تمہاری بہن رات سڑک پر سوئی تھی ۔۔
20 مارچ 2019 2019-03-20

میں نہیں جانتا کہ میر امخاطب کون ہے مگر میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ میں کن کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ یہ پنجاب بھر کی وہ پچاس ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز ہیں جو نیشنل پروگرام برائے خاندانی منصوبہ بندی و بنیادی صحت کی ملازمین ہیں اور اپنے پے سکیل، سروس سٹرکچر سمیت دیگر آئینی و قانونی حقو ق کے لئے سرا پا احتجاج ہیں۔انہوں نے مسلم لیگ نون کی حکومت کے دوران بھی احتجاج کر کے ہی اپنی خدمات کا معاوضہ حاصل کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلم لیگ نون کے خلاف ہونے والے ہر مظاہرے میں پی ٹی آئی والے چھلانگیں مارتے ہوئے پہنچ جاتے تھے ، جہاں نئے پاکستان کے حوالے سے دل کو لبھا دینے والے خواب دکھاتے تھے وہاں پرانے پاکستان کے ذمہ داروں کی نااہلیوں پرآٹھ آٹھ آنسو بہاتے تھے مگر اب اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ آنسو مگر مچھ کے آنسو تھے۔ ان خواتین نے جب مسلم لیگ نون کے دور میں مظاہرہ کیا تھا تو اس وقت کے اپوزیشن لیڈر میاںمحمود الرشید نے نواز لیگی حکومت کی خوب کھنچائی کی تھی اور اسی پارٹی کی رہنما سیمی زیدی پانی اور جوس کی بوتلیں لے کر پہنچ گئی تھی اور یہ ایک عمومی تاثر تھا کہ جب ایک پرانی سیاسی خاتون کارکن اور بلحاظ پیشہ ڈاکٹر یعنی محترمہ یاسمین راشد وزیر بنیں گی تو صحت کے معاملات میں دن دگنی رات چوگنی بہتری ہو گی۔

رخسانہ ، ان لیڈی ہیلتھ ورکرز کی صوبائی صدر ہیں یعنی چھتیس اضلاع میں کام کرنے والی پچاس ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز کی صدر، ساری خواتین بہت بولتی ہیں مگر مجھے اعتراف کرنا ہے کہ یہ محترمہ بہت خوب بولتی ہیں اور دلائل کے ساتھ بولتی ہیں۔ وہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے اس موقف کی تردید کرتی ہیں کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مسائل حل ہو چکے ہیں یا وہ دھرنے میں اپنی سیاست چمکا رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ دھرنوں کے ذریعے سیاست جنہوں نے چمکائی وہ آج اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ ان کا ٹارگٹ اقتدار نہیں بلکہ اپنے وہ حقوق ہیں جنہیں بیوروکریسی سے عدالت تک سب تسلیم کر چکی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مسائل حل ہو چکے ہیں تو انہیں نوٹیفیکیشن فراہم کیا جائے۔ وہ اسمبلی کی عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہاں بیٹھے ہوئے لوگ اپنی تنخواہیں لاکھوں روپے بڑھا لیتے ہیں مگر وہ خواتین جو چوبیس، چوبیس گھنٹوں تک قوم کو پولیو اور ڈینگی سمیت نجانے کون کون سے امراض سے بچانے کے لئے کام کرتی ہیں، ان کی تنخواہ پچیس برس کے بعد پچیس ہزار روپے ہوئی ہے جبکہ بہت ساری ایل ایچ ویز کی تنخواہ اٹھارہ، انیس ہزار روپے ہے اور حکمران وہ بھی ادا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ بجا طو ر پر برہم ان خواتین کو ایک خاتون اور ایک ڈاکٹر وزیر صحت کی طرف سے بلیک میلر کہا جا رہا ہے۔ میں جب ان لیڈی ہیلتھ ورکرز کی باتیں سنتا ہوں تو مجھے وہ بات درست لگتی ہے کہ عورت کی سب سے بڑی دشمن عورت ہی ہوتی ہے۔

میرا اندازہ ہے کہ حکومت ان لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ساتھ روایتی سیاست کرنے لگی ہے کہ دھرنے والوں کے دو گروپ بنا دئیے گئے ہیں اور ان کی جگہ پر نئی بھرتیاں بھی ہونے لگی ہیں جو پی ٹی آئی کے مقامی لیڈروں کی سفارش پر ہوں گی اور اس طرح ان کا یہ مطالبہ خود ہی دم توڑ جائے گا کہ ان کی ملازمت کے پچھلے عرصے کو بھی ملازمت کے دورانیے میں شامل کیا جائے۔اگر محترمہ ڈاکٹر یاسمین راشد یہ کہتی ہیں کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مسائل حل ہو چکے ہیں تو پھر انہیں یقینی طور پر ان کے چھ مطالبات پر نوٹیفیکیشن ضرور دکھانے چاہئیں کیونکہ زبانی کلامی طور پر مسائل حل نہیں ہوتے۔ مجھے اس کالم میں ان خواتین کے مطالبات کے ٹیکنیکل پہلووں کی طرف نہیں جانا کیونکہ میں ان قوانین کا ماہر نہیں ہوں مگر میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اگر یہ ہزاروں خواتین اپنے گھروں کو چھوڑ کے لاہور کی ایک سڑک پر بیٹھی ہوئی ہیں تو یقینی طور پر انہیں کسی سنگین مسئلے کا سامنا ہے کہ بغیر تکلیف کے کوئی کیوں گھر چھوڑ کے سڑک پر آبیٹھے گا، میری گواہی مان لیجئے کہ ان عورتوں کو سڑکوں پربیٹھنے کا کوئی شوق نہیں کہ ان میں سے کسی کے ہاتھ میں بھی ’ میرا جسم میری مرضی‘ اور ’ لو میں بیٹھ گئی صحیح سے‘ والا پلے کارڈ نہیں ہے کہ اگر یہ وہی عورتیں ہوتیں تو ساڑھے چار سو روپے دیہاڑی کے لئے سینکڑوں گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کے ڈینگی اور پولیو ختم کرنے لئے خوار نہ ہو رہی ہوتیں۔ وہ عورتیں جو میرا جسم میری مرضی والی ہوتی ہیں ان کے لئے ان محنت کش عورتوں کی پورے ماہ کی تنخواہ ایک ڈنر کی مار ہوتی ہے بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ یہ تو وہ عورتیں ہیں جن کے اپنے جسم پر واقعی ان کی اپنی مرضی نہیں ہوتی۔ یہ پیٹ کے جہنم کو اپنی محنت اور حلال کی کمائی سے بھرنے کے لئے گھر سے باہر نکلتی ہیں اور یہ عورتیں ان بیوروکریٹوں اور ارکان اسمبلی کی عورتوں سے زیادہ مقدس اور قابل احترام ہیں جو اپنے گھروں میں بیٹھ کے حکم چلاتی ہیں۔ یہ تو وہ عورتیں ہیں جو دن بھر اپنے خاندان کے لئے محنت مزدوری کرتی ہیں اور پھر کچھ جاہل مرد وں سے مار بھی کھاتی ہیں۔ یہ میری گاڑی کا وہ پہیہ ہے جو کسی بھی عام پہئے سے دوگنا چلتا ہے ، یہ گھر سے باہر بھی چلتا ہے اور گھر کے اندر بھی چلتا ہے۔

میں اس دھرنے سے باہر نکلنا چاہ رہا ہوں ، میں آپ کو کسی نہ کسی بہانے بتانا چاہ رہا ہوں کہ میں ایک اہم آدمی ہوں، مجھے جنرل ہسپتال میںالائیڈ ہیلتھ پروفیشنل آرگنائزیشن کے انصاف گروپ نے کامیاب ہونے کے بعد اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو کیا جہاں مجھے حکمران جماعت کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری محترم اعجاز چودھری، رکن پنجاب اسمبلی نذیر چوہان، رکن آزاد کشمیر اسمبلی غلام محی الدین دیوان،تحریک انصاف کے نظریاتی رہنما شبیر سیال اور بہت ساروں سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا مگر جب میں نے وہاں تقریر کی تو اس تقریر میں بھی یہی لیڈی ہیلتھ ورکرز گھس آئیں اور یوں میری ساری کی ساری پبلک ریلیشننگ کا بیڑہ غرق ہو گیا ۔ میں یہ الفاظ لکھتے ہوئے گھنٹوں بعد بھی محنت کش خواتین کے دھرنے باہر نہیں نکل پا رہا کہ جب ایک لیڈی ہیلتھ ورکر مجھے یہ بتاتے ہوئے رونے لگی کہ آج اس کے بیٹے کا پیپر تھا اور اسے علم نہیں کہ وہ ناشتہ کر کے گیا ہو گا یا نہیں اور اس کا پیپر کیسا ہوگا کہ وہ انیس ، بیس ہزار کی سیلری کو یقینی بنانے کے لئے اس سے سینکڑوں کلومیٹر دور لاہور کی بڑی سڑک پربیٹھی ہوئی ہے۔میں اس کی باتیں سنتے ہوئے اس کے بیٹے کے پاس چلا گیا اور بہت سارا نمکین پانی میری آنکھوں سے باہر آنے کی کوشش کرنے لگا جسے میں نے گلے کی طرف دھکیل دیا۔

ہاں، یہ وہ عورتیں نہیں جو یہ کہتی ہیں کہ وہ طلاق لے کر بہت خوش ہیں بلکہ یہ اپنے گھر والوں کے پیٹ کا جہنم بھرنے کے لئے ساتھ ساتھ محنت کررہی ہیں۔ یہ پنجاب اسمبلی کے اس ایوان کے سامنے بیٹھی ہوئی ہیں جسے ہم ارکان کی تعداد کے حوالے سے پاکستان کا سب سے بڑا جمہوری ایوان کہتے ہیں مگر افسوس اس ایوان کے اندر سے کوئی بھی ان ماو¿ں ، بہنوں اور بیٹیوں کی بات سننے کے لئے نہیں آیا۔ جب یہی لوگ ووٹ لینے جاتے ہیں تو ماں جی ماں جی اور بہن جی بہن جی کہتے ان کی زبانیں سوکھ جاتی ہیں۔ ایک لیڈی ہیلتھ ورکر نے بتایا کہ اس نے انہی وعدوں پر اپنے حلقے میں نیا پاکستان بنانے کے لئے دن رات کام کیا مگر اب کوئی ان کی سننے والا نہیں، جی ہاں، میںنے انہی وعدے کرنے والوں سے کہنا ہے جو ووٹ لے کر پنجاب اسمبلی میں بطور ایم پی اے پہنچ گئے ہیں کہ تمہاری بہن تمہاری بے حسی کی وجہ سے رات اس سڑک پر سوئی تھی جو ا س عمارت کے بالکل سامنے ہے جس سے تم انہی کی نمائندگی اور حقوق کے تحفظ کے نام پر لاکھوں کی تنخواہ اور کروڑوں کی عزت بٹورتے ہو ۔


ای پیپر