او آئی سی اجلاس میں پاکستان نظر انداز !
20 مارچ 2019 (17:20) 2019-03-20

حافظ طارق عزیز:

روایت ہے کہ جاپان میں ایک بوڑھا کسان رہا کرتا تھا جس کا اس بھری دنیا میں ایک کتے کے سوا کوئی دوسرا نہ تھا۔ وہ اپنے کتے سے بہت محبت کیا کرتا تھا۔ ایک دن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ کتا مر گیا۔ کسان کی تو دنیا اندھیر ہو گئی۔ پھر اس نے سوچا کہ چلو اپنے اس دوست کی اس کے شایان شان تدفین کی جائے۔وہ گاﺅں ک شنٹو مندر میں گیا اور اس کے پجاری سے کہنے لگا ”کیا آپ میرے کتے کو مکمل مذہبی رسومات کے ساتھ دفن کر دیں گے؟ “یہ سنتے ہی پجاری جی کا پارہ ہائی ہو گیا۔ غصے سے بولے ”ہم جانوروں کی مذہبی رسومات ادا نہیں کیا کرتے“۔کسان نے روہانسا ہو کر کہا ”دنیا میں اس کے سوا میرا کوئی نہیں تھا۔ وہ بالکل میرے خاندان کے ایک فرد کی طرح تھا۔ پلیز اس کی آخری رسومات پورے مذہبی طریقے سے ادا کر دو“۔شنٹو پجاری نہ مانا۔ کہنے لگا کہ ”ہم ایسا گناہ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم ایسا کرو ساتھ والے گاو?ں میں بدھ بھکشو کے پاس چلے جاو¿۔ وہ بدعقیدہ لوگ ہیں اور نہ جانے کیسے کیسے الٹے سیدھے کام کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی کر دیں تو مجھے تعجب نہیں ہو گا“۔

مایوس کسان کا چہرہ اچانک جگمگا اٹھا۔ پھر اس نے پوچھا ”آپ کا کیا خیال ہے، بدھ مندر کو ان آخری رسومات کی ادائیگی کے عوض ایک لاکھ ین کا نذرانہ کافی ہو گا؟ “

پجاری یک دم چوکنا ہو گیا اور بولا ”تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا تھا کہ تمہارا کتا شنٹو مذہب کا پیروکار تھا اور اس وجہ سے تم اسے یہاں لائے تھے؟ “تو صاحبو، معاملہ بس کچھ یوں ہی ہے کہ اگر ایک ملک کی صرف 14 فیصد آبادی مسلمان ہو اور باقی غیر مسلم، ملک دستوری طور پر سیکولر ہو، تو ہمارے عرب بھائی اسے پکا مسلمان ملک سمجھتے ہیں، بشرطیکہ اس ملک کے پاس ایک بڑی مارکیٹ اور چار کھرب چھبیس ارب ڈالر کا زر مبادلہ ہو۔

اب ایسا لگتا ہے کہ حالات بدل گئے ہیں اورگذشتہ پانچ برس میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے مشرق وسطی کے تابڑ توڑ دوروں میں بیشتر عرب ممالک پر اقتصادی مفادات کا جادو کر دیا ہے اور عرب ، ہندوستان کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ اس کا مظہرپچھلے سال دبئی میں مودی کے دورہ کے موقع پر متحدہ عرب امارات کی طرف سے ہندو مندر کی تعمیر کے لئے ایک وسیع زمین عطیہ میں دینے کا اقدام ہے۔ لہٰذاہمارے لیے یہ بات لمحہ فکریہ ہونی چاہیے کہ ہمیں برابری کی سطح تک آنے کے لیے اپنے معاشی حالات کو بھی بہتر کرنا ہوگا۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی پاکستان احتجاج کر چکا ہے ،لیکن اُس وقت پاکستان کا احتجاج مان لیا گیا تھا۔اگر تاریخ کو ٹٹولیں تو او آئی سی (تنظیم تعاون اسلامی)(Organisation of Islamic Cooperation)تنظیم 58 اسلامی ممالک پر مشتمل ہے۔ جس کی مجموعی آبادی دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ ہے۔ اس کا دفتر سعودیہ عرب کے شہر جدہ میں ہے۔ اس تنظیم کی سرکاری زبانیں عربی، انگریزی اور فرانسیسی ہیں۔ اس تنظیم کو اقوام متحدہ میں باضابطہ نمائندگی دی گئی ہے اور اس کا نما ئندہ وفد اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں موجود رہتا ہے۔ تنظیم کے تمام اسلامی ممالک دنیا کے مختلف خطوں یا حصوں مثلاً مشرق وسطیٰ ، براعظم افریقہ ، وسطی ایشیا، حطنہ بلقان، جنوب مشرقی ایشیاءاور جنوبی ایشیاءمیں واقع ہیں۔ چھ ممالک کو اس تنظیم میں مبصر کی حیثیت حاصل ہے۔ ان میں بوسنیا ، جمہوری وسطی افریقہ، شمالی قبرص، تھائی لینڈ، روس اور سربیا۔

تنظیم کی تشکیل کا پس منظر یہ ہے کہ یو رشلم، بیت المقدس (فلسطین، اسر ائیل) میں مسلمانوں کے متعدد مقدس مقامات چھین لیے گئے۔1969ءمیں 21اگست کو ایک انتہائی ناخو شگوار اور سنگین واقعہ پیش آیا۔ اسرائیلی نے مسلمانوں کی مقدس زیارات کو نقصان پہنچایا۔ جس پر عالم اسلام میں غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ اس واقعہ کے بعد عالم اسلام کے رہنما اور سربراہان مراکش کے شہر رباط میں جمع ہوئے۔ جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مسلمان ممالک کو سیاسی، اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور سائنسی شعبوں میں متحد کر نے کے لیے اجتماعی کوشش کی جائے اور مسلمانوں کے درمیان یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے اسلامی ممالک کی اسلامی ممالک کی کانفرنس کے نام سے ایک تنظیم بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 25ستمبر 1969ءکو او آئی سی ممالک کی کانفرنس کے نام سے وجود میں آگئی۔ اکتوبر 1973ءمیں عرب ممالک اور اسرائیل جنگ ہو ئی۔ جس کے تقریباً چھ ماہ بعد 1974ءمیں لاہور میں تنظیم کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں فلسطینیوں کی تنظیم آزادی کو پہلی بار فلسطینیوںکی تنظیم آزادی کو پہلی بار فلسطینیوں کی واحد قانونی نمائندہ تنظیم کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔

اس کے بعد بھی اس تنظیم کا اجلاس منعقد کیا جا تا رہا جس میں موقع کی مناسبت سے اقدامات کیے جاتے رہے مگر اس تنظیم میں عرب ممالک کے ”مفادات“ کو خاصی اہمیت حاصل رہی ۔ اور پاکستان جیسے ممالک کے مسائل (مسئلہ کشمیر) پر محض مذمتی قراردادیں ہی منظور کی جاتی رہیں۔ لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ جب تک پاکستانی حکمران کرپشن کی دلدل میں نہیں گرے تھے تب تک پاکستان کو اس تنظیم میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔ اب گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات نے یکم مارچ کو ابو ظہبی میں منعقد ہونے والی اسلامی تعاون کی تنظیم OIC کے وزرائے خارجہ کے افتتاحی اجلاس میں ہندوستان کی وزیر خارجہ ششما سوراج کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی دعوت دی ہے متحدہ عرب امارات نے ہندوستان کو شرکت کی دعوت دینے کا فیصلہ پلواما کے حملہ سے پہلے 4 فروری کو کیا تھا لیکن اس کا اعلان 23 فروری کو بیک وقت دلی اور دبئی سے کیا گیا تھا۔ پاکستان نے ماضی کی طرح بھارت کی شرکت پر واویلا تو بہت مچایا اور دھمکی بھی دی کہ اگر بھارت کو بلایا گیا تو پاکستان شرکت نہیں کرے گا۔ مگر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ بھی وہی ہوا جو یوسفی کے ساتھ ہوا تھا۔یوسفی لکھتے ہیں....اب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ دل نے کہا، بس بہت ہو چکا۔ آﺅ آج دو ٹوک فیصلہ ہو جائے۔ ”اس گھر میں اب یا تو یہ (مرغیاں) رہیں گی یا میں“۔ میں نے بپھر کر کہا۔

ان کی آنکھوں میں سچ مچ آنسو بھر آئے۔ ہراساں ہو کر کہنے لگیں ”مینہ برستے میں آپ کہاں جائیں گے؟ “

جب پاکستانی وزیر خارجہ نے دوست عرب ممالک سے احتجاج کیا کہ بہت ہو چکا بھارت کو دیا گیا دعوت نامہ واپس لیا جائے، ورنہ ....! پاکستان کی ایک نہ سنی گئی اور کہا گیا کہ وہ اپنے ان مشکل حالات میں بائیکاٹ نہ ہی کریں تو اچھا ہوگا ، چونکہ پاکستان عجلت میں فیصلہ کرچکا تھا اس لیے ”فیس سیونگ“ کے لیے پاکستان نے نہ جانے ہی میں عافیت جانی.... ماضی میں رباط میں جو پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس بلائی گئی تھی اس میں بعض عرب ممالک کی تجویز پر ہندوستان کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور ہندوستان کے مسلمانوں نے خلافت کی تحریک میں نمایاں حصہ لیا ہے۔اس کانفرنس میں شرکت کے لیے ہندوستان کے وزیر فخر الدین علی احمد رباط پہنچ گئے تھے۔ جب صدر یحی خان کو ان حالات میں کانفرنس میں ہندوستان کی شرکت کے خلاف پاکستان کے عوام کی ممکنہ ناراضگی اور اس کے سنگین نتائج کی طرف توجہ دلائی تو انہوں نے سربراہ کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد شاہ فیصل، مراکش کے شاہ حسن ، اردن کے شاہ حسین ، مصری صدر سادات اور دوسرے عرب رہنماوں نے یکے بعد دیگرے صدر یحی خان سے ملاقاتیں کیں اور ان پر زور ڈالا کہ وہ بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے لیں لیکن یحییٰ خان سیاسی مضمرات کے پیش نظر اپنے فیصلہ پراٹل رہے اور آخر کار عرب سربراہوں نے گھٹنے ٹیک دئیے اور یہ طے کیا کہ ہندوستان کے وفد کی کانفرنس میں شرکت کے بجائے مراکش میں ہندوستان کے سفیر گربچن سنگھ کو مبصر کی حیثیت سے شرکت کی دعوت دی جائے۔ اس فیصلہ کے بعد ہندوستان نے کئی عرب ممالک سے احتجاجا ًاپنے سفیر واپس بلالئے تھے۔

لیکن اس بار حالات پاکستان کے حق میں دکھائی نہیں دیے.... پاکستان کی مایوسی کا اندازہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس بیان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو انھوں نے جمعہ کے روز پارلیمنٹ میں دیا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی پارلیمنٹ کو بتایا کہ کس طرح انہوں نے یو اے ای کے کراﺅن پرنس کو سمجھانے کی کوشش کی اور ان کے والد کے ساتھ پاکستان کے رشتوں کا واسطہ دے کر ہندوستان کا دعوت نامہ کینسل کرنے کے لیے کہا، لیکن وہ تیار نہیں ہوئے۔ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی پروگرام کے بائیکاٹ کا اعلان کرنے سے پہلے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے جمعرات کی شب تک کراﺅن پرنس کو منانے کی کوشش کی لیکن ان کی کوئی بات نہیں سنی گئی۔ پاکستان کے ایک رکن پارلیمنٹ کا یہ بیان بھی قابل غور ہے کہ ” او آئی سی کا بانی رکن ہونے اور اس کے لیے لڑائی لڑنے کے باوجود اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے۔“ ظاہر ہے کہ پاکستان نے ہر طرح سے ہندوستان کا دعوت نامہ کینسل کرانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام ہوا۔ اس ناکامی کے نتیجہ میں ہی اس نے تقریب سے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا۔دراصل بھارت او آئی سی کے لیے کافی اہمیت کا حامل ہے اور ایسا اس لیے ہے کیونکہ او آئی سی ممالک، خصوصاً مغربی ایشیائی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے رشتے بہت خوشگوار ہیں۔ یو اے ای کے ساتھ گزشتہ کچھ سالوں میں ہندوستان کے رشتوں میں مزید مضبوطی آئی ہے اور قطر نے 2002 میں پہلی بار ہندوستان کو آبزرور کا درجہ دینے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ علاوہ ازیں ترکی اور بنگلہ دیش تو ہندوستان کو او آئی سی کا رکن بنائے جانے کی خواہش ظاہر کر چکی ہے۔ چونکہ اس بار دعوت نامہ یو اے ای نے بھیجا تھا اور وہاں کی آبادی میں ایک تہائی ہندوستانی موجود ہیں، تو اسے کینسل کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سعودی عرب، یو اے ای، قطر ہو یا پھر ترکی و بنگلہ دیش وغیرہ، ان سب کے ساتھ ہندوستان کے سفارتی تعلقات تو ہیں ہی، ان ممالک میں سرمایہ کاری بھی بہت زیادہ ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ کوئی بھی ملک ہندوستان کو ’نظر انداز‘ کرنے کی کوشش نہیں کرتا، اور ایسا ہی ہوا۔ یو اے ای نے تو ہندوستان میں انفراسٹرکچر کے سیکٹر میں کافی سرمایہ کاری بھی کی ہوئی ہے اور اس کے علاوہ یو اے ای ہندوستان کی گزارش پر راجیو سکسینہ اور کرسچن مشیل جیسے ملزمین کی سپردگی کر کے بدعنوانی کے خلاف لڑائی میں تعاون بھی کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لاکھ دباﺅ کے باوجود سشما سوراج کا دعوت نامہ کینسل نہیں کیا گیا۔

پاکستان کے لیے یہ پوری سرگرمی ایک بہت بڑی شکست کے مترادف ہے۔ کیوں کہ اس بار ہندوستان کو ایک بانی ملک پر ترجیح دی گئی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سشما سوراج نے تقریب میں شرکت کی اور دہشت گردی کے بہانے بغیر نام لیے پاکستان کو خوب کھری کھوٹی سنا ڈالی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ او آئی سی کا فیصلہ پاکستان کے لیے تو جھٹکا ثابت ہوا ہے، یہ درد کافی مدت تک پاکستان کو تکلیف دیتا رہے گا۔اس لیے پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ عرب ممالک سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کا از سر نو جائزہ لے، یقینا عمران خان کی قیادت میں حکومت اس ملک کے مثبت امیج کو عالمی سطح پر روشناس کروانے کی کوشش کر رہی ہے مگر اسے یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر عرب ممالک نے 430ارب ڈالر کا زر مبادلہ رکھنے والے ملک بھارت کو محض اس کی معیشت کی وجہ سے اہمیت دی ہے اورمحض 14ارب ڈالر زرمبادلہ رکھنے والے پاکستان (جس میں سے 6ارب ڈالر تو دوست ممالک کے امانتاً پڑے ہوئے ہیں) کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب بات روپے پیسے کی ہو تو سب لوگوں کا ایک ہی دین دھرم ہوتا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ برادر اسلامی ممالک نے یہ بھی سن رکھا ہے کہ باپ بڑا نہ بھیا، سب سے بڑا روپیا۔ اس لیے ہمیں اپنے روپے کو بھی مضبوط کرنے کی جانب بھی توجہ دینی ہے تاکہ دنیا مجبور ہو جائے اور ماضی کی طرح پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر بھی مجبور ہو جائے!!!

٭٭٭


ای پیپر