل کمانڈوز یونٹ اور بھارت کے کمانڈوز کو ”نیگیو“ کے صحرا میں تربیت فراہم کی۔ یہ 45رُکنی وفد تھا جسے عسکری تربیت دی جانی تھی، ان میں سے 16 کمانڈوز کو اسرائیل نے اپنے ”نیواتم“ اور ”پالماچم“ رئیر بیسز پر متعین بھی رکھا، جبکہ امریکہ بھی بھارت کے ساتھ کئی معاہدے کر چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل ، امریکہ اور بھارت گٹھ جوڑ کسی تعارف کا محتاج نہیں، بلکہ شاید بالاکوٹ والا سازشی معاملہ بھی امریکہ کا تیارکردہ ہو، کیونکہ امریکی وزارت دفاع کی خفیہ دستاویزات میں حافظ ”کے رحمان“ کا ذکر ملتا ہے، اور یہ معلومات وکی لیکس نے شائع کردی تھیں۔ کسی ریاض حسین (شاید یہ فرضی نام ہو) بالاکوٹ میں کیمپ کا ذکر کیا تھا کہ 2000ءمیں قائم ہوا اور 2001ءسے یہ تربیت فراہم کررہا ہے اور افغانستان میں اس کے رابطے ہیں اور میجر جنرل جیفرے ملر کو ریکارڈ کروائے گئے۔ ایک بیان میں حافظ رحمان نے بالاکوٹ میں کسی کیمپ کا ذکر کیا تھا۔ یہ بیان وکی لیکس کے مطابق 31جنوری 2004ءکو ریکارڈ کیا گیا۔ امریکہ نے یہ معاملہ پاکستان کے ساتھ اٹھایا تھا جس کی پاکستان نے تردید کر دی تھی، لیکن امریکہ نے یہ معاملہ بند نہ کیا، چنانچہ امریکی خفیہ ادارے نے 2006ءمیں بالاکوٹ کے علاقے پر کیلیفورنیا میں واقع خلائی تحقیقی مرکز سے بالاکوٹ کی تصاویر حاصل کیں۔ یہ تصاویر 2001ءسے 2004ءکے دوران ہونے والی بالاکوٹ میں تبدیلیوں کا پتہ دیتی ہیں، لیکن ان تصاویر سے کچھ بھی نہ حاصل ہوسکا، کچھ ہوتا تو حاصل ہوتا۔ اب بھارت نے پندرہ سال بعد پھر ٹریننگ کیمپ کا بہانہ بنا کر بالاکوٹ پر حملہ کی کوشش کی۔ امریکہ، اسرائیل ، بھارت ٹرائیکا سے دراصل پاکستان کا ایٹمی قوت بننا کسی صورت برداشت نہیں ہورہا۔ پھر امریکہ اور بھارت کے لیے یہ اور بھی بُرا ہوا کہ ٹرمپ اور مودی جیسے شدت پسند قوم پرست مسلط ہو گئے، لیکن بنیاد پرست مودی گجراتی کو یہ ایڈوینچر بہت مہنگا پڑا۔ 27فروری بروز بدھ کو پاک فضائیہ نے دو بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے اور پائلٹ ”ابھی نندن“ کو گرفتار کرلیا۔ مودی گجراتیہ اس وقت بھارت کے نوجوانوں کے لیے ایک ”یوتھ فیسٹیول“ کا مہمان خصوصی بنا بیٹھا تھا اور خطاب کر رہا تھا کہ اُسے ایک رُقعہ ملا جسے پڑھ کر وہ کاغذ لہراتا ہوا سیدھا اپنی سرکاری رہائش گاہ پہنچا اور حکام بالا سمیت ”را“ کے چیف کو بلالیا جبکہ ایک دن پہلے وہ پاکستان اور فضائی حملے کی منظوری دے چکا تھا اور کسی اچھی خبر کا منتظر تھا کہ بہت بُری خبر اُس پر بجلی بن کر گری، یقینا نیتن یاہو نے بھی سر پکڑ لیا ہو گا، دونوں سوچ رہے ہونگے کہ ”یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے“۔

گزشتہ برس بھارت کا پہلا دورہ کرنے والے اسرائیلی نیتن یاہو نے 26فروری 2008ءمیں ہونے والے ممبئی حملوں کی یادیں بھی تازہ کیں، جس میں 170 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔ اخبار ”دی انڈی پینڈنٹ“ میں رابرٹ فسک اپنے کالم میں ایک حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”برسلز“ میں مقیم بھارتی ریسرچ سکالر شیری ملہوترا کے مطابق انڈونیشیا اور پاکستان کے بعد دُنیا بھر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی بھارت میں ہے جو اٹھارہ کروڑ سے زائد ہے۔ ایسے میں اسرائیل اور بھارت کی بڑھتی ہوئی دوستی کو دونوں ممالک کی انتہاپسند حکمران جماعتوں کی نظریاتی اساس کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے اور ہندو قوم پرستوں نے ایک ایسا بیانیہ تیار کیا ہے جس کے مطابق بھارت کے ہندو مسلمانوں کے ہاتھوں تاریخی طور پر ہدف رہے ہیں۔ یہ بیانیہ 1947ءمیں ہندوستان کی تقسیم کے وقت دُکھ جھیلنے والے ہندوﺅں کے لیے انتہائی پُرکشش اور قابل قبول ہے“۔ یہ کالم اسرائیلی اخبار ”ہاربز“ میں شائع ہوچکا ہے۔ ملہوترا مزید لکھتی ہیں کہ ”بھارت میں اسرائیل کے سب سے بڑے پرستار وہ ”انٹرنیٹ ہندو“ ہیں جو بنیادی طور پر اسرائیل سے اس لیے محبت کرتے ہیں کہ وہ فلسطین میں مسلمانوں سے کس طرح نپٹتا ہے اور مسلمانوں سے لڑتا اور ان کو مارتا ہے“۔ شیری ملہوترا نے کارلٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ”وویک دہیجا“ کی اس تجویز پر بھی شدید تنقید کی ہے کہ مسلم دہشت گردی کا نشانہ بننے کی بنیاد پر بھارت اسرائیل اور امریکہ کو اتحاد قائم کر لینا چاہیے۔

بھارت میں مدبروں کی ایک بڑی تعداد بھارتی حکمران رویے کی شدید مخالف ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ بھارت کا مسخ ہوتا ہوا سیکولر چہرہ بچایا جاسکے، لیکن مودی جیسے ناعاقبت اندیش حکمراں کے ہوتے ہوئے اور بھارتی غیرذمہ دار میڈیا کے ہوتے ہوئے یہ سب ناممکن نظر آتا ہے۔ مودی اور اس کے سیاسی چیلے کچھ اور ہی سوچ رکھتے ہیں۔ بھارتی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ مودی حکومت کی سیاسی مہم کا حصہ تھا تاکہ وہ اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دے سکے۔ یادیو رُوپا نے چھترا درگاہ میں صحافیوں کو بتا دیا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے کیمپ پر حملہ سے وزیراعظم مودی کے حق میں ایک لہر اٹھی ہے اور بھاجپا کو لوک سبھا کے آنے والے الیکشن میں ریاست کرناٹک سے 22 سے لے کر 28 نشستیں جیتنے میں مدد ملے گی۔

اگر ایسا ہی ہے تو کشمیر میں اپنے 42 فوجیوں کو خود ہلاک کروانے پر بھاجپا کو یقینا سو ڈیڑھ سو نشستیں ملنی چاہئیں۔ 21بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے مودی جی پر زور دیا ہے کہ فوج کو سیاسی نہ بنائیں۔ یاد رہے کہ اندرا گاندھی نے بھی فوج کو سیاسی بنایا تھا۔ مودی فوج کو اپنے مقاصد کے لیے (الیکشن) استعمال کرنے سے باز نہیں آئے گا، لہٰذا بھارت کی طرف سے افواج پاکستان کو ریڈ الرٹ پر رہنا ہو گا اور فوج یقینا ایسا ہی کر رہی ہے، لیکن اکاش وانی اور بھارتی میڈیا تسلسل سے جھوٹ بول کر اپنی جنتا کو گمراہ کررہا ہے جس کا بھانڈا غیرملکی پھوڑ رہے ہیں۔ برطانوی اخبار نے نئی دہلی سے اپنے نامہ نگار مائیکل صافی کے حوالے سے لکھا ہے کہ دو بھارتی طیارے آزادکشمیر میں گھس آئے تھے اور سرحد کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں گرا لیا گیا ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین لکھتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے موقف میں زبردست تضاد ہے۔ اگر بھارتی لڑاکا طیاروں نے منگل کی صبح کسی چیز کو نشانہ بنایا تھا تو وہ کیا تھی اس کی فوٹیج سامنے کیوں نہیں آرہی۔ بھارتی پنجاب کی آزادی کے لیے ریفرنڈم کا مطالبہ کرنے والی تنظیم ”سکھ فار جسٹس“ نے بھی پاکستان کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دراصل بات پلوامہ حملہ سے شروع نہیں ہوتی بلکہ اس سے پہلے اسرائیل انڈیا کو پاکستان پر حملے کا منصوبہ بنا کر دے چکا تھا، جس میں راجستھان کے علاقے کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے علاقوں بہاولپور اور کراچی کو ٹارگٹ کیا جانا تھا۔ امریکہ کا بغل بچہ اسرائیل اکیلا یہ منصوبہ نہیں بنا سکتا اور نہ ہی مودی میں اتنی ہمت تھی کہ وہ حملے کا منصوبہ بناتا تو کیا اسرائیل کے بھیس میں مودی کا دوست ٹرمپ اس کا ذمہ دار ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان میں ناکامی کا ملبہ امریکہ پاکستان پر گرانا چاہتا تھا اور پاکستان پر اس نے الزامات کی بوچھاڑ بھی کی۔ دوسری طرف حملے کا پاکستان انٹیلی جنس کو قبل ازوقت علم ہو چکا تھا کہ بھارت براہموس میزائل کا استعمال کرنا چاہتا ہے جبکہ اسرائیل پہلے ہی کئی معاہدے بھارت کے ساتھ کرچکا ہے، اسلحہ کی سپلائی امریکہ نے بذریعہ اسرائیل کرنا تھی لیکن سب ناکام ہو گیا۔

٭٭٭


ای پیپر