مسئلہ ملاوٹ کا
20 مارچ 2019 2019-03-20

گزشتہ ہفتے لاہور میں ملتان روڈ پر واقع ایک معروف ادویہ ساز کمپنی کی فیکٹری سے پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے ادویات کے کچھ نمونے لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لیے اُٹھائے۔ جن کے نتائج حسب ِ توفیق اس حد تک مایوس کن نکلے کہ اتھارٹی کو اس کمپنی کی تیار کردہ کئی ادویات کو مضر صحت اور ناقص قرار دے کر مارکیٹ سے اُٹھانے کے احکامات جاری کرنے پڑے اور پنجاب کے تمام فارمیسی مالکان کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ ان ادویات کی فروخت فوری طور پر بند کردیں ورنہ وہ بھی کمپنی کے شریک جرم سمجھے جائیں گے۔ جنہیں ناقص اور غیر معیاری قرار دیا گیا ان میں نزلہ زکام سے لے کر بلڈ پریشر اور امراض قلب سے بچاﺅ تک کی دوائیں شامل تھیں۔ کوئی سال بھر قبل میاں شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے دور میں اسی حکومتی محکمے کی انچارج ایک سخت گیر خاتون افسر نے اس لحاظ سے بڑا نام کمایا کہ اس نے اپنے عملے کے ہمراہ پنجاب خصوصاً لاہور کے جس بھی ریسٹورنٹ یا بیکری پر چھاپہ مارا وہاں اسے مضر صحت اشیاءکی بھرمار اور صفائی ستھرائی کا فقدان ملا۔ اس نے ان قانون شکن عناصر کو جرمانے کیے اور چند ایک ریسٹورنٹ اور بیکریوں کو سربمہر بھی کیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ متاثرہ عناصر نے سوشل اور پرنٹ میڈیا پر اس کی کردار کشی شروع کر دی۔ یہاں تک کہ اس وقت کی حکومت کے مداح ایک نامی گرامی مزاح نگار کا ایک ایسا کالم بھی میری نظر سے گزرا جس میں اس نے ریسٹورنٹ کے مالک اپنے ایک دوست کی حمایت میں لکھتے ہوئے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس خاتون افسر کو اس محکمہ سے چلتا کریں ورنہ لاہور کے ریسٹورنٹ مالکان کی ایسوسی ایشن تمام ریسٹورنٹ بند کر دے گی اور لاہور کے خوش خوراک اور کھابہ گیر لوگوں پر مشتمل ان کا ووٹ بینک متاثر ہو گا۔ گو کہ فی الفور اس کا یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تاہم کچھ دیر بعد اس خاتون افسر کا تبادلہ ہوا تو پھر سے ” وہی وہ چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے“ والا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ اور ادویات سمیت دیگر ضروریات زندگی کی ساخت میں ناقص مٹیریل کا استعمال کرپشن کی طرح ہمارے معاشرے کا کلچر بن چکا ہے۔ میں نے امرود، آڑو اور انگور جیسے بغیر چھلکوں والے پھلوں اور ایسی ہی سبزیوں کو دوکانوں اور ریڑھیوں پر سجانے سے پہلے انہیں واشنگ پاﺅڈر ملے پانی سے چمکاتے دیکھا ہے، کچی لیچی کو پکا ہوا دکھانے کے لیے اس پر سُرخ رنگ کا سپرے پینٹ کرتے دیکھا ہے جو زہر سے کسی صورت کم مہلک نہیں ہوتا۔ خربوزے اور تربوز کو ٹیکوں کے ذریعے مصنوعی انداز میں میٹھا کیا جاتا ہے۔ گوشت کووزنی کرنے کے لیے پانی کے انجیکشن بھی ہماری دریافت ہے، مرچوں میں اینٹوں کا بُرادہ اور چائے کی پتی میں چنے کے چھلکوں کی ملاوٹ کا عمل تو خاصا پُرانا ہو چکا اور میرا دعویٰ ہے کہ کسی پیشہ ور شیر فروش سے اگر کوئی شخص ایک پاﺅ خالص دودھ بھی لے کر دکھا دے تو میں اس کا مرید ہو جاﺅں گا۔ مضر صحت اشیائے خوردو نوش کے استعمال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے انسان مختلف نوع کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان بیماریوں سے بچاﺅ اور علاج کے لیے ادویات کا سہارا لیا جاتا ہے اور اگر ادویات بھی ناقص اور مضر صحت ہوں تو پھر انسان اپنی صحت اور زندگی کی حفاظت کے لیے کیا کرے۔ گویا

چوں کُفر از کعبہ بر خیز دکُجا ماند مسلمانی

( جب کفر کعبہ سے اُٹھنے لگے تو پھر مسلمانی کہاں رہ جائے گی)

اشیائے خوردونوش اور ادویات میں ملاوٹ اور دیگر ناقص اشیائے ضرورت کی فروخت اخلاقی لحاظ ہی سے نہیں، قانونی اور مذہبی لحاظ سے بھی جُرم اور گناہ کے زمرے میں آتی ہیں تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس قبیح فعل کی ابتدا اور اس کے مسلسل بڑھتے چلے جانے کی وجوہات تلاشنے نکلیں تو تعلیم و تربیت کی کمی شاید آخری درجے پر آئے کیونکہ ایک ان پڑھ اور انتہائی اُجڈ شخص بھی بخوبی جانتا ہے کہ اس کا یہ فعل انسانی صحت اور زندگی سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اصل وجوہات اس کی بے حسی، مردہ ضمیری اور ہوس زد میں راتوں رات امیر ہونے کا جنون ہے۔ اس جرم کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے حکومتی اقدامات اس لیے نا کافی ہیں کہ اس کے لیے قانون میں سزائیں خاصی نرم رکھی گئی ہیں ورنہ بعض ترقی یافتہ معاشروں میں تو ملاوٹ کو قتل عمد سے بھی بڑا جُرم قرار دے کر اس کے لیے سزائے موت رکھی گئی ہے۔ وطن عزیز پاکستان سے اس گھناﺅنے جُرم کی بیخ کنی کے لیے ہمیں بھی سزاﺅں کو سخت کرنے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔


ای پیپر